آپ آف لائن ہیں
پیر2؍ذیقعدہ 1439ھ 16؍جولائی2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
سانحہ قندوز

ڈاکٹرسمیحہ راحیل قاضی

 کچھ ہی دن پہلے شام کے شہر، غوطہ میں اُمّت کی بے بسی کے سمندر میں ڈوبتے بچّوں کو دیکھا۔ پھر غزہ میں اسرائیلی بم باری سے جوانوں کی چھلنی لاشیں دیکھیں۔ رواں ماہ کی پہلی تاریخ کو کشمیر کے علاقے، شوپیاں میں کڑیل جوانوں کے جنازوں پر بہنیں سسک رہی تھیں، تو اُس کے دوسرے روز افغانستان کے صوبے، قندوز میں پھولوں سے لَدے 101 بچّے کفن میں لپٹے ہوئے تھے۔ 

شام سے فلسطین، فلسطین سے کشمیر اور کشمیر سے افغانستان، گویا غم کا اک سلسلہ ہے، جو ختم ہونے ہی میں نہیں آ رہا۔ کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کہاں جائیں ؟ کس سے فریاد کریں ؟ یوں لگتا ہے کہ اللہ کریم ہمیں خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کے لیے ان سانحات سے دوچار کررہا ہے، مگر ہم ہیں کہ بے حسی کی چادر اوڑھے سو رہے ہیں۔

مقامی اور عالمی میڈیا کے مطابق، افغان صوبے قندوز کے ضلع، دشت ارچی کے’’دارالعلوم الہاشمیہ العمریہ‘‘میں قرآن پاک حفظ کرنے والے بچّوں کی دستار بندی کی روایتی تقریب جاری تھی کہ اُن پر بم برسا دیے گئے، جس کی نتیجے میں ایک سو سے زاید حفّاظ شہید ہوئے، جب کہ زخمیوں کی تعداد بھی سیکڑوں میں بتائی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں، جن کی آزاد ذرایع سے تصدیق نہیں ہو سکی، حفّاظ بچّے سفید پگڑیوں میں دُولھے اور شہہ بالے لگ رہے ہیں۔ 

گویا سفید برّاق لباس پہنے لیلائے شہادت پانے کی پوری تیاریاں تھیں۔ گریجویشن پارٹیز منانے والوں کو تو خُوب اندازہ ہے کہ پاسنگ آئوٹ تقریب کیا اہمیت رکھتی ہے اور اس موقعے پر طلبہ اور اُن کے والدین کس قدر جذباتی ہو رہے ہوتے ہیں۔ اسناد لیتے ہوئے اور دوستوں کے ساتھ بنائی جانے والی تصاویر زندگی بھر سنبھال، سنبھال رکھی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ والدین نے اپنے بچّوں کو اس یادگار تقریب کے لیے خُوب سجایا سنوارا تھا، بلکہ وہ خود بھی یہ تاریخی لمحات دیکھنے آئے تھے اور واقعتاً، ان تاریخی لمحات کو زندگی بھر کے لیے اپنی اداس آنکھوں میں سمیٹ لیا۔ 

اس الم ناک واقعے کی سرکاری طور پر یہ وضاحت سامنے آئی کہ’’ تقریب میں جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع تھی، اسی وجہ سے اُسے نشانہ بنایا گیا‘‘، چلیے، مان لیتے ہیں کہ ایسا ہی ہوگا، تو کیا اس مسئلے کا حل بچّوں کو یوں بوٹیوں اور چیتھڑوں میں تبدیل کرنا ہی تھا…؟؟ اس سوال کا جواب اس لیے بھی دینا ضروری ہے کہ میڈیا میں عینی شاہدین کے حوالے سے شایع ہونے والی رپورٹس کے مطابق پہلا بم، حفّاظ بچّوں کی صف ہی پر گرایا گیا۔

ہم نے بار ہا دیکھا ہے کہ کسی ترقّی یافتہ مُلک میں ایک کتا بھی مر جائے، تو جانوروں کے حقوق کی تنظیمیں آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں۔ وہاں کوئی دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوجائے، تو سب اکٹھے ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے پاس جا کر تعزیتی تقاریب منعقد کرتے ہیں۔ نیز، مختلف انداز سے اظہارِ یک جہتی کیا جاتا ہے۔ عوام اپنی ڈی پیز کو ان ممالک کے جھنڈوں سے رنگ دیتے ہیں، مگر یہ خون خاک نشیناں، خاک میں رُل گیا، طلبہ کے یوں قتلِ عام پر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ 

پھر مغرب سے کیا شکوہ…مسلم مُمالک کی بے حسی ہی خون کے آنسو رُلانے کے لیے کافی ہے۔ اتحاد، ایثار، قربانی سے ہم ایسے ناآشنا ہوئے کہ ایک ملّت کا تصوّر ہی ماند پڑتا جا رہا ہے۔ مسلم دنیا، فرقوں، علاقائی اور لسانی شناختوں کے گھن چکر میں کھو کر اپنی قوّت گنواتی جا رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ اب عالمی سطح پر مسلمانوں کے احساسات و جذبات کی کسی کو پروا نہیں۔ اگر پروا ہوتی، تو کیا معصوم بچّوں کے قتلِ عام پر اقوامِ عالم یوں گونگی بہری ہو سکتی تھی کہ کہیں سے مذمّت تک سُننے کو نہیں مل رہی۔ 

دراصل، ہمیں قندوز جیسے واقعات سے سبق سیکھنا چاہیے اور وہ سبق، باہمی اتحاد و اتفاق ہی ہے۔ ایک دوسرے کے لیے گڑھے کھودنے اور اپنے ہی بھائیوں کی گردنیں مارنیں سے کبھی کوئی قوم آگے بڑھی اور نہ بڑھ سکتی ہے۔ مسلم ممالک میں لگی آگ میں بیرونی ہاتھ سے انکار ممکن نہیں، مگر ان خانہ جنگیوں کے ہم بھی کچھ کم ذمّے دار نہیں۔ 

ان جنگوں میں خواتین اور بچّوں سمیت لاکھوں لوگ مارے جا چکے، اتنے ہی گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے، مگر مجال ہے کہ اسلامی ممالک کی تنظیمیں اس بھڑکتی آگ کو بجھانے کے لیے آگے بڑھتی ہوں۔ جب ہمیں ہی اس آگ کی فکر نہیں تو کوئی اور ہم پر آگ برساتے ہوئے کیوں ہچکچائے گا۔

سانحۂ قندوز کے ضمن میں یہ بات بھی اہم ہے کہ اس طرح کے واقعات انتقام اور اشتعال جیسے جذبات کو فروغ دینے کا سبب بنتے ہیں، جس کا لازمی نتیجہ عسکری سرگرمیوں میں اضافے کی صُورت ہی نکلتا ہے۔ 

پھر افغانیوں کے قبائلی پس منظر اور مقبول روایات کی بنا پر ایک نئی’’ بدلے کی جنگ‘‘ شروع ہونے کے قوی خدشات ہیں۔ نیز، اس طرح کی اندھی کارروائیاں، جن میں بے گناہ نشانہ بنتے ہوں، صرف افغانستان ہی نہیں، خطّے کے دیگر ممالک کے لیے بھی انتہائی خطرناک ہو سکتی ہیں۔ 

افغانستان اور پڑوسی ممالک میں امن و استحکام کے لیے اس طرح کی بے مہار کارروائیوں سے گریز کے ساتھ خطّے میں بیرونی مداخلت کا سلسلہ بھی بند ہونا چاہیے تاکہ عوام کسی ڈکٹیشن اور دباؤ کے بغیر اپنے فیصلے خود کرسکیں۔ 

حالات و واقعات نے ثابت کردیا ہے کہ امریکا یہ جنگ ہار چکا ہے اور اس نے خطّے کو بربادی کے سوا کچھ نہیں دیا، لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ امریکا یہاں سے اپنا بوریا بستر سمیٹ لے اور عوام کو اپنے فیصلے خود کرنے دے۔

اس موقعے پر سیرتِ طیبہؐ کی روشنی میں بھی ایک گزارش کرنا ضروری ہے۔ جمادی الاولیٰ 8ہجری میں غزوۂ موتہ پیش آیا، یہ رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں مسلمانوں کو درپیش سب سے خونریز معرکہ تھا، جو کئی مُمالک کی فتوحات کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوا۔ 

اس میں ستّر صحابہ کرامؓ شہید ہوئے، جس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک نمازوں میں قنوتِ نازلہ پڑھی، لہٰذا ان 100سے زاید حفّاظِ کرام کی شہادت پر ہمارے گھروں اور مساجد میں بھی یہ سنّت زندہ ہونی چاہیے۔ 

یہ صرف سو بچّے ہی تو نہ تھے، سو مائوں کی گود، سو باپوں کا غرور، سیکڑوں بہنوں کے بھائی، ایک پوری نسل تھی ،جس کو قومِ فرعون کی طرح ختم کردیا گیا۔ اگر ہم اس درد کو محسوس نہیں کررہے، تو پھر ذرا خُوب اچھی طرح خود کو ٹٹول کر دیکھیے، کہیں ہمارے پہلو میں دِل کی بجائے، پتھر تو نہیں۔ 

ایک شاعر نے ہمارے جذبوں کو یوں زبان دی ہے۔؎ ’’ہاتھوں میں اسناد اٹھائے…چہرے پر مسکان سجائے…حافظ بچّے لائن بنائے…یوں بیٹھے تھے جیسے وہ سب…شہہ زادے ہوں اس دھرتی کے…رکھوالے ہوں نور نبیؐ کے…آن کی آن میں منظر بدلے…اجلے چہرے خون میں بدلے…لاشوں کے انبار لگے ہیں…دولھوں کے تابوت پڑے ہیں…آہ و فغاں اور سسکی ہے…انسانیت کی پستی ہے…دولھوں کی دستاریں اب…ان کے کفن کی وردی ہے۔ ‘‘

اُدھر کشمیر کی وادی بھی ظلم و ستم اور حریّت و قربانی کی نئی تاریخ رقم کر رہی ہے۔ ایک طرف سنگینیں ہیں، تو دوسری جانب جرّی جوانوں کی بے خوف چھاتیاں، جن کے آزادی کے ترانے قابض افواج پر کپکپی طاری کر دیتے ہیں۔ بھارتی افواج گزشتہ پون صدی سے کشمیریوں کے جذبۂ حریّت کو کچلنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتی آ رہی ہے۔ 

قید و بند، نظر بندیاں، محاصرے، جعلی مقابلے، عصمت دریاں اور املاک کو نذرِ آتش کرنے جیسے حربے بار بار آزمائے گئے، مگر آج بھی گھر گھر سے’’ کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ ہی کے نعرے بلند ہو رہے ہیں۔ 

نیز، گزشتہ کچھ عرصے سے نہتّے اور بے گناہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عالمی برادری نے ان مظالم پر مجرمانہ خاموشی کے تمام تر ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں، جس سے قابض فوج کو شہہ ملی ہے اور وہ اس غیر اعلانیہ عالمی تھپکی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے، البتہ یہ الگ بات ہے کہ بھارتی ہتھکنڈے نہ پہلے کشمیریوں کو جھکا سکے اور نہ اب اُن کے جذبۂ حریّت کو سَرد کر سکتے ہیں۔

ان حالات میں ہماری ذمّے داریوں میں بھی مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ دنیا بھر کے انصاف پسند شہری کشمیریوں کی جدوجہد کو ایک جائز اور قانونی جدوجہد سمجھتے ہیں، پھر یہ کہ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی فورمز کی قراردادیں بھی کشمیری عوام کی تحریکِ آزادی کو سپورٹ کرتی ہیں، سو، ہمیں ان انصاف پسند شہریوں تک پہنچنا چاہیے اور اُن کے ذریعے عالمی اداروں پر مسئلۂ کشمیر حل کرنے کے لیے دباؤ ڈلوانا چاہیے۔ 

دوسری طرف، پاکستانی حکومت کو بھی اپنی اسلامی اور اخلاقی ذمّے داریاں پوری کرنے کے لیے پوری طرح متحرّک ہونے کی ضرورت ہے، کیوں کہ مظلوم کشمیری مسلسل ہماری ہی طرف دیکھ رہے ہیں اور اُن کی امیدیں ہم ہی سے وابستہ ہیں۔ حریّت رہنما، آسیہ اندرابی کا سسکیوں میں ڈوبا پیغام ملا ہے کہ’’ ہم لاشیں اٹھا اٹھا کر نہیں تھک رہے، تو تم پاکستان میں اپنے گھروں سے تو کم ازکم نکل آئو اور پُرامن مارچ کرکے ہماری مزاحمت کی تحریک کی پشتیبانی کرو‘‘، مگر نہ جانے ہم کس بات کے منتظر ہیں۔ سادات گھرانے کے بوڑھے شیر، علی گیلانی کا پُرعزم لہجہ ہمیں پیغام دے رہا ہے کہ بھارت اپنے تابوت میں آخری کیلیں ٹھونک رہا ہے اور وادی کے سارے شیر دھاڑ رہے ہیں کہ’’ ہم کیا مانگیں ؟ آزادی۔‘‘

فلسطین اور غزہ کے وہ نہتّے لوگ، جن کے پاس پتھروں اور غلیلوں کے سوا کچھ نہیں، مسجدِ اقصیٰ کی حفاظت کے لیے رات دن چوکیداری کرتے نظر آتے ہیں، حتیٰ کہ خواتین بھی، جنھیں’’مرابطات‘‘ کہا جاتا ہے، ان چوکیداروں میں شامل ہیں۔ یہ خواتین اپنے اس کام پر فخر بھی کرتی ہیں اور یہ سعادت ملنے پر اپنے رب کی شُکر گزار بھی ہیں۔ 

غزہ کو انسانی تاریخ کی سب سے بڑی جیل کہا جائے، تو مبالغہ نہ ہوگا۔ وہاں بھی ظلم و تشدّد کی نئی لہر نے انتفاضہ کی تحریک کو از سرِ نو زندہ کردیا ہے۔چاروں اطراف سے ظلم کی یلغار دیکھ کر فیض کے وہ اشعار یاد آ جاتے ہیں؎’’بہار آئی تو جیسے یک بار…لوٹ آئے ہیں پھر عدم سے…وہ خواب سارے ، شباب سارے…جو تیری یادوں سے مشک بُو ہیں…جو تیرے عشّاق کا لہو ہیں…اُبل پڑے ہیں عذاب سارے…بہار آئی تو کھل گئے ہیں…نئے سرے سے حساب سارے۔‘‘ ہر طرف ظلم وجبر کی تاریک رات مسلّط ہے، مگر جب رات گہری اور تاریک تر ہو جائے، تو دِل سے کہو کہ نہ گھبرائے۔ سحر قریب ہے اور میرا رحمٰن رب، اُ س سے بھی قریب !! 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں