آپ آف لائن ہیں
پیر 5؍رمضان المبارک 1439ھ 21؍مئی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Middle East Countries Seek Nuclear Power

مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک بہت تیزی سے جوہری توانائی کے حامل ہوتے جار ہے ہیں ۔متحدہ عرب امارات اس سال کے آخر میں اپنا پہلا جوہری ری ایکٹر شروع کررہا ہےجبکہ مصر اور کویت اپنے ہاں جوہری ری ایکٹر کی تعمیر کے لیے بات چیت کررہے ہیں۔

سعودی عرب اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 16جوہری ری ایکٹر تعمیر کرنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں سعودی مملکت کے دوسرے ممالک کے ساتھ جلد معاہدے متوقع ہیں۔ سعودی عرب 2032ء تک جوہری توانائی سے 17اعشاریہ6 گیگا واٹ بجلی پیدا کرنا چاہتا ہے۔

x
Advertisement

اس وقت دنیا کے 30 ممالک میں 440 جوہری ری ایکٹرز کام کررہے ہیں۔

آبادی کے لحاظ سے عرب دنیا کا سب سے بڑا ملک مصر دارالحکومت قاہرہ سے 130 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع علاقے ایل دباع میں جوہری پلانٹ کی تنصیب کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ یہ 2024ء تک کام کرنا شروع کردے گا۔

کرسٹر وکٹرسن نے العربیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایک ملک کو بالکل نئے سرے سے اپنا جوہری پروگرام شروع کرنے کے لیے بہت زیادہ انفرااسٹرکچر کی ضرورت ہوتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’ جوہری توانائی کے حصول کے لیے ایک ملک کو ریگولیٹری عناصر کے علاوہ بین الاقوامی کنونشنز اور معاہدوں پر دستخط کرنا پڑتے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ جوہری پروگرام کو محفوظ اور پُرامن طریقے سے چلایا جائے گا اور اس کے نزدیک واقع آبادی کو تابکاری اثرات سے تحفظ مہیا کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ملک کو جوہری پاور پلانٹ کے حصول کے لیے سیکورٹی اور ماحول کے تحفظ کو یقینی بنانے کی غرض سے بھی اقدامات کرنا ہوتے ہیں۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں