آپ آف لائن ہیں
جمعہ6؍ذوالقعدہ1439ھ 20؍ جولائی2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لگ بھگ دودہائیوں سے جب سے بھارت میں ہندو شدت پسندی کا اثر ونفوذ بڑھنے لگا ویلنٹائن ڈے پر لوگوں کو بازاروں اور ریستورانوں میں شدت پسندوں کی دھمکیوں اور ماردھاڑ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان میں مختلف قسم کے گروپ شامل ہیں جنہیں عرف عام میں سنگھ پریوار کہا جاتا ہے جو حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کی طاقت کا اصل سرچشمہ ہے۔ اس سال بھی حالات ایسے ہی رہے البتہ ظالمانہ کارروائیوں میں کچھ کمی ضرور ہوئی کیونکہ کچھ گروپوں نے دھمکیوں اور تشددآمیز کارروائیوں سے احتراز کیا۔ شاید اس کی وجہ ان گروپوں میں بڑھتی ہوئی اندرونی رقابت کیساتھ ساتھ انتخابی سیاست کی مجبوریاں ہیں جس نے ان کو کچھ زمانہ شناس بنالیا۔ اس کے علاوہ اس قسم کی پرتشدد کارروائیاں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بری تشہیر کا باعث بن جاتی ہیں جس کی وجہ سے کچھ گروہ اب اس قسم کے طرز عمل سے احتراز کرنے لگے ہیں۔
اس سال ویلنٹائن ڈے سے تین روزقبل شیوسینا نے اترپردیش کے شہر مظفرنگر میں بانس کے ڈنڈوں کی پوجا کروائی۔ ساتھ ہی انہوں نے دھمکی جاری کی کہ وہ محبت میں مبتلا جوڑوں کو سبق سکھائیں گے۔ شیو سینا کے ایک عہدیدار نے انگریزی روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کو بتایا:’’ہمارے کارکن ہوٹلوں اور ریستورانوں میں چیکنگ کریں گے۔ ہم نےمالکان کو متنبہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی

تقریبات سے گریز کریں کیونکہ اس سے ان کی عمارتوں کو خطرہ ہے جس کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔‘‘ ہندوشدت پسند کئی سال سے یہ غلط پروپیگنڈہ کرتے آرہے ہیں کہ مسلمان مرد اکثر سادہ لوح ہندو لڑکیوں کو پیار میں پھنسا کر ان سے شادیاں رچاتے ہیں جس کا اصل مقصد ان کا مذہب تبدیل کروانا ہوتا ہے۔ ایک اور ہندو شدت پسند جماعت بجرنگ دل نے حیدرآباد دکن میں ریستورانوں کو کسی بھی قسم کا جشن منانے کے خلاف زوردار تنبیہ کی۔ علاقے میں جماعت کے انچارج وشال پرساد نے انگریزی اخبار دکن کرونیکل کو بتایا:’’اس قسم کی تقریبات بھارتی کلچر کے خلاف ہیں اور ہمیں اس کلچر کو یہاں گھسنے نہیں دینا چاہئے۔‘‘ انہوں نے ہاتھوں میں گلاب کے پھول لئے جوڑوں کے خلاف بھی کارروائی کا عندیہ دیا۔ مہاراشٹر میں تو بجرنگ دل نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ پارکوں میں پجاریوں کے ساتھ تیار رہیں گے تاکہ عشق میں مبتلا ان جوڑوں کی موقع پر ہی شادی رچائی جاسکے۔ 2013میں شیو سینا نے پونا شہر میں کئی جوڑوں کی زبردستی شادی کروادی تھی۔اس سال شری رام سینا نے جو ویلنٹائن ڈے پر مار دھاڑ اور خاص کر عورتوں کے خلاف سخت تشدد کے حوالے سے خاصے بدنام ہیں نے کرناٹک حکومت سے موقع کی مناسبت سے ہونے والی تقریبات پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے برعکس ہندو مہاسبھا نامی شدت پسند گروہ نے سوشل میڈیا پر سخت نگرانی کا عندیہ دیتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ وہ فیس بک، ٹوئٹر اور واٹس اپ پر پیار بھرے پیغامات کی ترسیل کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے چودہ فروری کو ’’پریم ویواہ دیوس‘‘ یعنی ’’پیار کی شادی کا دن‘‘ قرار دیا۔ ممبئی کے انگریزی اخبار آفٹرنون وائس کے مطابق اس مہم کا مقصد ’’محبت میں گرفتار نوجوانوں کو جو کسی غیرہندو سے پیار کرتے ہیں کی شادی کیلئے حوصلہ افزائی کرنا ہے مگر شرط یہ ہے کہ وہ شخص ہندو مذہب قبول کرے۔‘‘ اسی جماعت نے بالی ووڈ کے مشہور اداکاروں شاہ رخ خان اور عامرخان جن کی بیگمات ہندو ہیں کو بھی تبدیلی مذہب کی دعوت دی ’’اگر وہ اپنی بیویوں سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ ایک دو سال قبل کئی ہندو گروپوں نے عوامی مہم کے ذریعے کئی مسلمانوں کو جبرا ہندو بنایا۔ اس کو ’’گھر واپسی‘‘ کا نام دیا گیا جس سے یہ تاثر دینا مقصود تھا کہ مسلمان اپنے اصل مذہب ہندومت میں واپس آگئے ہیں۔
ہندو جاگرتی سمیتی شدت پسند سوچ رکھنے والی ایک نیم دانشوارانہ تنظیم ہے جو اپنے بقول ہندو دھرم کی ترویج اور ہندوؤں کے اتحاد کی داعی ہے۔اس کا دعویٰ ہے کہ ویلنٹائن جیسے رواجوں کا مقصد بھارتی ثقافت کو تباہ کرنا ہے۔ اسی لئے یہ ہندو نوجوانوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ایسی مغربی رسومات کو ملک سے نکال باہر کردیں کیونکہ یہ ان کی اخلاقیات کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ یہ تنظیم بھارتی جوانوں سے یوں مخاطب ہے: ’’اگر بھگت سنگھ، راج گرو، سکھدیو، مدن لال ڈھینگرا اور چاپیکار جیسے انقلابی نوجوان جنہوں نے اپنی زندگی جوانی میں ہی قربان کی، اپنے دن ویلنٹائن جیسی خرافات میں گزارتے تو آج ہم آزادی جیسی نعمت سے بے بہرہ ہوتے۔‘‘دیگر شدت پسند جماعتوں کی طرح ہندو جاگرتی سمیتی کے ذہن پر بھی کشمیر اور پاکستان سوار ہیں۔ ویلنٹائن کے حوالے سے ایک تازہ تحریر میں یہ ’’محبت‘‘ کیخلاف دعویٰ کرتے ہوئے کشمیر اور پاکستان کا ذکر اپنی دلیل کیلئے ضروری سمجھتے ہیں۔ ’’کہا جاتا ہے کہ محبت دنیا کو مسخر کرتی ہے مگر پھر ہم کشمیر کو محبت سے کیوں نہیں جیت پاتے؟ اگر ویلنٹائن کی محبت اتنی ہی طاقتور ہے تو پھر یہ محبت دہشت گردوں کے دلوں کو کیوں نہیں بدل سکتی جو کشمیر میں تباہی پھیلارہے ہیں اور ہمارے بیشمار بھائیوں کو ہندوستان میں مار رہے ہیں؟ آج کے وقت میں جب پاکستان سے دس دہشت گرد ہمارے ملک کو ختم کرنے کی غرض سے حملہ آور ہوتے ہیں تو ایسے میں ہمارے نوجوان کیونکر ویلنٹائن ڈے کی دھوم دھام میں پھنس جائیں؟ ہم اپنے نوجوانوں سے فریاد کرتے ہیں کہ وہ اپنی طاقت قوم اور دھرم کی حفاظت میں استعمال کریں۔‘‘
ان شدت پسندوں کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ وہ پراچین بھارتی ثقافت کو بچانے میں مصروف ہیں جو ان کے تخئیل میں نہ صرف خالص اور شفاف ہے بلکہ ان کی اخلاقیات کے خیالی معیار میں بھی یکتا ہے۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ ہندو اساطیر میں محبت کے دیوتا کامدیو جوڑوں کے درمیان محبت بڑھانے کیلئے ان پر گنے سے بنی کمان کے ذریعے پھولوں کے تیر پھینکتے ہیں۔
پس نوشت:
شدت پسند جماعت وشوا ہندو پریشد کے لیڈر پروین توگاڈیا جو اپنی مسلم دشمن فتنہ انگیزی میں خاصے بدنام ہیں نے اس سال ویلنٹائن تقریبات کی حمایت کر ڈالی۔ آپ نے حال ہی میں حکمراں جماعت سے منحرف ہوکر یہ دعوی کیا کہ ان کی زندگی کو سرکار سے خطرہ لاحق ہے۔ ویلنٹائن کے بارے میں آپ نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا: ’’اگر جوڑے محبت میں گرفتار نہ ہوں تو شادیاں نہیں ہو سکتیں۔ اور اگر شادیاں نہیں ہوسکتیں تو دنیا آگے نہیں بڑھ سکتی۔ بقول ان کےجوان مردوں اور عورتوں کو محبت کرنے کا حق ہے۔ ‘‘

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں