آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 20؍رمضان المبارک 1440ھ26؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بلوچستان میں تپ دق کےمرض کی صورتحال تشویشناک

بلوچستان میں صحت عامہ کی صورتحال قطعی تسلی بخش نہیں، اس کااندازہ صوبے میں مختلف امراض اور ان میں مبتلا مریضوں کی تعداد کی بڑھتی شرح سے لگایا جاسکتا ہے، علاج معالجہ کی سہولیات کا فقدان اپنی جگہ مگر معاشی وسماجی مسائل اور غربت کے علاوہ عوام میں امراض کی روک تھام کے حوالے سے شعور و آگہی کانہ ہونا امراض کے پھیلنے کا بڑا سبب ہے، یہی صورتحال تپ دق کی بھی ہے جسے ٹی بی کہاجاتا ہے۔

تپ دق کے حوالے سے گلوبل ٹی بی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں ہرسال ستائیس ہزار سے زائد ٹی بی کے نئے مریضوں کا اضافہ ہو رہا ہے، اعداد و شمارکو دیکھا جائے تو یہ اوسطاً تقریباً ڈھائی سے تین ہزار مریض بنتے ہیں، ماہرین کےمطابق ٹی بی کےمرض میں اضافہ کی بڑی وجہ غربت اور شعور وآگہی کا فقدان ہے، انہی مسائل کاشکار کوئی بھی شخص اس مرض میں مبتلا ہوسکتاہے۔

شہری علاقوں کےعلاوہ بلوچستان کےدوردراز علاقوں میں اس مرض کی صورتحال کافی گھمبیر ہے،مرض کی علامات کےحوالےسے فاطمہ جناح چیسٹ اینڈ جنرل اسپتال سےوابستہ ماہر امراض سینہ و تپ دق ڈاکٹرشاویز کا کہنا تھا کہ اس مرض کی علامات میں تین ہفتے سےزائد مسلسل کھانسی کاہونا، اس کےساتھ ساتھ منہ سےبلغم کاآنا اورسینے میں درد کی شکایت اور وزن کامسلسل کم ہوناشامل ہیں،ایسی علامات ظاہر ہوں تو مریض کو فوری کسی اچھے معالج سے رجوع کرناچاہئے اور فوری علاج شروع کردینا چاہئے، علاج کے حوالے سے سرکاری اسپتالوں اور صحت کے مراکز میں سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

صوبائی منیجر ٹی بی کنٹرول پروگرام بلوچستان ڈاکٹر سلطان احمدلہڑی کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹی بی کے مرض میں اضافہ ہورہا ہے اور 2017کی گلوبل ٹی بی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں سالانہ تقریباً ستائیس ہزار سےزائد ٹی بی کےمریضوں کااضافہ ہوتاہے،،اس صورتحال کے پیش نظر صوبائی محکمہ صحت نےٹی بی کنٹرول پروگرام کےتحت گلوبل فنڈکےمالی اورکراچی کےایک اسپتال کےتکنیکی تعاون سے ’’آؤ ٹی بی مٹاؤ ‘‘پراجیکٹ ترتیب دیاہے۔

ٹی بی کےعالمی دن کےموقع پر اس کاباقاعدہ اعلان کیاجائےگا،آؤ ٹی بی مٹاؤ کےعنوان سے تین سالہ پراجیکٹ ٹی بی کی روک تھام کےحوالےسےعالمی معیار کا ہے،اس پراجیکٹ میں مختلف اقدامات کےساتھ ساتھ موبائل وین میں نصب جدید ڈیجیٹل ایکسرے کے ذریعے ٹی بی کے ممکنہ مریضوں کی نشاندہی بھی شامل ہے، یہ وین مختلف علاقوں، اسپتالوں، اسکولوں، کالجوں، فیکٹریوں سمیت مختلف مقامات پرجاکر کیمپوں کےذریعے عوام کی ٹی بی کےمرض کےحوالےسےاسکریننگ کرےگی۔

اس پراجیکٹ کےنتائج کی روشنی میں اس کی کوئٹہ کےعلاوہ مختلف شہروں میں توسیع کی جائےگی، بلوچستان میں ٹی بی کی روک تھام کےلئے صوبےکےتمام اضلاع میں تشخیص مراکزقائم کردئیے گئے ہیںجبکہ ہنگامی بنیادوں پر اسکول اور کالج کی سطح پر آگہی اور ڈاکٹرزاورپیرامیڈیکل اسٹاف کوتربیت کی فراہمی کے پروگرام پر بھی عملدرآمد کیاجارہاہے۔

اس کےعلاوہ اسٹاپ ٹی بی پارٹنرشپ پاکستان اورنیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام کےتعاون سے بلوچستان میں ٹی بی کی روک تھام کےلئے پانچ سالہ اسٹریٹیجک منصوبہ بھی شروع کیاگیا، اس منصوبہ میں ٹی بی کےبروقت خاتمہ کےاقدامات کو صوبے کی ضروریات اور عالمی ادارہ صحت کے تجویزکردہ طریقہ کارکے مطابق تجویزکیاگیاہے۔

ماہرین کاکہنا ہے کہ یہ درست ہے کہ ٹی بی کی روک تھام کےحوالے سے حکومتی اقدامات کےنتائج عوام کے تعاون سے ہی سامنے آسکیں گے لیکن دوسری جانب ان کےسماجی اورمعاشی مسائل کےحل کےلئے بھی حکومتی سطح پر بھرپوراقدامات کی ضرورت ہے تا کہ ٹی بی سے پاک صحت مند معاشرہ تشکیل پاسکےگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں