آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
مویشیوں کی نشو نما کیلئے ’’چارے ‘‘ کی فصلوں کی اہمیت

نوید عصمت کاہلوں

 پنجاب میں عام طور پر جانوروں کے لیے سبز چارے کی قلت ہے۔ مویشیوں کی نشو ونما کے لئے سبز چارے کی اتنی ہی ضرورت واہمیت ہے جتنی کہ انسانی زندگی کے لیے اچھی غذاکی ۔ پنجاب میں جانوروں کی تعداد6 کروڑ 26 لاکھ ہے جس کے لئے تقریباً 50 لاکھ ایکڑرقبہ پر چارے کاشت ہوتے ہیں جس میں سے خریف کے چارے تقریباً 22لاکھ ایکڑ پر اورربیع کے چارے 25.5لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ پر کاشت ہوتے ہیں۔ رقبہ کے لحاظ سے یہ پاکستان میں چارے کا کل رقبہ کا 82 فیصد ہے جس سے سبز چارے کی پیداوار 255 من فی ایکڑ حاصل ہو رہی ہے۔ اس طرح ایک جانور کے حصہ میں تقریباً 25 من چارہ سالانہ میسر آتا ہے۔ سبز چارے کی کمی کے دورانیے جس میں چارے کی کمی شدت اختیار کر جاتی ہے یعنی مئی ،جون کے مہینوں میں جب کہ موسم ربیع کے چارے ختم ہو رہے ہوتے ہیںاور خریف کے چارے ابھی کاٹنے کے قابل نہیں ہوتے اور اکتوبر،نومبر کے مہینوں میں جب خریف کے چارے ختم ہو رہے ہوتے ہیں،ربیع کے چارے ابھی تیار نہیں ہوتے۔

مویشیوں کی نشو نما کیلئے ’’چارے ‘‘ کی فصلوں کی اہمیت

مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر اگر ہم نے وافر دودھ اور گوشت پیدا کرنا ہے تو ہمیں چارے کی کمی کو پورا کرنا ہو گا۔ چارے کی فی ایکڑ پیداوار میں کمی کی سب سے بڑی وجہ کسانوں تک نئی اقسام کا بیج اور جدید فنی مہارتوں کابر وقت نہ پہنچنا ہے ۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم ایسی منصوبہ بندی کریں جس سے چارہ جات کی فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہو ۔ تجربات سے یہ بات ثابت ہے کہ اگر ہم زمین کاصحیح انتخاب و تیاری، اچھا بیج، مناسب کھادوں کا استعمال، بروقت کاشت، آبپاشی ،برداشت و دیگر زرعی عوامل اور ماہرین کی سفارشات پر عمل کریں تو چارے کی فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں دوسے تین گنا اضافہ کر سکتے ہیں ۔ چارے کی پیداوار بڑھانے کے لئے ایسی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس سے ہمیں چارے کی کمی کے دورانیے میں بھی چارے میسر ہوں۔ اس کے لیے خریف کے چارے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں کیونکہ ان کی کاشت موسم بہار سے یعنی مارچ سے لیکرآخر خریف یعنی اگست ستمبر تک ممکن ہے ۔ اگیتی کاشت سے ہم مئی ، جون کے کمی کے دورانیے کے لیے چارہ پیدا کر سکتے ہیں اور پچھیتی کاشت سے ہم اکتوبر نومبر میں کمی کے دورانیے کے لیے چارہ حاصل کر سکتے ہیں۔

ماٹ گراس (Mott Grass) :

یہ ایک دوامی نوعیت کا زود ہضم اور غذائیت سے بھرپور متعدد کٹائیاں دینے والا چارہ ہے۔ مئی جون کے مہینوں میں جب چارے کی کمی ہو جاتی ہے تو اس کمی کو پورا کرنے کے لئے اگیتی مکئی، سدا بہار اور ماٹ گراس چارہ کاشت کیا جاتا ہے۔ ماٹ گراس سخت سردی کے مہینوں دسمبر سے فروری کے سوا تقریباً سارا سال چلتا رہتا ہے اور سال میں تقریباً چھ کٹائیاں دے سکتا ہے۔ مناسب دیکھ بھال سے پیداوار میں تسلسل کے ساتھ ساتھ سال ہا سال غذائیت بخش اور زود ہضم چارہ دیتا رہتا ہے۔ ماٹ گراس کو نہ صرف جانور پسند کرتے ہیں بلکہ بہتر غذائیت کی بدولت اس سے دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس چارہ میں لحمیات کی مقدار 10 سے 12 فیصد کے قریب ہیں۔ گرم مرطوب آب و ہوا اس چارہ کیلئے موزوں ترین ہے، یہ چارہ سخت گرمی کو بھی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن سخت سردی کا اس کی بڑھوتری پر برا اثر پڑتا ہے۔ یہ چارہ موسم برسات میں تیزی سے بڑھتا ہے۔ بھاری میرا زمین میں ماٹ گراس کی زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ زمین میں چار پانچ دفعہ ہل چلائیں، ہر ہل کے بعد سہاگہ دے کر اچھی طرح بھربھرا کر لیں۔ زمین کی تیاری سے پہلے داب کا طریقہ اپنا کر زمین کو جڑی بوٹیوں سے پاک کر لینا چاہیے۔ ماٹ گراس کی بوائی 15 مارچ تک کی جا سکتی ہے لیکن ماہ اگست، ستمبر میں بھی اس کی بوائی کی جا سکتی ہے۔ فروری مارچ میں اس کی قلمیں ،جب کہ اگست ستمبر میں اس کی جڑیں کاشت کی جاتی ہیں۔ ماٹ گراس دو طریقوں یعنی جڑوں اور قلموں کے ذریعے کاشت کیا جاتا ہے۔ ماٹ گراس کے تنے کو اس طرح کاٹا جائے کہ ہر قلم میں دو آنکھیں  آ  جائیں۔ اس طرح سے کاشت کیا گیا ماٹ گراس جڑوں کی نسبت دیر سے چارہ دیتا ہے لیکن اگر جڑیں بوائی کیلئے استعمال کی جائیں تو اس کی بہتر پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ دو دو فٹ کے فاصلے پر فی ایکڑ 11000 قلمیں لگائیں، قلموں کو زمین میں عموداً اس طرح لگایا جائے کہ ایک آنکھ زمین کے اندر اور دوسری باہر رہے۔

مویشیوں کی نشو نما کیلئے ’’چارے ‘‘ کی فصلوں کی اہمیت

 کماد کے سموں کی طرح زمین میں دبانے سے اس کی قلمیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ اس کی قلمیں قومی زرعی تحقیقاتی مرکز، اسلام آباد، تحقیقاتی ادارہ چارہ جات سرگودھا اور شعبہ چارہ جات ایوب ریسرچ انسٹیٹیوٹ فیصل آباد سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ 2 بوری نائٹروفاس، 1 بوری پوٹاش بوقت بوائی اور 1 بوری یوریا ہر کٹائی کے ساتھ استعمال کریں۔ زمین کی تیاری کے وقت 4 سے 5 ٹرالی گوبر کی گلی سڑی کھاد فی ایکڑ ڈالیں۔ فصل کو پہلا پانی کاشت کے فوراً بعد لگائیں، اس کے بعد موسم کو مدنظر رکھ کر پانی دینا چاہیے۔ بوائی کے بعد پہلی کٹائی کے لئے فصل تقریباً 3 تا 4 مہینوں میں تیار ہو جاتی ہے، اس کی کٹائی دیر سے کرنے کی صورت میں پودے سخت ہو جاتے ہیں اور غذائیت میں کمی آ جاتی ہے اور جانور بھی رغبت سے نہیں کھاتے۔ جب اس کی اونچائی 3 تا 4 فٹ ہو جائے تو کٹائی کر لینی چاہیے۔ پہلی کٹائی کے بعد دوسری کٹائی ڈیڑھ سے دو ماہ کے عرصہ میں تیار ہو جاتی ہے۔ ماٹ گراس جون سے نومبر تک چارہ فراہم کرتا ہے، سردی کے موسم میں جب ماٹ گراس چارہ نہیںدیتا تو اس کے کھیت میں لائنوں کے درمیان سرسوں، برسیم یا جئی کاشت کر لینا چاہیے۔ اس کی سالانہ پیداوار خریف کے دیگر چاروں کے مقابلے میں تقریباً 3 گنا زیادہ ہے۔ ماٹ گراس کی پیداوار 1200 سے 1500 من فی ایکڑ سالانہ حاصل کی جا سکتی ہے۔

مویشیوں کی نشو نما کیلئے ’’چارے ‘‘ کی فصلوں کی اہمیت

روڈز گھاس (Rhodes Grass):

