آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
 
کاروبار اور عوام دوست انتخابی بجٹ

سرمایہ کاری کے نقطۂ نظر سے اچھا بجٹ ہے، اہداف قابلِ فہم ہیں ، لیکن ان کا حصول جوئے شِیر لانے کے مترادف ہوگا،اگرچہ کارپوریٹ ٹیکس کم کر دیا گیا ہے، لیکن اس کی نسبت انفرادی ٹیکس میں زیادہ کٹوتی کی گئی، جس کی وجہ سے کارپوریٹ سیکٹر کی حوصلہ شکنی ہو گی،

کاروبار اور عوام دوست انتخابی بجٹ

 میں درآمدات بڑھانے کے حق میں ہوں، کیونکہ اس سے ہمیں ڈیوٹی اور ٹیکس کی مد میں پیسے ملتے ہیں،موجودہ دورِ حکومت میں تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا، جس کے سبب روپیہ کمزور ہوا، ایمنسٹی اسکیم ہماری معیشت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کرے گی، کارپوریٹ سیکٹر کی ٹیکس شرح کو معقول بنانا چاہیے، حکومت کو ری فنڈز کے بدلے بانڈز جاری کرنے چاہئیں، تاکہ ایکسپورٹرز ان کے ذریعے پیسہ لے کر اپنی لیکویڈیٹی بہتر کر سکیں،خسارے کے شکار اداروں کی نجکاری نہ کرنا مایوس کن ہے،صنعتوں کی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے لیے انڈسٹری پر ٹیکس کی شرح کم اور توانائی سستی کی جائے

عارف حبیب

بجٹ میں دی گئی مراعات سے یہ سیاسی بجٹ لگتا ہے، الیکشن میں عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے حکومت نے ٹیکس ریٹ میں کٹوتی کی، چھوٹ سے محصولات میں تقریباً 105ارب روپے کی کمی واقع ہو گی،کاٹن کی قیمت بڑھنے سے برآمدات میں اضافہ ہوا،حکومت قرضے لے کر قرض اتار رہی ہے، کیونکہ اس کی آمدن کا کوئی ذریعہ نہیں،

کاروبار اور عوام دوست انتخابی بجٹ

برآمدات کے مقابلے میں درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا، سیمنٹ اور اسٹیل سیکٹر کے علاوہ کسی دوسرے شعبے میں نئی صنعتیں نہیں لگ رہیں، نئی صنعتوں کے قیام کے لیے انڈسٹریل زونز کو5کے بہ جائے 10برس کے لیے ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے، ہم سالانہ 60ارب ڈالرز کی امپورٹس برداشت نہیں کرسکتے،درآمدات روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے، کمرشل امپورٹرز پر ٹیکس بڑھا کر کرپشن کا دروازہ کھول دیا گیا، انڈسٹری کو سہولت دی جائے اور برآمدات کی حوصلہ افزائی کی جائے

زبیر طفیل

نیا بجٹ پرانے بجٹس سے مختلف اور اینٹی امپورٹ بجٹ ہے، درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے سے انڈسٹری میں بہتری آئے گی، غیر دستاویزی معیشت پرسختی کی گئی، جس سے ٹیکس فائلرز کو فائدہ ہو گا،البتہ دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ انفرادی ٹیکس کی شرح کم اور کارپوریٹ سیکٹر کی ٹیکس کی شرح زیادہ ہو،اگر ہم نے ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو بڑھانا ہے، تو نیٹ انکم ٹیکسیشن کی جانب جانا ہو گا،

کاروبار اور عوام دوست انتخابی بجٹ

رئیل اسٹیٹ سے متعلق قانون کے نفاذ میں دو سے تین برس بھی لگ سکتے ہیں، اگر حکومت جائیداد کی خرید و فروخت کو دستاویزی شکل دینے میں کام یاب ہو گئی، تو اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،ہمیں روپے کے سارے پارکنگ لاٹ ختم کرنا ہوں گے، معیشت کو دستاویزی بنانا ہماری مجبوری ہے، تجارت اور ایکسپورٹ کو ترقی نہیں دی، تو معیشت خطرے میں پڑ جائے گی،روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے صنعتوں کو ترقی دینا ہماری مجبوری بن چکی ہے، حکومت کو جی آئی ڈی سی سمیت دیگر ٹیکسز پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے

شبر زیدی

گزشتہ ماہ حکومت نے مالی سال2018-19ءکا بجٹ پیش کیا۔ یہ موجودہ حکومت کی جانب سے اپنے 5سالہ دور میں پیش کیا گیا چھٹا بجٹ تھا۔ اگرچہ ایف پی سی سی آئی (وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت) نے حسبِ روایت آیندہ مالی سال کے میزانیے کی تحسین کی ہے، لیکن یہ امر بھی بعید از امکان نہیں کہ فیڈریشن کچھ عرصے بعد اس پر تحفظات کا اظہار شروع کر دے گی۔ نئے بجٹ کا حجم 60کھرب روپے کے لگ بھگ ہے، جس میں 20کھرب روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ٹیکس ریٹ میں چھوٹ دینے کی وجہ سے بعض ماہرینِ معیشت اسے سیاسی بجٹ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم، یہ نان ٹیکس فائلرز کے لیے سختی کا باعث بنے گا۔ یہاں یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ اس حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے گزشتہ پانچ بجٹ کس قدر بزنس فرینڈلی تھے؟حالیہ بجٹ کاروباری شعبے کے لیے کس قدر موافق ہو گا؟ اس کے نتیجے میں اسٹاک ایکسچینج اور دیگر تجارتی سرگرمیوں میں کتنی تیزی آئے گی؟ ٹیکس نیٹ میں کتنا اضافہ ہو گا؟ توانائی کا بحران حل ہو گا یا نہیں؟ مستقبل میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مزید کم ہو گی یا نہیں؟ بالواسطہ ٹیکسز پر انحصار میں اضافہ کتنا سود مند ہو گا؟ ری فنڈز کی عدم ادائیگی سے ہماری برآمدات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اور ہم اپنی برآمدات کس طرح بڑھا سکتےہیں؟نیز، قرضوںکے آئینی حدسے تجاوز کرنے سے معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ان تمام سوالات کے جواب جاننے کے لیے گزشتہ دنوں عارف حبیب سینٹر میں ’’بجٹ کتنا کاروبار دوست‘‘ کے موضوع پر جنگ فورم منعقد کیا گیا، جس میں ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر، زبیر طفیل، عارف حبیب گروپ کے چیئرمین، عارف حبیب اور اے ایف فرگوسن اینڈ کو کے پارٹنر، شبر زیدی نے اظہارِ خیال کیا۔ اس موقع پر ہونے والی گفتگو ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔

جنگ:حالیہ بجٹ آپ کی توقعات پر پورا ترتا ہے اور اس میں اور گزشتہ پانچ بجٹس میں کیا فرق دیکھتے ہیں؟

زبیر طفیل:بجٹ میں دی گئی مراعات کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک سیاسی بجٹ ہے، لیکن اس میں کچھ اچھی چیزیں بھی شامل ہیں۔ الیکشن ایئر ہونے کے ناتے عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے حکومت نے ٹیکس ریٹ میں کٹوتی کی۔ اس چھوٹ کی وجہ سے ٹیکس ریٹ میں کٹوتی سے محصولات میں تقریباً 105ارب روپے کی کمی واقع ہو گی، حالاں کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران حکومت نے کسی سیکٹر کو 2ارب سے زاید کی رعایت نہیں دی۔ اگرچہ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے، لیکن تاخیر سے کیا گیا۔ گزشتہ پانچ برس کے دوران معیشت بحال نہیں ہو سکی۔ وزیرِ اعظم نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایکسپورٹرز کے لیے بجلی کے نرخ 25فی صد کم کر دیں گے۔ جب دوسری میٹنگ میں انہیں ان کا وعدہ یاد دلایا، تو ان کا کہنا تھا کہ وہ نرخ25فی صد کم کردیں گے، لیکن تاجروں کو برآمدات میں بھی 25فی صد اضافہ کر کے دکھانا ہو گا۔ جب میں نے یہ شرط ایکسپورٹ ایسوسی ایشن کے سامنے رکھی، تو اس نے اسے ناممکن قرار دے دیا۔ ایسوسی ایشن نے یہ جواز پیش کیا کہ اگر حکومت آج بجلی کے نرح کم کرتی ہے، تو ہمیں نئے آرڈرز حاصل کرنے میں 6ماہ لگ جائیں گے۔ یوں بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ البتہ برآمدات میں کچھ اضافہ ضرور ہوا ہے اور رواں مالی سال کے اختتام تک ہماری ایکسپورٹ 23.5سے 24ارب ڈالرز تک پہنچنے کی توقع ہے۔

کاروبار اور عوام دوست انتخابی بجٹ

جنگ:کیا ایسا ڈالر کی قدر میں اضافے سے ہوا؟

زبیر طفیل:دراصل، ہماری 60فی صد برآمدات ٹیکسٹائل مصنوعات پر مشتمل ہیں ۔ گزشتہ کچھ عرصے میں کاٹن کی قیمت 68سینٹ سے بڑھ کر 85سینٹ تک پہنچ گئی ہے۔ کاٹن کی قیمت میں 15سے 16فی صد اضافے کے نتیجے میں ہماری برآمدات میں اضافہ ہوا۔ جولائی کے بعد ہماری برآمدات میں مزید 15فی صد اضافہ متوقع ہے۔

جنگ:دو بر س قبل حکومت نے ایکسپورٹ سیکٹر کو’’ زیرو ریٹڈ ‘‘کیا تھا۔ کیا اس سے ایکسپورٹ سیکٹر کو ریلیف ملا؟

زبیر طفیل:ماضی میں مہنگی گیس کی وجہ سے لاگت بڑھ گئی تھی، جس کے سبب برآمدات گر گئیں، لیکن اب صورتحال نسبتاً بہتر ہے۔ برآمدات بڑھنے کا اصل سبب کاٹن کی قیمت میں اضافہ ہے۔ اس وقت ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ جولائی میں غیر ملکی قرضے 92ارب تک پہنچ جائیں گے، جبکہ جون میں 3ارب روپے کی قسط آئی ایم ایف کو ادا کرنی ہے۔ یہ 3ارب روپے چینی بینکوں سے لیے جائیں گے۔ یعنی حکومت قرض لے کر قرضے اتار رہی ہے۔ اس کی آمدنی کا اپنا کوئی ذریعہ نہیں ہے اور یہ برآمدات میں اضافے سے ممکن ہے۔ اگر 30جون تک برآمدات 24ارب ڈالرز تک پہنچنے کی توقع ہے، تو درآمدات کم و بیش 60ارب ڈالرز تک پہنچ جائیں گی۔ رواں مالی سال کے پہلے 9ماہ میں 45ارب ڈالرز کی درآمدات آئیں۔ اگرچہ 18،19ارب ڈالرز ترسیلاتِ زر کی مد میں ملیں گے، لیکن پھر بھی اتنا بڑا تجارتی خسارہ پورا نہیں ہو سکتا۔

جنگ:حکومت نے درآمدات کی حوصلہ شکنی کے لیے ریگولیٹری ڈیوٹی عاید کی۔ کیا اس سے درآمدات میں کمی واقع نہیں ہوئی؟

زبیر طفیل:حکومت کو مزید سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔ ایسی تمام مصنوعات کی درآمد پر پابندی عاید کر دینی چاہیے، جو ملک میں تیار ہوتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں درآمدات کی متبادل انڈسٹری پر توجّہ دی جائے۔ انڈونیشیا میں شہروں سے دور قائم صنعتوں کو دس برس تک کے لیے ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ ہماری حکومت کو بھی شہر سےکم و بیش 50کلومیٹر دور لگائی گئی صنعتوں کو یہی رعایت دینی چاہیے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں، تو جواب ملتا ہے کہ آپ بہت زیادہ مراعات مانگ رہے ہیں، لیکن ملک میں نئی انڈسٹری اسی صورت ہی لگے گی۔ جب نئی صنعتیں لگیں گی، تو عوام کو روزگار اور حکومت کو سیلز ٹیکس ملے گا۔ اس وقت ہماری آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ سیلز ٹیکس ہے۔ اگر ایسی پالیسی بنائی جائے، تو نہ صرف پاکستانی بلکہ غیر ملکی بھی ملک میں صنعتیں لگائیں گے۔ آخر حکومت نے سی پیک کے تحت چائنیز کو بھی تو 23برس کے لیے ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا ہے اور نئے صنعتی زونز کو بھی 10برس کے لیے ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، لیکن یہ رعایت ملک بھر کے صنعتی علاقوں کو دی جانی چاہیے۔ اس وقت سیمنٹ اور اسٹیل کا سیکٹر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ہماری سیمنٹ کی پیداوار 40ملین ٹن تھی اور دو برس بعد یہ 58ملین ٹن تک پہنچے کی توقع ہے۔

جنگ:کیا کسی سیکٹر میں نئی صنعتیں لگ رہی ہیں؟

زبیر طفیل :سیمنٹ اور اسٹیل سیکٹر کے علاوہ کسی دوسرے شعبے میں نئی صنعتیں نہیں لگ رہیں۔ ٹیکسٹائل میں تو بالکل بھی نہیں لگ رہیں۔

جنگ :اس کا بنیادی سبب کیا ہے؟

زبیر طفیل:اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے سیکٹرز میں درآمدات بہت سستی ہیں۔ اس سال چین نے ہمیں 17ارب ڈالرز کی مصنوعات ایکسپورٹ کیں، جبکہ ہم سے صرف 1.5ارب ڈالرز کی مصنوعات درآمد کیں۔ یہ ایف ٹی اے تو صرف چین کے حق میں جا رہا ہے۔

جنگ:کیا آپ نے ایف ٹی اے پر نظرِ ثانی کا مطالبہ نہیں کیا؟

زبیر طفیل:اس ضمن میں ایف پی سی سی آئی نے بہت اہم کردار ادا کیا۔10اپریل 2018ءکو وزیرِ اعظم چین کے ساتھ ایف ٹی اے ٹو پر دستخط کرنے جا رہے تھے، جسے فیڈریشن نے روکا۔ میں نے وزیرِ اعظم کو روکا، تو انہوں نے پوچھا کہ آپ کیوں مخالفت کر رہے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ ایف ٹی اے ٹو پر دستخط کرنے سے مزید 7ہزار آئٹم زیرو ریٹڈ ہو جائیں گے اور چین سے ہماری برآمدات 17سے بڑھ کر 30ارب ڈالرز تک پہنچ جائیں گی۔ میں وزیرِ اعظم کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہمارے موقف کو تسلیم کیا اور بہت خوبصورتی سے یہ معاملہ ملتوی کر دیا۔میرا خیال ہے کہ اب ایف ٹی اے ٹو پر دستخط نہیں ہوں گے۔

جنگ:ایف پی سی سی آئی نے نئے بجٹ کو خوش آمدید کہا ہے۔ اس کی کیا وجوہ ہیں؟

زبیر طفیل:اس کا بنیادی سبب ٹیکس ریٹ میں کٹوتی ہے، جس سے سب کو بالخصوص تنخواہ دار طبقے کو بہت فائدہ ہو گا۔ اس کے علاوہ بھی حکومت نے چھوٹی موٹی مراعات دی ہیں۔ تاہم، بجٹ میں کمرشل امپورٹرز کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ پہلے کمرشل امپورٹرز پر عاید حتمی ٹیکس 6فی صد تک پہنچ گیا تھا اور حقیقتاً یہ 30فی صد بنتا ہے، لیکن اس بجٹ میں اسے کم سے کم ٹیکس قرار دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کرپشن کا دروازہ کھل گیا۔

جنگ:حکومت انڈسٹریل گروتھ کا ہدف حاصل نہیں کر سکی۔ اس بارے میں کیا کہیں گے؟

زبیر طفیل:جی ہاں۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈسٹریل گروتھ 5.8فی صد رہی، لیکن اصل میں شرح کم ہے۔ صرف آٹو موبائل اور سیمنٹ انڈسٹری میں مطلوبہ گروتھ ہوئی ہے، اس کے علاوہ کسی دوسرے سیکٹر میں نہیں۔ آیندہ دنوں ملک میں دو سے تین نئے آٹو مینوفیکچررز کام شروع کر دیں گے، جس سے اس سیکٹر کی ترقی میں مزید اضافہ ہو گا۔ کیمیکل سیکٹر کی شرحِ نمو بھی 3سے 3.5فی صد رہی۔ اس کے علاوہ پیپر انڈسٹری سمیت دیگر سیکٹرز میں بھی زیادہ گروتھ نہیں ہوئی اور اس کا سب سے اہم سبب مہنگی توانائی ہے۔ بجٹ میں سیمنٹ اور اسٹیل پر ڈیوٹی بڑھائی گئی ہے، جس کی وجہ سے یہ آئٹم مزید مہنگے ہو جائیں گے۔

جنگ:نئے بجٹ کے اسٹاک ایکسچینج پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ نیز، کیا اسے کاروبار دوست بجٹ کہنا درست ہے؟

عارف حبیب :نئے بجٹ میں بجٹ خسارے کا ہدف 4.8فی صد رکھا گیا ہے، جو رواں مالی سال کے بجٹ کے مقابلے میں کم ہے۔ بجٹ میں ریونیو گروتھ کا ہدف صرف 11فی صد رکھا گیا ہے، جبکہ پچھلے بجٹ میں 19فی صد کا ہدف رکھا گیا تھا۔ اس کا سبب ٹیکس ریٹ میں کٹوتی اور صرف سگریٹ، سیمنٹ اور درآمدات پر نیا ٹیکس عاید کرنا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ 5.8فی صد تک شرحِ نمو کا ہدف حاصل کر لے گی، جو خوش آیند ہے۔ اس کے علاوہ افراطِ زر بھی قابو میں رہا۔ تاہم، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ نان ٹیکس ریونیو میں کمی واقع ہو گی۔ ہمارے بجٹ میں بڑا حصہ دفاعی اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی کا ہوتا ہے۔ ان دونوں میں اضافہ کیا گیا ہے اور اسی لیے ترقیاتی بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ مجموعی طور پر بجٹ کے اہداف قابلِ فہم ہیں اور اگر انہیں حاصل کر لیا جاتا ہے، تو یہ بہت اچھی بات ہے، لیکن اہداف کو حاصل کرنا جوئے شِیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ عموماً کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں نئی سرمایہ کاری نہیں ہو رہی۔ میری نظر میں اس کی دو وجوہ ہیں۔ پہلی وجہ پیداواری لاگت کا زیادہ ہونا ہے۔ ہمیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں دگنی قیمت پر گیس مل رہی ہے اور بجلی 1.4گنا زیادہ قیمت پر۔ کوئی بھی مینوفیکچرر انڈسٹری لگانے سے پہلے اپنی پیداواری لاگت کو دیکھتا ہے۔ اسی طرح ریجن میں ہمارا ٹیکس ریٹ بھی زیادہ ہے، جسے کم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس بجٹ میں کارپوریٹ ٹیکس کو کم کر دیا گیا ہے، لیکن اس کی نسبت انفرادی ٹیکس میں زیادہ کٹوتی کی گئی ہے، جس کی وجہ سے کارپوریٹ سیکٹر کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ بجٹ میں سرمایہ کاری کے لیے بجٹ کو بتدریج کم کرنا بھی اچھا اقدام ہے۔ مجموعی طور پر سرمایہ کاری کے نکتہ نظر سے یہ ایک اچھا بجٹ ہے۔

جنگ :بجٹ پیش ہونے کے بعد اسٹاک ایکسچینج میں 10ہزار پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی۔ ایسا کیوں ہوا؟

عارف حبیب:یہ کوئی تشویش ناک بات نہیں اور پھر اسٹاک ایکسچینج بھی بحال ہو گئی ہے۔ میں ایمنسٹی اسکیم پر بات کرنا چاہوں گا۔ یہ ایک بہت اچھا فیصلہ ہے اور اگر اس میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی، تو ہمیں اس سے فائدہ ہو گا۔ اس وقت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ڈالرز کی قلّت ہے۔ میں درآمدات بڑھانے کے حق میں ہوں، کیونکہ اس سے ہمیں ڈیوٹی اور ٹیکس کی مد میں پیسے ملتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ 40فی صد میں ڈالر فروخت کرے اور ایکسپورٹ کی حوصلہ افزائی کے ذریعے اسے 20فی صد میں خریدے۔ اسی طرح حکومت کو پاکستانی تارکینِ وطن پر توجہ دینی چاہیے۔ وہ یہاں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ڈالرز کی کمی پوری ہو گی۔ اب انفرادی طور پر ٹیکس 7.5فی صد کر دیا گیا ہے، لیکن کارپوریٹ سیکٹر پر یہ 25فی صد ہے۔ ہم نے کارپوریٹ سیکٹر پر ٹیکس کم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انفرادی ٹیکس کی شرح کم کرنا بھی درست ہے، لیکن کارپوریٹ سیکٹر کی ٹیکس شرح کو بھی معقول بنانا چاہیے۔ اسی طرح کیپیٹل گین کے ریٹس کو بھی درست کرنے کی ضرورت ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ وزیرِ اعظم اور وزیرِ خزانہ ان پر نظرِ ثانی کریں گے اور اسی صورت ان کو مطلوبہ نتائج حاصل ہوں گے۔ میں یہ امید بھی رکھتا ہوں کہ پارلیمنٹ اس بجٹ کو منظور کر لے گی، تاکہ بے یقینی ختم ہو جائے اور عام انتخابات وقت پر ہوں۔ مجموعی طور پر یہ بجٹ سرمایہ کاری کو ترقی دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔

جنگ:روپے کی قدر گرنے سے کیا نتائج برآمد ہوئے؟ نیز، کیا مستقبل میں مزید گراوٹ کا خدشہ ہے؟

عارف حبیب:روپے کی قدر گرنے سے افراطِ زر میں اضافہ ہوتا ہے۔ مہنگائی بڑھ جاتی ہے۔ درآمدات کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ برآمدات بڑھ جاتی ہیں اور قرضوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اگرچہ روپے کی قدر میں اضافے سے افراطِ زر میں اضافہ ہوا ہے، لیکن ایمنسٹی اسکیم کے نفاذ کے بعد شاید اس کی قدر میں مزید کمی نہیں کی جائے گی۔

جنگ:ایکسپورٹرز کا ری فنڈز کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا؟ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟

عارف حبیب:جی بالکل۔ ری فنڈز کی ادائیگی سے حکومت کے بجٹ خسارے میں اضافہ ہوتا ہے اور لیکویڈیٹی کا مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ البتہ ری فنڈز کی عدم ادائیگی کی وجہ سے تاجروں کی رقم پھنس جاتی ہے اور وہ اپنے کاروبار کو توسیع نہیں دے سکتے۔ حکومت کو ری فنڈز کے بدلے بانڈز جاری کرنے چاہئیں، تاکہ ایکسپورٹرز ان کے ذریعے پیسہ لے کر اپنی لیکویڈیٹی کو بہتر کر سکیں۔ حکومت کو ایکسپورٹرز کے مسائل فوری بنیادوں پر حل کرنے چاہئیں، تاکہ وہ اپنی پیداوار اور ایکسپورٹ بڑھائیں اور ہمارا تجارتی خسارہ کم ہو۔ موجودہ دورِ حکومت میں تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا، جس کے سبب روپیہ کمزور ہوا۔ نتیجتاً ہمارے تمام اقتصادی اشاریے گڑ بڑ ہو گئے۔ البتہ میں امید کرتا ہوں کہ ایمنسٹی اسکیم ہماری معیشت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

جنگ:لیکن گردشی قرضوں کی عدم ادائیگی سے تجارتی خسارے کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی گئی؟

عارف حبیب :جی بالکل۔ حکومت کو گردشی قرضے بر وقت ادا کرنے چاہئیں۔ بصورتِ دیگر حکومت کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔

جنگ:سرکاری اداروں کا خسارہ بھی باہر رکھا گیا ہے، جو تقریباً 10کھرب ہے۔

عارف حبیب:جی آپ نے اچھا نکتہ اٹھایا۔ حکومت نے نجکاری کے وعدے تو بہت کیا، لیکن کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا، جس سے بہت مایوسی ہوئی۔ حکومت نے بعض بینکوں کے شیئرز تو بیچے، لیکن حقیقتاً کسی ادارے کی نجکاری نہیں کی۔

جنگ: حکومت نے سرکاری اداروں کے اخراجات یعنی سبسڈی بھی اخراجات بجٹ میں شامل نہیں کیے؟

عارف حبیب :یہ زیادہ تشویش ناک نہیں ہیں، کیوں کہ یہ جی ڈی پی کے صرف 1.5،2فی صد ہی ہیں۔

جنگ:یہ 2فی صد سے زاید بنتے ہیں۔

عارف حبیب:یہ رقم کوئی 500سے 600ارب ہے۔ یہ تشویش ناک اس لیے نہیں ہے کہ ہم نوٹ چھاپ کر اپنا خسارہ پورا کر سکتے ہیں، لیکن تجارتی خسارہ زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ ہم ڈالرز نہیں چھاپ سکتے۔

جنگ:لیکن ہم پر بیرونی قرضوں کا دبائو بھی تو بڑھ رہا ہے؟

عارف حبیب:بیرونی قرضہ مجموعی قرضے کا 20فی صد ہے اور یہ مینج ایبل ہے، کیونکہ اب سی پیک کے تحت توانائی کے نئے منصوبوں لگے ہیں، جن سے ہماری انڈسٹری کو فروغ ملے گا۔ اسی طرح پچھلے کچھ عرصے میں ہمارے ہاں سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بالخصوص سیمنٹ، اسٹیل، آٹوموبائل اور پاور سیکٹر میں بہت بہتری آئی ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاروں کو اچھا منافع ملتا ہے۔ اگر ہماری جی ڈی پی بڑھ جائے، تو سارے مسئلے حل ہو جائیں گے۔ یاد رکھیں، قرضہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ جوں جوں جی ڈی پی بڑھے گی، قرضہ بھی بڑھتا رہے گا، البتہ جی ڈی پی کے اعتبار سے اس کا تناسب کم ہو جائے گا۔

جنگ:حالیہ بجٹ کیسا ہے؟ گزشتہ پانچ بجٹس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ نیز، کیا موجودہ حکومت واقعی کاروبار دوست ثابت ہوئی اور اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہی؟

شبر زیدی:حالیہ بجٹ پچھلے بجٹس سے مختلف ہے۔ پچھلے بجٹس میں ریونیو بڑھانے پر زور دیا گیا تھا۔ اگر آپ بالواسطہ درآمدات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ برآمدات کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں۔ حالیہ بجٹ کی اچھی بات یہ ہے کہ اینٹی امپورٹ بجٹ ہے۔ اس بجٹ میں ایکسپورٹرز پر پری امپٹیو ٹیکس ختم کر دیا گیا۔ اب جب درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ ہوگا، تو ہماری انڈسٹری میں خود بخود بہتری آئے گی۔ اس وقت پاکستان کا تجارتی خسارہ اسی وجہ سے ہے کہ ہماری برآمدات کم اور درآمدات زیادہ ہیں۔ اس بجٹ سے صنعتوں میں بہتری واقع ہو گی۔ اسی طرح غیر دستاویزی معیشت پر گرفت کی گئی ہے، جس سے ٹیکس فائلرز کو فائدہ ہو گا۔ 1992ء کے بعد سے ہم نے پاکستان کو دبئی بنانے کی کوشش کی تھی، جو یہ نہیں بن سکا۔ ہمیں پاکستان کو کوریا بنانے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔ اس بجٹ میں اس پالیسی میں پیرا ڈائم شفٹ دیکھنے میں آیا ہے۔ یعنی اب ہم ایک صنعتی ملک بننے کی طرف جا رہے ہیں۔ اس اعتبار سے مجھے یہ بجٹ مناسب لگتا ہے۔

جنگ:ٹیکس ریٹ میں کٹوتی سے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ بعض ماہرینِ معیشت کا ماننا ہے کہ اس سے بالائی طبقے کو زیادہ فائدہ ہو گا؟

شبر زیدی:ٹیکس ریٹ 15سے25فی صد تک جائے گا۔ دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہوتا کہ انفرادی ٹیکس کی شرح کم اور کارپوریٹ سیکٹر میں ٹیکس کی شرح زیادہ ہو۔ میں نے جب ایک موقع پر اس سلسلے میں سلائیڈ چلائی تھی، تو اس وقت کے وزیرِ خزانہ، اسحٰق ڈار کافی ناراض بھی ہوئے تھے۔ اس کے نتیجے میں کارپوریٹ سیکٹر کی حوصلہ شکنی ہو گی۔

جنگ:حکومت ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 15فی صد تک لے جانے کے لیے کوشش کرتی رہی ، لیکن یہ ابھی تک 11فی صد ہی ہے اور ابھی بھی ملک کا ایک بڑا طبقہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہے، تو کیا ٹیکس ریٹ میں کٹوتی سے ٹیکس نیٹ بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے یا اس کے دیگر مقاصد بھی ہیں؟

شبر زیدی:میرے نزدیک پاکستان کا مسئلہ کرپشن نہیں ہے۔ ہم نے گزشتہ 40برس کے دوران بالواسطہ اور بلاواسطہ غیر دستاویزی معیشت کو ترقی دی ہے۔ جب تک پریزیمٹیو ٹیکسیشن کے علاوہ کوئی دوسری ٹیکسیشن نہیں ہوگی، ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو بہتر ہو ہی نہیں سکتا۔ یعنی آمدنی کا ذریعہ بھی نہیں معلوم اور ٹیکس کا بھی کوئی اتہ پتہ نہیں۔ اگر ہم نے ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو بڑھانا ہے، تو نیٹ انکم ٹیکسیشن کی جانب جانا ہو گا۔ اس سلسلے میں سب سے اہم قدم پراپرٹی سسٹم کی تبدیلی ہے اور اگر حکومت اس مقصد میں کامیاب ہو گئی، تو اس کا یہ کام تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ مگر یہ بہت مشکل کام ہے، کیونکہ پراپرٹی اس وقت پیسے کا سب سے بڑا پارکنگ لاٹ بن چکی ہے۔ اب یہ پارکنگ لاٹ بند کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور اگر یہ بند ہو گئی، تو بہتری آنا شروع ہو جائے گی۔

جنگ: اس ضمن میں کون سے اقدامات کیے جا رہے ہیں؟

شبر زیدی:رئیل اسٹیٹ سے متعلق جو قانون آیا ہے، میں اس کے بارے میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس کا اطلاق یکم جولائی سے نہیں ہو گا۔ جب اس قانون کو نوٹیفائی کیا جائے گا، تو تب اس کا اطلاق ہو گا۔

جنگ:تو یہ نوٹیفائی کب ہو گا؟

شبر زیدی:اس قانون کے اطلاق کی خاصی مزاحمت کی جائے گی، کیونکہ اس مقصد کے لیے صوبائی حکومت کی اجازت کی ضرورت ہے۔ یہ قانون بن تو گیا ہے، لیکن اس کا اطلاق حکومت کی جانب سے نوٹیفائی کرنے کے بعد ہی ہو گا اور اس میں دو سے تین برس بھی لگ سکتے ہیں۔ اگر اس قانون کا اطلاق ہو جاتا ہے، تو پاکستان میں ایک پارکنگ لاٹ ختم ہو جائے گی۔ تاہم، مسئلہ یہ ہے کہ ہم مارکیٹ سے غیر دستاویزی معیشت کا خاتمہ نہیں کر رہے، بلکہ پارکنگ لاٹ ختم کر رہے ہیں، تو اگر یہ پارکنگ لاٹ ختم ہو گئی، تو پھر پیسہ کہاں پارک ہو گا۔ بعض افراد کا خیال ہے کہ پھر یہ اسٹاک ایکسچینج میں پارک ہو گا، تو ہمیں سارے پارکنگ لاٹ ختم کرنا ہوں گے۔ شوکت ترین کے بعد آئی ایم ایف جو پروگرام آیا تھا، اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ پہلے سال میں اسٹاک ایکسچینج کو دستاویزی شکل دینی ہوگی۔ دوسرے سال میں پراپرٹی کو دستاویزی شکل دی جائے گی۔ یعنی معیشت کو دستاویزی شکل دینے کا ایک پورا نظام تجویز کیا گیا تھا۔ اسٹاک ایکسچینج کو دستاویزی شکل دینے کے بعد یہ سلسلہ رک گیا تھا، جو اب دوبارہ شروع ہوا ہے۔ اس سسٹم کا آگے بڑھنا بہت ضروری ہے اور اب سے بڑھانا پاکستان کی مجبوری ہے۔ اگر ہم نے تجارت اور ایکسپورٹ کو ترقی نہیں دی، تو معیشت کی بقا خطرے میں پڑ جائے گی۔ اس وقت ہمارا تجارتی خسارہ 35ارب ڈالرز ہے۔ اگر یہ ترسیلاتِ زر کی مدد سے 20ارب خسارہ کم بھی ہو جائے، تو سالانہ 15ارب کے خسارے سے یہ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ چلیں، اگر ہم قرضے لے کر خسارے پر قابو پا بھی لیں، لیکن ہر سال 2کروڑ نوجوانوں کو روزگار کیسے ملے گا۔ اب یہ معاشی سے زیادہ سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔ پھر ہمارا زرعی شعبہ بھی بے ہنگم ہے۔ ہمیں اسے مینج کرنا ہو گا، کیونکہ 2کروڑ نوجوانوں میں سے 60لاکھ دیہات سے آتے ہیں۔ سو، ہمیں اپنی زرعی پیداوار کو بڑھانا ہو گا، تاکہ یہ افرادی قوت شہروں کے بہ جائے دیہات میں کھپائی جا سکے۔ آج اربنائزیشن ایک مسئلہ بنتی جارہی ہے۔ اب کراچی، لاہور اور پنڈی جیسے بڑے شہر رہنے کے قابل نہیں رہے۔ ہمیں شہروں کی آبادی کم کرنا ہو گی اور دیہات میں روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ بد قسمتی سے ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتیں زراعت کو معیشت کا حصہ نہیں سمجھتیں، حالانکہ یہ معیشت کا ایک اہم جزو ہے۔ امریکا میں زراعت کی باقاعدہ وزارت قائم ہے اور ہمیں بھی ایک ایسی وزارت قائم کرنا ہو گی۔ یہاں فوڈ سیکوریٹی اور کاشت کاری کی وزارتیں تو قائم ہیں، لیکن زراعت کی وزارت نہیں ہے۔

جنگ:آپ نگراں حکومت کے لیے یہ تجویز دے دیں؟

شبر زیدی: زراعت کی اپنی ایک معیشت ہے۔ ہم اسے کسی صورت نظر انداز نہیں کر سکتے۔

جنگ:آپ نے کہا کہ حکومت دیہات میں زراعت پر توجہ دے، تو شہروں میں کس سیکٹر پر توجہ دینے کی ضرورت ہے؟

شبر زیدی:اس وقت ہمارے ملک میں صنعتیں کم ہوتی جارہی ہیں اور ہمارا انحصار درآمدت پر بڑھتا جا رہا ہے۔ یعنی ہر چیز باہر سے بن کر آرہی ہے۔ ہمیں اپنی انڈسٹری کو فروغ دینا چاہیے۔ ہم سوئی سے لے کر کار تک چین سے درآمد کر رہے ہیں، جبکہ ہماری اپنی مصنوعات ان سے کئی درجہ بہتر تھیں، لیکن ٹیکسیشن اور تیاری پرآنے والی لاگت بڑھنے کی وجہ سے مقامی صنعتیں بند ہونا شروع ہو گئیں اور چائنیز کو ٹیکس کی چھوٹ دے دی گئی۔

جنگ:لیکن سروس انڈسٹری تو موجود ہے؟

شبر زیدی :اس کی اہمیت اپنی جگہ ، لیکن ہمیں مینوفیکچرنگ انڈسٹری کو اپنی بنیاد بنانا پڑے گا۔ ہم 60ارب ڈالرز کی درآمدات برداشت ہی نہیں کر سکتے۔

جنگ:آپ کیا تجاویز دینا چاہیں گے؟

زیبر طفیل:ابھی بھی بجٹ کی منظوری میں وقت ہے۔ میری خواہش ہے کہ انڈسٹری کو سہولت دی جائے۔ درآمدات کی حوصلہ شکنی کی جائے اور برآمدات کی حوصلہ افزائی۔ ہم 60ارب ڈالرز سالانہ کی برآمدات برداشت نہیں کر سکتے۔ انڈسٹری کے لیے ٹیکس سے استثنیٰ کی حد 5سال سے بڑھا کر 10سال کر دی جائے۔ اس کے نتیجے میں ملک میں نئی سرمایہ کاری ہو گی۔ اب جہاں تک ریونیو کی بات ہے، تو یہ سیلز ٹیکس سے وصول ہوتا رہے گا۔ شبر زیدی کا یہ کہنا بجا ہے کہ ہماری افرادی قوت میں ہر سال2 کروڑ نوجوانوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ انہیں اسی صورت میں روزگار مل سکتا ہے کہ ملک میں نئی صنعتیں قائم ہوں۔

عارف حبیب:حکومت کو صنعتوں کی پیداواری لاگت کم کرنے کی ضرورت ہے۔ زیادہ پیداواری لاگت کے سبب ہمارے ایکسپورٹرز دوسرے ممالک کے صنعت کاروں کا مقابلہ نہیں کر پاتے۔ اس ضمن میں جی آئی ڈی سی کو فوری طور پر ختم کرنا چاہیے، تاکہ گیس کے نرخ کم ہوں اور سستی توانائی ملے۔ انفرادی طور پر ٹیکس ریٹ 7.5فی صد کر دیا گیا ہے، لیکن کارپوریٹ سیکٹر پر یہ اب بھی 25فی صد ہے اور اسے کم کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح کیپیٹل گین ٹیکس کو بھی معقول کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ان تمام مسائل کو حل کیا جائے، تو ہماری برآمدات میں اضافہ ممکن ہے۔

شبر زیدی:میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تمام متعلقہ ادارے بجٹ میں کیے گئے اچھے فیصلوں کا نفاذ یقینی بنائیں اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے کا سلسلہ شروع ہوا ہے، اسے حکومت کی تبدیلی سے ختم نہیں ہونا چاہیے۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے صنعتوں کو ترقی دینا ہماری مجبوری بن چکی ہے۔ حکومت کو جی آئی ڈی سی سمیت دیگر ٹیکسز پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔ یہ بہ ظاہر تو اچھے لگتے ہیں، لیکن ان کی وجہ سے ہماری انڈسٹری کا حجم کم ہوتا جا رہا ہے۔ اسی طرح یہ فیصلہ کی نان فائلر پراپرٹی نہیں خرید سکتا، ہمیں اسے بھی سراہنا چاہیے۔ نان ٹیکس فائلرز درحقیقت ٹیکس چور ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں