آپ آف لائن ہیں
منگل7؍ محرم الحرام 1440 ھ18؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دنوں ذہنی صحت اور ذیابیطس دونوں بیماریوں کے عالمی دن منائے گئے۔ اس حوالے سے میر خلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی جنگ گروپ آف نیوز پیپرز نے کراچی، ملتان اور لاہور میں خصوصی سیمینارز اور واک کروائیں،پاکستان کے معروف ماہر نفسیات اور مائنڈ آرگنائزیشن کے سربراہ و علامہ اقبال میڈیکل کالج کے شعبہ نفسیات کے سابق سربراہ ڈاکٹر سعد بشیر ملک نے بتایا کہ ’’پاکستان میں دو کروڑ لوگ مختلف ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور آئندہ آنے والے چند برسوں میں ان کی شرح دگنی ہو جائے گی۔‘‘سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج ہمارے ملک میں کیوں لوگ زیادہ ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں اگر سیاسی طور پر جائزہ لیں تو صورتحال یہ ہے کہ پورے ملک کے لوگ ایک عجیب ذہنی کوفت میں مبتلا ہیں۔ پتا ہی نہیں چل رہا کہ کون حکومت چلا رہا ہے ؟ کون حکومت کر رہا ہے؟ کوئی شہر ایسا نہیں جہاں لوگ جلسے جلوس کرتے ہوئے نظر نہ آ رہے ہوں۔
دس کروڑ لوگ ایسے ہیں جن کی روزانہ کی انکم دو ڈالر سے بھی کم ہے۔ ان حالات میں لوگ ذہنی بیماریوں میں مبتلانہیں ہوں گے تو کیا ہوں گے۔ حکومت لوگوں کے مسائل سے بے خبر ہے۔ بڑے میاں صاحب اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد عجیب ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں اور ان کی ضد اور انا کی وجہ سے پورے ملک میں ڈپریشن کی صورتحال پیدا ہو چکی

ہے۔حال ہی میں ایک رپورٹ آئی ہے جس کے مطابق طلاق کی شرح بہت بڑھ گئی ہے۔ خواتین پر تشددکے واقعات بڑھ چکے ہیں۔ غور کریں کہ لوگوں میں برداشت ختم کیوںہوتا جارہا ہے۔ سڑکوں پر لوگ لڑ رہے ہیں، اساتذہ بچوں کو مار رہے ہیں۔ آئے روز ان واقعات کی رپورٹیں اخبارات میں آتی رہتی ہیں۔ جس معاشرے میں معاشی ناانصافی ہوگی وہاں لوگ یقینی طور پر ذہنی مریض ہی بنیں گے۔ لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا ۔ عدالتوں میں لوگ سالہا سال سے دربدر پھر رہے ہیں، مشترکہ خاندانی نظام ختم ہو رہا ہے۔ مذہب سے دوری بھی ذہنی امراض کا باعث بن رہی ہے۔ تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کے نفسیاتی مسائل کو حل کرنے کے لئے کوئی رہنمائی کے مراکز نہیں۔ غالباً پنجا ب یونیورسٹی واحد ادارہ ہے (علاوہ ٹیچنگ اسپتالوں کے) جہاں نوجوانوں کو ذہنی و نفسیاتی امراض میں رہنمائی دینے کے لئے سینٹرز ہیں۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون نے بھی لوگوں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ نوجوان نسل اپنےمستقبل کے بارے میں ایک بحرانی کیفیت میں مبتلا ہے ۔صرف ایلیٹ کلاس کے تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم بچوں کے مستقبل کے بار ےمیں کوئی واضح پروگرام ہے۔ سرکاری اسکولوںکے بچے بغیر کسی منصوبہ بندی کے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ آج کی نوجوان نسل مختلف ذہنی اور نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو رہی ہے۔ ذہن میں رکھیں کہ ہر نفسیاتی مریض /مریضہ پاگل نہیں ہوتا / ہوتی۔ ویسے تو لاہور کے پاگل خانے کے حالات بھی کچھ اچھے نہیں اس پر پھر بات کریں گے۔
عزیز قارئین کچھ نفسیاتی بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں سائیکالوجسٹ دیکھتا ہے جس میں صرف کونسلنگ کی جاتی ہے۔ کچھ ذہنی امراض ایسے ہوتے ہیں جن کو ماہر نفسیات (ایم بی بی ایس ڈاکٹرز) دیکھتے اور ادویات تجویز کرتے ہیں۔ کچھ ذہنی اور نفسیاتی مرض ایسے ہوتے ہیں جو علاج سے ٹھیک ہو جاتے یں البتہ انہیں ایک طویل عرصے تک کونسلنگ کی ضرورت ہوتی ہے جس کی ہمارے ہاں کوئی مناسب سہولت نہیں۔ سرکاری اسپتالوں کے شعبہ نفسیات میں ڈاکٹروں کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا ہے کہ وہ مریضوں کی بات سن سکیں۔پاکستان کے کسی اسکول میں کوئی سینٹر نہیں ہے جہاں اسکول کے بچوں کو ان کی چھوٹی چھوٹی نفسیاتی بیماریوں اور مسائل میں رہنمائی دی جائے ، یہی وجہ ہے کہ یہ بچے بڑے ہو کر بے راہ روی کا شکار ہو جاتے ہیں اور مختلف ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کے بقول پاکستان میں دو کروڑ لوگ ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہیں یہ کوئی کم اعداد و شمار نہیں۔ ہماری حکومت کسی مسئلے پر اس وقت توجہ دیتی ہے جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے اور ویسے بھی حکمراں طبقے کے لوگ جن بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں انہی پر توجہ دی جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسکولوں میں ایسے سینٹرز ہونے چاہئیں جہاں اسٹوڈنٹس کےچھوٹے موٹے نفسیاتی مسائل سن کر رہنمائی کی جائے۔ جو بچے بچیاں ہوسٹلوں میں رہتے ہیں اور تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں ان کو کئی نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو بڑھتے بڑھتے ذہنی بیماریوں کا باعث بن جاتے ہیں۔ اسی ہفتے ذیابیطس کا عالمی دن منایا گیا۔ دنیا بھر میں ذیابیطس کے 80فیصد مریضوں کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہے جبکہ پاکستان تو ہے ہی پسماندہ ملک۔ ماہرین کے بقول صرف دس برسوں میں پاکستان میں شوگر اور موٹاپے کے مریضوں کی تعداد دگنی ہو جائے گی۔ یہ بڑی دلچسپ حقیقت ہے کہ ذیابیطس اور موٹاپا اب امیروں کی بیماری نہیں رہی بلکہ ہر طبقے کے افراد اس میں مبتلا ہو رہے ہیں چاہے وہ امیر ہیں یا غریب۔ یہ بھی بڑی دلچسپ حقیقت ہے کہ ذہنی دبائو سے بھی مریض شوگر میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ جو لوگ مستقل ذہنی دبائو میں مبتلا رہتے ہیں وہ ذیابیطس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس مرض کے بڑھنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارےہاں لوگ ورزش سے دور اور فاسٹ فوڈ کے زیادہ قریب جا چکے ہیں۔ پھر شوگر کے بارے میں کوئی مناسب آگاہی نہیں۔ پاکستان کے مایہ ناز کرکٹر وسیم اکرم کو صرف 29سال کی عمر میں شوگر کا مرض لاحق ہوگیا تھا۔ اس وقت جب وہ اپنے کیریئر کے عروج پر تھے۔ آج ان کی عمر 52سال کے قریب ہے لیکن وہ صحتمند زندگی بسر کر رہے ہیں۔ دوبارہ شادی بھی کرلی ہے۔ ایک بیٹی کے باپ بھی بن چکے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہیں ملک کے معروف اینڈو کرینالوجسٹ اینڈ فزیشن پروفیسر ڈاکٹر فیصل مسعود نے اس مرض کے بارے میں بروقت آگاہی دی۔ جس کی وجہ سے وہ آج کسی عام صحتمند انسان سے بھی زیادہ صحتمند ہیں کیونکہ انہوں نے شوگر کو کنٹرول رکھا ہوا ہے۔ شوگر کو ام الامراض کہا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے آنکھیں، گردے، جلد اور جسم کے دیگر اعضا متاثر ہو جاتے ہیں بلکہ انسان اندھے پن کا شکار ہو جاتا ہے او راس کے گردے فیل ہو جاتے ہیں، گینگرین بن جاتاہے، ٹانگیں اور پائوں کاٹنے پڑتے ہیں، انسان معذور ہو جاتا ہے اور موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔
ضروری ہے کہ ہماری حکومت اس خوفناک مرض کے بارے میں عوام کو جس طرح ڈینگی، خسرہ، پولیو کے بارے میں بار بار آگاہ کرتی ہے اسی طرح شوگر کے مرض کے بارے میں عوام کو آگاہی دے۔ تھوڑی ہی احتیاط کے ساتھ شوگر کے مرض اور مختلف بیماریوں سے بھی محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں اسکولوں اور کالجوں میں ماہرین کے بار بار لیکچر کروانے چاہئیں۔ فاسٹ فوڈ پر پابندی لگانی چاہئے اور ا سکولوں کی ٹک شاپس پر صحتمند غذا فراہم کرنا چاہئے۔ لاہور کے بعض تعلیمی اداروں نے مشروبات پر بالکل پابندی لگا دی ہے جو کہ ایک اچھا اقدام ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فوڈ اتھارٹی اور حکومت کا محکمہ صحت تعلیمی اداروں میں فروخت ہونے والی چیزوں کو چیک کرکے لوگوں کو ذیابیطس کے مرض سے بچانے کے لئے آگاہی کے پروگرام تیز کرے کیونکہ ذیابیطس انسانی جسم میں پیچیدگیاں پیدا کردیتی ہے جن کا علاج بہت مہنگا اور اذیت ناک ہے۔
لاہور میں ایک ایسے خدا ترس ڈاکٹر ہیں جنہوں نے ایک سرکاری اسپتال میں اپنی جیب سے ذیابیطس سینٹر قائم کیا ہوا ہے اور ادویات مفت فراہم کرتے ہیں۔ یہ سینٹر سروسز اسپتال میں ہےجہاں سرکاری ڈاکٹرز شوگر کے مریضوں کا بالکل مفت علاج کرتےہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں