آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍شعبان المعظم1439ھ 26؍اپریل2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
x

دنیا بھر میں روبوٹس نے تیزی سے تمام کام سنبھالنا شروع کردیئے ہیں جس کی وجہ سےپوری دنیا میں شدید بے روزگاری پھیلنے کا خطرہ پیدا ہوگیاہے۔

اوکلاہاما یونیورسٹی میں الیکٹریکل اور کمپیوٹر انجینئرنگ کے پروفیسر ڈاکٹر سبھاش کاک نے دعویٰ کیا ہے کہ اس صورت حال کی وجہ سے پوری دنیا میں مایوسی کی کیفیت پیدا ہوجائے گی۔

x
Advertisement

اس کی وجہ سے انسان کی کوئی قدر نہیں رہے گی، ان کاوجود بے معنی ہوجائے گا اور ان کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔

پروفیسر کاک اس سے قبل بھی پیش گوئی کرچکے ہیں کہ روبوٹ دنیا کے تقریبا ً تمام کام سنبھال سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر بےروزگاری پھیلے گی کیونکہ لوگ کارآمد اور معنی خیز کام چاہتے ہیں اس لئے دنیا مایوسی میں ڈوب جائے گی۔

پالیسی ساز ہر ایک کے لیے کم از کم آمدنی ،ہر ایک کو خوراک، مکان اور اسمارٹ فون کی فراہمی کی ضمانت کی بات کررہے ہیں لیکن اس سے اس مسئلے کی بنیاد ختم نہیں ہوگی پروفیسر کاک نے منشیات کے استعمال اور نوجوانوں کی انتہاپسند گروپوں کی جانب رغبت اسی روبوٹ معیشت کا تحفہ قرار دیا۔

انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ خود کار روبوٹ ایسی ملازمتیں تخلیق کرسکیں گے جن کے بارے میں انسان نے شاید کبھی سوچا بھی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں امریکہ میں افیون اورمنشیات کی وبا اسی مایوسی کانتیجہ ہے۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں