آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ18؍رمضان المبارک1440 ھ24؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
’چڑیوں سے پیارکرو!‘

آج’ ورلڈ اسپیروڈے‘،یعنی چڑیوں کاعالمی دن،منایاجارہاہے،اس سال چڑیوں کےعالمی دن کا موموضوع، ’چڑیوں سے پیارکرو‘ ہے۔

چڑیا،ایک ایسا چھوٹاسا بےضررپرندہ ، مگر ماحول میں اس کی موجودگی کی انتہائی اہمیت ہے،دن میں شورکےباعث کوئی اس کی موجودگی شایدہی محسوس کرپائے،مگر ہاں خاص طور پر صبح کےوقت اس کی موجودگی بھرپورطریقے سے محسوس کی جاسکتی ہے ۔

صبح میں کانوں کو بےحدبھلی لگنےوالی بھرپور چہچہاہٹ سے تو لگتا ہے کہ اللہ کی یہ مخلوق اپنے رب کی حمدوثناء میں مصروف ہو۔

’چڑیوں سے پیارکرو!‘

ویسے تو بظاہرتمام چڑیاں خصوصیت میں ایک جیسی ہی نظر آتی ہیں مگر ماہرین کے مطابق چڑیوں کی بہت سی قسمیں ہیں،جن میں سےبیشترتو جنگلی اورپہاڑی ہیں، تو کئی گھریلو اورپالتو قسم کی رنگ برنگی چڑیا ہیں،اِن میں سے کئی کوئٹہ کی پرندہ مارکیٹ میں فروخت کےلئے بھی دستیاب ہیں ۔

اس حوالےسےپرندوں کےکاروبار سےوابستہ اورشوقین شخص محمدعامر کاکہناتھا کہ بظاہر تو لگتا ہے کہ سب چڑیاتقریبا ایک جیسی ہوتی ہیں مگر ایسا نہیں ہے۔

ایک جیسادکھائی دینے والےاس پرندے کی دنیا میں کئی اقسام ہیں، جن میں سے بہت سی اقسام پاکستان اور پھر بلوچستان اورسندھ میں بھی پائی جاتی ہیں ۔

’چڑیوں سے پیارکرو!‘

ان کاکہناتھا کہ ہمارے ہاں گل سر اور سائرہ نامی چڑیاں ہیں جو کہ پہاڑوں پر پائی جاتی ہے،،اس کےعلاوہ ہالینڈ ،برطانیہ اورایران سے بھی چڑیوں کی ہی قسم کنیری بھی کوئٹہ آتی ہیں۔

گل سر اور سائرہ کےعلاوہ ہالینڈ،برطانیہ اور ایران سمیت مختلف علاقوں میں پائی جانےوالی چڑیوں کی قسم یارکشائر،فرل،واٹرسیگلر،رولر وغیر ہ بھی دستیاب ہوتی ہیں۔

ماحول دوست اورنہایت بےضرر پرندہ ہونے کی وجہ سے ہی چڑیوں کی بہت سی اقسام ایسی ہیں،جنہیں لوگ اپنے گھروں میں بھی رکھنا پسند کرتےہیں ۔

اس حوالےسےشوقین افراد کا یہی کہناتھا کہ پرندے اور خاص طور پر چڑیابہت اچھی چیز ہے ،صبح جب بندہ اٹھتا ہے تو ان کی آواز بہت اچھی اور پیاری ہوتی ہے جو کہ کانوں کو بھلی لگتی ہے۔

’چڑیوں سے پیارکرو!‘

چڑیوں کے بارے میں ایک تحقیق کے مطابق دنیا کے ماحول میں ان کی تعداد میں بتدریج کمی آرہی ہے،ایک اسٹڈی کے مطابق تو ان کی تعداد میں 80فیصد تک کمی آئی ہے۔

اس میں کافی حد تک صداق لگتی بھی ہے،،جس کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ پہلےصبح کےوقت کہیں نہ کہیں گھر کی چھت یاقریبی درختوں سے چڑیوں کی آوازیں آجایاکرتی تھیںمگر اب ایسا خال خال ہی ہوتاہےبلکہ کبھی کبھار تو چڑیاڈھونڈنے کےلئے کافی کوشش کرناپڑتی ہے۔

’چڑیوں سے پیارکرو!‘
پرندوں کے ماہر محمد عامر


ماہرین کے مطابق چڑیوں کی کمی کی وجوہات میں درختوں کی کٹائی کےباعث ان کے مسکن کامتاثر ہونا،ماحولیاتی مسائل،شہری ضروریات میں اضافہ اوربڑھتی جدیدیت ہے،اس لئے اس سال کاعنوان بھی یہی ہے کہ ، چڑیوں سے پیارکرو ، ان کےنہ ہونے سے ماحولیاتی توازن میں بگاڑ کاخدشہ ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں