آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چند سال پہلے اسلام آباد پر جب پہلا دھرنا بولا گیا توسوچا کہ خوش قسمت ہوں پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں جو سازشیں اور ریشہ دوانیاں عبارت کی گئی ہیں انکا بنفسِ نفیس اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا ہے۔ جہاں ہزاروں مذہبی عقیدت مند جوانوں، بوڑھوں، عورتوں (حتی کہ بعض دودھ پیتے بچوں سمیت آئیں) کے مذہبی جذبات کے اسلام آباد کی ٹھٹھرا دینے والی سردی میں سیاسی استحصال کی انتہا دیکھی وہیں دھرنے کا اسکرپٹ لکھنے والوں کی کاوشوں کی بھی داد دینا پڑی۔ لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ خوش قسمتی ہر سال دو سال بعد دیکھنے کو ملے گی۔ کچھ سال کے وقفے سے اسلام آباد پر جب دھرنا 2 بولا گیا تو میں نے باقاعدہ کام سے چند روز کی چھٹی کی۔ وجہ اس غیر معمولی دلچسپی کی یہ تھی کہ اس دھرنے کے مہروں کو ذاتی طور پر جانتا تھا۔ سو ایک طرف یہ تجربہ مقصود تھا کہ حکمران طبقے عوام کو کس کس حربے سے بے وقوف بناتے ہیں اور دوسری طرف یہ تمنا کہ وہ عوام کے حقِ حکمرانی پر نقب لگانے میں ناکام رہیں۔ چھٹیاں توچند روز میں گزر گئیں لیکن دھرنا نہیں گزرا۔ وہ دہی سے لسی بنتا گیا اور پھر لسی پتلی ہوتی گئی، پھر صرف پانی رہ گیا لیکن مدھانی چلتی رہی۔ بالآخر جب عوامی حکمرانی کی مقدس نشانی یعنی پارلیمان پر حملہ ہوا تو جاوید ہاشمی نے آخری کیل ٹھونک دی۔

کئی روز تک دھرنے کا تابوت ڈی چوک میں پڑا رہا لیکن اُٹھانے کی ہمت نہ ہوتی تھی کہ پشاور میں سانحہ ہو گیا اور سوگوار والدین کو اتنے بھاری تابوت اٹھانا پڑے کہ ڈی چوک کی مشکل آسان ہو گئی۔ تھوڑا وقفہ مزید گزرا تو دھرنا 3 برآمد ہوا۔ لیکن اس دفعہ غیر متوقع طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ شہریوں کے آئینی حقوق کی حفاظت میں سامنے آئی تو دھرنے کو رفو چکر ہونا پڑا لیکن جاتے جاتے صوبائی تعصب کا کارڈ اور جسٹس منیر کی روح کو پیچھے لگا گیا۔ پھر جو ہوا آپکے سامنے ہے حتی کہ دھرنا 4 کا وقت آن پہنچا۔ دھرنے کے ہدایت کاروں نے بڑی توجہ اور محنت سے ایک ایک ایکٹ پلان کیا تھا۔ قریب تھا کہ دھرنا 4 کامیاب ہو جاتا لیکن عالم بالا میں جسٹس غلام صفدر شاہ کی روح نے انگڑائی لی. سنا ہے کہ دھرنا 4 کے آخری دنوں میں جب دھرنا زوروں پر تھا، ہر شب عالم ارواح میں جسٹس غلام صفدر شاہ اور جسٹس منیر کے درمیان زبردست مناظرہ ہوتا رہا جسمیں حیرت انگیز طور پر جسٹس منیر کی روح کو پہلی دفعہ پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ ادھر عالم بریں میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہری عاجز آ چکے تھے۔ کچھ نے پہلے ہی سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کی زنجیر عدل کھینچ رکھی تھی۔ میزان عدل میں جنبش ہوئی اور پھر گناہ گار آنکھوں نے جو دیکھا اور گناہ گارکانوں نے جو سنا اُس پر یقین نہ آیا۔ سپریم کورٹ کے معزز جسٹس قاضی فائز عیسی نے دھرنے کو شرارت قرار دیا اوراسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز جسٹس شوکت صدیقی نے آئینی بندوبست کی خلاف ورزی اور اداروں کے مشکوک کردار پر کئی ایک چبھتے ہوئے سوال اُٹھائے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ جب آئین کے آرٹیکل 245 اور دہشتگردی ایکٹ کے سیکشن 4 اور 5 کے تحت مصلح دستوں کو طلب کیا گیا تو فوج کیوں نہیں آئی؟ قانون کا ادنی طالبعلم ہوتے ہوئے میری رائے ہے کہ آئین اور قانون میں جب وفاقی حکومت اپنے کسی ماتحت ادارے کو امن و امان بحال کرنے کا حکم دے تو اس میں اگر مگر کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر کسی سرکاری افسر خواہ سول ہو یا عسکری، کو طاقت کے استعمال پر اختلاف ہو تو اسکے لئے احسن راستہ استعفیٰ کا ہے نہ کہ انکار کا۔
ختمِ نبوتؐ پاکستان کی 97 فیصد آبادی کا عقیدہ ہے لیکن جس طرح اسلام آباد کو یرغمال بنایا گیا، جس طرح جمہوری حکومت کا مذاق بنایا گیا اور جس طرح سول انتظامیہ کی تضحیک کی گئی، دیکھنے والی آنکھوں نے بہت کچھ دیکھا۔ پوری دنیا میں کوئی بڑا نقصِ امن کا مسئلہ پیدا ہو تو فوج کو طلب کیا جاتا ہے۔ خصوصا مذہبی یا فرقہ وارانہ فسادات تو فوج کے بغیر تھمتے ہی نہیں۔ ایک حالیہ مثال بھارت کی ہے اگست 2017 میں بھارت کے دارالحکومت اور ہمسایہ ریاستوں ہریانہ اور پنجاب میں مذہبی ہنگامے پھوٹ پڑے۔ وجہ ایک بہت با اثر ہندو مذہبی رہنما کی ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت سے سزا بنی۔ اسکے عقیدت مندوں کی تعداد 6 کروڑ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ ہنگامے اتنے شدید تھے کہ لاشیں گرنے لگیں۔ سول انتظامیہ اور پولیس ناکام ہو گئی۔ حکومت نے کرفیو لگا دیا، چند منٹوں میں فوج آگئی۔ ہنگاموں میں 38 لوگوں کی جان گئی لیکن چند گھنٹے میں امن بحال ہو گیا۔ چند روز بعد فوج واپس بیرکوں میں چلی گئی، سول انتظامیہ نے دوبارہ کنٹرول سنبھال لیا۔ آخری خبروں کے مطابق بابا گرو جی جیل میں سبزیاں اگاتے ہیں۔ سری لنکا میں مسلمان 9 فیصد ہیں جبکہ بدھ مت کے ماننے والے 71 فیصد ہیں۔ چند روز پہلے سری لنکا کے شہر گالے میں ایک ٹریفک حادثے نے مذہبی فسادات کی شکل اختیار کر لی بدھ مت کے پروکاروں نے مسلمانوں کے گھروں کو آگ لگانا شروع کر دی۔ چند گھنٹوں میں سول انتظامیہ ناکام ہوگئی تو حکومت نے فوج طلب کر لی۔ فوراََ فوج آگئی، امن بحال ہو گیا تو دو روز میں فوج واپس بیرکوں میں چلی گئی۔ اس طرح کی بیسیوں مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں جب مذہبی جذبات کی آگ اس قدر بھڑکا دی گئی کہ مسلمانوں نے ایک دوسرے کے گھروں پر حملے شروع کر دیئے تو جو ہوا اسے اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت اور سویلین بالا دستی کی شکستِ فاش قرار دیا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک روایت ہے کہ دو دن کیلئے کرفیو نہیں لگایا جاتا لیکن دس دس سال کیلئے مارشل لا لگا دیا جاتا ہے۔ یہ روایت اب ختم ہونی چاہئے۔ امید تھی کہ یہ دھرنا آخری دھرنا ثابت ہو گا لیکن جس طرح ایک دفعہ پھر کنٹینر کی تیاری کا آرڈر دیا جا چکا، جانے مارچ کے سینیٹ کےانتخابات سے پہلے اور کتنے مارچ کئے جائیںگے؟ ویسے بھٹو دھاندلی کارڈ اور مذہبی جذبات کے کارڈ کے بعد بے بس ہو گئے تھے۔ لیکن نواز شریف کیخلاف اب تک دھاندلی کارڈ، مذہبی جذبات کا کارڈ، صوبائی تعصب کا کارڈ، جسٹس منیر کارڈ، غداری کارڈ اور کرپشن کارڈ استعمال ہو چکا ہے لیکن پھر بھی وہ اپنے قدموں پر جمے ہوئے ہیں۔ اگلا کارڈ کیا ہو سکتا ہے؟ شہید بے نظیر بھٹو کا خیال آتے ہی جھرجھری آ جاتی ہے۔ خیر چھوڑیں! یہ تو پرانا رونا ہے، ایک دلچسپ قصہ سناتا ہوں۔ چند روز پہلے سرِ راہ بی جمہوریت سے ملاقات ہو گئی. بڑے سوگوار لہجے میں نصرت فتح علی خان کا گانا گنگنا رہی تھی۔
سوچتی ہوں کہ وہ کتنے معصوم تھے
کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے
میں نے پتھر سے جنکو بنایا صنم
وہ خدا ہو گئے دیکھتے دیکھتے
جو پتہ پوچھتے تھے کسی کا کبھی
لاپتہ ہو گئے دیکھتے دیکھتے
میں بھی افسردہ ہو گیا، پوچھا جمہوریت بی پچھلے نومبر میں جب ملاقات ہوئی تو تم بڑے ترنم سے لہک لہک کر گا رہی تھیں
میرے رشکِ قمر، تو نے پہلی نظر، جب نظر سے ملائی مزا آگیا
اب ایسا کیا ہو گیا؟ جمہوریت بی میری بات سنی ان سنی کر کے اسی گانے کا آخری مصرع گنگنانے لگی۔
اے فناؔ شکر ہے آج بعدِ فنا، اُس نے رکھ لی میرے پیار کی آبرُو
اپنے ہاتھوں سے اُس نے مری قبر پہ، چادرِ گُل چڑھائی مزا آ گیا
وہ یہ مصرع دہراتی گئی حتی کہ جمہوریت بی پر حال طاری ہو گیا۔ بڑی مشکل سے میں نے اسکو سنبھالا دیا اور پوچھا بی بی آخر ہوا کیا ہے کچھ تو بتائو۔ کچھ توقف کیا، آنسو پونچھے، نظریں آسمان پر گاڑدیں جہاں شب کی سیاہی میں آدھا سفر طے کئے ہوئے چاند کی چاندنی کا چرچا تھا اور ہلکی دھن میں گنگنانے لگی
میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشہ نہ بنے
تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلہ کچھ بھی نہیں
مجھے کچھ سمجھ نہ آئی، دل ہی دل میں کہا، ’’اللہ کی اللہ ہی جانے‘‘ اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہو لیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں