آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
غزائیت سے بھر پور ’’ مونگ ‘‘ کی کاشت

ملک سراج احمد

مونگ کا شمار خریف کی اہم فصلوں میں ہوتا ہے۔اس میں قریباً 20سے 24فیصد پروٹین ہوتی ہے جو انسانی غذا کا اہم جزو ہے۔مونگ کی دال زود ہضم ہونے کی وجہ سے مریضوں اور بچوں کی صحت کے لیے یکساں مفید ہے۔مونگ کے پودوں کی جڑوں میں جراثیم ہوتے ہیں۔جوکہ ناڈیول (منکے)بنا کر ہوا سے نائٹروجن حاصل کرکے پودوں کو خوراک مہیا کرتے ہیں ۔مزید یہ کہ جڑیں گلنے سڑنے کے بعد زمین کی زرخیزی میں اضافہ کرتی ہیں۔مونگ کو نہری اور بارانی علاقوں میںیکساں طورپر کامیابی کے ساتھ کاشت کیا جاسکتا ہے ۔تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ ایک سال میں مونگ کی دو فصلیں ایک موسم بہار میں اور دوسری موسم گرما میں بڑی آسانی سے کاشت کی جاسکتی ہیں۔

غزائیت سے بھر پور ’’ مونگ ‘‘ کی کاشت

بہاریہ فصل پر خریف کی نسبت کیڑوں اور بیماریوں کا حملہ کم ہوتا ہے۔مونگ کی فصل کماد کی بہاریہ کاشت اور مونڈھی فصل کے ساتھ مخلوط کاشت بھی کی جاسکتی ہے۔چاول کے علاقوں میں جہاں گندم یا ربیع کی کوئی دوسری فصل کاشت نہ ہو، اس رقبے پر بہاریہ مونگ کی کاشت زمین کی زرخیزی کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔خوراک کو غذائیت کے اعتبار سے بہتر اور متوازن بنانے اور بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دالوں کی پیداوار میں اضافہ انتہائی ضروری ہے ۔دوسری فصلوں کی طرح دالوں کی پیداوار میں اضافہ ان کے زیر کاشت رقبہ اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ سے ہی ممکن ہے۔

آبپاش علاقوں میں نایاب مونگ 2006-، نیاب مونگ2011-،اور آزری مونگ 2006 جبکہ بارانی علاقوں میں چکوال ایج6-،کی کاشت بہتر ہے ان اقسام کی پیداواری صلاحیت 25من فی ایکڑ تک ہے۔کاشت کے لیے میرا زمین موزوں ہے جبکہ کلراٹھی اور سیم زدہ زمین غیر موزوں ہے ۔مونگ کی فصل کم زرخیز زمین پر مناسب پیداوار دے سکتی ہے۔حسب ضرورت ایک یا دومرتبہ ہل چلا کر سہاگہ دیں۔اگر کھیت میں مڈھ وغیر ہ ہوں تو ڈسک پلو یا روٹا ویٹر چلا کر سہاگہ دیں ۔بارانی علاقوں میں مون سون بارشوں سے پہلے ایک دفعہ مٹی پلٹنے والا ہل اور دو مرتبہ عام ہل چلا کر زمین کو سہاگہ کی مدد سے ہموار کرلینا چاہیے۔مونگ کے پودوں کی تعداد 135000سے 170000ہزار فی ایکڑ ہونی چاہیے۔پودوں کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے کے لیے مونگ کی اقسام نایاب مونگ 2006-،نیاب مونگ2011-،اور آزری مونگ 2006جبکہ بارانی علاقوں میں چکوال ایج6-کا 10سے 12کلو گرام بیج فی ایکڑ استعمال کریں۔جس کھیت میں مونگ پہلی دفعہ کاشت کی جائے اس کے بیج کو نائٹروجن او رفاسفورس کے جراثیمی ٹیکے لگانے سے فصل کا اگاو بہتر ہوتا ہے۔پودوں کی نائٹروجن اور فاسفورس حاصل کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے اور پیداوار میں نہ صرف خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے بلکہ بعد کی کاشت کی جانے والی فصل کو نائٹروجن بھی مہیا کرتی ہے۔موسم بہار میں مونگ کی کاشت مارچ کے پہلے ہفتہ سے آخر مارچ تک کی جاسکتی ہے ۔البتہ مارچ کا پہلا پندواڑہ اس کی کاشت کے لیے زیادہ موزوں ثابت ہوا ہے۔مونگ کی خریف کاشت آبپاش علاقوں میں 25مئی تا 15جون جبکہ بارانی علاقوں میں مون سون کی بارشیں شروع ہونے پر مونگ کی بوائی شروع کرکے جولائی کے دوسرئے ہفتے تک مکمل کرلی جائے۔مونگ کی کاشت کے لیے تروتر زمین میں ڈرل کے ساتھ ایک فٹ کے فاصلے پر قطاروں میں کاشت کریں پودوں کا درمیانی فاصلہ 8تا 10سینٹی میٹر رکھیں جبکہ بارش والے علاقے میں مونگ کو پٹڑیوں پر کاشت کریں۔آب پاش علاقوں میں پہلے پانی سے پہلے اور بارانی علاقوں میں اگاو کے آٹھ دس دن بعد زائد پودے نکال کر چھدرائی مکمل کریں تاکہ پودوں کا درمیانی فاصلہ 8تا10سینٹی میٹر رہ جائے۔

غزائیت سے بھر پور ’’ مونگ ‘‘ کی کاشت

مونگ کی فصل کے لیے کھاد کی مقدار کا صحیح تعین کرنے کے لیے زمین کا تجزیہ کرانا بہت ضروری ہے ۔زمین کے تجزیے کی عدم موجودگی میںکاشتکار محکمہ زراعت کے عملہ سے رہنمائی حاصل کریں اور تمام کھادیں بوائی سے پہلے آخری ہل کے ساتھ استعمال کریں۔مونگ کے لیے فی ایکڑ 9کلوگرام نائٹروجن،23کلوگرام فاسفورس اور 12کلوگرام پوٹاش جبکہ ایک بوری ڈی اے پی اور آدھی بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ استعمال کریں۔مونگ کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لیے جڑی بوٹیوں کی تلفی انتہائی ضروری ہے ۔جڑی بوٹیوں کی وجہ سے مونگ کی پیداوار میں 25سے 55فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔مونگ کی فصل کو نقصان پہنچانے والی جڑی بوٹیاں اٹسٹ، مدانہ، کھبل،سوانکی، چلائی، ہزار دانی وغیرہ ہیں ۔بہاریہ مونگ کو تین چار دفعہ آبپاشی درکار ہوتی ہے۔پہلا پانی اگاو کے تین چار ہفتہ بعد اور دوسرا پانی پھول نکلنے پر اور پھرایک یا دو پانی حسب ضرورت دو ہفتے کے وقفے سے پھلیاں بننے اور پھلیوںمیں دانہ بننے پر دیں ۔خریف مونگ کو دو تین دفعہ آبپاشی درکار ہوتی ہے ۔پہلا پانی اگاو کے تین چار ہفتہ بعد جبکہ دوسرا پانی پھول نکلنے پر اور پھرایک پانی حسب ضرورت دیں۔اس دوران بارش ہونے کی صورت میں آبپاشی دھیان سے کریں ۔پانی کی کمی کی صورت میں اگر صرف ایک آبپاشی میسر ہو تو پھول اور پھلیاں بنتے وقت آبپاشی ضرور کریں اور زیادہ بارش کی صورت میں زائد پانی کے نکاس کا مناسب بندوبست کریں۔اور جب فصل کی 80سے 90فیصد پھلیاں پک جائیں تو فصل کو صبح کے وقت کاٹیں ۔فصل کو کٹائی کے بعد چھوٹی چھوٹی ڈھیریوں میں چند دن خشک کرنے کے بعد گہائی کریں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں