آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیاست کا آسماں بھی ایسے ایسے رنگ بدلتا ہے کہ تجزیہ نگاروں کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ جائیں۔ شہباز شریف کو اگلے انتخابات میں مسلم لیگ ن کے وزیراعظم کے اُمیدوار کے طور پر سامنے لا کر نواز شریف نے اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں خود ہی بڑا سوال کھڑا کر دیا۔ کیا نواز شریف اپنی نااہلی پہ قناعت کر چکے اور ’’مائنس ون‘‘ فارمولے پہ راضی ہو گئے؟ اگر ایسا کسی ڈیل کے نتیجے میں ہوا ہے، تو کیا باقی سب ٹوپی ڈرامہ ہے؟ بڑا سوال یہ ہے کہ یہ کیسا سمجھوتہ ہے جس پر مسلم لیگ کا ٹوڈی گروپ بغلیں بجا رہا ہے اور نواز شریف کے خون کے پیاسے اس فیصلہ پر شادیانے بجا کر نواز شریف کی سیاست سے رخصتی کی نوید سنا رہے ہیں۔ کہاں نواز شریف اپنی عدالتی برطرفی پہ اتنے سیخ پا تھے اور مقتدرہ کو چیلنج کرتے ہوئے حقیقی اقتدارِ اعلیٰ کی عوام کے منتخب نمائندوں کو منتقلی کی مہم چلانے نکلے تھے اور شہباز شریف کھلم کھلا ٹکرائو کی اس پالیسی کی مخالفت کر رہے تھے۔ مسلم لیگ ن کے جغادری اپنے رہبر کی نابری پہ تھر تھر کانپ رہے تھے۔ لیکن نواز شریف اپنا مقدمہ عوام کی عدالت میں پیش کرنے کیلئے جی ٹی روڈ پہ چل نکلے۔ ایسی عوامی پذیرائی کبھی کبھار ہی کسی اقتدار سے نکالے ہوئے لیڈر کو ملتی ہے جو نااہل کیے گئے وزیراعظم کو ملی۔ ایک بار پہلے بھی ذوالفقار علی بھٹو نے جب ایوب

خان کی کابینہ سے علیحدگی اختیار کر کے ’’معاہدہ تاشقند‘‘ کے خلاف عوام سے رابطے کی مہم شروع کی تھی تو دُنیا اُن کی پذیرائی پہ دنگ ہو کر رہ گئی تھی۔ تاشقند کی کہانی تو بھٹو صاحب نے کبھی بیان نہ کی لیکن آمریت اور استحصالی نظام کے خلاف عوامی حکمرانی اور روٹی کپڑے اور مکان کا بیانیہ دے کر وقتی عوامی حمایت کو زبردست عوامی بنیاد میں بدل دیا۔ نواز شریف نے بھی ’’مجھے کیوں نکالا گیا‘‘ کی کہانی پیش کی اور اُنکے حلقۂ انتخاب نے اُن کیخلاف کی گئی ’’سازش‘‘ پر اپنے شدید ردّعمل کا اظہار کیا۔ مسلم لیگ کے سہمے ہوئے روایتی جغادریوں کی نیندیں حرام تو ہوئیں، لیکن وہ اپنے قائد کی مقبولیت کو دیکھ کر پھڑپھڑا کر رہ گئے کہ جان جوکھوں میں ڈالیں یا پھر کسی غیبی اشارے کا انتظار کریں۔ تھوڑی بہت آس 45روز بعد شہباز شریف کو وزارتِ عظمیٰ سونپنے پر پیدا ہوئی بھی تو بر نہ آئی۔ مسلم لیگی جو کبھی ایسے کڑے امتحانوں میں کھڑے ہونے والے نہ تھے، نواز لہر کے آگے بے بس ہو کر رہ گئے۔ پارٹی بھی نہ ٹوٹی اور نواز شریف کو پارٹی صدارت سے فارغ کرنے کی کوشش بھی ناکام ہوئی۔ شہباز اور چوہدری نثار کی سمجھوتے کی لائن پٹ گئی اور نواز شریف نے حکومت اور پارٹی پہ اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ اب وہ اگلے انتخابات میں ایک پُرزور مزاحمتی مہم چلانے پہ کمربستہ نظر آئے کہ عوام کی عدالت سے فیصلہ لے کر بساط اُلٹ پائیں۔ لیکن کیا اچانک اُنہوں نے شہباز شریف کو اگلے انتخابات کیلئے مسلم لیگ ن کا وزیراعظم نامزد کر کے ’’مائنس ون‘‘ فارمولے پر اکتفا نہیں کر لیا؟ اور اب ایک طرف نواز شریف کی مزاحمتی لائن اور دوسری جانب سمجھوتے کے پیامبر شہباز شریف کی وزارتِ عظمیٰ کیلئے نامزدگی، تو ایسا متضاد بیانیہ کیسے چل پائے گا؟پچھلے چند دنوں میں بڑے اہم واقعات رونما ہوئے۔ یہ بلاول بھٹو تھے جن کے پُرزور موقف کے باعث پیپلز پارٹی نے چوبیسویں آئینی ترمیم کا بل منظور کروا کر آئندہ عام انتخابات اور سینیٹ کے مارچ میں چنائو کی راہ ہموار کر دی۔ اور پھر اُسی روز سینیٹ کے پورے ایوان کی کمیٹی کے سامنے جنرل قمر جاوید باجوہ نے چار گھنٹے تک قومی سلامتی اور سول ملٹری تعلقات کے ناطے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ چیف آف آرمی ا سٹاف نے جہاں پارلیمان کی بالادستی، آئین و جمہوریت کے احترام اور سلامتی کے امور پر پارلیمنٹ کی رہنمائی پر اصرار کیا وہیں سعودی و ایرانی ممکنہ تصادم کا حصہ نہ بننے، بھارت سے بات چیت کی راہ اپنانے، افغانستان میں قیامِ امن اور صدر ٹرمپ کی پاکستان بارے سخت گیر پالیسی پہ بھی سینیٹ کو اعتماد میں لیا۔ یہ ایسے وقت پر ہوا جب ایک طرف ہر طرف سے سلامتی کے خطرات منڈلا رہے تھے اور سول ملٹری تعلقات بارے بدگمانیاں کم ہونے کو نہ تھیں۔ جنرل باجوہ کے سینیٹ سے خطاب سے دو پیغامات دیئے گئے۔ ایک یہ کہ منتخب ادارے قابلِ احترام ہیں اور جمہوری تسلسل جاری رہے گا اور دوسرا یہ کہ قومی سلامتی کے امور پر سول اور فوجی قیادت ایک صفحہ پر آنے کو تیار ہیں اور متحد ہو کر موجود اور آنے والے چیلنجوں کا مقابلہ کریں گے۔ کاش! ایسا ہی ہو اور ہم ایک بہتر حکمتِ عملی اپنانے کیلئے سلامتی کے کرم خوردہ فارمولوں سے باہر نکل کر اپنے اصل ہدف یعنی جنوبی وسطی ایشیاکے دوراہے کی معاشی قوت بن سکیں اور خطے میں پائیدار امن کی ضمانت دے سکیں۔ ہم مسئلہ نہ بنیں بلکہ مسئلوں کا حل کریں۔ یہی سوچ نواز شریف کی تھی جسے چلنے نہ دیا گیا اور اس سے قبل آصف علی زرداری کی بھی یہی کوشش تھی کہ ہمسایوں سے معاملات بگاڑنے کی بجائے حل کیے جائیں۔
سپریم کورٹ کے حدیبیہ پیپر ملز میں فیصلے سے جہاں شریف خاندان کے سر سے بڑی بلا ٹل گئی اور اسحاق ڈار کی واپسی کے امکان بڑھ گئے ہیں، لیکن عمران خان اور نواز شریف کے مقدمات میں مختلف فیصلوں کے باعث انصاف کے اُفق سے دھند چھٹنے نہیں پائی۔ اور بابے رحمتے کی کہانی پہ خوب پھبتیاں کسی جا رہی ہیں۔ اب آئین کی دفعات 62 اور 63 اور سپریم کورٹ کے آئین کی دفعہ 184(3) بارے یا تو سپریم کورٹ کا فل کورٹ بنچ کوئی تشریح کرے یا پھر پارلیمنٹ کوئی آئینی راہ نکال کر اس مخمصے کا کوئی حل نکالے۔ یوں لگ رہا ہے کہ حالات کچھ کچھ بہتر ہو رہے ہیں، لیکن خطرات کے گہرے سائے ہنوز منڈلا رہے ہیں اور کوئی بعید نہیں کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں کوئی بڑا بگاڑ پیدا ہو جائے، جس سے نہ صرف دامن بچانے کی ضرورت ہے بلکہ ملک میں جاری سیاسی کشیدگی بھی کم کی جانی چاہیے۔ ایسے میں طاہر القادری صاحب کی پھر سے آسمان ڈھانے کی دھمکیاں بے وقت کی راگنی لگتی ہیں۔ فیض آباد کے شرمناک سمجھوتے کے بعد، شاید اب کسی اور کو کسی ایسی مہم جوئی کی اجازت نہ دی جائے جس سے مملکت کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ جائے۔
اب جبکہ انتخابات کے بروقت انعقاد کی راہ ہموار ہو گئی ہے، قبل از وقت انتخابات اور لمبے عبوری عرصے کی ٹیکنوکریٹک حکومت کے سازشی غباروں سے ہوا نکل گئی ہے تو سیاسی جماعتوں کے انتخابی مہم میں اُترنے کا بگل بج چکا ہے۔ ایسے میں نواز شریف کی عوام کے مینڈیٹ سے واپس آنے کے عزم سے دستبرداری مسلم لیگ ن کیلئے ایک بڑے دھچکے کا باعث بن سکتی ہے۔ گو کہ شہباز شریف کو آگے کرنے سے مصالحت کا پیغام دیا گیا ہے، لیکن جو مہم نواز شریف نے اقتدارِ اعلیٰ پر منتخب وزیراعظم کے حق کیلئے آگے بڑھائی تھی اُس کا اینٹی کلائمیکس ہو گیا ہے۔ پنجاب میں نواز شریف ہی تو عمران خان کا اصل توڑ تھے، شہباز شریف نہیں۔
وزارتِ عظمیٰ لیتے لیتے پنجاب بھی مسلم لیگ ن کے ہاتھ سے نکل سکتا ہے، اگر ایسا ہوا تو پنجاب کسی اور کے ہاتھ میں بھی نہیں آئیگا۔ اور ایک معلق پارلیمنٹ میں شہباز شریف اور نہ عمران خان کسی مخلوط حکومت کے روحِ رواں بن پائینگے۔ مقدر کا سکندر جانے کون ٹھہرے؟ بہرکیف ایک پاپولر اور طاقتور وزیراعظم کے انتخاب کا امکان کافی عرصے تک معدوم ہوتا دکھائی پڑتا ہے۔ ’’مائنس ون‘‘ کا یہی نتیجہ ہونا تھا جس پر مسلم لیگ ن نے صاد کر لیا ہے۔ اسکے علاوہ اس کی روایت بھی نہیں جس سے نواز شریف نے ہٹنے کی جرأت کی تھی۔ کیا واقعی نواز شریف بھی مائنس ون پہ راضی ہوگئے ہیں؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں