• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا....سحر ہونے تک …ڈاکٹرعبدالقدیرخان

آج سے تقریباً 80 سال پیشتر ہندوستان سے دو مشہور رسالے شائع ہوتے تھے، ایک لاہور کے میاں خاندان کے میاں بشیر شائع کرتے تھے اس کا نام ہمایوں تھا۔ میاں بشیر بعد میں ترکی میں ہمارے سفیر بھی رہے تھے۔ اُنہوں نے یہ رسالہ اپنے والد بزرگوار محترم جناب جسٹس شاہ دین ہمایوں# کے نام پر نکالا تھا۔ دوسرا رسالہ جناب نیاز فتح پوری نے نگار کے نام سے شائع کرنا شروع کیا تھا۔ دونوں اعلیٰ پائے کے رسالہ جات تھے۔ ہمایوں پر جسٹس شاہ دین ہمایوں# کا یہ شعر سرورق شائع ہوتا تھا۔
اُٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا
جسٹس شاہ دین ہمایوں اچھے شاعر تھے اور سنا ہے کہ قائدِاعظم جب لاہور تشریف لاتے تھے تو ان کے بنگلے میں ہی قیام فرماتے تھے۔ بانگِ درا میں علّامہ اقبال نے ان کی مدح سرائی کی ہے۔ میاں بشیر کو اپنی دولت پر کچھ زیادہ ہی بھروسہ تھا اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک موقع پر دعویٰ کیا تھا کہ ہمایوں کبھی بھی بند نہ ہوگا۔ لیکن جیسا کہ قدرت کا نظام اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے دولت کے سہارے کوئی چیز مستقل طور پر حاصل نہیں کی جاسکتی ہمایوں کچھ عرصہ بعد بند ہوگیا کہ میاں خاندان ان مصیبتوں کا شکار ہو گیا۔ اس کے برعکس نیاز فتح پوری (نیاز محمد خان) نے یہ عزم کیا تھا کہ نگار مسلسل شائع ہوتا رہے گا چاہے اس کی مکمل کتابت ان کو اپنے ہاتھ سے ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ نگار آج تک شائع ہورہا ہے۔ آپ کو بتاتا چلوں کہ جناب نیاز فتح پوری بھوپال کی شاہی لائبریری کے سربراہ تھے اور کئی برس بھوپال میں مقیم رہے ان کے صاحبزادے مشہور بایوٹیکنالوجسٹ اور جنیٹک سائنسدان ڈاکٹرسرفراز نیازی ہیں جو امریکہ میں مقیم ہیں اور انہوں نے غالب#کے کلام کا بہت ہی خوبصورت انگریزی ترجمہ کیا ہے اور اس کتاب کا نام Love Sonnets of Ghalib ہے۔ ڈاکٹر سرفراز نیازی اکثر پاکستان آتے رہتے ہیں اور میرے دوست ہیں۔ ہمایوں اور نگار کے بارے میں مصدقہ معلومات کے لئے اپنے عزیز دوست ناصر زیدی کا شکر گزار ہوں۔
ہمایوں اور نگار کے بقیدِحیات ہونے کے بارے میں مندرجہ ذیل شعر نہایت موزوں ہے۔
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے ذوق#
اولاد سے تو بس یہی دو پشت چار پشت
اگرچہ یہ بات تقسیم ہند سے تقریباً اٹھارہ سال پہلے کی ہے مگر ہمایوں# پر تحریر میں دی گئی نصیحت آج بھی ہم پر صحیح صادق نظر آتی ہے کیونکہ زمانہ آگے نکل گیا ہے اور ہم ابھی بھی عہد رفتہ میں رہ رہے ہیں اور سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ ہمیں اپنی اس کوتاہی اور نااہلی کا قطعی احساس نہیں ہے۔ اگر عوام باشعور ہوتے، تعلیمیافتہ طبقہ حسّاس ہوتا اور حکمران طبقہ حقیقی معنوں میں محب ِ وطن ہوتے تو کچھ مناسب اقدامات کئے جاتے اور عوام اور خواص ان کا ساتھ دیتے تو ترقی ناگزیر ہوتی۔ بدقسمتی سے تینوں طبقات میں خلوص کا فقدان تھا۔ آجکل بھی یہی بے ڈھنگی روایت قائم ہے۔ ہر اقدام اُٹھانے اور فیصلہ کرنے سے پہلے ذاتی مفاد کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اگر کوئی فیصلہ اور اقدام اور کارروائی بے لوث بھی ہو تو حکمران طبقے کی پچھلی ناکردگی کی وجہ سے کسی کو اس پر اعتماد نہیں ہوتا اور مخالفین اپنے مفاد اور بقاء کے لئے پہلے اور عوام کے فائدہ کے لئے کم ہی اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور وہ اسکیم جلد ہی ختم ہوجاتی ہے۔ یعنی ”دفتر را گاؤ خورد“ (دفتر کو گائے کھا گئی) والا محاورہ صحیح ثابت ہوتا ہے۔ آجکل جو کچھ ہو رہا ہے اس کا سبب کیا ہے اور اس کا مداوا کس طرح کیا جاسکتا ہے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ مختصراً صرف دو الفاظ اس لعنت کو بیان کرنے کو کافی ہیں، یعنی بددیانتی اور بدعنوانی اور ان کو ختم کرنا ہی اس لعنت کا علاج ہے۔ سرکاری (یعنی عوامی) رقوم کا ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرنا یا رشوت کے طور پر دوسروں کو دے کر ان سے غلط کام کرانا بد دیانتی ہے اور فرائض منصبی میں کوتاہی یا صحیح طور پر ان کو ادا نہ کرنا بدعنوانی ہے۔ اگر ان دونوں جرائم پر قابو پالیا جائے تو بہت سی معاشرتی برائیاں ختم ہوسکتی ہیں۔ بدعنوانی کے خاتمے اور ایمانداری کے لئے محاسبہ بے حد ضروری ہے لیکن یہ صرف نمائشی یا عوام کی آنکھوں میں دُھول ڈالنے والا نہیں ہونا چاہئے، اس پر عمل درآمد کے لئے انتہا درجہ کے ایماندار، غیرجانبدار اور باہمّت افراد کی ضرورت ہے جو بلاخوف و خطر اپنے فرائض منصبی انجام دیں اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہونے کے لئے تیار رہیں۔
جہاں تک کام اور فرائض منصبی میں غفلت یا بے ایمانی کا تعلق ہے اعلیٰ افسران، وزراء اور خود وزیر اعظم اپنے اسٹاف کی کارکردگی کے ذمہ دار ہیں۔ کیا ہم بھول گئے کہ حضرت عمر نے فرمایا تھا کہ اگر بغداد میں دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک یا پیاس سے ہلاک ہوا تو وہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہوں گے؟ وزیراعظم اور وزراء کا صرف یہ کام نہیں کہ سرکاری مراعات پر عیاشی کریں اور اپنے ماتحتوں کی کارکردگی کی ذمّہ داری قبول نہ کریں۔ ہمارے ملک میں تو یہ عام روایت ہے کہ کوئی افسر یا کارندہ کتنی ہی بڑی غلطی کرے، کتنی ہی نااہلی کا ثبوت دے لیکن وہ اگر اپنے باس کا وفادار ہے تو اس پر سات خون معاف، کوئی تفتیش،کوئی انکوائری اس کا بال بیکا نہیں کرسکتی۔ عموماً اسی تفتیش کو اتنا طول دیا جاتا ہے کہ لوگ اس اسکینڈل کو بھول جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے اگر ایسے مقدمات عدلیہ کے سامنے آئیں تو وہاں بھی غیر ضروری طوالت، التوا اس کو زندہ در گور کردیتا ہے، اس طرح اس مملکت خداداد پاکستان میں مجرم کو انعام اور بے گناہ کو سزا ملتی ہے۔ ابھی آپ نے جعلی ڈگریوں کے شرمناک واقعات دیکھے ہیں اور اس سے زیادہ شرمناک بیانات حکمرانوں کے ہیں کہ اس شرمناک اورقابل مذمت اقدام کی حمایت میں بیان دے رہے ہیں۔ یہ نظر انداز کرکے کہ قائدِاعظم ایک نہایت اعلیٰ پایہ کے بیرسٹر تھے انگلستان میں قانون کی سند حاصل کی تھی کہا جاتا ہے کہ وہ گریجویٹ نہیں تھے۔ یا خدایا رحم کر اس مظلوم قوم پر۔ اور دین کے دشمنوں پر حسب وعدہ اپنا عتاب نازل فرما۔ آمین!
ہمارے سامنے دنیا کے لاتعداد ملکوں نے چند ہی برسوں میں بے حد ترقی کی ہے اور جس طرح یہ ترقی کی ہے وہ بھی سب پر عیاں ہے اس میں ایمانداری، نیک نیتی، سخت محنت اور سب سے بڑھ کر حکمرانوں کے کردار نے بہت اہم رول ادا کیا ہے۔ فضول خرچی اور عیاشی پر سخت پابندی لگائی ہے۔ بلاضرورت اداروں میں افراد کی بھرتی نہیں کی ہے۔ ضرورت سے زیادہ افرادی قوّت میں کمی کی ہے، نئی نئی صنعتیں لگائی ہیں اور عیاشی کی اشیاء کی درآمد پر سخت پابندی لگائی ہے۔ ہمارے یہاں اُلٹا وتیرہ ہے، بڑی بڑی گاڑیاں، کپڑے، میک اپ کا سامان، کھانے کی اشیاء، موبائل فون، چینی، تیل، گھی وغیرہ کی درآمد پر کئی ارب ڈالر خرچ کردیے جاتے ہیں، لوگ ٹیکس نہیں دیتے، مگر چونکہ اس حمام میں حکمراں طبقہ اور اثر و رسوخ والے فیکٹریوں کے مالکان اورتاجر سب ہی ننگے ہیں اس لئے اس سلسلہ میں کوئی مناسب یا سخت اقدامات نہیں اُٹھائے جاتے۔ ملک آہستہ آہستہ قبرستان کی طرف رواں دواں ہے مگر سب آنکھیں کھولے تباہی کا انتظار کر رہے ہیں۔
تمام ترقی یافتہ ممالک میں قانون سب کے لئے برابر ہے مگر اس مملکت خداداد پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ بڑے لوگ جھوٹ بولیں، جعلی سرٹیفکیٹ و ڈگریاں داخل کرکے عوامی مینڈیٹ کی دھجیاں اُڑادیں تو معمولی بات ہے قیامت نہیں آجاتی لیکن اگر ایک بے چارہ غریب جھوٹی یا جعلی ڈگری دے کر ملازمت کرے اور پکڑا جائے تو نہ صرف ملازمت سے ڈسمس ہوتا ہے بلکہ جیل بھی جاتا ہے۔ یہی حال قرضہ لینے والوں کا ہے اگر آپ کئی کروڑ کا قرض لے کر واپس نہ کریں تو وہ معاف کردیا جاتا ہے لیکن ایک لاکھ یا اس سے کم بھی قرض لیا ہو تو بے چارے غریب کی دو چار کنال زمین نیلام کردی جاتی ہے۔ یعنی اندھیر نگری چوپٹ راج والی بات ہے اور یہ سب کچھ اسلام، اسلامی قوانین کی موجودگی میں ہو رہا ہے۔اپنے کالم کے عنوان سے متعلق آپ کو شیخ سعدی کی ایک حکایت سنانا چاہتا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں کہ ایک بار مکّہ شریف کی طرف گامزن تھا کہ راہ میں بیابان صحرا پڑا۔
مجھے نیند آگئی اور وہیں سو گیا، اُدھر سے ایک شتر سوار گزرا اور اس نے جب مجھے خواب غفلت میں پڑا سوتا دیکھا تو اس نے اپنے اونٹ کی مہار میرے سر پر ماری اور ڈانٹ کر بولا کہ کیا تو مرنا چاہتا ہے نقارے کی آواز بھی سن کر نہیں جاگا۔ آرام سے سونے کی خواہش تو مجھے بھی ہے مگر جو بیابان مجھے سامنے نظر آرہا ہے وہ مجھے سونے کی اِجازت نہیں دیتا۔ اگر کوئی مسافر کُوچ کا نقارہ سن کر بھی سوتا رہے تو قافلہ اسے چھوڑ کر آگے نکل جاتا ہے اور پھر اسے راستہ نہیں ملتا اور وہ بھٹک کر ہلاک ہو جاتا ہے۔
خواب غفلت میں سوئے ہوئے لوگ جب بیدار ہوتے ہیں تو زندگی کا قافلہ گزر چکا ہوتا ہے وہی مسافر پہلے آگے نکلتا ہے جو پچھلی رات بیدار ہو کر سفر شروع کردیتا ہے جب قافلہ روانہ ہو چکا ہو توپھر اس کے بعد جاگنے والا اور روانہ ہونے والا ہمیشہ ہی پیچھے رہتا ہے۔
یہی حال ہمارے ملک کا ہے ہم تو قافلے سے اب اس قدر پیچھے رہ گئے ہیں کہ اب قافلے کو پکڑنا اور اس کے ساتھ سفر کرنا کچھ ناممکن ہی نظر آرہا ہے۔ اللہ تعالیٰ رحم کرے۔ آمین۔


تازہ ترین