آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ19؍رمضان المبارک 1440 ھ25؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر طرف شور برپا تھا، دعوے، اندر اور باہر کی کہانیاں بیان کی جارہی تھیں، ہیجان خیز تجزیوں کی بھرمار تھی، نوازشریف ماضی کا قصہ ہوگئے، بیرون ملک جانے کے بعد اب واپس نہیں آئیں گے، شریف خاندان کا پاکستان کی سیاست میں کردار اب ختم ہوگیا، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن سابق وزیراعظم نوازشریف نے 24 ستمبر کو اچانک اور فوری وطن واپسی کا فیصلہ کر کے اپنی پارٹی سمیت سیاسی پنڈتوں کو حیران کر دیا۔ اس بڑے فیصلے کے ساتھ ہی نوازشریف کے سیاسی مخالفین کی طویل مدت کے لئے ’’خود ساختہ جلاوطنی‘‘ کی پیش گوئی اور بعض چینلز کی خبروں پر بھی اوس پڑگئی، میاں صاحب کی واپسی کے فیصلے کے پس پردہ عوامل اور نئی صورت حال پر چہ میگوئیاں اور ہر طرح کی قیاس آرائیاں بھی شروع ہوچکی ہیں، کہا جا رہا ہے کہ نوازشریف کی وطن واپسی کسی ڈیل کا نتیجہ ہے؟ کیا نوازشریف اب کی بار حتمی اور فائنل سیاسی راؤنڈ کھیلنے جا رہے ہیں؟ یا اداروں سےٹکراؤ کا فیصلہ کیا ہے؟ ہوگا کیا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، تاہم میاں صاحب کا دعویٰ ہے کہ ’’وہ اداروں سے ٹکراؤ نہیں چاہتے‘‘ حالانکہ ’’نکالے جانے کے بعد‘‘ جی ٹی روڈ کے سفر سے اب تک اعلیٰ عدلیہ کےججوں کے بارے میں جو کچھ وہ سرعام کہتے رہے ہیں وہ نہ صرف ریکارڈ کا حصہ ہے بلکہ نتیجے کے طور پر نظرثانی کی اپیلوں کا ایک

ہفتے میں مسترد ہونا بھی میاں صاحب کے لئے بھیانک اور صاف جواب کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا بیانیہ یہ بھی ہے کہ وہ عدالتوں کا احترام کرتے ہیں تاہم انہیں انصاف کی توقع نہیں، وہ عدالتوں کا سامنا پہلے بھی کرتے رہے اور اب بھی کرنے کو تیار ہیں، لیکن ان کے قول وفعل سے واضح ہے کہ وہ 28 جولائی کے نااہلی کے فیصلے پرعمل کرنے کے باوجود اس کو ابھی تک قبول نہیں کر پائے، کہنے والے کہتے ہیں کہ وہ اس کو قبول بھی کیسے اور کیونکر کر سکتے ہیں کیونکہ وہ شخص جو خود کو اتنا طاقتور سمجھ بیٹھا تھا کہ اقتدار کے چار سالوں میں اپنے تمام پارٹی رہنمائوں تو کجا اپنی کابینہ کے تمام وزراء تک سے فرداً فرداً نہیں مل پایا تھا، جن کا کچھ عرصے بعد اہم بیرون ملک دورے پر تو جانا ہوتا تھا لیکن پارلیمنٹ آنے کا کبھی محض سوچتے ہی تھے، یہ وہی جمہوری و عوامی رہنما تھا جس نے اپنی نااہلی کے بعد ہی عام و خاص صحافیوں کی تفریق ختم کر کے ہاتھ ملانے اور دل کا احوال بتانے کا مشکل فیصلہ کیا، یہ وہی وزیراعظم تھا جس نے تیسری مرتبہ بھی اہم ملکی امور پر کچن کیبنٹ کے تصور اور ان کے پرمغز محدود مشاورت کے عمل کو جاری رکھا، وہی وزیراعظم جو ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کرنے کی کوششوں دوسروں پر عدم اعتماد کے باعث تنہا ہوتا گیا۔ اب انہی سیاسی دوستوں، حلیفوں، حریفوں کی راہ دیکھ رہا ہے۔
میاں صاحب نااہلی کے فیصلے کو بے انصافی اور کسی سازش کا نتیجہ قرار تو دیتے ہیں لیکن سازشی کا کھل کر نہیں بتاتے، انکے خیال میں انہیں خود مختار وزیراعظم کی حیثیت سے فیصلے کرنے کی کوششوں سے روکنے پر نااہل کروایا گیا، ملک کے اندر دہشت گردی کے خاتمے اور انتہاپسند گروپوں کے خلاف فیصلہ کن بلاامتیاز کارروائی کے اصرار پر نشانہ بنایا گیا، آزاد خارجہ پالیسی اور خطے میں امن کے خواب کی تعبیر کا منصوبہ بنانے پر معتوب کر دیا گیا، انہیں سی پیک سمیت دیگر اہم اور بڑے توانائی کے پروجیکٹس کو کامیاب بنانے پرراندہ درگاہ کر دیا گیا اور نہ جانے کیا کچھ۔
میاں صاحب کی وطن واپسی کے حوالے سے ڈیل اور نئے این آر او سمیت مک مکا کے بارے اندازے اور سازشی تھیوریز اپنی جگہ لیکن قریبی اور باخبر ذریعے کے مطابق چھوٹے میاں صاحب اور بعض دیگر سینئر پارٹی رہنمائوں نے نااہلی کے فیصلے کے بعد راول پنڈی اور اسلام آباد سمیت بعض غیر ملکی دوستوں سے بھرپور رابطوں سے صورت حال کو بہتر بنانے کی کوششیں کی ہیں اور بڑے بھائی کو واضح کیا کہ ٹکراؤ کسی طرح بھی پارٹی اور ان کے خاندانی سیاست کے لئے سود مند نہیں، ان کا یہ بھی مشورہ ہے کہ موجودہ مشکل سیاسی صورت حال میں صاحبزادی صاحبہ کو ’’ہتھ ہولا‘‘ رکھنے کا کہا جائے، اندر کی یہ بات بھی باہر آرہی ہے کہ میاں صاحب کو کہا گیا ہے کہ وہ قیادت اپنے ہاتھ میں رکھیں یا چھوٹے بھائی کے حوالے کریں تاکہ پارٹی ٹوٹ پھوٹ اور انتشار کا شکار نہ ہو، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آئندہ انتخابات تک میاں صاحب اور صاحبزادی قدرے خاموشی اور مفاہمت کا راستہ اختیار کریں تو بات مزید بگڑنے کی بجائے بن بھی سکتی ہے، تاہم دوسری طرف میاں صاحب نے صورت حال کو بطور چیلنج قبول کر لیا ہے، وہ تہیہ کر چکے ہیں کہ ’’نظام‘‘ کی تبدیلی کا وقت آچکا ہے، انہوں نے جو کھونا تھا وہ کھو دیا ہے اب مزید کھونے کو کچھ نہیں لہٰذا اب وہ کھل کر کھیلیں گے، منظر نامے کے مطابق کہا جاسکتا ہے کہ ابھی ڈیل نہیں ہوئی۔ دوسری طرف شنید ہے کہ پارلیمنٹ سے نااہلی کے باوجود پارٹی قیادت سنبھالنے کے الیکشن بل کی منظوری نے میاں صاحب کے حوصلے کو تقویت دی ہے اور فوری وطن واپسی کے فیصلے کا یہ بھی ایک اہم پہلو اور وجہ ہے، میاں صاحب نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی بجائے پارلیمنٹ میں بیٹھی سیاسی طاقتوں سے مفاہمت کے لئے تیار ہیں، بعض اہم پارٹی رہنمائوں کے مطابق اس حوالے سے وسیع البنیاد نیا چارٹر آف ڈیموکریسی سامنے لانے کی بات بھی چل رہی ہے اور پس پردہ کوششیں جاری ہیں، ایسے وقت اور حالات میں جب ٹیکنوکریٹ یا عارضی ’’جمہوری‘‘ سیٹ اپ کی باتیں کی جارہی ہیں نااہل شخص کا پارٹی قیادت سنبھالنے کی اہلیت کا الیکشن بل پاس کرانا اس بات کا عندیہ ہے کہ آج میاں صاحب، کل زرداری صاحب اور پرسوں خان صاحب کو اس کے براہ راست بینی فشری ہوں گے، میاں صاحب کی وطن واپسی کو حکومت اور پارٹی کے اندر انتشار اور ٹوٹ پھوٹ سے بچائو کی تدبیر بھی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ وزارت عظمی وپارٹی قیادت سےمحرومی اور محترمہ کلثوم نواز کی حلقہ این اے 120سے کم درجے کی کامیابی کے باوجود ان کی علالت کے باعث کی فوری وطن واپسی ممکن نہ ہونے کے سبب پارٹی معاملات نہیں سنبھل پا رہے، نوازشریف کو پارٹی کی بگڑتی صورت سے آگاہ کیا گیا ہے کہ موجودہ صورت حال میں پارٹی کے اندر بحران شدت سے سر اٹھا سکتا ہے، پارٹی کے اندر کئی سینئر رہنما قیادت سے شاکی اور نجی محفلوں میں ایک دوسرے کے سیاسی کردار اور رویوں پر سخت تنقید کرتے نظر آتے ہیں، پارٹی کے اندر دو مختلف الخیال گروپس ہیں جن میں ایک بڑے میاں اور ان کی صاحبزادی کی سیاسی دانش اورحکمت عملی سے متاثر ہے جبکہ دوسرا شہباز شریف اور چوہدری نثار کے خیالات کا حامی ہے، اسی دوران ایک دھڑا ایسا بھی ہے جو بہت زیادہ ’’محب وطن‘‘ بننا چاہتا ہے، بعض سیاسی نقاد سابق وزیراعظم کی صاحبزادی کی جانب سے نیب میں پیشی سے انکار کے واضح بیان کے بعد میاں صاحب کے اچانک نیب عدالت میں پیش ہونے کے فیصلے کو صورت حال کی سنگینی کے سبب یوٹرن بھی قرار دے رہے ہیں، لیکن موجودہ حالات میں ان کا عدالت میں پیش ہونا خان صاحب کے لئے مشکل ضرور پیدا کرے گا جو بیک وقت الیکشن کمیشن سمیت کئی عدالتوں سے وارنٹ گرفتاری بھی حاصل کر چکے ہیں اور پیش بھی نہیں ہوتے، موجودہ حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خان صاحب خود عدالت میں پیش ہو کر اپنی روایت تبدیل اور سیاسی ساکھ مضبوط بنا سکتے ہیں، بلاشبہ ایک بات طے ہے کہ موجودہ ملکی حالات کی بہتری اور سیاسی وجمہوری نظام کی بقا، قانون کی حکمرانی اور ذات سے بڑھ کر ملک وقوم کے مفاد میں فیصلے کرنے میں ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں