• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی دھمکیوں سے پاک فوج مرعوب نہیں ہوگی، چین ڈھال بن چکا،عالمی میڈیا

Todays Print

فیصل آباد (رفیق مانگٹ) پاکستان پر تنقید،ٹرمپ کی سنگین اسٹریٹجک غلطی ہےامریکی دھمکیوں سے پاکستانی فوج مرعوب نہیں ہوگی،اب چین پاکستان کی ڈھال بن چکا پاکستان امریکاکی ضرورت ہے،طالبان سے مصالحت، سپلائی کےلئے پاکستان کا تعاون ضروری ہے سولہ سالہ افغان جنگ کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آرہا،مجموعی ہلاکتیں111442ہیں افغان جنگ ایک ٹریلین ڈالر ہڑپ کر گئی، پاکستان کے لئے جنگی طیاروں اور فوجی سازوسامان کا انحصاراب امریکا پر نہیں رہا امریکی صدر ٹرمپ کی پاکستان کو دھمکی کے نتائج منفی نکل سکتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا سے متعلق امریکا کی نئی سکیورٹی پالیسی کے بنیادی خد و خال کی وضاحت کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف سخت زبان استعمال کی ، اسلام آباد حکومت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن حکومت اب اس امر کو قطعاً برداشت نہیں کرے گی کہ پاکستان میں دہشت گرداپنی محفوظ پناہ گاہیں قائم رکھیں۔دوسری طرف پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید کو ’مایوس کن‘ قرار دیا ہے۔

اسلام آباد حکام نے دہشت گرد تنظیموں سے تعاون کے امریکی الزامات کو بھی مسترد کیا۔عالمی ذرائع ابلاغ نے ٹرمپ کے جنوبی ایشیائی خطے کے متعلق پہلے خطاب کوشدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ پاکستان پر تنقید،ٹرمپ کی سنگین اسٹریٹجک غلطی ہے، پاکستان امریکاکی ضرورت ہے،طالبان سے مصالحت اور سپلائی کےلئے پاکستان کا تعاون ضروری ہے ،امریکی دھمکیوں سے پاکستانی فوج مرعوب نہیں ہوگی،اب چین پاکستان کی ڈھال بن چکا ہے، 16 سالہ افغان جنگ کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آرہا،مجموعی ہلاکتیں111442ہیں،افغان جنگ ڈھائی ہزار امریکی فوجیوں اور ایک ٹریلین ڈالرکو ہڑپ کر گئی، ٹرمپ کی نئی حکمت عملی سے کوئی امید نہیں جس میں فوجیوں کے معمولی اضافے اورپاکستان پر دباو  ڈالنے کے سوا کچھ نہیں ، جنگ سے انخلا کا کوئی ٹائم فریم نہیں دیا گیا، امریکا نے پاکستان کی امداد پہلے سے ہی روک دی ہے، پاکستان کے لئے جنگی طیاروں اور فوجی سازوسامان کا انحصاراب امریکا پرنہیں رہا، امریکی فوجی امداد کے خاتمے کی دھمکی پاکستان پر اثر انداز نہیں ہو گی،امریکا کی طرف سے پاکستان کو اجر اور سزا دینے کا کھیل کافی عرصے سے جاری ہے، امریکی صدر ٹرمپ کی پاکستان کو دھمکی کا نتائج منفی نکل سکتے ہیں۔

امریکی دھمکیوں سے پاکستانی فوج فکر مند نہیں، چین اب پاکستان کی ڈھال ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے ’’بلوم برگ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان کے سولہ سالہ تنازع کو تبدیل کرنے کی نئی حکمت عملی چین کی وجہ سے کمزور ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے پاکستان پر کھلے عام دباو ڈالنے کی کوشش کی ہے ٹرمپ کے اعلان کے ایک دن بعد، امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان کو’ایک مختلف نقطہ نظر اختیار کرنا چاہیے‘ لیکن افغانستان کی حکمت عملی کے اس پہلو کا کوئی اثر اس لئے نہیں پڑے گا کہ چین کے پاکستان کے ساتھ قریبی معاشی تعلقات ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کا امریکا پر انحصار کم ہو گیا ہے۔چین کی طرف سے پاکستان میں پچاس ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کے منصوبے اور مضبوط سفارتی تعاون کی وجہ سے پاکستانی فوج امریکا کی ان دھمکیوں سے زیادہ فکر مند نہیںجس میں اس نے فوجی امداد میں اربوں ڈالر روکنے کی بات کی ہے۔

پاکستان میں چین کے کردار میں اضافے کی وجہ سے امریکی دھمکیوں کے حوالے سے زیادہ تشویش نہیں۔ لندن کنگ کالج کے بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ہار پینٹ کا کہنا ہے کہ چین اب پاکستان کی ڈھال ہے ،امریکا کی طرف سے پاکستان کی امداد میں کٹوتی کا خلا چین پر کردے گا۔گزشتہ چار سال میں پاکستان میں چین کی طرف سے براہ راست سرمایہ کاری کی مد میں دو ارب اسی کروڑ ڈالر آئے جب کہ اس کے مقابلے میں امریکا نے 533ملین کی سرمایہ کاری کی۔ چین کے بینکوں نے پاکستان کے بڑھتے خسارے کے حل میں بھی مدد کی ہے، مرکزی بینک کے مطابق پاکستان نے خسارے میں کمی کے لئے چھ ماہ میں چین سے 848 ملین ڈالر قرضے لیے۔

ٹرمپ کی تقریر کے بعد چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شراکت اور عظیم قربانیوں کو سراہا اور کہا کہ بین الاقوامی برادری کو ان کوششوں کو مکمل طور پر تسلیم کرنا چاہئے۔ چینی وزارت خارجہ نے بھی ٹرمپ کے بیانیے کو غلط قرار دیا۔ امریکی اتحادی امدادی فنڈز کے تحت پاکستان میں رقم کی ادائیگی میں سن2013سے 62 فی صد کمی ہوئی ہے۔ پاکستانی ماہر کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا امریکی فوجی امداد کے خاتمے کی دھمکی پاکستان پر اثر انداز نہیں ہوگی۔

امریکہ کو جنوبی ایشیا میں اپنی وسیع کوششوں کے لئے پاکستان کی ضرورت ہے یہاں تک کہ اگر واشنگٹن نے اسلام آباد پر سختی کرنے کا انتخاب کرتا ہے، پاکستان بھی کسی امریکی امداد کے بغیر اپنی بقا برقرار رکھ سکتا ہے۔ واشنگٹن کے تھنک ٹینک ووڈرو وولسن سینٹر میں جنوبی ایشیا ئی امور ماہر مائیکل کگ مین کا کہنا ہے کہ امریکی رہنماوں کی طرف سے پاکستان کو اپنے طریقوں کو تبدیل کرنے کا بیان کوئی نیا نہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ٹرمپ پاکستان کو اپنا رویہ بدلنے کے لئے کس حد تک مجبور کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ امریکی جریدے ’فوربز‘ نے پاکستان مخالف مضمون میں لکھا کہ پاکستان پندرہ برس تک امریکا کے دشمن کی مدد کرتا رہا، اب زیادہ عرصے تک وہ امریکا کو بے وقوف نہیں بنا سکتا۔ تقریباً دو عشروں کے دوران، پاکستان نے امریکا کو یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کے لئے امریکا کا ناگزیر اتحادی ہے۔

اسی وجہ سے واشنگٹن نے اسلام آباد کو بہت ساری رقم دی۔دسمبر 2001میں آئی ایم ایف نے 12 ارب ڈالر کا قرض ریلیف پیکیج دیا جس نے پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ کیا۔تاہم مشرق وسطیٰ کے سیکورٹی ماہر سی کریسٹئن فیئر کے مطابق یہ سب پیسہ ضائع ہوگیا ،پاکستان ان کے دشمن کی مدد کرتا رہا ہے۔ فئیر نے اپنی کتاب میں کہا کہ 2005 سے پاکستان نے افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے مضبوط تعاون کے ساتھ امریکا اور ایساف کے مشن کے خلاف عسکری مہم شروع کی،یہاں تک کہ پاکستان کو اس کی شراکت کے لئے اتحادی پارٹنر قرار دیا گیا تھا۔اس کے باوجود، امریکہ نے کئی برسوں تک پاکستان کی حمایت میں اضافہ رکھا۔ امریکا کی افغانستان میں پاکستان کی حمایت کرتے پندرہ سال سے زیادہ عرصہ گزرگیا،اس عرصے کے دوران امریکا نے فوج کی تعیناتی میں پہلے اضافہ اور پھر کمی کردی اور افغانستان کی معیشت ،انفرااسٹرکچر، سول سوسائٹی اور افواج میں سرمایہ کاری کی۔

اس جنگ میں امریکا نے پاکستان پر انحصار کیا جوامریکا اور نیٹو کے مقاصد کے مسلسل خلاف ثابت ہوا۔ واشنگٹن نے واضح کیا کہ سرکاری حکام پر پابندیاں لگانے اور امداد کاٹنے کے ساتھ پاکستان کے کھیل کو برداشت نہیں کرے گا، واشنگٹن افغانستان اور دوسری جگہوں میں ایشیا میں اپنی پالیسی کے ایجنڈا کو مزید آگے بڑھانے کے لئے، پاکستان کے بنیادی مخالف، بھارت کو کردادر دینے کی بات کررہا ہے۔ یہ بھارت کے لئے اچھی خبر ہے کہ اب پاکستان، افغانستان اور شمالی سرحد پر چین پراثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لئے امریکا اس کے ساتھ ہے۔ خطے میں امریکہ کی پالیسی کی تبدیلی سے پاکستان کی ایکوئٹی مارکیٹ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ سیاسی تبدیلی کی وجہ سے اسے پہلے سے ہی بدترین نقصان کا سامنا ہے،پاکستان اسٹاک (کے ایس ای )انڈیکس 2009 سے 400 فیصد تک پہنچ گئی، اور صرف 2016 میں صرف 40 فی صد تک پہنچی لیکن گزشتہ تین مہینوں میں اسے 20 فیصد نقصان اٹھانا پڑٓا۔

امریکی اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے ٹرمپ کے اس دعویٰ کو بے بنیاد قرار دیا جس میں انہوں نے کہا کہ 20 غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں پاکستان اور افغانستان میں کام کر رہی ہیں جو کہ دنیا میں کسی بھی جگہ سے زیادہ ہیں۔ قوم سے امریکی صدر کے خطاب میں حقائق کو بہت احتیاط سے پیش کیا جاتا ہے ،یہ صدر ٹرمپ کی تقریروں کا معاملہ نہیں ہے، تاہم افغانستان میں ان کی حکمت عملی پر تقریر میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ افغانستان اور پاکستان میں 20 امریکی نامزد غیر ملکی دہشت گردی تنظیموں کی یہ تعداد کس کی طرف سے آئی۔

امریکی وزیر خارجہ کی طرف سے دہشت گردتنظیموں (ایف ٹی اوز) کو نامزدکیا جاتا ہے۔اور ٹرمپ کی طرف سے جس طرح ان کی تعداد بتائی گئی اس سے لگتا ہے کہ یہ محکمہ خارجہ کی طرف سے تیار فہرست ہے، جب وائٹ ہاو¿س سے اس فہرست کی تعداد کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل جوزف ایل ووٹل کی طرف اشارہ کیا جنہوں نے مارچ کو ایک کانگریس کمیٹی میں پوچھے گئے ایک سوال میں جواب دیا تھا۔ انہوں نے ہاوس آرمڈ سروس کمیٹی کو بتایا کہ آج افغانستان اور پاکستان میں 20 امریکی نامزد دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں۔

ووٹل کے ترجمان میجر جوش جیک نے کہا کہ انہوں نے محکمہ خارجہ کی فہرست کا حوالہ دیا تھا ، جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے محکمہ خارجہ کی فہرست میں صرف 13 دہشت گرد تنظیموں کا نام ہے جو افغانستان اور پاکستان میں فعال ہیں۔ اس فہرست میں حالیہ ہفتے حزب المجاہدین کا اضافہ کیا گیا۔ افغانستان میں امریکی کمانڈر کا کہنا تھا کہ امریکا کی طرف سے نامزد دنیا بھر میں دہشت گرد تنظیموں کی تعداد 98ہے جن میں سے 20 افغانستان اور پاکستان میں ہیں۔تاہم انہوں نے یہ تعداد کہاں سے حاصل کی، جسکے جواب میں ان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزارت خزانہ اور خارجہ کی طرف سے یہ تعدادحاصل کی تھی۔ محکمہ خارجہ کی فہرست میں دہشت گرد تنظیموں کی کل تعداد 98 نہیں بلکہ 62 ہے۔ تعداد کے بارے میں واضح تضاد موجود ہے جس کی وضاحت کے لئے وائٹ ہاوس سے دوبارہ رابطہ کیا گیا تاہم انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ امریکی اخبار ’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ لکھتا ہے کہ پاکستان میں اچانک سیاسی تبدیلی نے امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک اتحاد کو خطر ے سے دوچار کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کی افغانستان سے متعلق نئی حکمت عملی کے طور پر امریکا، پاکستان تعلقات کو دوبارہ بحال کرنے کی کوششوں کو چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ ملک کے مقبول رہنما عمران خان نے امریکی پالیسی پر سخت تنقید کی ہے۔ پاکستان کے سیاسی راستوں نے حالیہ مہینوں میں ڈرامائی موڑ لیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے زبردست مخالف عمران خان نے جولائی میں نواز شریف کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے عدلیہ کا استعمال کیا اور انہیں اقتدار سے دور رکھنے کے لئے اپنی قانونی فتح کو استعمال کررہے ہیں۔ عمران خان 2 دہائیوں سے سیاسی منظر پر ہیں۔ نواز شریف کی نااہلی نے حکمران جماعت کو کمزور کیا ہے، اس کے ساتھ آئندہ انتخابات میں عمران خان اور اس کی جماعت کا سخت مقابلہ متوقع ہے۔ عمران خان امریکا کے ساتھ پاکستان کی سیکورٹی قربت کے انتہائی خلاف ہیں، وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کے ساتھ اتحاد کے خاتمے کے داعی ہیں، ان کے مطابق امریکا کے ساتھ پاکستان کا اتحاد مہنگا ثابت ہوا ہے۔ واشنگٹن کی نئی افغانستان کی حکمت عملی کے متعلق عمران متفق نہیں، ان کے خیال میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اصل میں امریکی جنگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان پر الزام لگا رہا ہے جب کہ اس کی اپنی افغان پالیسی غلط اور ناکام ہے۔عمران خان نے کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ انسداد دہشت گردی کی شراکت داری پاکستان کے لئے تباہی کا سبب بنی اور اس نے پاکستان میں تشدد کو ہوا دی۔ پاکستان کی قیادت طویل عرصے سے یہ شکایت کرتی آئی ہے کہ خطے کے متعلق امریکی اپروچ سیکورٹی خدشات کے متعلق نہیں ہے اور دہشت گردوں کے خاتمے کی پاکستانی کوششوں کو امریکا تسلیم نہیں کرتا۔ تاہم سیاسی اور فوجی اتفاق رائے سے امریکی امداد کو قبول کرنے اور افغانستان میں امریکی کوششوں کے ساتھ کچھ سطح پر تعاون جاری رکھا گیا۔

امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ میں شائع مضمون میں کہا گیا کہ امریکا کی افغانستان کی نئی حکمت عملی کا اہم عنصر اس بات کو تسلیم کرنا ہے کہ پاکستان کے بارے میں امریکا کو نیا نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔ اوول آفس میں دو سابق صدور کے برعکس ٹرمپ نے اس حقیقت کو بیان کرنے کا انتخاب کیا کہ پاکستان ڈبل گیم کھیل رہا ہے، انہوں نے دوٹوک کہا کہ پاکستان پارٹنر بننے کا دکھاوا کر کے بھاری مدد وصول کررہا ہے جب کہ طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی حمایت کے ساتھ انہیں پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے، جو امریکیوں اور افغانیوں کو ہلاک کرتے ہیں۔ ٹرمپ کی طرف سے امریکی پالیسی میں تبدیلی کا اعلان پاکستان کے لئے حمایت اور امداد ختم کرد ے گا۔ ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ پاکستانی حساسیت کا احترام انہیں بھارت کے ساتھ مضبوط اسٹریٹجیک شراکت داری کو فروغ دینے سے نہیں روک سکتا۔

امریکی صدر کو تین اہم اقدامات پر توجہ مرکوز رکھنا ہوگی جن میں نئی کوششوں کو منظم کرنے کے لئے فوج میں اضافے کے ساتھ سفارتی سطح پر اقدام اٹھانا ہوں گے، مضمون نگار نے پاکستان کے خلاف زہرافشانی کرتے ہوئے لکھا کہ ٹرمپ کو پاکستان کے معاملے میں تیار رہنا چاہیے، افغانستان میں امریکی اثاثوں پر حملے بھی ہو سکتے ہیں، پاکستان کے سرحدی علاقوں میں سپلائی کے راستے پر مداخلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ اسلام آباد کی شرائط پر تعاون کے بغیر امریکا کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اوباما نے اپنی صدارت کے آخری دنوں اشارہ دیا تھا کہ اگر پاکستان دہشت گردوں کو پناہ دینے کی پالیسی میں تبدیلی میں ناکام رہا تو امریکا پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کرے گا۔ طالبان رہنما ملا اختر منصور کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد امریکا نے اشارہ دیا تھا کہ مستقبل میں بھی پاکستان پر اس طرح کے حملے کیے جائیں گے۔ امریکا کو اسٹیبلشمنٹ کے اعلیٰ حکام پر پابندیاں عائد کرنی چاہیے، جو عسکریت پسندوں کی حمایت کرتے ہیں۔

امریکا پاکستان کی تمام امداد بند کرنے کے ساتھ عالمی بینک اور آئی ایم ایف پر بھی ویسا ہی دباو ڈالے۔ ایک سیکورٹی تجزیے کا آغاز کیا جائے جس میں پاکستان کو ان ریاستوں میں شامل کیا جائے جو دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں۔ نیویارک ٹائمزاخبار نے اپنے ایک دوسرے آرٹیکل میں لکھا کہ ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کی امداد روکنے کی تجاویز امریکی پالیسی سازوں نے ماضی میں بھی دیں اور پھر خود ہی انہیں مسترد کیا۔ امریکا کی طرف سے پاکستان کو اجر اور سز ادینے کا کھیل کافی عرصے سے جاری ہے، 2011 میں ساڑھے تین ارب ڈالر دیئے تو گزشتہ ماہ پچاس ملین ڈالر امداد روک دی۔ چین کی صورت میں پاکستان کا ایک طاقتور حلیف اور اتحادی موجود ہے اور امریکی امداد کی بندش سے چین کو اس خلاء سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔ پاکستان کے خلاف اقدامات سے افغانستان کی صورتحال کہیں زیادہ خراب ہوسکتی ہے۔ افغان معاملات میں بھارتی کردار پر پاکستان کی طرف سے سخت ردعمل کا اظہارسامنے آسکتا ہے۔ امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کی ایک اور رپورٹ کے مطابق افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی میں پاکستان کی ناراضگی مول لینا دانشمندانہ اقدام نہیں۔

دھمکی خیز امریکی رویہ نقصان کا سبب بنے گا، امریکا پاکستان پر ایک حد تک دباو ڈال سکتا ہے، اخبار لکھتا ہے کہ پاکستان پر امریکی صدر کی طرف سے لگائے گئے الزامات کے منفی نتائج برآمد ہو ں گے۔ ٹرمپ کی تنقید پاکستان اور چین کے تعلقات مزید مستحکم کرنے کا باعث بھی بنے گی کیونکہ دونوں ممالک خطے میں بھارت کو اپنا مخالف سمجھتے ہیں۔ ایک تھنک ٹینک کے ماہر سیتھ جونز کا کہنا ہے کہ ’افغانستان میں پاکستان اور بھارت کے مابین پراکسی جنگ جاری ہے اور ایک کی کامیابی دوسرے کے لیے بڑا نقصان تصور کیا جاتا ہے۔

افغانستان میں بھارت کو مزید کردار ادا کرنے کی دعوت بھی دی گئی ہے جس پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں اس پر پاکستان خوش نہیں ہوگا۔ پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی پاکستان کے کئی علاقوں میں دہشت گردی کروانے کے لیے افغان سرزمین کو استعمال کر رہی ہے۔ ہاوس انٹیلی جنس کمیٹی کے رکن کا کہنا ہے کہ بھارت کو افغانستان میں اپنا کردار بڑھانے کی دعوت کے باعث پاکستان سے تعاون کی امید مزید کم ہو جائے گی۔ نیوریارک یونیورسٹی کے پروفیسر کا کہنا ہے کہ پیٹاگون کو افغانستان میں موجود امریکی افواج تک سازوسامان کی فراہمی کے لیے پاکستان کی ضرورت رہے گی۔

حالیہ برسوں میں پاکستان کا امریکی امداد خصوصاً فوجی امداد پر انحصار بہت کم ہوا ہے۔ جس کی وجہ چین سے دفاعی شعبے میں بڑھتا ہوا تعاون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کے سامنے مزید راستے بھی کھلے ہیں ۔ واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک سے وابستہ ماہر کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکی دباو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، چین کی بھاری سرمایہ کاری سے پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہوا ہے اور امریکی افواج کے بڑی پیمانے پر انخلا کے باوجود پاکستان کی افواج کی ملک کے سرحدی علاقوں پر گرفت کمزور نہیں ہوئی ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین کے تعلقات کی مضبوطی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان پر الزامات لگانے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی چین کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو بھرپور انداز میں سرہا گیا۔ امریکی جریدہ ’فارن پالیسی‘ لکھتا ہے کہ امریکی امداد کا خاتمہ پاکستان پر کتنا اثر ڈال سکتا ہے؟حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے لئے امریکی امداد اور فوجی سازوسامان کی فراہمی پہلے سے ہی کم کی جاچکی ہے اور پاکستان نے اس کے لئے چین اور دیگر ممالک سے اپنی ضروریات پوری کرنا شروع کردی ہیں۔ جریدہ لکھتا ہے کہ امریکا کے وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان نے امریکی صدر کی افغان پالیسی میں تعاون نہ کیا تو وہ امریکی امداد اور مراعات سے محروم ہو سکتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کا بیان صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد آیا جس میں انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو اربوں ڈالر دے رہے ہیں،جریدے کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں گزشتہ برسوں سے پاکستان کی امداد میں کمی جا چکی ہے۔ امریکا کی طرف سے پاکستان کو 2011 میں سالانہ اقتصادی اور سیکورٹی کی مد میں سب سے زیادہ امداد دی گئی جو ساڑھے تین ارب ڈالر تھی اس کے بعد اوباما انتظامیہ اور کانگریس نے پاکستان کی امداد میں کمی شروع کر دی اور 2016 میں ایک ارب ڈالر سے بھی کم کردی گئی۔ پاکستان کے لئے امریکی امداد تقریباً تین اقسام میں ہوتی ہے جن میں معاشی امداد، سیکورٹی امداد اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے اخراجات کے لئے ادائیگی شامل ہے۔ اقتصادی امداد میں پاکستان کی زراعت، توانائی اور صحت کے شعبوں کے ساتھ انسانی امداد کے فنڈز بھی شامل ہیں۔ سیکورٹی امداد میں انسداد منشیات، انسداد دہشت گردی، فوجی تعلیم، امریکی فوجی سازوسامان کی خریداری کے لئے امداد وغیرہ شامل ہے۔

11ستمبر کے حملوں کے بعد القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے خطرے کے بارے میں تشویش کے باعث اسلام آباد کےلئے امریکی امداد ڈرامائی طور پر بڑھ گئی لیکن اسلام آباد کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات متعدد وجوہ کی بنا پر کشیدہ ہوگئے جن میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاونڈ پر حملہ بھی شامل ہے۔ جولائی میں ٹرمپ انتظامیہ نے 300 ملین ڈالر کی امداد روک دی جو 8 سو ملین ڈالر کولیشن سپورٹ فنڈز کا حصہ تھی یہ فنڈز 2002 سے پاکستان کو ادا کیے جا رہے تھے اور اس وقت سے اب تک پاکستان کو 14ارب ڈالر اس مد میں ادا کیے جا چکے ہیں۔

واشنگٹن نے پہلے سے ہی پاکستان کو ہتھیاروں کی فراہمی ختم کردی ہے جس کے لئے پاکستان نے چین یا تیسرے ملک سے جہاز اور ہتھیار خریدنا شروع کردیئے ہیں۔ 2016 میں کانگریس نے طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ تعاون کا الزام عائد کر کے پاکستان کو 8 اضافی ایف 16 طیاروں کی فروخت روک دی تھی۔ پاکستان ائیر فورس انسداد دہشت گردی کے مشن کے لئے 9 مزید AH-1Z وائپر حملہ آور ہیلی کاپٹروں کی ترسیل کا انتظار کر رہی ہے جو آئندہ سال متوقع ہے۔

نان نیٹو اتحادی کی حیثیت کے تحت ہتھیاروں کی منتقلی سے واقف افراد کا کہنا ہے کہ اس کا ردعمل علامتی سے زیادہ ہوگا تاہم یہ واضح نہیں کہ واشنگٹن کی فوجی امداد کس حد تک پاکستان پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ 2011 میں افغانستان میں اتحادی افواج کی پاکستان نے ایک ماہ سپلائی روکی تھی جس سے نیٹو ممالک کو ایک ماہ میں ایک سو ملین ڈالر اضافی اخراجات ادا کرنے پڑے۔ فارن پالیسی جریدے کی ایک اور رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان میں آپشن بہت خراب ہیں، افغان جنگ میں 24 سو امریکی فوجی ہلاک اور ایک ٹریلین ڈالر خرچ کردیئے گئے۔ ان نقصانات کو کم کیا جاسکتا تھا۔ پوری دنیا افغان جنگ سے تنگ آچکی ہے۔ اب افغان جنگ میں محدود آپشن ہیں، جن پر کسی کو خوش ہونے کی ضرورت نہیں، 4 ہزار فوجیوں کے اضافے کے ساتھ فوجی انخلا کی کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔ حالات پر مبنی نقطہ نظر اپنایا گیا اور علاقائی حکمت عملی میں پاکستان پر زیادہ دباو رکھا گیا۔ ٹرمپ کی نئی حکمت عملی کیا کرے گی۔

پاکستان پردباو بڑھانے کے لئے بھارت کارڈ کو استعمال میں لانے کا اعلان کیا گیا، امریکی صدر کی تقریر پر پاکستان میں ابتدائی ردعمل انتہائی منفی ہے، ایک اہم عنصر بھارت کو اس عمل میں برابر کردار دینے کی بات کی گئی۔ امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ہمیشہ اس پر زور دیا ہے کہ وہ جیتنے کے قریب ہیں تاہم افغانستان کے لئے صدر کی نئی حکمت عملی پر امریکیوں کو معلوم ہوا کہ ان کے نئے صدر کو ویسی ہی مخالفت کا سامنا ہے، بہت سے ماہرین کو یقین ہے کہ افغانستان میں کامیابی کی کوئی صورت نہیں، اس 16 سالہ جنگ کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آرہا۔ افغان جنگ میں 2001 سے 2016 تک مجموعی ہلاکتیں ایک لاکھ 11 ہزار 442 ہیں۔ ان ہلاکتوں میں 42100 طالبان اور دیگر عسکریت پسند، 31419 افغان شہری، 30470 افغان فوجی اور پولیس اہلکار،2371 امریکی فوجی، 1136 اتحادی فوجی اور 3946 کنٹریکٹرز، انسانی حقوق کے اراکین اور صحافی شامل ہیں۔

سی این این کی ایک اور رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ صدر ٹرمپ نے پاکستانی عوام کی شراکت اور قربانی کو تسلیم کیا ہے جو اس دہشت گردی اور انتہاپسندی کی جنگ سے شدید متاثر ہیں، تاہم انہوں نے پاکستان پر الزام بھی لگایا کہ وہ دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے، پاکستان جس نے اس جنگ میں 60 ہزار سے زائد شہری اور فوجی جوانوں کی قربانی دی، امریکی صدر کی طرف سے اس طرح کی بات انسداد دہشت گردی کے اقدامات کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ آج پاکستان شاید واحد مسلم ملک ہے جو دہشتگردی کے خلاف کامیاب جنگ کر رہا ہے۔ خطے کے اہم کھلاڑی کے طور پر پاکستان آج بھی خارجہ پالیسی میں اہم مقام رکھتا ہے۔ پاکستان کے چین اور روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور بڑھتے ہوئے علاقائی اقتصادی رابطے کا مرکز ہے۔ مودی کے بھارت کو تقسیم اور پولرائزڈ ہونے کا سامنا ہے۔ اس کے چین، نیپال اور میانمار جیسے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مسائل ہیں، پاکستان میں اسٹریٹجک خلا ہے جس میں وہ کام کرسکتا ہے۔

اس کے باوجود پاکستان کو زیادہ امید نہیں۔ امریکی اخبار ’شکاگو ٹریبیون‘ لکھتا ہے کہ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ وہ پاکستان کو طالبان کے لئے محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنے سے روکنے پر مجبور کریں گے، بھارت سے زیادہ معاشی امداد حاصل کرنے اور نیٹو اتحادیوں کو جنگ میں ان کی شمولیت کے لئے قائل کریں گے، امریکی صدر کی افغان پالیسی کوئی منصوبہ نہیں ہے یہ سانتا کلاز کے نام ایک خط ہے۔ پاکستان کے اہم مفادات خطرے میں ہیں، جن کی اہمیت امریکا سے زیادہ ہے۔ ان سے فائدہ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ امریکی صدور کے مطالبات نے انہیں بڑی حد تک ناقص بنا دیا ہے، برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق امریکہ کے پاس افغانستان میں اپنے فوجیوں کی سپلائی کے لئے پاکستانی سڑکوں کو استعمال کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں، امریکی حکام پریشان ہیں کہ اگر پاکستان ایک فعال حریف بن گیا تو افغانستان مزید غیر مستحکم ہو جائے گا اور امریکی فوجیوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ بھارت کو اس بات کا یقین نہیں ہے کہ اس کے ہمسایہ کے متعلق واشنگٹن اپنی پالیسی سے اسے آگاہ کرے گا اور بھارت کو افغانستان میں زیادہ کردار دینے سے پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات خراب ہوںگے۔

امریکی اخبار ’لاس اینجلس ٹائمز‘ نے اپنی ایک اور رپورٹ میں تجزیہ کاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی پاکستان کو دھمکی کا نتیجہ برعکس نکل سکتا ہے۔ پاکستان کو تنہا کرنے کا عمل اسلام آباد کے ساتھ امریکی تعلقات کو ناکام بنا سکتا ہے اور اسے روس، چین اور ایران کے قریب دھکیل سکتا ہے جو خطے کو مستحکم بنانے کی کوششیں کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ امریکی تھنک ٹینک ولسن سینٹر کے ایشیا پروگرام کے نائب ڈائریکٹر مائیکل کگل مین نے کہا کہ امریکا کا پاکستان میں فائدہ اٹھانے کا نظریہ بہت زیادہ مبالغہ آمیزی ہے۔ یہ کوئی سزا، پالیسی، یا تعصب کی بات نہیں، اس بات پر یقین کی وجہ بہت کم ہے کہ پاکستان اپنے طریقوں کو تبدیل کرے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے بھارت کا افغانستان میں زیادہ عمل دخل اور کردار کا مطلب پاکستان کو اشتعال دلانا ہے، ٹرمپ کی پالیسی بیان کو پاکستان میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ امریکی جریدہ ’دی اٹلاٹنک‘ لکھتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے افغانستان میں امریکی موجودگی کے لئے نئے اسٹریٹجک ریویو کا اعلان کیا، انہوں نے پاکستان کے لئے سخت الفاظ ادا کیے۔ امریکی وزیر خارجہ نے بھی خبردار کیا کہ پاکستان کے لئے امریکی معاونت کی کچھ شرائط ہوں گی کہ ا س کے رہنما اپنی اپروچ کو تبدیل کریں وہ ان عسکریت پسند گروہوں کی حمایت کرتے ہیں، جو افغانستان کے اندر امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ افغانستان میں امریکہ کی حکمت عملی کے ساتھ تعاون کے لئے پاکستان کے بظاہر راضی نہ ہونے کی شکایت کافی عرصے سے ہیں۔

جریدے نے امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کی زہر افشانی کا ذکر کیا کہ جب بھی پاکستان پر دباو بڑھایا گیا تو اس نے امریکا کو تنگ کرنے کےلئے کچھ نہ کچھ کیا۔ افغانستان میں کسی بھی سیاسی حل کا راستہ اسلام آباد سے ہو کر جاتا ہے، جریدے نے لکھا کہ پاکستان طالبان کی حمایت کرتا ہے اور اس گروہ کو افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار کھنے کے لئے اہم قرار دیتا ہے۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ پاکستان عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرے۔

امریکی سی آئی اے کے سابق اہلکار کا کہنا تھا کہ پاکستان سے پالیسی تبدیل کرنے کی امریکی کوششیں کئی برسوں سے جاری ہیں لیکن صورتحال کی حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہے، امریکہ کو پاکستان کے ساتھ چلنا چاہیے، یہ مشکل ہوگا کہ ایک ہی وقت میں پاکستانیوں کو سزا بھی دیں اور ان کی امداد ختم کر دیں، جب کہ ہمیں واقعی افغانستان میں طالبان کے ساتھ مصالحت اور اپنے فوجیوں کی سپلائی کےلئے پاکستان کی مدد چاہیے۔

برطانوی اخبار ’گارجین‘ کے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ چینی صدر کے چہرے پر مسکراہٹ شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتی ہے تاہم ٹرمپ کی افغانستان پر حکمت عملی پر ان کا چہرہ کھل چکا ہوگا، اگر افغانستان میں نئی حکمت کا کوئی واضح فاتح ہے، تو وہ چین ہے۔ ٹرمپ کی سخت تقریر کا مقصد پاکستان کو نشانہ بنانا تھا، انہوں نے کہا کہ امریکہ اب دہشت گردی کے لئے محفوظ پناہ گزینوں کے بارے میں خاموش نہیں رہ سکتا جبکہ پچھلی انتظامیہ نے بھی خدشات کا اظہار کیا تھا۔ ٹرمپ کا پاکستان پر تنقید ایک سنگین اسٹریٹجک غلطی ہے، پاکستان پر عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام ہے تو اس کا اہم کردار بھی ہے۔

پاکستان سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو القاعدہ اور طالبان کے خلاف لڑنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ افغانستان میں نیٹو فوجیوں کے لئے ایک اہم سپلائی روٹ ہے۔ ٹرمپ کی تقریر پاکستان کو چین کے مزید قریب کردے گی۔ ایک تقریر میں، ٹرمپ نے اس خطے کو برسوں کی محتاط سفارتکاری سے محروم کردیا ہے۔ چین کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات 1950 سے ہیں۔ جب پاکستان نئی کمیونسٹ حکومت کو تسلیم کرنے والاپہلا ملک بنا۔ اب دونوں ممالک کا تعلق اتنا گہرا ہو چکا ہے کہ ان سے بھارتی اور امریکی مفادات کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ پاکستان میں چین 55 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررہا ہے اور اس کے فوجی پاکستان کے قومی دن کے موقع پر پریڈ کرتے ہیں۔ یہ ایک واضح نشانی ہے کہ ٹرمپ کی تقریر دونوں کو مزید قریب لائے گی۔ چین اور پاکستان کے درمیان گہرے ہوتے تعلقات امریکہ کے لئے ایک مسئلہ ہیں کیونکہ وہ خطے میں چین کے عدم استحکام کے لئے بھارت کا استعمال کرنا چاہتا ہے۔

چین پاکستان کو ہتھیار اور فنڈز فراہم کرتا ہے، جزوی طور پر بھارت کے ساتھ اس کی سرحدی کشیدگی برقرار رہتی ہے۔ پاکستان کو ایک طرف کر کے چین کو اسکا بنیادی پیٹرن بننے سے روکنا امریکا کے لئے اہم ہے۔ ٹرمپ کی تقریر کی وجہ سے پاکستان کی سویلین حکومت بھی متاثر ہوگی۔ بھارت کو خطرہ سمجھتے ہوئے پاکستان کے دفاعی بجٹ میں اضافہ ہوگا۔ بھارت کو افغانستان میں زیادہ کردار دینے سے توقع کے برعکس نتیجہ نکلے گا۔ برطانوی جریدہ ’اکنامسٹ‘ لکھتا ہے کہ امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ اس نے افغانستان میں جنگ کے بارے اپنا ذہن تبدیل کر لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 16 سال کی جنگ میں کامیابی نہ ہونے کی وجہ سے ان کے ذہن میں تھا کہ اس جنگ سے نکلا جائے ،تاہم مکمل پالیسی کا جائزہ لینے کے بعد، انہوں نے اسے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پہلی نظر میں ٹرمپ کی افغان پالیسی سابق صدر اوباما کی حکمت عملی سے ملتی جلتی نظر آتی ہے، تاہم اس میں کچھ اہم باتیں ہیں جنہیں سراہنا چاہیے اور کچھ میں اختلافات ہیں۔ 2015 کے آغاز سے، نیٹو نے اپنے جنگی مشن کو ختم کیا اور افغانستان سیکورٹی فورسز کو ذمہ داری سونپ دی جو اس کے لئے مکمل تیار نہ تھی۔ طالبان کی عسکریت پسندی مضبوط ہوئی، رپورٹ کے مطابق اس سال کے آغاز سے قبل کانگریس کی طرف سے تشکیل کردہ کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ نومبر 2016 تک 12 ماہ میں افغانستان میں منتخب حکومت کا کنٹرول 72 فیصد سے 57 فیصد حصے پر رہ گیاہے۔ اسی مدت میں 6785 افغان فوجی اور پولیس اہلکار ہلاک جب کہ 11777زخمی ہوئے ۔ 2015 اور 2016 کے درمیان 19 امریکی ہلاک ہوئے۔

جریدہ لکھتا ہے کہ ابھی یہ مشکل برقرار رہے گی کہ امریکا کامیابی کی اس سطح پر پہنچ پائے گا جس کا اس نے دعویٰ کیا ہے۔ افغانستان کے ہمسایہ کی مدد شامل ہونے کا زیادہ امکان نظر نہیں آتا ہے۔ طالبان کی پناہ گاہوں کے متعلق پاکستان کے خلاف سخت موقف اپنانا ٹرمپ کا حق ہے لیکن فوجی امداد میں کٹوتی نے ماضی میں بھی کوئی زیادہ اثر نہیں ڈالا۔

ٹرمپ شاید اسٹریٹجک صبر کی پرواہ نہیں کرتے، لیکن جب افغانستان کا معاملہ آئے تو انہیں اس کےلئے کافی صبر کی ضرورت ہے۔ جاپانی جریدہ ’دی ڈپلومیٹ‘ لکھتا ہے کہ 2014 میں امریکا کے پیو ریسرچ سینٹر کی طرف سے کئے جانے والے ایک سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان ایشیا میں چین کا سب سے مضبوط حامی ہے کیونکہ 78 فیصد پاکستانیوں کے نزدیک چین پسندیدہ ملک ہے، مضبوط ترجیح کسی چیز سے سامنے نہیں آتی، چین واحد ملک ہے جو امریکا کے خلاف پاکستان کا دفاع کرنے کی جرات رکھتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے پاکستان پر تنقید کے بعد چین نے پاکستان کا دفاع کیا۔

چین نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔ چینی وزارت خارجہ نے کہا، ”دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان صف اول کا ملک ہے، جس نے اس جنگ میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور عظیم قربانیاں دی ہیں، ترجمان کے مطابق، ”ہماری رائے میں بین الاقوامی برادری کو یہ بات پوری طرح تسلیم کرنا چاہیے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ چین اس بات پر بھی خوش ہے کہ انسداد دہشت گردی کی اس جدوجہد میں پاکستان اور امریکا باہمی احترام کی بنیادوں پر آپس میں مل کر کام کر رہے ہیں، تاکہ خطے اور مجموعی طور پر پوری دنیا میں سلامتی اور استحکام کے مشترکہ مقاصد کو آگے بڑھایا جا سکے۔ ترجمان نے مزید کہا،”ہم امید کرتے ہیں کہ اس علاقے سے متعلق امریکی پالیسیاں مجموعی طور پر افغانستان اور پورے خطے میں سلامتی، استحکام اور ترقی کے عمل میں معاون ثابت ہوں گی۔ 

تازہ ترین