بریگیڈیئر امیر سلطان تارڑ اور کرنل امام ایک ہی شخص کے دو نام تھے۔ اس شخص نے ان دونوں ناموں کے ساتھ تمام عمر پاکستان کی خدمت کی لیکن جب یہ شخص پاکستانی ریاست کی مدد کرتے ہوئے ایک مشکل میں پھنس گیا تو پاکستانی ریاست اسے مشکل سے نکالنے میں ناکام رہی۔ کرنل امام کے بارے میں ملکی و غیرملکی میڈیا متضاد خبریں جاری کررہا ہے۔ ایک اخبار کہتا ہے کہ وہ طالبان کی حراست میں دل کی تکلیف کے باعث انتقال کرگئے تو دوسرا کہہ رہا ہے کہ لشکر جھنگوی کے ایک گروپ نے تاوان کی رقم نہ ملنے پر انہیں گولی مار دی۔ ایک انگریزی اخبار نے انہیں طالبان کا ”گاڈفادر“ لکھا تو دوسرے نے اپنے اداریئے میں الزام لگایا کہ کرنل امام تمام عمر دہشت گردوں کی تربیت کرتے رہے۔ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ کرنل امام ایک متنازعہ کردار تھے اور بہت سے معاملات پر خود میں بھی ان کے ساتھ اتفاق نہیں کرتا تھا لیکن ان کی نیت کسی بھی شک و شبے سے بالاتر تھی۔ میڈیا کا ایک حصہ اگر ان کی تعریف کو انتہا پسندی سمجھتا ہے تو کم از کم ان کے بارے میں جھوٹ لکھ کر بددیانتی کا مظاہرہ نہ کرے۔
امیر سلطان تارڑ کو بریگیڈیئر بھی پاکستانی ریاست نے بنایا اور اس بریگیڈیئر کو کرنل امام کا خفیہ نام بھی پاکستانی ریاست نے دیا۔ کرنل امام نے کوئی کام انفرادی حیثیت میں نہیں کیا وہ جو کچھ بھی کرتے رہے پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے ایک افسر کے طور پر کرتے رہے۔ انہوں نے 1973ء میں کیپٹن کی حیثیت سے امریکہ کے فورٹ براگ ملٹری کالج سے گرین بیریٹ حاصل کیا اور اسپیشل سروسز گروپ میں انسٹرکٹر مقرر ہوئے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب آئی جی ایف سی بریگیڈیئر نصیر اللہ خان بابر نے گلبدین حکمت یار، برہان الدین ربانی، احمد شاہ مسعود، حبیب الرحمن، نور محمد محمدی اور انجینئر جان محمد کو پاکستان میں پناہ دی اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی تائید سے نہ صرف ان کی امداد شروع کی بلکہ انہیں تربیتی کیمپ بھی قائم کرکے دیئے۔ ان افغان مزاحمت کاروں کی مدد کے لئے پاکستانی ریاست نے فوج کے جن افسروں کی ڈیوٹی لگائی ان میں کرنل امام بھی شامل تھے لہٰذا ان مزاحمت کاروں کے اصل گاڈ فادر نصیر اللہ بابر تھے جنہوں نے افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی کو روکنے کے لئے کابل میں سردار داؤد کی حکومت کے خلاف ایک محاذ کھول دیا۔ سردار داؤد جب بھی پاکستان سے احتجاج کرتے تو جواب میں کہا جاتا کہ آپ نے کابل میں اجمل خٹک، اعظم ہوتی اور افراسیاب خٹک کو پناہ کیوں دے رکھی ہے؟ اسی دور میں پشاور میں کرنل امام کے دفتر میں گلبدین حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کے درمیان تلخی ہوئی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ دونوں نے ایک دوسرے پر پستول تان لئے۔ بعد ازاں احمد شاہ مسعود کے ایک قریبی ساتھی انجینئر جان محمد کو قتل کردیا گیا اور یہاں سے مسعود اور حکمت یار کے درمیان ایک دشمنی کا آغاز ہوا۔ مسعود تمام عمر حکمت یار کے ساتھ ساتھ آئی ایس آئی کو بھی انجینئر جان محمد کے قتل کا ذمہ دار سمجھتے رہے۔ نصیر اللہ بابر اور کرنل امام نے صرف دو سالوں میں افغانستان کے شمال اور مشرق میں مزاحمت کو اتنا مضبوط کردیا کہ سردار داؤد ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہوگیا۔ اس سلسلے میں باقاعدہ ایک معاہدے پر دستخط ہونے والے تھے لیکن 1977ء میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے باعث یہ اہم تاریخی بریک تھرو نہ ہوسکا۔
1977ء کے مارشل لاء میں کرنل امام کو افغان مزاحمت کاروں سے علیحدہ کردیا گیا۔ یہ مزاحمت کار پشاور کے آس پاس اپنے کیمپوں میں بے یقینی کی زندگی گزار رہے تھے۔ نصیر اللہ بابر فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے تو گرفتار کرلئے گئے۔ 1978ء میں افغانستان میں روسی فوج داخل ہوئی تو نصیر اللہ بابر نے جیل سے ایک خفیہ خط شاہ ایران کو بھیجا جس میں کہا گیا کہ امریکہ سے کہو برہان الدین ربانی، حکمت یار اور مسعود کی مدد کرے تاکہ روس کا راستہ روکا جاسکے۔ پھر اس منظر میں امریکی کانگریس مین چارلی ولسن داخل ہوا اور یوں جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کے لائے ہوئے افغان مزاحمت کاروں کو افغان مجاہدین کا نام دے کر اپنا لیا۔
کرنل امام کو 1983ء میں دوبارہ افغان مجاہدین کے ساتھ جوڑا گیا۔ آئی ایس آئی کے افغان سیل میں ان کے ماتحت 200افراد تھے اور یہ 200افراد ایک لاکھ سے زائد افغان مجاہدین کو کنٹرول کرتے تھے۔ پرانی چپقلش کے باعث احمد شاہ مسعود ہمیشہ کرنل امام سے دور رہے لیکن حکمت یار ان کے قریب تھے۔ کرنل امام کم از کم تین مرتبہ چارلی ولسن کو لے کر افغانستان کے ان علاقوں میں گئے جو افغان مجاہدین کے قبضے میں تھے۔ امریکہ کے سیکرٹری دفاع رابرٹ گیٹس ان دنوں سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر تھے اور پشاور میں کرنل امام کے مستقل مہمان ہوا کرتے تھے۔ 1989ء میں افغانستان سے روسی فوج کے انخلاء کے بعد جارج بش سینئر نے پاکستانی فوج کے جن افسران کو واشنگٹن بلاکر شکریہ ادا کیا ان میں کرنل امام بھی شامل تھے۔ 1994ء میں نصر اللہ بابر پاکستان کے وزیرداخلہ تھے۔ ربانی، مسعود اور حکمت یار کی باہمی لڑائیوں کے باعث افغانستان خانہ جنگی کا شکار تھا اور کابل ایک دفعہ پھر بھارت کے اثر میں تھا۔ نصیر اللہ بابر نے ترکمانستان سے پاکستان تک گیس پائپ لائن بچھانے کے منصوبے میں دلچسپی رکھنے والی امریکی کمپنی یونوکول کے 50کروڑ سے طالبان کو منظم کیا اور کرنل امام کو طالبان کی مدد کیلئے چمن کے راستے سپن بولدک بھیجا۔ اس وقت تک طالبان کا قندھار کے آس پاس مکمل کنٹرول نہیں تھا اور ایک دن حزب اسلامی کے ایک گروپ نے کرنل امام کو گرفتار کرلیا۔ بعدازاں طالبان نے کرنل امام کو رہا کروا لیا اور 1995ء میں پاکستانی حکومت نے انہیں پہلے قندھار اور پھر ہرات میں اپنا قونصل جنرل بنایا۔
کرنل امام طالبان کے تمام دور اقتدار میں افغانستان میں رہے۔ گیارہ ستمبر 2001ء کو امریکہ میں حملوں کے بعد انہوں نے ملاعمر کو مشورہ دیاکہ وہ اسامہ بن لادن کو افغانستان سے نکال کر اپنی حکومت بچائیں لیکن اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل محمود کی ڈبل گیم کے باعث کرنل امام کامیاب نہ ہوسکے۔ کرنل امام نے 2001ء میں پرویز مشرف کی طرف سے افغان پالیسی میں تبدیلی کی مخالفت کی۔ وہ افغان طالبان کے حامی تھے لیکن پاکستان میں طالبان کی کارروائیوں کے مخالف تھے۔ مارچ 2010ء میں اپنے ایک پرانے ساتھی خالد خواجہ اور ایک برطانوی صحافی اسد قریشی کے ہمراہ شمالی وزیرستان روانہ ہوئے تو کوہاٹ میں جاوید ابراہیم پراچہ نے انہیں بہت روکا اور کہا کہ شمالی وزیرستان مت جاؤ لیکن کرنل امام پاکستانی طالبان اور فوج میں سیز فائر کا مشن لے کر چلے گئے۔ جب وہ بنوں سے شمالی وزیرستان میں داخل ہوئے تو سیکورٹی فورسز کو ان کے مشن کا علم تھا۔ اس علاقے سے کوئی عام پاکستانی سیکورٹی حکام کی مرضی کے بغیر ایک مسافر وین میں شمالی وزیرستان نہیں جاسکتا لیکن آگے جاکر جب کرنل امام اور ان کے ساتھیوں کو اغواء کرلیا گیا تو سیکورٹی حکام بے بس ہوگئے۔ اغواء کاروں نے خالد خواجہ کو قتل کردیا، برطانوی صحافی اسد قریشی کو تاوان لے کر رہا کردیا اور کرنل امام کی رہائی کے بدلے اپنے 70ساتھیوں کو رہائی مانگتے رہے۔ اغواء کاروں نے ملا عمر کی درخواست بھی رد کردی اور دنیا پر ثابت کردیا کہ پاکستانی طالبان ملاعمر کے کنٹرول میں نہیں۔ کرنل امام سے سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن وہ پاکستان کے بہادر سپوت اور سچے مسلمان تھے۔ شمالی وزیرستان جانا ان کی ایک غلطی تھی لیکن اس غلطی کی سزا بہت زیادہ تھی۔ ان کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا پاکستان کے اندر ہوا افسوس کہ پاکستانی ریاست کچھ نہ کرسکی۔ کیا وقت نہیں آگیا کہ شمالی وزیرستان میں پاکستانی ریاست کی عملداری قائم کی جائے نہ کہ عمل داری قائم کرنے کا مطالبہ کرنے والوں کو امریکی ایجنٹ قرار دیا جائے۔