آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انگریز نے 29مارچ 1849کو پنجاب پر قبضہ کیا تھا: پنجاب ہندوستان کا آخری علاقہ تھا جس پر 1849 تک انگریز کا قبضہ نہیں تھا۔ پنجاب کی فوجوں کی انگریز کے حملے کے خلاف جنگ بہت عجیب تھی جس کے بارے میں مشہور مسلمان شاعر شاہ محمد نے لکھا تھا:
شاہ محمدا، اک سر کارباہجوں اسیں جتیاں بازیاں ہاریاں نیں
(شاہ محمد، ایک سرکار کے بغیرہم نے جیتی ہوئی جنگ ہار دی ہے)
شاہ محمد مہاراجہ رنجیت سنگھ کو ’سرکار‘ کے نام سے یاد کر رہے تھے جن کی رہنمائی کے بغیر پنجاب کی فوجیں جیت کر بھی ہار گئیں۔ پنجاب کی فوجوں کی شکست کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ لاہور دربار کاپورا حکمران طبقہ انگریز کے ساتھ ساز باز کر چکا تھا۔ رنجیت سنگھ کے مرنے کے بعد پنجاب کی فوج میں بد نظمی پھیل چکی تھی اور فوجی دستوں کے ہر روز نئے مطالبات سامنے آجاتے تھے جسے اس وقت کے سویلین حاکم پورا نہیں کر سکتے تھے لہذا ہر روز دربار میں طاقت کا توازن بدل جاتا تھا۔ گویا کہ اس وقت کے فوجی ادارے کی شکست و ریخت اور من مانیاں سلطنت کو غیر مستحکم کر رہی تھیں: اسی وجہ سے دربار کے حکمران چاہتے تھے کہ انگریز آکر فوج کو تباہ کردے تاکہ انہیں نجات مل سکے۔اس طرح پنجاب کی تاریخ سے واضح ہو جاتا ہے کہ اگر مناسب رہنمائی نہ ہو اور ریاست کا کوئی بھی طاقتور ادارہ غیر مستحکم ہو کر من مانی کرنے پر

تل جائے تو بڑی بڑی مضبوط سلطنتیں خاک میں مل جاتی ہیں۔
رنجیت سنگھ کے 1799 میں لاہور پر قبضے سے پہلے بھی کافی حدتک طوائف الملوکی کا دور تھا جس میں مختلف سکھ سرداروں نے پنجاب کو آپس میں بانٹ رکھا تھا جنہیں مسلوں کا نام دیا جاتا تھا۔ سکھوں کے ابھار کی پیش گوئی کرتے ہوئے بلھے شاہ نے اپنی مشہور کافی ’’الٹے ہور زمانے آئے‘‘ میں کہا تھا کہ ’’بلھیا حکم حضوروں آیا، اس نوں کون ہٹائے‘‘ یعنی کہ تاریخ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ نیا نظام وجود میں آکر رہے گا۔ اس وقت کے تنزل پذیر مغلیہ سلطنت کے نظام کی فرسودگی کے بارے میں وارث شاہ نے بھی واضح اشارے کئے تھے اور کہا تھا کہ مذہب، عدلیہ اور دوسرے معاشی ادارے انتہائی بد عنوانیوں میںملوث ہو چکے ہیںاور ان کی شکست و ریخت ناگزیر ہے۔اگرچہ شمال سے آنے والے حملہ آوروں نے بھی مغلیہ سلطنت کی جڑیں ہلانے میں بڑا کردار ادا کیا تھا لیکن پنجاب کے اندرونی سماجی اور معاشی تضادات تبدیلی کی بنیاد بنے تھے۔ جو کچھ بھی ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے لیکن ایک بات واضح ہے کہ رنجیت سنگھ نے پنجاب کی مضبوط سلطنت قائم کر کے شمال سے ہونے والے حملوں کو ہمیشہ کے لئے بند کردیا تھا۔
آج کے پنجاب میں سماجی اور معاشی سطح پر ویسا ہی بد عنوان نظام موجود ہے جس کی طرف بلھے شاہ اور وارث شاہ نے اشارہ کیا تھا۔ باوجود معاشی ترقی کے غیر منصفانہ نظام دن بدن اپنی گرفت مضبوط کرتا جا رہا ہے جس سے سماجی افراتفری بڑھ رہی ہے: مذہبی انتہا پسندی اسی کا ایک مظہر ہے۔ لاہور کے مغلیہ حکمرانوں کی طرح آج بھی حکمران طبقہ فروعی معاملات میں الجھا ہوا ہے۔ پنجاب کے حکمران طبقے میں جن معاملات پر صف بندی ہورہی ہے وہ کسی بھی طرح نظام کی درستی کا اشارہ نہیں دیتی۔ ریاست کے مختلف ادارے ویسے ہی اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جیسے کہ ہمیں رنجیت سنگھ کی موت کے بعد اس کے عسکری حلقوں میں نظر آتی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج کے پنجاب کے حالات کسی بڑے انقلاب کے ظہور کا اشارہ کر رہے ہیں؟
اس وقت بدعنوانیوں کے خلاف تطہیر مخصوص سیاست دانوں کے خلاف کارروائی کا تاثر دے رہی ہے۔ اگرچہ یہ جنگ پنجاب کے ہی مختلف حکمران دھڑوں کے درمیان جاری ہے لیکن عوام اس سے لا تعلق نظر آتے ہیں۔ عوامی سطح پر تھانے، کچہری اور پٹوار کے نظام کے حوالے سے ہونے والی بد عنوانیوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ عوامی نقطہ نظر سے تو پچھلے چالیس سالوں میں تقریباً ہرامیر ہونے والے شخص (بالخصوص سیاست دان) نے ہیرا پھیری سے دولت کے انبار جمع کئے ہیں۔ ان حالات میں کسی ایک سیاست دان کی گرفت عوام کی سمجھ سے بالا تر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام معتوب سیاست دان کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹ رہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ پنجابی حکمران طبقے کی جنگ میں اداراتی ہم آہنگی کی بجائے انتشار پھیلتا ہوا نظر آرہا ہے۔بہت سے حلقے جاری تطہیر کے عمل کی اس لئے بھرپور حمایت کر رہے ہیں کہ اس سے احتساب کا عمل جڑیں پکڑ لے گا اور معاشرہ برائیوں سے پاک ہو جائے گا لیکن یہ حلقے تمام تر نیک خواہشات کے باوجود اداراتی توازن کے انتہائی بگاڑ کی طرف توجہ نہیں دے رہے۔ جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے پنجاب کی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ جب بھی اداروں کے درمیان توازن انتہائی سطح تک خراب ہو جاتا ہے تو اس کے نتائج خوفناک ہوتے ہیں۔
متذکرہ حالات میں غیر متوقع طور پر نئی تحریکیں جنم لیتی ہیں اور بعض اوقات بہت تھوڑے عرصے میں نظام کی کایا کلپ کر دیتی ہیں۔ساٹھ کی دہائی کے آخرتک یہ لگتا تھا کہ جیسے جنرل ایوب خان کی کئی نسلیں پاکستان پر حکومت کریں گی لیکن ان کا پورا نظام چند سالوں میں لپیٹ دیا گیا ۔ اس وقت عنوان بتا رہے ہیںکہ دن بدن بڑھتے ہوئے غیر منصفانہ نظام میں اداروں کی جنگ کے خوشگوار نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے مقتدر حلقوں کو تاریخی سچائیوں کا علم ہے اور یہ بھی کہ کیا اداروں کے درمیان جمہوری ہم آہنگی پیدا کرنے کے خواہش مند سیاست دان پورے نظام کے تقاضوں سے آگاہ ہیں یا پھر صرف ذاتی جنگ لڑ رہے ہیں؟
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں