کراچی (جنگ نیوز) منفرد انداز کی مقبول اداکارہ نجیبہ فیض نے کہا ہے کہ پاکستانی فلم ”ساون“ میں ، میں نے اتنا یادگار کردار ادا کیا ہے جسے کوئی بھول نہیں سکے گا۔ ہدایتکار فرحان عالم ، رائٹر و پروڈیوسر مشہود قادری نے ملکر بہت عمدہ اور فیملی فلم تخلیق کی ہے جس کے بعد وہ پورے ملک میں چھا گئے ہیں۔ مجھے کامیڈی سے ڈر لگتا ہے کیونکہ لوگوں کو ہنسانا بہت مشکل کام ہے۔
عوام کو میرے رونے دھونے والے سیریل زیادہ اچھے لگتے ہیں۔ میری اداکاری کا انداز بالکل الگ ہے لہٰذا ”ساون“ میں منفرد نوعیت کا کردار ادا کیا ہے۔ اِن خیالات کا اظہار اُنہوں نے ”جیو“ سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔ کلاکار فلم پروڈکشن کے بینر تلے بننے والی فلم ”ساون“ جمعہ کو ”جیوفلمز“ کے تعاون سے پاکستان بھر میں ریلیز کی جارہی ہے۔ ”ساون“ کی مرکزی اداکار کا مزید کہنا تھا کہ حقیقی کہانیاں زیادہ پر اثر ہوتی ہیں ”ساون“ بھی حقیقی کہانی پر مشتمل فلم ہے جس میں ماں اور بیٹے کی محبت کو بالکل مختلف انداز سے دکھایا گیا ہے۔
اس فلم میں بلوچی کلچر بھی نظر آئے گا۔ اُنہوں نے بتایا کہ پاکستان کا ڈرامہ بین الاقوامی شہرت رکھتا ہے ، اب فلمیں بھی بہترین بننا شروع ہوگئی ہیں۔ ریلیز سے قبل ”ساون“ کو پانچ عالمی ایوارڈز ملنا معمولی بات نہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ جب غیر اتنا پیار دے سکتے ہیں تو پاکستانی کیوں نہیں؟۔ ہم چاہتے ہیں اس فلم کو پاکستان سے بہت زیادہ پیار ملے۔ جب اچھی فلموں کی حوصلہ افزائی ہوگی تو ہماری فلمیں دُنیا بھر میں اور بھی زیادہ دیکھی اور پسند کی جائیں گی۔ نجیبہ کا کہنا تھا کہ جو لوگ اسکردو نہیں گئے وہ اس فلم کے ذریعے بڑے پردے پر پاکستان کی حسین وادیوں کے نظاروں کو انجوائے کریں۔
فلم کی عکس بندی کے دوران بہت زیادہ گرمی تھی لہٰذا میں وہاں دہی اور سلاد کھاتی تھی۔ ایک دِن دہی اور سلاد نہ آیا تو میرا موڈ خراب ہوگیا تھا ۔ نجیبہ کا کہنا تھا کہ شوٹنگ کے دوران ہم بات کرنے کیلئے اپنا منہ کھولتے تو اکثر ریت منہ میں چلی جاتی تھی۔ اس فلم میں بہت زیادہ محنت کی گئی ہے جس کا نتیجہ بھی بہترین آئے گا۔ گورے فلم میں پاکستان کی قدرتی خوبصورتی کو دیکھتے رہ گئے ہیں اور اپنے تاثرات میں بتایا کہ اپنی فلموں میں ہم ایسی وادیوں کے سیٹ لگاتے ہیں۔
نجیبہ نے اپنی نجی زندگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے مختلف زبانوں پر عبور حاصل ہے۔ خوش قسمت ہوں مجھے اون کرنے کیلئے افغانستان اور پاکستان جیسے دو خوبصورت ملک ملے ہیں۔ پی ٹی وی پشاور سے چائلڈ اسٹار کے طور پر کام شروع کیا تھا۔ لہجہ درست کرنے میں وقت لگا ۔ انتہائی بے سری ہوں ، گلوکاری کا شوق نہیں البتہ زکام کے وقت میری آواز اچھی ہوجاتی ہے۔ لوگ توقعات کرتے ہیں میں پاکستان اور افغانستان کے سیاسی تعلقات میں بہتری لانے کیلئے پُل کا کردار ادا کروں۔
افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بدقسمتی سے اب بھی بچیوں کو اسکول نہیں بھیجا جاتا، میں بھی ایسے ہی بد قسمت علاقے سے تعلق رکھتی ہوں۔ میرے خاندان کے کچھ لوگ خصوصاً میرے انکل اب بھی مجھے قتل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تاہم قتل کی دھمکیاں میرے ارادوں کو تبدیل نہیں کرسکتیں۔ والدین نے مجھے بہت سپورٹ کیا ہے اُن کی سپورٹ کی وجہ سے آج میں اِس مقام پر ہوں۔