آپ آف لائن ہیں
جمعرات5؍ذوالقعدہ 1439ھ19؍جولائی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
لندن/واشنگٹن( مرتضیٰ علی شاہ) ایک معروف بلوچ صحافی احمر مستی خان نے کہاہےکہ را انتہاپسندوںکی معاون ہے، امریکا میں فری بلوچستان مہم بھارتی سفارت خانے سے چلتی ہے، اکتوبر 2015میں واشنگٹن میں امریکی انسٹیٹیوٹ برائے امن میں نواز شریف کی تقریر کے دوران بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را کی ایما پر انہیں ٹوکا اوران کی تقریر میں مداخلت کی ۔احمر مستی خان کاشمار سینئر صحافیوں میں ہوتاہے انہوں نے پاکستان کے علاوہ متحدہ عرب امارات اور امریکا میں بھی نیوز روم میں خدمات انجام دی ہیں اور ان دنوں واشنگٹن میں مقیم ہیں، انہوں نے اپنے بیان کی 3وڈیوز ریلیز کیںجن میں انہوں نے الزام لگایا کہ واشنگٹن ڈی سی میں بھارتی سفارتخانے میں کام کرنے والے را کے ایجنٹوں نے انہیں دھوکہ دیا ۔انہوں نے را کے ایک ایجنٹ کا نام ناگیش بھوشن بتایا اور کہاکہ بھوشن را کے بلوچستان ڈیسک پر کام کررہاتھا ،22اکتوبر 2015کواحمر مستی خان نے نواز شریف کو امریکی انسٹی ٹیوٹ برائے امن میں کئی منٹ تک روکے رکھا تھا اور بعد سیکورٹی اہلکاروں نے انہیں کمرے سے نکالا تھا ۔بھارتی ٹی وی چینلز نے نواز شریف کو روکنے ٹوکنے کے اس واقعےکو اپنی خبروں اورٹاک شوز میں خوب اچھالاتھا اوراحمر مستی خان کے خیالات کی خوب تشہیر کی تھی۔اب احمر مستی خان نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کی خفیہ

ایجنسی نے انہیں پاکستان کے وزیر اعظم کو ٹوکنے اور تقریب کے دوران بلوچستان کامسئلہ اٹھا کر انہیں پریشان کرنے کی ہدایت کی تھی۔مستی خان نے اپنی وڈیوز میں دعویٰ کیاکہ ان سے نواز شریف کی تقریر میں رکاوٹ ڈالنے کے خواہاں حلقوں کی جانب سے بھاری امدا د کی یقین دہانی کرائی گئی تھی،یہ شخص اس وقت بھارتی سفارت خانے میں تھا اور جنوری میں واپس بھارت چلاگیا لیکن اس نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔مستی خان نے اپنے وڈیوز میں دعویٰ کیا کہ اور بھی بہت سی باتیں ہوئی تھیں۔نواز شریف کے اسی دورے کے دوران مستی خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے نواز شریف کے خطاب کے دوران ’’فری بلوچستان کمپین یوایس اے ‘‘ کیلئے جنرل اسمبلی کے سامنے مظاہرہ بھی کیاتھااور نواز شریف پر بلوچستان میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے اور اسامہ بن لادن کی حمایت کاالزام عائد کیاتھا۔اپنے پہلے وڈیو میں مستی خان نے دعویٰ کیاکہ وہ بھارت کا دیرینہ دوست ہے اور کھلے عام جئے ہند،بندے ماترم اور بھارت زندہ باد کےنعرے لگاتارہاہےلیکن را کے ایجنٹ کی جانب سے دھوکہ دیئے جانے پر اس کادل ٹوٹ گیا، احمر مستی خان نے اپنی وڈیو میں دعویٰ کیاکہ را نے گزشتہ چند برسوں کے دوران چند انتہا پسند بلوچ گروپوںکو 15-15 ملین ڈالرز ادا کئے ہیں ، احمر مستی خان نے یہ بھی الزام عائد کیاکہ را کانظام اتنا کرپٹ ہے کہ اس کے اعلیٰ افسران مختص کی گئی رقم کا 40فیصد حصہ خود کھاجاتے ہیں۔احمر مستی خان نے اپنی وڈیو میں کہاکہ بھارت کو عوامی ڈپلومیسی کرنی چاہئے اور جو لوگ بلوچستان کامسئلہ اٹھارہے ہیں ان کی مدد کرنی چاہئے لیکن چونکہ چین آگے بڑھنے کی کوشش کررہاہے اس لئے بھارت اسلحے کو ترجیح دے رہاہے۔ بھارت مخالف رخ پر چل رہاہے،اس کو ان لوگوں کی مدد کرنی چاہئے جو سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں، اسے عوام کی مدد کرنی چاہئے لیکن را کے لوگ نارتھ بلاک پر خوش ہیں۔ مودی کی حکومت نے شفاف حکومت کا وعدہ کیاتھا لیکن ایسا ہونہیں رہا،را انتہاپسندوں کی مدد کررہاہےاورناگیش بھوشن جیسے لوگ میرے خلاف گھنائونی مہم چلارہے ہیں۔اپنی تیسری وڈیو میں احمرمستی خان نے ان بلوچ تنظیموں کے نام ظاہرکئے جنہوں نے ان کے دعوے کے مطابق را سے انتہا پسندانہ سرگرمیوں کیلئے مدد حاصل کی ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں