مرتب: عالیہ کاشف عظیمی
سنڈے میگزین کے پلیٹ فارم سے ہم نے آپ کو ’’مائوں کے عالمی یوم‘‘ کے موقعےپر پیغامات لکھ بھیجنے کا سندیسہ دیا، جواباً جو پیغامات موصول ہوئے، اُن کی ایک ساتھ اشاعت ممکن نہیں، اس لیے ہم یہ پیغامات مرحلہ وار شایع کریں گے۔ لیجیے، آج ملاحظہ کیجیے، اسی سلسلے کی پہلی اشاعت۔
(ہماری جان، امّی جان کے لیے)
اللہ تعالیٰ آپ کا سایۂ شفقت سدا سلامت رکھے(آمین)۔
(عطیہ کنول، حسن، حرا اور حورین ، سکرنڈکی دُعا)
(دادی ماں، مریم سکندر (مرحومہ) کے نام)
اللہ تعالیٰ آپ کو جنّت الفردوس میں جگہ دے اور ہم سب کو صبرِ جمیل عطا فرمائے(آمین)۔
(رائے سونیہ (سونم)، قصبہ حجرہ شاہ مقیم، اوکاڑہ کی جانب سے)
(سوئیٹ امّی جان کی نذر)
آپ گھر کا سکون اور دِل کا چین ہیں، اللہ پاک آپ کو سلامت رکھے۔ ہیپی مدرز ڈے۔
(حِرا عباسی، فیڈرل بی ایریا، کراچی کی چاہت)
(دنیابَھر کی مائوں کے لیے)
ہیپی مدرز ڈے۔
(پرنس افضل شاہین، بہاول نگر کی طرف سے)
(میری جنّت، میری ماں)
ماں تیری عظمت کو سلام۔
(بنتِ سومر خانگل، کلی ترخہ، کوئٹہ کا سلام)
(جان سے عزیز، امّی جی کے نام)
جیو ہزاروں سال، لو یو سو مچ۔
(حمیدہ گل، کوئٹہ کا پیار)
(دنیابَھر کی مائوں کے لیے)
اللہ پاک! دنیابَھر کی مائوں کو سلامت رکھنا۔
(ریحانہ ارشاد، شاہ پور بھنگو، شکر گڑھ کی دُعا)
(ماں، ٹھنڈی چھائوں کے نام)
اللہ تعالیٰ آپ کو عُمرِخضر عطا فرمائے (آمین)۔ ہیپی مدرز ڈے۔
(عندلیب زہرا، راول پنڈی کی چاہت)
(خلوص و چاہت کا پیکر، امّی جی کے لیے)
مَیں آپ کی بے لوث چاہت و محبّت کا کبھی شکریہ ادا نہیں کر سکتا۔ آج مَیں جس مقام پر ہوں، وہ آپ ہی کی دُعائوں کا ثمر ہے۔
(طحٰہ عالم، گلستانِ جوہر، کراچی کا اعتراف)
(ماں کے نام)
مخالف وقت اور ہر بدگماں کو روک رکھا ہے
ہر اِک حاسد کی زہریلی زباں کو روک رکھا ہے
اُترتی ہی نہیں ہے اس لیے مجھ پر کوئی آفت
مری ماں کی دُعا نے آسماں کو روک رکھا ہے
(محمد سلیم انصاری، بلال ٹائون، کراچی کی جانب سے)
(میری ہر خوشی، امّی کے لیے)
جُگ جُگ جیئں، آئی لَو یو ماں جی۔
(عمرین علی، گلشنِ اقبال، کراچی کی چاہت)
(عظیم مائوں کے نام)
ہیپی مدرز ڈے۔
(کمال وارثی، گلشنِ اقبال، کراچی کی طرف سے)
(والدہ (مرحومہ) کے لیے)
آپ نے ہم سب کی راحت و خوشی کے لیے جو قربانیاں دی ہیں، اُن کا قرض کبھی ادا نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے اور آپ کے درجات بُلند کرے(آمین)۔
(دِل دار گلزار، محلّہ راجہ سلطان، راول پنڈی کی جانب سے)
(تپتی دھوپ میں سایۂ شجر کے نام)
اللہ تعالیٰ آپ کا سایہ ہمارے سَروں پر سلامت تا قیامت رکھے(آمین)۔
(عُمر تاج خان اور سرتاج خان، قیوم آباد، کراچی کی دُعا)
(سوئیٹ مدر کے لیے)
ہیپی مدرز ڈے۔ آئی لَو یو۔
(جنید، اتحاد ٹائون، کراچی کی طرف سے)
(پیاری سی ماں کے نام)
اللہ تعالیٰ آپ کو بہت خوش رکھے(آمین)۔
(طحٰہ، فیضان، عشارب عالم، گلستانِ جوہر، کراچی کی خوشی)
(سوئیٹ امّاں جان کے لیے)
بلاشبہ آپ عظیم ترین ماں ہیں۔
(عارفہ، گُل رُخ، خدیجہ، جمال شاہ اور علی اصغر شاہ، رسال پور کینٹ کا اعتراف)
(امّی حضور (مرحومہ) کے نام)
میری ماں ایک اَن پڑھ خاتون تھیں، مگر انہوں نے اپنے بچّوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجّہ دی اور آج اُن کے دو بیٹے18ویں گریڈ سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے(آمین)۔
(رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی کی طرف سے)
(ممّا جانی کے لیے)
آپ کو اپنا دِن بہت بہت مبارک ہو۔
(حورین درانی اور عیسیٰ خان درانی، قیوم آباد، کراچی کا پیار)
(جان سے عزیز، امّی (مرحومہ) کے نام)
امّی جان! آپ کے احسانات کا احاطہ کرنا یا انہیں الفاظ میں بیان کرنا میرے لیے ہرگز ممکن نہیں۔ آپ ظاہری طور پر میرے سامنے نہیں، مگر ہر پَل میرے ساتھ رہتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی لحد کو کشادہ اور روشن فرمائے(آمین)۔
(لیاقت مظہر باقری، گلشنِ اقبال، عباس ٹائون، کراچی کی دُعا)
(والدہ مرحومہ کے لیے)
آج سے ڈیڑھ برس قبل آپ ہمیشہ کے لیے ہم سے جُدا ہوگئیں۔ آپ بے حد یاد آتی ہیں۔ مِس یو امّی جی۔
(عبدالقیوم، کنیز فاطمہ سوسائٹی، کراچی کی یاد)
(متاعِ جاں، امّی کے نام)
امّی جان! آپ ہی کی دُعائوں کی طفیل ہم سب زندگی کے ہر موڑ پر کام یاب و کامران رہتے ہیں۔ دُعا ہے کہ آپ کا ٹھنڈا میٹھا سایہ ہمارے سَروں پر تاحیات قائم رہے۔
(زین اور حمزہ، شیرپائو کالونی، لانڈھی، کراچی کا پیار بَھرا پیغام)
(ماں جی کے لیے)
آئی مِس یو ماں جی۔
(تابندہ جبیں زیدی، شادمان ٹائون، کراچی سے)
(پیاری، من موہنی سی امّی جان کے نام)
امّی جان! آپ کے دَم سے گھر بَھر میں رونق ہے۔ دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و تن درستی کے ساتھ عُمرِخضر عطا فرمائے(آمین)۔
(نصیر خان، بٹل ،ہزارہ ڈویژن کی جانب سے)
(جان سے عزیز، امّی (مرحومہ) کے لیے)
آپ کو ہم سے بچھڑے نو برس بیت گئے، لیکن ایک پَل کے لیے بھی آپ کا مُسکراتا چہرہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جنّت الفردوس میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمائے(آمین)۔
(طیّبہ جبیں اور طلعت جبیں، قلعہ گوجر سنگھ، لاہور کی دُعا)
(جنّت کی شاں، ماں کی نذر)
تنہائی کا جشن مناتا رہتا ہوں
خود کو اپنے شعر سُناتا رہتا ہوں
جنّت کی کنجی ہے، میری مٹّھی میں
اپنی ماں کے پائوں دباتا رہتا ہوں
(ضیاء الحق قائم خانی، جھڈو، میرپورخاص کی جانب سے)
(ماں جی کے نام)
ماں تیری عظمت کو سلام۔
(طلعت عباسی، کراچی کی جانب سے)
(امّی (مرحومہ) کی نذر)
اِس توں ٹھنڈی چھاں نئیں لبدی
دُوجی واری ماں نئیں لبدی
(صبا فاروق، گلستانِ جوہر، کراچی کی یاد)
(والدہ (مرحومہ) کے لیے)
معنی مفہوم کےکس سیلِ رواں سے لائوں
’’ماں‘‘ پہ لکھنے کے لیے لفظ کہاں سے لائوں
(حاجی زوار سیّد اکبر حسین رضوی، سانگھڑ سے)
(سوئیٹ ماں کے نام)
یہ کام یابیاں، یہ عزّت، یہ نام تم سے ہے
خدا نے جو بھی دیا ہے مقام، تم سے ہے
(اصغر عالم، اٹک کا انتخاب)
(پیاری امّی جان (مرحومہ) کے لیے)
مجھے آپ کی تربیت پر ناز ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بُلند فرمائے (آمین)۔
(شہنیلہ عامر، کراچی کا اعتراف)
(جانِ زندگی ،امّی (مرحومہ) کے نام)
چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہوجانے والی میری ماں، آپ کے بغیر گھر قبرستان لگتا ہے۔ دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے(آمین)۔
(ع، ہاشمی، نارتھ ناظم آباد، کراچی کی دُعا)
(ڈیئر امّی جان کے لیے)
آپ کی مُسکراہٹ میرے جینے کی وجہ ہے۔ ہیپی مدرز ڈے۔
(سعد خان، قیوم آباد، کراچی کا پیار)
(میری راج دلاری، ماں کے نام)
ہیپی مدرز ڈے۔
(سائرہ فاطمہ اور بتول فاطمہ، کراچی سے)
ای میل کے ذریعے موصول ہونے والے پیغامات
(والدہ محترمہ کے لیے)
ہم بہت خوش قسمت ہیں کہ ماں جیسی اَن مول ہستی ہمارے ساتھ ہے۔ ہیپی مدرز ڈے۔
(رمشا کی جانب سے)
(متاعِ جاں، امّی کے نام)
سدا جیو میری امّی۔
(شاہ زیب عالم کی دُعا)
(سوئیٹ ماں کے لیے)
آئی لَو یو امّی جی۔
(سونیا شاہ، پیلو اور مہرو کی جانب سے)
(امّی حضور کے لیے)
امّی! پاپا کے انتقال کے بعد آپ نے کبھی باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ اللہ تعالیٰ آپ کا سایہ تاقیامت سلامت رکھے(آمین)۔
(حفصہ احسن کی دُعا)
(ڈیئر امّی جان کے نام)
نفرت کے جزیروں سے محبّت کی حدوں تک
بس پیار ہے، ہاں پیار ہے، بس پیار ہے، مِری ماں
(فوزیہ اسلم، پشین، کوئٹہ کی چاہت)
(امّی جی کے لیے)
میری دُعا ہے کہ آپ کے لبوں پر مُسکراہٹ کے گل یوں ہی سجے رہیں۔ ہیپی مدرز ڈے۔
(لائبہ مسعود کی جانب سے)
(میری پیاری ماں کے نام)
سلام ممّی۔ ہیپی مدرز ڈے۔
(سطوت مریم، کراچی کا سلام)
(والدہ (مرحومہ) کے لیے)
ماں! بہت یاد آتی ہو۔ اللہ تعالیٰ آپ کی لحد کو کشادہ فرمائے(آمین)۔
(وارث علی، فتاطور، نارووال کی یاد)
(پُرخلوص امّی جان کے نام)
ہیپی مدرز ڈے۔
(زارا، دانیہ، نسترن، عائشہ اور فیضان کی جانب سے)
(میری کُل کائنات، میری امّی کے لیے)
ہمیشہ خوش رہیں، آپ کو مائوں کا عالمی دِن مبارک ہو۔
(عارفہ سعید، رسال پور، کینٹ کی طرف سے)
(سوئیٹ ماما، شازیہ عمران کے نام)
ہیپی مدرز ڈے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو عُمرِ خضر عطا فرمائے(آمین)۔
(ماہم عمران، گلستانِ جوہر، کراچی کا پیار)
(متاعِ جاں، ماں کے لیے)
آپ میری کُل کائنات ہیں۔
(رضی اللہ خان، نارتھ ناظم آباد، کراچی سے)
(عظیم ماں کے نام)
امّی! پلیز امّی!! مجھے اپنی بانہوں میں لیں ناں!!
(مسرت جہاں کھوکھر کی جانب سے)
(سوئیٹ امّی جان کے لیے)
اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و تن درستی کے ساتھ عُمرِ خضر عطا فرمائے(آمین)۔
(ثنا بنتِ اصغر کی دُعا)
(جان سے پیاری امّی، ذکیہ بیگم (مرحومہ) کے نام)
امّی جان! مَیں جب بھی میکے آتی ہوں، آپ کے سوا سب چہرے نظر آتے ہیں۔ بس، ایک بات بتا دیں کہ جن لڑکیوں کی مائیں نہیں ہوتیں، وہ کس سے دِل کی باتیں کرتی ہیں، اپنے دُکھوں کا اظہار کس سے کرتی ہیں؟
(ہارٹ بیٹ کی جانب سے)
(پیاری ماما کے لیے)
ہم سب آپ سے بے حد پیار کرتے ہیں۔ آپ کو ’’مائوں کا عالمی یوم‘‘ مبارک ہو۔
(ایمان کامران اور عبدالرحمنٰ خان، سیٹلائٹ ٹائون، راول پنڈی کی مبارک باد)
(دنیابَھر کی مائوں کے نام)
ہیپی مدرز ڈے۔
(جاوید اقبال کی طرف سے)
(عظیم ترین ماں کے لیے)
آئی لَو یو ممّا جان۔
(سعدیہ خلیل، اسلام آباد سے)
(پیاری امّی کی خدمت میں)
آپ ہمیں بے حد عزیز ہیں۔
(شازمہ خان، سمیرا خان اور زاہد خان، راول پنڈی کی جانب سے)
(ڈیئر ماما جانی کے نام)
ماما! آپ جئیں ہزاروں سال۔ آئی لَو یو۔
(رابعہ ثقلین، فیصل آباد کی طرف سے)
(عزیز از جان، مام کے لیے)
آپ کی بے پناہ چاہت و محبّت کا شکریہ۔
(مریم علی، سنجھورو کا شکریہ)
(سرمایۂ حیات ماں کے نام)
امّی جان! آپ کی ممتا کی خوشبو سے میرا کُل جہاں، ہر ہر پَل مہکتا رہتا ہے۔
(عثمان رومی، راول پنڈی کا خوشبو بَھرا پیغام)
(والدہ (مرحومہ) کے لیے)
تحمل، صبر، شُکر، برداشت، محبّت اور مہمان نوازی سکھانے کا شکریہ۔ اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بُلند فرمائے(آمین)۔
(راشدہ گلفام، راول پنڈی کی طرف سے)
(چھپّر چھاں، ماں کے نام)
ہیپی مدرز ڈے۔ دُعا ہے کہ آپ کا سایہ تاقیامت سلامت رہے(آمین)۔
(جواد حسین، راول پنڈی کی دُعا)