آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

5جنوری1990ء کو ملتان ائیرپورٹ پر ایک پریس کانفرنس میں قاضی حسین احمد یوم یکجہتی کشمیر کااعلان کررہے تھے تو اس وقت شاید انہیں بھی یہ اندازہ نہ ہوگاکہ یہ دن آزادیٔ کشمیر کی جدوجہد کا استعارہ بن جائے گا۔ اس دن جب وہ لاہور پہنچے تو پوری پاکستانی قوم سے اپیل کی کہ جنت ارضی پر کئی دہائیوں سے دبی آزادی کی چنگاری شعلۂ جوالہ بن چکی ہے اور ہزاروں مجاہدین اور مہاجرین قافلہ درقافلہ فلک بوس برفانی چوٹیاں عبور کرکے بیس کیمپ آنا شروع ہوگئے ہیں۔ اس لئے مواخات مدینہ کی یاد تازہ کریں اور پاکستانی قوم دل و جان سے ان کااستقبال کرے۔ انہوںنے 5فروری کو پاکستانی عوام کو اہل کشمیر کی پشت پر کھڑا کرنے کافیصلہ کرکے اسے یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کااعلان کیا۔ صوبے میں میاں محمد نواز شریف صاحب اور مرکز میں محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی حکومت تھی۔ انہیں قوم کے عزم کے ساتھ ہم آواز ہوناپڑا۔پھر اقوام عالم نے دیکھاکہ کراچی سے خیبر اور چترال تاگوادر قوم نے اعلان کیا کہ اے اہل کشمیر ہم تمہارے ہیںاور تم ہمارے ہواور کشمیریوں نے بھی اعلان کیاکہ ہم پاکستان کے ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔
اس دن سے زندگی کے تمام شعبوںاور تمام طبقات نے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کو اپنا فرض اولین سمجھاہے۔ اس عظیم الشان مظاہرے نے کشمیریوں کے حوصلے بھی بلند کئے اور پاکستانیوں کو بھی یہ یاد کروایا کہ کشمیر تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ آغا جان نے 5فروری کے اس دن کو منانے کے لئے دامے، درمے ، سخنے ہر اعتبار سے جہاد کشمیر کے لئے جدوجہد کو اپنا وظیفہ بنالیا۔ سیاسی اور سفارتی محاذ پر اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائے۔ پورے ملک میں ہر گائوں، گوٹھ میں کشمیر پر درجنوں کانفرنسیں ، ریلیاں اور مذاکرے ترتیب دیئے ۔ قدم قدم پر تحریک آزادیٔ کشمیر کے لئے ضروری وسائل جمع کرتے رہے۔ پاکستان اور بیرون پاکستان اپنی جماعت اور اس کے اداروں کو اس کارخیر کے لئے منظم کیا۔ اہل خیر کے سامنے اس مقصد کے لئے جھولی پھیلائی اور خدمت اور کشمیر سے وابستگی کے لئے ایک والہانہ انداز متعارف کرایا۔ زندگی میں پہلی دفعہ ایک دن میں خیبر سے کراچی 4جلسوں سے خطاب کیا اور مجھے یاد ہے کہ خواتین نے اتنی بڑی تعداد میں اپنے زیور اُتار اُتار کر جمع کرائے ۔ ایک نئی نویلی دلہن اپنا بہت بھاری زیور ہمارے گھر پر چھوڑ گئی اور اس وقت رسید بھی نہ لے کر گئی۔ کچھ سالوں بعد کسی نے اسے ورغلایا کہ تم تو رسید بھی نہیں لائی تھیں ۔ مبادا قاضی صاحب نے اپنے گھر میں ہی نہ رکھ لیاہو۔ اس نے جماعت کی ایک خاتون رہنما کے ذریعے مجھے خط بھیجا کہ مجھے اپنے زیور کی تفصیلات چاہئیں کہ کہاں خرچ ہوا۔ الحمدللہ اس کی ایک ایک پائی کی تفصیل ریکارڈ سے نکل آئی کہ وہ5فروری کا دن ہی تھا اور آغا جان نے پورے ملک میں اس زیور کی نمائش کرکے اس دلہن کو خراج تحسین پیش کیا تھا۔ جماعت اسلامی اور آغاجان کی امانت و دیانت کو دیکھ کر وہ خاتون پھر بہت شرمندہ ہوتی رہیں۔ ملک کے اندر رائے عامہ بنانے کے ساتھ ساتھ انہوںنے سفارتی محاذ پر بھی خصوصی توجہ دی ۔ دنیا بھر میں اسلامی تحریکوں کی قیادت کے ساتھ خصوصی روابط بنائے اور انہیں اپنے ممالک میں کشمیر کی صورت حال اور بھارتی مظالم سے آگاہ کیا ۔ شملہ معاہدے کے بعد او ۔ آئی ۔ سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں پہلی مرتبہ مسئلہ کشمیر کو اٹھایا گیااور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں حق خود ارادیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے پر زور دیاگیا ۔ اسی تحریک پر او ۔ آئی ۔ سی میں کشمیر کو مبصر کا درجہ بھی دیاگیا۔ پھر یہ مسئلہ اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی سیاسی اور انسانی حقوق کے اداروں میں زیر بحث آیا۔ اس سارے عمل میں قاضی حسین احمد کے کردار کو کوئی مؤرخ نظر انداز نہیں کرسکے گا۔ وہ آزادیٔ کشمیر کے لئے ایک وفد کو لے کر اہم اسلامی ممالک کے دورہ پر بھی تشریف لے گئے تھے اور اس پوری جدوجہد میں اُن کے سامنے درج ذیل اہم نکات تھے۔ جن پر انہوںنے اس تاریخی جدوجہد کو ترتیب دیا۔l مسئلہ کشمیر برصغیر کاایک نامکمل ایجنڈا ہے۔ کشمیر پاکستان کی ایک شہ رگ ہے۔ کشمیر کو پاکستان کاحصہ بنائے بغیر ہم بھی نامکمل ہیں۔ l اندلس میں اسلامی تہذیب کے نام و نشان کو جس طرح مٹادیاگیاتھا۔ ہماری غفلت سے بھارتی حکمرانوں کے ہاتھوں کہیں کشمیر میں بھی ہمارا یہ انجام نہ ہوجائے ،نعوذبااللہ !lبھارت کی حیثیت ایک سامراجی جارح کی سی ہے اور سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی واضح خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ l مسلمان کشمیریوں کی مدد ہم سب پر واجب ہے ۔ l بھارت کے اکھنڈ تصور کے خاتمہ کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیرحل ہو ورنہ اُس کے جارحانہ اقدامات خطے میں عدم توازن پیداکردیں گے۔ l اگر کشمیر پر بھارتی تسلط برقرار رہا تو وہ ہمیں پانی روک کر خشک سالی سے اور کبھی پانی چھوڑ کر سیلاب میں ڈبو کر ہماری زراعت کاخاتمہ کرسکتاہے۔l کشمیر کی بھارت سے آزادی بھارتی مسلمانوں کیلئے بھی دین ، تہذیب اور مفادات کے تحفظ کا اچھا پیغام ہوسکتاہے۔ انہوںنے ان سارے پہلوئوں کے ساتھ آزادی کی جدوجہد کی ۔ پوری قوم کو 5فروری کے دن باہر لا کر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر یہ پیغام دیا کہ ہم خود بھی متحد ہیں اور اہل کشمیر کو بھی یکجہتی کاپیغام دیتے ہیں۔ 5فروری کا دن یوم یکجہتی کشمیر بھی ہے اور قاضی حسین احمد کا صدقۂ جاریہ بھی۔ اللہ تعالیٰ تمام مجاہدین اور شہداء کے ساتھ اُن کو اپنی رحمت خاص میں جگہ دے ۔ امام المجاہدین صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب کرے اور راضی ہوجائے۔

 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں