آپ آف لائن ہیں
جمعرات5؍ذوالقعدہ 1439ھ19؍جولائی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بد عنوانی ، دہشت گردی، اور انصاف کی عدم فراہمی پاکستان کی جڑوں کو تیزی سے کھوکھلا کررہی ہے۔ یہی وہ سماجی مسائل ہیں جن کی وجہ سے ملک میں غربت، انتشار بے چینی اور بیروزگاری عروج پر ہے۔ لہٰذا اسوقت جس قدر بھی ہوسکے تمام محب وطن ساتھیوں کو مندرجہ ذیل عوامل کے سدباب کی بھرپور کوششیں کرنی چاہئیں۔ ایک محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے میں نے ہمیشہ بدعنوانی کی قولاً اور عملاً سخت مخالفت کی ہے۔
ابھی کچھ دنوں پہلے مجھےڈی جی نیب (سندھ) نےبدعنوانی کے خلاف ایک عوامی مارچ سمیت ایک تقریب کے لئے بطور مہمان خصوصی مدعو کیا تھا اس مارچ میں لوگوں نے ’’بدعنوانی کو نہ کہو‘‘کے بڑے بڑے بینراٹھائے ہوئے تھے ۔ ہم ساحل سمندر کراچی، کے قریب ممتازکرکٹ کے کھلاڑی، جاوید میانداد اور ہاکی کے مشہور کھلاڑی صلاح الدین کے ساتھ چل رہے تھے۔ چلنے کے دوران میرے دماغ میں ماضی کے دریچے کھلنے لگے کہ کس طرح ملک گزشتہ برسوں میں تباہ ہو ا ہے ۔ ہمارا قرض 2004ء تک 33 ارب ڈالر تھا جو کہ 57سال میں جمع ہوا تھا ۔ اس کے بعداگلے 14سال پاکستان کےلئے اسقدر تباہ کن تھے کہ اس عرصے میں ہمارا بیرونی قرضہ 83ارب ڈالر، یعنی 250فیصد زیادہ ہو گیا۔ اس قرض میں سےاگرتھوڑی سی بھی رقم ، صرف تقریباً 50 ارب ڈالر بھی تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، صحت یا ان مصنوعات کی تیاری میں

استعمال ہو جاتی جو ہماری درمیانی اور اعلیٰ ٹیکنالوجی برآمدات کے لئے مفید ہیں تو آج ملک کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔ لیکن اس کے برعکس ہمیں اعلی تعلیم کے بجٹ میں 60 فیصد کٹوتی کا سامنا کرنا پڑا یعنی گزشتہ مالی سال کے دوران 21ارب روپے کے اعلیٰ تعلیم کے ترقیاتی بجٹ کو گھٹا کر 8 ارب روپے کر دیا گیا ۔ ا س شدید کمی نے ہماری جامعات کو اچانک کھائی میں دھکیل دیااور اعلیٰ تعلیم کی حمایت میں ہماری حکومت کے بڑے بڑے وعدوں کو جھوٹا ثابت کر دیا۔ افسوس کہ پاکستان اب بھی اپنی جی ڈی پی کا صرٖف2.3فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کرتا ہے جس سے اس ملک کا شمار ان ملکوں میں ہو تا ہے جو تعلیم کو سب سے کم ترجیح دیتے ہیں ۔ اگر یہ قرض کی رقم بڑے پیمانے پر پن بجلی گھر منصوبوں یا شمسی توانائی کے منصوبوں پر خرچ کی جاتی تو بجلی کے نرخ 19روپیہ فی یونٹ سےکم ہوکرصرف 3روپیہ فی یونٹ ہو سکتے تھے جیسا کہ متحدہ عرب امارات (شمسی توانائی پلانٹس کے ذریعے ) میںکیا گیا ہے ۔ اس طرح ہم بجلی4روپے فی یونٹ فروخت کرنے کے قابل ہو سکتے تھے ۔ ہماری صنعتوں کو یہ بجلی 19روپے یا اس سے زیادہ فی یونٹ کے بجائے صرف 4 روپیہ فی یو نٹ ملتی جس سے ہماری برآمدات کو زبردست فائدہ ہوتا۔ ہماری برآمدات تقریباً 20 ارب ڈالر تک محدود ہو گئی ہیں جبکہ ہماری درآمدات 53 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں او ر ان میں مزید اضافہ ہو رہا ہےاس تجارتی فرق کی وجہ سے پورا ملک ڈوب رہاہے ۔غرض اگر یہ بھاری قرض بدعنوانی کی نظر نہ ہوتا اور ملک میں کسی تعمیراتی کام کے لئے استعمال کیا جاتا تو نہ صرف ملک ترقی کرتا بلکہ قر ض کے بوجھ تلے دبنے کے بجائے قرض واپس کرنے کے قابل بھی ہوجاتا۔
ایک آزاد اندازے کے مطابق، ہمارے حکمراں تقریباً 50,000 ارب روپے (500 ارب ڈالر) کی وسیع پیمانے پر بدعنوانی کےمرتکب ہوتے ہیں جو کہ ہمارے بیرونی قرض سے 6 گنا زیادہ ہے ۔ اگر یہ رقم ان بدعنوانوں سے برآمد کی جا سکتی اور ان کو انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا جاتا تو نہ صرف ہم قرض ادا کرنے کے قابل ہو جاتے بلکہ ملک کے بہتر مستقبل کے لئے ،اہم بنیادی ضروریات فراہم کرنے کے لئے 400 ارب ڈالراضافی دستیاب ہوتے ۔
یہ لوٹا ہوا پیسہ صرف ہمارے بجٹ سے نہیں بلکہ بہت سے دوسرے ذرائع سے بھی حاصل کیا گیا ہے ۔ مثال کے طور کراچی میں ہی تقریباً 35,000 پلاٹ عوامی سہولتوں کے لئے مختص تھے جو غیر قانونی طور پر ہتھیا لئے گئے ۔ ایک اندازے کے مطابق فی پلاٹ کی قیمت تقریباً 2 کروڑ روپے ، یعنی 70,000کروڑ روپے (700 ارب روپے) کی ایک خطیر رقم صرف اس شعبے سےلوٹی گئی ہے ۔میں جیسے جیسے بدعنوانی کے خلاف بینر اور دیگر افراد کے ساتھ چل رہا تھا، میرے ذہن میں ایک ایک کرکے تمام بدعنوانیوں کے واقعات ایک فلم کی طرح چل رہے تھے۔جس اہم ادارے یاشعبے کی جانب نظر اٹھاتا تو بد عنوانی ہی اصل تباہی کی وجہ نظر آتی۔ ہمارے بہت سے اہم ادارے،پاکستان اسٹیل، پی آئی اے اور دیگر ادارے تباہ بدعنوا نی کی وجہ سے ہی ہوئے ہیں۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک کی اقتصادی صورتحال نہایت پر یشان کن شکل اختیار کر چکی ہے۔ ہمارے بجٹ کا خسارہ ایک اندازے کے مطابق 1,276 ارب روپے ہونے کے بجائے 1,864 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔2014ء- 2015ء میں بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لئے 12.4فیصد بیرونی قرض استعمال کیا گیاتھا لیکن 2015۔2016 میں یہ قرض بڑھ کر 27 فی صد اور 2016-2017ء میں یہ 29فیصدتک پہنچ گیاہے ۔ بجٹ کا خسارہ جی ڈی پی کاتقریباً 5.8 فیصد ہے جبکہ 3.8 فیصد کا ہدف متعین کیا گیا تھا ۔ اسی طرح، کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ1.5 فیصد کےبجائےتقریباً 4 فیصد ہے ۔ رواںمالی سال کے کرنٹ اکاؤنٹ کاخسارہ 12.1ارب ڈالر (جی ڈی پی کا 4فیصد) ہے جو صورتحال کو غیر مستحکم بنا نے کے لئے کافی ہے۔ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنے کے لئےضروری ہےکہ حکومت فوری طور پراقدامات اٹھائے۔غیرضروری درآمدات پر پابندی عائد کر کےدیگر درآمدات کو زیادہ سے زیادہ 45 ارب ڈالرتک منجمد کرنے کے فوری ضرورت ہے ۔ اس کے علاوہ برآمدات میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے اس کے لئے برآمد کنندگان کو اضافی مراعات کی فراہمی ،سامان سازی کے شعبے کو زیادہ مسابقتی ماحول تخلیق کرنے،اورصنعت کے لئے بجلی اور گیس کے نرخوں میں کمی کرکے اپنا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔
صد افسوس کہ پاکستان میں ’’جمہوریت بدعنوانی کےلائسنس ‘‘کےمترادف بن چکی ہے جبکہ جمہوریت انصاف، تعلیم یا نچلی سطح تک اختیارات کے بغیر کچھ بھی نہیں ہے بلکہ صرف ایک تماشا ہے اور یہی اسوقت ملک میں جاری ہے۔ بلدیاتی انتخابات پر صاحب اقتدار لوگوں کی طرف سے سخت مزاحمت تھی اور یہ صرف سپریم کورٹ کی مداخلت اور سخت تگ و دو کا نتیجہ ہےکے متعلقہ صوبائی حکومتوں کی طرف سے بلدیاتی انتخابات منعقد کئے گئے ۔ تاہم اختیارات اور فنڈز کراچی کے مئیر کی بے حد فریاد کے باوجود اب بھی بلدیات کو منتقل نہیں کئے گئے ۔ یہ دوبارہ سپریم کو رٹ ہی تھا جس نے کراچی میں پینے کے صاف پانی کی کمی کا معاملہ اٹھایا تھا جبکہ 'پانی مافیانے تمام فراہمی آب کے مراکز کو اپنے قبضے میں کیا ہو ا ہے جن سےیومیہ کروڑوں کمائےجا رہے ہیں جبکہ حکومت کسی مصلحت کی وجہ سےخاموش تما شائی بنی بیٹھی ہے یہ سب کی قائد اعظم کے اس شہر کو ایک ڈراؤنے خواب میں تبدیل کرنے کی سازش ہے۔
ایک قوم غربت میں زندہ رہ سکتی ہیں لیکن اگر انصاف نہ ہو تو اس کا نتیجہ زبردست تباہی ہے ۔ مگر افسوس آج پاکستان کو یہی مسئلہ درپیش ہے اور اسوقت تک رہے گا جب تک کہ ایک انقلابی تبدیلی نہ آئے۔ اس خراب صو رتحال پر قابو پانے کے لئے سخت قوانین بنانا ہونگے اور ان پر سختی سے عملدرآمدکرنا ہوگا۔ شدید بدعنوانی کے مقدموں کے لئے فوری طور پرسزائے موت کی سزا ہو نی چاہئے ، جیسے کہ چین میں ہو تا ہے۔ ا س کے علاوہ دہشت گردی اور بدعنوانی کے مقدمات کو فوجی عدالتوں میں چلانا چاہئے کیونکہ دہشت گردی اور بدعنوانی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں ۔
ہمارے اراکین پارلیمان جو بعد میں ہماری کابینہ بناتے ہیں،( ان کی اہلیت کا اندزہ اس حقیقت سے بخوبی ہوتا ہے کہ ہمارے 250 اراکین پارلیمنٹ بشمول ارکان قومی اور صوبائی اسمبلیاں اور سینیٹرزمیں سے بعض نے سابقہ حکومت میں منتخب ہونےکے لئے جعلی ڈگریوں کا سہارا لیا۔ بلوچستان ایک سابق گورنر اس گھناؤنے عمل کی تائید میں اس حد تک گئے کہ یہ بیا ن دیاکہ’’ ' ایک ڈگری ڈگری ہوتی ہے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ جعلی ہے‘‘۔
یہ میرا خواب ہے کہ پاکستان ایک دن ایک ایسا ملک بنے گا ہے جس میں ایسا نظام یقینی بنایا جائے گا جس کے تحت صرف ایماندار اور صاحب کمال افرادہی ہم پرحکومت کرسکیں گے۔یہ میرا خواب ہے کہ تیزاور فوری انصاف امیر اور غریب دونوں طبقوں کے لئے یکساں دستیاب ہو ۔ یہ میرا خواب ہے کہ میرے بچے اور میرے نوکروں کے بچے ایک ہی اسکول میں ساتھ تعلیم حاصل کرسکیں ، اور صحت کی اور صاف پینے کے پانی کی سہولت سب کو یکساں دستیاب ہو۔ میں اس نئے پاکستان کاخواب دیکھتا ہوں ، جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا او راسے شرمندہء تعبیر کرنے لئے قائد اعظم محمد علی جناح نے انتھک محنت کی ۔ میں نے جو4 سول ایوارڈ متعدد حکومتوں سے حاصل کئے جن میں سب سے بڑا قومی اعزاز، نشان امتیازبھی شامل ہے یہ سب کچھ معنی
نہیں رکھتےجب تک کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بدعنوانی کی بیخ کنی نہ کرئیں اور ایک حقیقی جمہوری فلاحی ریاست بنانے کے لئے کام کر یں۔ بصورت دیگر 1947 ء میں دی گئیں لاکھوں ہزاروں جانوں کا نذرانہ رائیگاں چلا جائے گا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں