آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معاملات تشویشناک حد تک بگڑتے جا رہے ہیں۔ اس میں سب ہی اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ بات زبانی کلامی سے آگے نکل گئی ہے۔ اگر پہلے صرف برا بھلا کہا جاتا تھا، مخالفین کی تضحیک کی جاتی تھی، جھوٹے سچّے الزام لگائے جاتے تھے تو اب معاملہ جوتے ا چھالنے اور سیاہی پھینکنے تک پہنچ گیا ہے۔ خطرہ ہے کہ صورتِ حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ اس طرح کے غیر مہذب رویے ملک اور قوم کے حق میں مناسب ہیں، نہ مفید۔ ایسا ہونا نہیں چاہیے۔ اس پر سب کو غور کرنا ہوگا، اور اسے روکنے کے لئے اقدامات بھی۔جو جتنی اہم جگہ پر ہے، ذمہ داری اس کی اُتنی ہی زیادہ ہے۔ بڑوں کے افعال کے اثرات چھوٹوں پر پڑتے ہیں۔ بچّے وہی کریں گے جو گھر کے بڑوں کو کرتے دیکھیں گے۔ اساتذہ ہوں یا سیاسی رہنما، سب اپنے شاگردوں ، پیروکاروں اور معتقدین کے لئے مثال ہوتے ہیں۔ ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ یہی اصول ہے، یہی بیان کیا جاتا ہے، اور اسی پر عمل کی بات ہوتی ہے اور اصرار۔ اس سے مختلف جو کچھ ہوتا ہے، اسے درست نہیں کہا جاسکتا، نہیں کہا جاتا۔ سیاسی رہنماقابل تقلید مثال بننے کی بجائے، ایک متنازع انداز اختیار کرتے نظر آتے ہیں۔ لہجہ خراب سے خراب تر ہوتا جارہا ہے۔ یہ فقرے بازی نہیں کہ مخالفین کو چور ڈاکو کہا جائے، ان کی ذاتی زندگی کو زیرِ بحث لایا جائے۔ تنقید کریں، اس کا فلسفہ دوسروں

کو خرابیوں سے پاک رکھنا ہے۔ گالیاں دیں گے تو معاملہ خراب ہی ہوگا۔ دوسری طرف سے بھی یہی رویہ اختیار کیا جائے گا۔ یوں غیرشائستگی بڑھتی ہی جائے گی۔ قوم اور ملک کو اس سے محفوظ رکھنا سب کی ذمہ داری ہے۔
بہتر رویوں کی توقع سب سے زیادہ ان سے ہے جو بہت قابل احترام عہدوں پر فائز ہیں۔ جج حضرات ہمیشہ سے محترم رہے ہیں۔ عام ججوں کے سامنے بھی گفتگو میں احتیاط کی جاتی تھی۔ اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کا احترام تو بہت ہی زیادہ کیا جاتا تھا۔ جج بھی اپنا احترام کروانا جانتے تھے۔ بحث مباحثہ میں کم ہی الجھتے تھے۔ جسٹس ناصر اسلم زاہد کی عدالت میں ایک وکیل نے مقدمہ میں بحث کے دوران ایک کتاب دوسرے وکیل کی طرف اچھال دی ۔ ناصر صاحب نے کچھ برہمی کا اظہار کیا،سماعت ملتوی کی اور دونوں وکلا کو اپنے چیمبر میں طلب کیا۔ جو بھی گفتگو ہوئی چیمبر میں ہوئی۔ کھلی عدالت میں کوئی بحث مباحثہ نہیں ہوا۔ احترام کیا بھی جاتا تھا، اور دوسروں کا احترام کرنا سکھایا بھی جاتا تھا۔ اب قوم یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ اصول ضابطے ختم ہو گئے ہیں، یا ختم کردئیے گئے؟ اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ یہ ہمارے رہنمائوں کے سوچنے کی بات زیادہ ہے۔ ان میں سب شامل ہیں۔جن ججوں کا بہت احترام ہوتا تھا، ان کی ذمہ داری بھی اتنی ہی زیادہ ہے، منصب ہی ایسا ہے کہ دوسروں سے زیادہ ان کی بات اور کردار میں زیادہ اثر ہے۔ سیاستدان تو ہمیشہ سے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے رہے ہیں، غلط کرتے رہے ہیں۔ اسی لئے وہ ججوں جتنی اچھی مثال نہیں بن سکتے۔ مگر انہیں بھی اپنے رویوں پر ازسرنو غور کرنا ہوگا۔
بدقسمتی سے بعض جج مختلف وجوہات کی بنا پر تنازعات کا شکار ہوگئے ہیں۔ بصد ادب عرض ہے کہ انہوں نے بھی اپنے منصب کا خیال نہیں رکھا۔ خود بھی جملے بازی کی اور دوسروں کو بھی موقع دیا۔ یہی نہیں، کچھ اس طرح کی باتیں بھی کیںجن کے نتائج خراب ہی نکلنے تھے۔ یہ نہیں دیکھا کہ بولنے میں احتیاط ضروری ہے۔لوگ جو کہتے ہیں کہنے دیں۔ آپ تو احتیاط کریں۔ سوچیں کہ ایک اعلیٰ منصب سے بات کس طرح کی جائے؟ وہاں اگر مقابلے بازی کی سی فضا پیدا ہوجائے، تو آپ کی اپنی عزت و وقار میں اضافہ ہوگا؟ یا دھچکا لگےگا؟
ادھر ماضی کے ایک جج صاحب اب سیاستدان بن گئے ہیں۔ انہیں بہت کچھ یاد نہیں، یا خودنوشت کی طرح یاد ہے جس میں مصنف اپنی خوبیاں ہی بیان کرتا ہے۔ تاریخ میں ایک اہم موڑ آیا تھا۔ ایک آمر پرویز مشرف نے ایک کارروائی کی۔ لوگ پہلے سے بھرے بیٹھے تھے۔ ایک تصویر میں پولیس کا ایک اہلکار چیف جسٹس کے بال پکڑ کر گھسیٹ رہا تھا۔ تصویرعام ہوگئی، یا کرا دی گئی۔ آمر سے نفرت تو تھی ہی، لوگ سڑکوں پر نکل آئے ۔ چیف جسٹس کی برطرفی کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا۔ بات بہت پھیلی اور پھیلائی گئی۔ جج صاحب فوج کی مداخلت سے بحال ہوگئے۔ اب تک انہیں یہ گمان ہے کہ سب کچھ ان کی وجہ سے ممکن ہوا۔ تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جب ایک معمولی بات نے سب کچھ الٹ پلٹ کردیا، ایک شہزادے کا قتل پہلی جنگ ِعظیم کا باعث بنا۔ جج صاحب اب تک یہ سمجھتے ہیں کہ پرویز مشرف ان کی وجہ سے نکالا گیا۔ ان کی گفتگو میں بھی اس کا اظہار ہوتا ہے۔ معاملہ شروع ہوا تھا اسٹیل مل کی نجکاری سے، کوڑیوں کے مول بیچی گئی، ان کا فرمانا ہے۔ ممکن ہے درست ہو۔ مگر باقی باتیں تو انہوں نے سنی ہیں۔ حال ہی میں ارشاد ہوا ’’ یہ بھی سنا تھا کہ خریدار فرنٹ مین تھا، اصل خریدار تو بھارت کا ایک شخص تھا جو اسٹیل کا کاروبار کرتا ہے۔‘‘ چیف جسٹس آف پاکستان نے ’’سنا‘‘ تھا؟ سن کے آپ نے ایک فیصلہ دیدیا؟ کوئی ثبوت آپ کے سامنے پیش نہیں کیا گیا؟ نہ آپ نے مانگا؟ اسٹیل مل کے فیصلے میں کہیں اس سننے کا حوالہ نہیں ہے۔ آپ کے یہاں تو قانون ہے کہ سنی سنائی بات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔ اور اس کی وجہ سے ملک میں ایک اتنا بڑا ہنگامہ ہو گیا؟ ذرا سوچ کے توبولیں۔ کہا جاتا ہے، پہلے تولو پھر بولو۔ ایک جرمن مقولہ ہے، لفظ کو نو مرتبہ اپنہ منہ میںگھمائو۔ مقصد وہی ہے۔ بات سوچ سمجھ کر کی جائے۔
بات آپ کی یہ شاید درست ہے کہ سیاستدانوں کو عدالت کا احترام کرنا چاہیے۔ عدالت کو بھی اپنا احترام کروانا چاہیے، یہ بھی شاید درست بات ہوگی۔ عدالت میں جب فقرے اچھالے جائیں، تو جواب کا امکان تو ہوگا۔ کوئی سچ مچ دکھی ہوگا، کوئی سیاسی دکھ کا شکار۔ جواب میں ان کیفیات کا اظہار ممکن تو ہے۔ آپ کے پاس سزا دینے کا اختیار ہے۔ دیدیں۔ دوسرے کے پاس باتیں سنانے کا، اور خمیازہ بھگتنے کا۔ وہ باتیں سنائے اور خمیازہ بھگتے۔ آپ سزا دیتے رہیں۔ بات پھر وہی کہ اپنی بات تولیں۔ ابھی آپ نے کہا نشان پارٹی کا ہوتا ہے، کسی فرد (عہدیدار) کا نہیں۔ وہ الیکشن کمیشن کو منسوخ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ آپ ماضی میں منصف رہے ہیں، آپ کی بات سے کون انکار کر سکتا ہے۔ مگر بات تو آگے آپ لے گئے۔ یہ ہی افراد، عدالت کے لئے قابل رشک زبان استعمال نہیں کررہے، تو کیا ان کے خلاف توہینِ عدالت کا مقدمہ چلنا چاہیے؟ یہ سوال تھا۔ آپ نے تھوڑی دیر پہلے ایک بات کہی تھی۔ اب اس کی بالکل الٹ سننے کو ملی۔ ’’بات توہین سے آگے بڑھ گئی ہے۔ بھٹو نے 1976 میں ایک پارٹی پر پابندی لگادی تھی۔ آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت ۔ اس پر غداری کا الزام تھا‘‘۔ آپ کا ارشاد چند لمحوں بعد ہی یہ ہے کہ اس پارٹی پر بھی پابندی لگا دی جائے، جس کے کچھ لوگ عدالت کی توہین کررہے ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ چند لوگوں کی سزا ساری پارٹی کو کیوں دی جائے؟ اس کی کوئی منطق ہونی چاہئے؟ ابھی تو آپ نے کہا تھا انتخابی نشان پارٹی کا ہوتا ہے کسی فرد کا نہیں۔ توہین تک پہنچی ہوئی بیان بازی بھی تو چند افراد کا عمل ہے، پارٹی کا نہیں۔ اور یہ کہ آپ ایک بڑے قانون دان ہیں۔ نیشنل عوامی پارٹی کے خلاف ذوالفقار علی بھٹو کی انتقامی کارروائی کا ایک بار پھر جائزہ لیں۔ اس میں قانون کے تقاضے بھی پورے نہیں کئے گئے تھے، پارٹی نے مقدمہ میں حصہ نہیں لیا تھا، اسے دو ججوں پر اعتراض تھا۔ ایک نے بحیثیت سیکرٹری قانون پابندی کا وہ نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس پر اب سپریم کورٹ میں بحث ہورہی تھی۔ وہ صاحب بھی بنچ کا حصہ تھے، و ہی ذبح بھی کرے ہے، و ہی لے ثواب الٹا۔ یہ یکطرفہ مقدمہ تھا، ضیاء الحق نے ختم کردیا۔ پارٹی بحال ہوگئی۔ کیا اب بھی آپ چاہتے ہیں یہی ہو؟ انگشت بد نداں ہی ہوا جا سکتا ہے۔
تاریخ کبھی تو لکھی جائے گی۔ کبھی تو انصاف ہوگا۔ عدلیہ پر بھی بات ہوگی، اور اس کے کردار پر بھی۔ بہت کہا جا رہا ہے کہ دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جائے گا۔بالکل ہو جائے گا۔ تاریخ میں یہ سب کچھ ہو جاتا ہے۔ اب بھی ماضی کے جج یاد آتے ہیں، با کردار بھی اور وہ بھی جن کے فیصلے نظیر نہیں بن سکے۔اگر جسٹس اے آر کارنیلیس اور جسٹس (محمد رستم ) ایم آر کیانی اور بعض دوسروں کا ذکر احترام سے ہوتا ہے،تو نظریہ ضرورت والے بھی تھے۔اُن کی عزّت کون کرتا ہے؟ جو اچھے تھے ،ان کے نامئہ اعمال میں، فقرے بازی ہے نہ سنی سنائی باتوں پر فیصلے۔
وے صورتیں الٰہی کس دیس بستیاں ہیں
اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں۔
مگر اس دیس میں تو ... اب کیا کہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں