• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دوہوں کے ”نیتا“ ڈاکٹر طاہر سعید ہارون!...روزن دیوار سے …عطاء الحق قاسمی

ڈاکٹر طاہر سعید ہارون سے میری ملاقات ڈاکٹر آئی اے خواجہ کی وساطت سے ہوئی تھی، میں تو ڈاکٹر صاحب کو بین الاقوامی شہرت کے حامل ایک اسکن سپیشلسٹ (SKIN SPECIALIST) کے طور پر ہی ملا تھا مگر بعد میں پتہ چلا کہ میری ملاقات تو دراصل ایک شاعر سے ہوئی کہ ان کے لہجے کی ملائمت اور شخصیت کی غنائیت ان کے شاعر ہونے کی چغلی کھا رہی تھی۔ جب ڈاکٹر صاحب سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا تو آہستہ آہستہ معلوم ہوا کہ ان کی شخصیت ہی شاعرانہ نہیں، بلکہ وہ باقاعدہ شاعر ہیں اور 1955ء سے شاعری کر رہے ہیں۔ 1955ء میں وہ ایک جوان رعنا تھے اور ظاہر ہے اس عمر میں غزل ہی کہی جا سکتی ہے۔ سو وہ غزلیں ہی کہتے تھے، یہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کس کے لئے کہتے تھے اور کیا اس کے مطلوبہ نتائج بھی برآمد ہوئے تھے کہ نہیں؟ اس کے بعد وہ میڈیسن کی اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلینڈ چلے گئے اور انگلینڈ میں غزل کا ماحول اور زیادہ رنگین اور بعد میں سنگین ہو جاتا ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر صاحب سے میری کوئی بات نہیں ہوئی ورنہ اگر ضرورت پڑتی تو اس حوالے سے میں آپ کو تنہائی میں کچھ تفصیلات سے آگاہ کرتا، تاہم ان کی شاعری پر مزید نکھار 1980ء کی دہائی میں آنا شروع ہوا … اور اس کے بعد اللہ جانے کیا ہوا کہ وہ 1990ء کی دہائی میں انہوں نے غزلیں وزلیں لپیٹ کر ایک طرف رکھیں اور دوہے کہنا شروع کر دیئے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ان کی شاعری کا ٹرننگ پوائنٹ تھا کہ اس کے بعد تو انہوں نے کشتوں کے پشتے لگا دیئے… اب تو دوحہ نگاری ہے اور ہمارے ڈاکٹر صاحب ہیں۔ انہوں نے اس صنف کو کچھ اس طرح جی جان سے اپنایا کہ بہت سوں کی دکانیں بند کرا دیں اور اب ہمارا یہ مرزا یار دوہوں کی گلیوں میں دندناتا پھر رہا ہے۔ ڈاکٹر طاہر سعید ہارون اب تک سات ہزار سے زائد دوہے تخلیق کر چکے ہیں اور دوہوں پر مشتمل سات مجموعوں سن بلوچ، نیلا چندرماں، پریت ساگر، من مانی، میگھ ملہار، بھور نگر اور پریم اس کے بعد ان کا آٹھواں مجموعہ ”کوک“ کے نام سے ان کے قارئین کے ہاتھوں تک پہنچ چکا ہے۔
میں یہ تو نہیں کہتا کہ آٹھ اعلیٰ درجے کے شعری مجموعوں کے خالق شاعر کی شہرت اس وقت بام عروج پر ہے۔ وہ گھر سے باہر قدم رکھتا ہے تو لوگوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ اسے دیکھنے کے لئے جمع ہو جاتے ہیں اور لڑکے لڑکیاں آٹو گراف لینے کے لئے اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں کیونکہ یہ ”سعادت“ تو صرف شوبز سے وابستہ فنکاروں کو حاصل ہوتی ہے۔ آج کا دور تحریر کا نہیں، تصویر کا دور ہے۔ طاہر سعید صاحب کو گزشتہ روز ایک فون آیا کہ طاہرہ سید صاحبہ سے بات کرنا ہے۔ انہوں نے کہا یہ طاہرہ سید صاحبہ کا نہیں طاہر سعید صاحب کا نمبر ہے اور یہ خادم حاضر ہے۔ اگر مجھ پر گزارہ کر سکتے ہیں تو بات کریں؟ بہت عرصہ قبل اس سے کہیں زیادہ ”مردم شناسی“ کا مظاہرہ خود میرے ساتھ ہوا تھا۔ میں نے ”معاصر“ کے دفتر میں ایک نوجوان کو ملازم رکھا جو میری عزت باس کے طور پر نہیں بلکہ ایک فین کے طور پر کرتا تھا، لیکن ایک دن اسے میری اوقات معلوم ہو گئی جب اسے پتہ چلا کہ میں دراصل عطاء الحق ہوں، عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی نہیں، اس پہ اس کے جذبات اتنے مجروح ہوئے کہ اس نے بیروزگار ہونا قبول کر لیا، اگرچہ اسے یہ منظور نہیں تھا کہ وہ ایک لکھاری کو اپنے باس کے طور پر قبول کرے۔ تفنن برطرف، ڈاکٹر صاحب کے نام اور کام سے اگر کروڑوں نہیں تو برصغیر پاک و ہند میں اب لاکھوں لوگ نہ صرف یہ کہ واقف ہو چکے ہیں بلکہ ان کے قائل بھی ہیں اور سچی بات پوچھیں تو یہ خوش نصیبی انہیں دوحہ نگاری کی وجہ سے نصیب ہوئی ہے کیونکہ اگر وہ غزل گوئی ہی کرتے رہتے تو ان کا مقابلہ عصر حاضر کے جغادری شاعروں سے ہونا تھا جو اتنا آسان نہ ہوتا جبکہ دوحہ میں انہیں اتنے ٹف کمپیٹیشن (TOUGH COMPETITON) کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ مجھے بے شمار دوست افسانے لکھنے پر اکساتے رہتے ہیں، ان کی دلیل یہ ہے کہ تمہارے بہت سے کالموں میں افسانے کے اجزاء پائے جاتے ہیں مگر میں کوئی بے وقوف ہوں جو ان کا مشورہ قبول کرکے راجندر سنگھ بیدی، احمد ندیم قاسمی، انتظار حسین، غلام عباس، اسد محمد خان اور محمد منشاء یاد کے علاوہ اس صنف سے وابستہ دوسرے پہلوانوں کے ساتھ اکھاڑے میں اتروں اور اپنی ”دھون“ تڑوا بیٹھوں؟ ڈاکٹر طاہر سعید ہارون خوش قسمت ہیں کہ انہوں نے بالآخر اپنے لئے شاعری کی وہی صنف منتخب کی جو ان کے دھیمے لہجے اور غنائی شخصیت سے مطابقت رکھتی تھی۔ انہوں نے اس صنف میں وہ کمالات دکھائے کہ اب کوئی بددیانت نقاد دوحہ نگاری پر بات کرتے ہوئے انہیں نظرانداز نہیں کر سکتا اور یوں میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ شخص جس کا نام طاہر سعید ہارون ہے اردو شاعری کی اس صنف میں امر ہو چکا ہے۔
پروفیسر فتح محمد ملک نے ڈاکٹر صاحب کے دوہوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے بجا طور پر کہا ہے کہ ان کے موضوعات متنوع ہیں، حسن و عشق کے ارضی تصور کے ساتھ ساتھ اخلاق و تصوف، حمد و ثناء، انسان دوستی اور وطن پرستی کے جذبات ان کے دوہوں کے فنی و فکری موضوعات ہیں، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے معاشی عدل و انصاف کے فقدان سے پیدا ہونے والی انسانی صورتحال پہ بھی دل سوزی خوبصورت اور اثر انگیز دوہوں کی صورت گر ہے۔ فتح محمد ملک نے اس ضمن میں ان کے دوہوں سے جو چند مثالیں پیش کی ہیں، میں آخر میں یہ دوحے آپ کے گوش گزار کرکے آپ سے اجازت چاہتا ہوں!
ٹھاکر گیہوں لے گیا ہاری بھوسا کھائے
کاگا رہا پکارتا انیائے، انیائے
محنت کرنا رات دن ہاری کا بیوہار
لُوٹیں دونوں ہاتھوں سے ٹھاکر ساہوکار
غربت اس کے دیس میں بھوکے سوئیں لوگ
جنتا جائے بھاڑ میں، نیتا کے گھر بھوگ
دیسوں کے ”نیتا“ ایسے ہی ہوتے ہیں جیسا کے بیان کئے گئے ہیں، لیکن ہمارے دوہوں کے ”نیتا“ طاہر سعید ہارون ایسے نہیں ہیں، ان کا ظاہر جتنا خوبصورت ہے، باطن بھی اتنا ہی خوبصورت ہے… اور ان کے دوہے، جن پر سبحان اللہ کہنے کے علاوہ ایک کلاسیکی شاعر کی طرح
ارے رے، رے، ارے رے رے
بھی کہنے کو جی چاہتا ہے!
(لاہورآرٹس کونسل کے زیراہتمام طاہر سعید ہارون کے دوہوں کے آٹھویں مجموعے ”کوک“ کی تقریب رونمائی میں پڑھا گیا)
تازہ ترین