یہ متعدد کٹائیاں دینے والا دائمی نوعیت کا چارہ ہے۔ یہ ایک سدا بہار پودا ہے جو ایک بار لگانے پر کئی سال تک پیداوار دیتا رہتا ہے۔ اس کی کاشت سے چارے کی قلت کے مسئلے کو حل کرنے میں کافی مدد ملتی ہے۔ بارانی علاقوں میں اس کی کاشت سے زمین کے کٹائو کا مسئلہ بہتر طریقے سے حل ہو سکتا ہے، بار بار پھوٹنے کی صلاحیت کی بنا پر اس کی کاشت چراگاہوں میں بھی ہو سکتی ہے۔ اس چارہ میں سائے کو برداشت کرنے کی صلاحیت بھی کافی حد تک ہے، اس لئے اسے جنگلوں میں بھی کاشت کیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں اسے ماٹ گھاس کی طرح دریائوں، نہروں، کھالوں اور آبی گزرگاہوں کے کنارے لگا کر چارے کی کمی کو کافی حد تک دور کیا جا سکتا ہے۔ یہ غذائی اعتبار سے ایک اعلیٰ درجے کا چارہ ہے۔اس کی کاشت کیلئے گرم مرطوب آب و ہوا موزوں ہے۔ بھاری میرا زمین جس میں پانی کے نکاس کا خاطر خواہ انتظام ہو اس کی کاشت کے لئے بہتر ہے۔ زمین میں تین چاربار ہل سہاگہ چلا کر اچھی طرح تیار کر لیں۔ زمین بالکل نرم، بھربھری اور ہموار ہونی چاہیے۔ فصل کی کاشت سال میں دو بار کی جا سکتی ہے جو بیج اور جڑوں دونوں سے ہو سکتی ہے ۔ آبپاش علاقوں میں شروع مارچ اور بارانی علاقوں میں جون یا جولائی میں بوائی کی جاتی ہے۔ قلموں کے ذریعے کاشت وسط مارچ تک کی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ ہر قلم پر دو دو آنکھیں ہونی چاہئیں، قلموں کو لگاتے وقت ایک طرف جھکائیں اور زمین کے ساتھ 45 درجے کا زاویہ بنائیں۔ قلم کی ایک آنکھ زمین کے اندر اور دوسری باہر ہونی چاہیے۔ قلموں اور لائنوں کا درمیانی فاصلہ 2 فٹ ہونا چاہیے۔ جڑوں کے ذریعے بوائی جولائی اگست میں کرنی چاہیے، چونکہ اس کی کاشت خشک زمین میں کی جاتی ہے اس لئے بوائی کے فوراً بعد پانی لگائیں۔ جب تک پھوٹ کر مستحکم نہ ہو جائیں اس وقت تک فصل کو ہفتہ وار پانی دیتے رہیں، بعد ازاں دو تین ہفتوں بعد حسب ضرورت پانی لگائیں۔ بیج سے کاشت کی صورت میں عام طور پر اسے بذریعہ چھٹہ کاشت کیا جاتا ہے لیکن 1-1 فٹ کے فاصلے پر قطاروں میں بذریعہ ڈرل بوائی کریں۔ اس کا بیج زیادہ گہرائی میں نہ جائے کیونکہ اس کا بیج چھوٹا ہوتا ہے۔ بہتر اگائو کیلئے بوائی صبح کے وقت یا سورج غروب ہونے سے پہلے تر وتر میں کریں۔ اچھی پیداوار لینے کیلئے فصل کو ہر 4 سال بعد دوبارہ کاشت کرنا چاہیے۔ 5 تا 8 کلو بیج یا 11000 تا 12000 قلمیں فی ایکڑ کافی ہوتی ہیں۔ بوائی سے پہلے 3 سے 4 ٹرالی گوبر کی کھاد یا کاشت کے وقت 1 بوری ڈی اے پی اور 1/2 بوری یوریا فی ایکڑ یا 2 بوری نائٹروفاس ڈالیں، پھر ہر کٹائی کے بعد 1 بوری یوریا فی ایکڑ ڈالیں۔ پہلی کٹائی بوائی کے تقریباً 3ماہ بعد تیار ہو جاتی ہے، جبکہ بعد والی ہر کٹائی 35 سے 40 دن بعد تیار ہو جاتی ہے۔ فصل کی کٹائی اس وقت کی جائے جب اس پر پھول یا سٹے نکل آئیں۔ اس سے سال میں 6 تا 7 کٹائیاں لی جا سکتی ہیں۔ موسم برسات میں اس کی بڑھوتری بہت عمدہ ہو جاتی ہے۔ جب بیج بنانا مقصود ہو تو گھاس کو جولائی کے بعد کاٹنا بند کر دیں اور پانی لگانا بھی چھوڑ دیں۔ اچھی فصل سے 5 من بیج فی ایکڑ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اچھی نگہداشت سے سال بھر میں 1000 من تک سبز چارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں