آپ آف لائن ہیں
پیر12؍شعبان المعظم 1441ھ 6؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
مبارک ہو رمضان کا چاند نظر آگیا

تاریخ کے قرطاس پر لکھا ہے کہ ’’زمانہ قدیم ہی سے دُور دراز کے علاقوں کا سفر کرنے والے قافلے، رات میں چاند کو دیکھتے ہوئے اپنی سمت کا تعین کرتے اور چاند کے روشن حصے کے تناسب سے دنوں کا حساب نکالتے تھے۔ شعر و ادب میں بھی چاند کو عنوان بنا کر اسے محبوب کا چہرہ، مسرت و شادمانی، دکھ، غم، ہجر، فراق اور وصل سے تشبیہ دی گئی اور کہیں اسے اندھیروں میں زندگی کے پیغام کی علامت بتایا گیا، حتیٰ کہ اس کی پوجا سے بھی گریز نہیں کیا گیا۔ نظام شمسی کے اس سیارے ’’چاند‘‘ کو اسلامی کلینڈر میںسال کی تاریخوں اور ایاّم میں بھی اہم ترین مقام حاصل ہے۔ قمری تاریخ مغرب کے وقت ہر چوبیس گھنٹے بعد تبدیل ہوتی ہے۔ اسی طرح دن، مہینوں اور مہینے… سالوں میں بدل جاتے ہیں۔ صدیوں سے یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

ہر سال ماہ شعبان کے اختتام پر مغرب کے وقت جب دن، رات کے دامن میں چھپنے لگتا ہے، آسمان پر تاروں کی بارات اسلامی سال کے ماہ مقدس رمضان المبارک کے استقبال کے لیے تیار ہوتی ہے تو آکاش کی وسعتوں میں مسلم امہ رمضان کے چاند کو تلاش کر تے ہیں، جسے دیکھ کر خصوصی دعائیں مانگی جاتی ہیں، چوں کہ ماضی قریب تک ای میل، واٹس اپ، فیس بک نہیں تھا، اس لیے آپس ہی میں چاند دیکھ کر مبارک باد دیا کرتے تھے، محلے کی مساجد کی بیرونی دیواریں زیادہ اونچی نہیں ہوتی تھیں، نہ کسی مسلک کی تختی دروازوں پر نصب ہوتی تھی، اس لیے تمام مکاتب کے لوگ تراویح اور نمازیں ایک ہی صف میں کھڑے ہوکر ادا کرتے تھے، مسجد کا پیش امام محلے ہی کا کوئی بزرگ ہوا کرتا تھا، جو فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ مساجد کے امور کا بھی نگراں ہوتا تھا، اسی کی نگرانی میں مسجدوں کی تزئین و آرائش تعمیر و مرمت کا کام مکمل کرلیا جاتا تھا، مسجدوں میں برقی قمقموں کے بجائے چراغ یا لالٹینیں جلتی تھیں، جس سے مسجد روشن ہوتی، کھجور کے پتوں سے بنی چٹائیاں کچے فرش پر بچھی ہوتی تھیں، بسااوقات دُور دراز کا کوئی مسافر بھی مسجد میں شب بسری کرلیتا تو محلے سے سحری کا کھانا بھجوادیا جاتا تھا، جب کہ افطاری سے قبل ہر گھر سے مختلف پھل اور کھانے پہنچتے تھے، جو مسافروں اور نمازیوں کے لیے ہی ہوتا تھا، رمضان میں سحری کا اہتمام خواتین ایک دوسرے کو بیدار کرنے کے لیے تھال کو لکڑی کے بنے بیلن سے بجاکرکرتیں … جیسے جیسے عیدالفطر کا دن قریب آتا، ویسے ویسے لوگ عید کی تیاریوں میں مصروف ہوجاتے تھے۔

غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے والے مسلمان نئے کپڑے سلوانے کی بجائے پرانے کپڑوں کو دھلواکر پہننے پر اکتفا کرتے تھے، مگر متوسط یا سرمایا دار مسلمان، ہفتوں پہلے لٹھا (سوتی کپڑا) خرید کر اسے رنگ ریزوں سے مطلوبہ رنگوں میں رنگوالیا کرتے تھے، جو بعدازاں درزیوں کے پاس سلائی کے لیے لےجایا جاتا تھا، اُس دور میں درزی بھی گویا گاہکوں کے منتظر ہوتے تھے، جو آنے والے گاہک کا ناپ لے کر محض چند گھنٹوں اور معمولی اجرت میں جوڑا تیار کردیا کرتے تھے۔ اس جوڑے کی رنگائی اور سلائی کے دوران لگنے والے داغ، دھبے، میل کچیل نکالنے کے لیے گھر ہی میں دھلوا کر کوئلے کی استری کرکے اس کی سلوٹوں کو دُور کرلیتے تھے، لوگ زیادہ تر ہوائی چپل، جب کہ سرمایہ دار طبقہ جوتے پہننا پسند کرتے تھے، جو چند مخصوص دکانوں پر دستیاب ہوتے تھے، پرفیوم کا استعمال اُن تاجروں اور سیٹھوں کے گھروں میں تھا، جو بیرون ملک تجارت یا کاروبار کرتے تھے، اس لیے عطر کی فروخت زیادہ ہوتی تھی، یہ تو مردوں کی رسمی تیاریاں تھیں، جو وہ رمضان یا اس سے بھی پہلے مکمل کرلیا کرتے تھے اور اس ماہ مقدس میں اپنی عبادات و ریاضت کو خشوع و خضوع سے ادا کیا کرتے تھے، لیکن دوسری جانب جہاں خواتین روزے رکھنے کے ساتھ ساتھ سحر و افطار کا اہتمام کرتیں، وہاں عید کی تیاریاں بھی شروع کردیتی تھیں، ہاتھوں پر نقش و نگار بنانے کے لیے مہندی کے پتّے لاتیں اور انہیں گھر کے کسی کونے میں سایہ دار جگہ پر چاند رات سے کہیں پہلے سوکھانے کے بعد باریک پیس کر محفوظ کرلیتی تھیں،رمضان کی چاند رات کو مہندی کے سفوف و پانی میں گوندھ کر آمیزہ تیار کرلیا جاتااور اپنے ہاتھوں پر مختلف نقش و نگار کے درمیان اپنے سانوریا کا نام لکھ لیتی تھیں، ہاتھوں پر کسی اپنے کا نام لکھا ہوا اور ہونٹوں پر لالی نہ ہو تو یہ قطعی طور پر ممکن نہیں تھا۔ 

مبارک ہو رمضان کا چاند نظر آگیا

قیام پاکستان کے خاصے عرصے بعد تک مسی (دنداسہ) سے خواتین اپنے پنکھڑی سے ہونٹوں کو رنگا کرتی تھیں، جس کا رنگ کھتئی مائل ہوتا تھا، اس کا رواج دیہات میں آج بھی ہے، بعدازاں 3انچ کی لکڑی کے ٹکڑے پر سرخ رنگ کی چاک مارکیٹ میں آئی تو خواتین دنداسہ کی بجائے ڈنڈی نما لپ اسٹک استعمال کرنے لگیں۔ یہی نہیں یہ ہونٹوں کی لالی، غازے کے طور پر بھی استعمال ہونے لگی، مہینوں پہلے گھروں میں لکڑی کے اڑے پر چوٹیاں بھی تیار کرکے رکھ لی جاتی تھی، جس میں رنگ برنگے موتی پروئے ہوتے، یا شیشے کے چھوٹے، چھوٹے ٹکڑے لگے ہوتے تھے، یہ ساری تیاریاں رمضان کا چاند نظر آنے سے قبل تک مکمل کرلی جاتی تھیں۔ ڈاک کا نام یوں تو قدیمی ہے، لوگ اس کے ذریعے خطوط یا دستاویزات ارسال کیا کرتے تھے، مگر پھر طباعت کے کاموں کو جدت حاصل ہوئی تو مالکان نے عوامی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ’’عید کارڈز‘‘ پرنٹ کرنے لگے، یہ عید کارڈز رشتے اور تعلقات، وصل، جدائی، دکھ، غم، یاردوں کا مرقع ہوتا، لوگ اسی مناسبت سے مختلف دکانوں اور اسٹالز سے انتہائی بھاگ دوڑ اور چھان پٹھک کے بعد پسند کرتے تھے، ان کارڈز پر مطلوبہ عبارت لکھنے سے پہلے اور اختتامی کلمات کے بعد اشعار لازمی شامل کرتے، جو ان کے جذبات و کیفیت کے مکمل عکاس ہوتے تھے، ان کارڈز کو سپرد ڈاک کرنے سے پہلے انہیں خوشبوئوں سے معطر کیا جاتا، یہ کارڈز عموماً رمضان المبارک کے وسط سے ترسیل کئے جاتے، جیسے جیسے عید کا دن قریب آتا شہر کے تمام ڈاکخانوں میں عید کارڈز کے انبار لگ جاتے تھے۔ 

دوسری جانب ان کارڈز کی ترسیل کے لیے خصوصی ڈیوٹیاں لگائی جاتی تھیں، متعین عملے کو اضافی وقت دینے کا معاوضہ عید سے قبل ادا کیا جاتا تھا، ڈاکیے کو کارڈ لانے پر اہل خانہ ’’عیدی‘‘ دیا کرتے تھے، عام طور پر یہ کارڈز عید سے چند روز قبل ہی دیئے گئے ایڈریس پر پہنچتے اور ایسا ڈاکیےارادی طور پر کرتے تھے، متعدد ڈاکیے تو عین عید کے روز یہ کارڈز ترسیل کرتے تھے، تاکہ زیادہ سے زیادہ انہیں ’’عیدی‘‘ حاصل ہوسکے۔

چاند رمضان المبارک کا ہو یا عیدالفطر کا، دونوں ہی مسلمانوں کے لیے اہم ترین مہینے ہیں۔ عبادات و ریاضت کے ساتھ روزہ مسلمانوں میں تقویٰ اور پرہیزگاری پیدا کرتا ہے، یہ تمام امر چاند سے وابستہ ہے۔ چاند دیکھنے کا اہتمام تو ہوتا ہی ہے، مگر اس کے نظر آنے کی معتبر لوگوں کی شہادتیں انتہائی لازمی ہوتی ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پورے ملک میں رمضان المبارک کا چاند تو نظر آتا ہے، مگر شوال کا چاند جدید ٹیکنالوجی کے مجوزہ دور میں بھی اختلاف کا باعث بن جاتا ہے، لیکن اس امر سے قطع نظر عید کی تیاریاں قابلِ دید ہوتی ہیں۔‘‘ محمد عارف رضا معروف کمپنی کے نمائندے نے رمضان المبارک، عید کے چاند اور عید کی تیاریوں کے حوالے سے ہمیںبتایاکہ ’’ اسلامی تاریخوں کا آغاز تو ہجرت نبیؐ سے ہوتا ہے۔ چاند دیکھنے کا اہتمام آج بھی 2مہینوں میں خصوصی طور پر ہوتا ہے، جن میں ماہ رمضان اور ماہ شوال شامل ہیں۔

رمضان کا چاند دیکھنے کے لیے علماء سمیت معتبر لوگ کسی اونچے مقام پر جمع ہوجاتے ہیں، اگر آسمان ابرآلود ہو تو کسی دوسرے شہر یا مقام سے آنے والی اطلاع اور معتبر شہادتوں کا انتظار کیا جاتا ہے، بعدازاں ان اطلاعات کی تصدیق کی جاتی ہے اور چاند نظر آنے یا نہ آنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ عید کا لفظ یوں تو عود سے مشتق ہے، جس کے معنی ’’بار بار آنا‘‘ اور فطرہ، افطار سے مشتق ہے۔ یہ روزِ سعید مسلمانوں کے لیے مسرت و شادمانی کا پیغام لاتا ہے، یہ وہ دن ہے، جس کو رحمت کا دن کہا گیا، اس دن روزہ داروں کے لیے ہر طرف خوشی کا سماں ہوتا ہے۔اسلام میں سب سے پہلے عید کی نماز ہجرت کے پہلے سال ادا کی گئی، اس دن کی تیاری ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی شروع ہوجاتی ہے۔ 

مساجد میں رنگ و روغن کیا جاتا ہے۔ چاند نظر آنے کے بعد پہلی تراویح ہی سے لوگوں کی تعداد میں روزافزوں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ سحری کے بعد افطار میں بھی یہ ہی کیفیت برقرار رہتی ہے۔ دوسری جانب عام دنوں میں رات جلد بند ہوجانے والی دکانیں، کاروبار مراکز، مارکٹیں، ہوٹل وغیرہ جیسے جیسے عیدالفطر کا دن قریب آتا ہے، ویسےویسے یہ اپنے کاروباری اوقات کار میں اضافہ کرتے جاتے ہیں، حتیٰ کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں خریداروں کا ہجوم بڑھ جاتا ہے، جس کی بنا پر دکانیں اور مارکیٹیں شاذونادر ہی بند ہوتی ہیں، کیوں کہ مسلسل اپنی کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھنا، دکان داروں اور تاجروں کی مجبوری ہے ، یہی تو مہینہ ہے، جس میں پھل فروشوں سے لے کر ہر نوعیت کی اشیائے خورونوش، ملبوسات، پرچہ جات، گھریلو استعمال کی اشیاء مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔ 

اسی مہینے میں دکان دار اپنا پرانا مال، مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں، قیمتوں کو قابو کرنے والے افسران و عملہ کسی دکان دار، پھل فروش، منافع خوروں کے خلاف کارروائی کرنے میں شدید نقاہت محسوس کرتے ہیں۔ عوام جانتے ہیں کہ پرائس کنٹرول کمیٹیوں، مارکیٹ کمیٹیوں، ضلعی کمیٹیوں کا نتیجہ ڈھاک کے تین پات ہی نکلتے ہیں۔ وقت تیزی سے بدل رہا ہے، اب چاند بھی جدید آلات سے دیکھا جاتا ہے، جدت طرز معاشرت پر گہرا اثرات مرتب کررہی ہے۔ بچوں کو بھی معلوم ہے کہ چاند پر نانی اماں نہیں رہتی، اس لیے وہ اب زیادہ انحصار سائنسی ٹیکنالوجی پر کرنے لگے ہیں، بچوں کی سوچ و فکر میں نمایاں تبدیلی آرہی ہے، وہ اب رمضان اورعید کی خریداری کے لیے ضد نہیں کرتے، بلکہ اپنی پسندیدہ مطلوبہ اشیاء کی فہرست مرتب کرکے والدین کے ہاتھوں میں تھما دیتے ہیں، خواتین اب عید کے لیے چاند رات کو گھریلو ٹوٹکے، دہی، ملتانی مٹی، شہد اور انڈے کے آمیزے کا استعمال کرنے کے بجائے غیرملکی مہنگے شیمپو اور صابن کو ترجیح دیتی ہیں۔ 

اسی طرح عید کارڈز بھیجنے اور وصول کرنے کی روایات ای میل، میسجز، واٹس اپ، فیس بک، ویڈیو کال اور موبائل نے یکسر بدل دی ہے۔ چاند دیکھنے اور چاند دیکھ کر ایک دوسرے کو مبارک باد دینےاور بچوں کا چاند نظر آنے کا گلیوں میں بھاگ دوڑ کرتے ہوئے اعلان کرنے کا شور بھی کہیں سنائی نہیں دیتا۔ رمضان اورعید کی ساری روایتیں اب گھروں میں نہیں، ٹی وی اور موبائل کے اسکرین پر دکھائی دیتی ہیں، خدشہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا سیلاب مشرقی ثقافتی حسن و روایتوں کی رعنائیوں کو ماند نہ کردے۔‘‘

عید کا چاند نظر آتے ہی غم فراق کے مارے ہوئے لوگ محض ایک لمبی آہ بھرکر بیتے ہوئے خوش گوار لمحوں کی یادوں سے اپنی تنہائی میں چراغ روشن کرتے ہیں تو عشاق وصل کے بہانے ڈھونڈتے ہیں، لیکن اس رات گلیوں محلوں، رستوں پر برقی قمقمے روشن ہوتے ہیں کہ محبوب کی گلی میں جاکر محض ایک جھلک دیکھنا تو درکنار قدم بھی رکھنا دشوار ہوجاتا ہے کہ کہیں کوئی دیکھ نہ لے، اس کام کو ویڈیو کال نے گو کہ آسان بنادیا ہے، مگر اس میں زندگی کے حقیقی رنگ نہیں ہوتے، اس لیے یہ اہم امر مجوزہ دور میں محض ثانوی حیثیت اختیار کرگئی ہے۔ خواتین کی رمضان سے پہلےاب پہلی ترجیح عید کے لیے زیادہ سے زیادہ خریداری بنتی جارہی ہے۔ نماز عشاء کے بعد خواتین کا ہجوم جہاں ملکی و غیرملکی کاسمٹیکس کی دکانوں اور اسٹالز پر ہوتا ہے، وہاں کانچ سے بنی نازک رنگ برنگی چوڑیوں کے بغیر خواتین اپنے بنائو سنگھار کو ادھورا سمجھتی ہیں،یہ سہاگ کی علامت تصور کی جاتی ہیں، لیکن نازک ہونے کے باوجود یہ دلوں کے رشتوں کو مضبوط کرتی ہیں۔ صدیوں کا شہر حیدرآباد ان چوڑیوں کے حوالے سے اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے،یہاں تیار ہونے والی چوڑیاں نہ صرف پاکستان، بلکہ مختلف ممالک میں بھی بھجوائی جاتی ہیں۔ 

ان چوڑیوں کو بہ طور تحفہ بھی پیش کیا جاتا ہے، ان کی خریداری میں مقررہ قیمتوں میں کمی کا اصرار اور دکان داروں کی خالص کاروباری اور شیریں گفتگو چاند رات کو اپنی جوبن پر ہوتی ہے۔ دکان داروں کی قیمتوں کے کھینچ تان کے سبب مختصر سی بات بحث و تکرار تک پہنچ جاتی ہےاور کہیں کسی دکان یا بازار کے کسی اسٹال پر اچانک جھگڑا بھی ہوجاتا ہے۔ ایسے ہی کسی ناخوش گوار واقعہ کی روک تھام کے لیے محکمہ پولیس کی جانب سے خصوصی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ رمضان کی چاند رات کو خواتین کانسٹیبلز سمیت نفری کا اضافہ کردیا جاتا ہے، جو اس نوعیت کے واقعات کے فوری تدارک کے ساتھ ساتھ ماحول پر بھی گہری نگاہ رکھتے ہیں، لیکن اس کے باوجود جیب کترے اپنی مہارت دکھا جاتے ہیں۔ ان گروہ میںمرد، خواتین سمیت بچے بھی شامل ہوتے ہیں، جو خریداروں کو رقوم، دستاویزات اور قیمتی اشیاء سے محروم کردیتے ہیں۔ 

تھانوں میں اس کی رپورٹ نامعلوم افراد کے خلاف درج تو ہوجاتی ہے، مگر متاثرہ شخص کو یہ کہہ کر تھانے سے رخصت کردیا جاتا ہے کہ ’’تلاش اور تفتیش شروع کردی ہے، ملزم پکڑے گئے تو اطلاع کردی جائے گی۔لیکن یہ ملزم کبھی نہیں پکڑے جاتے، اپنے فرائض انجام دینے والے پولیس اہل کار اپنا ’’اوورٹائم‘‘ خوشی خوشی وصول کرتے ہیں۔ کاروباری یونینز، دکان دار، خونچہ فروش، تھلے اورٹھیلے والے سب ہی چاند رات کو ان کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ ان کے لیے عام دنوں میں چائے پینا تو ایک طرف، ٹھنڈا پانی بھی پینا محال ہوتا ہے، لیکن عید کی چاند رات کوتو ہر دکان دار کی خواہش ہوتی ہے کہ یہ اہل کار ان کی دکان پر بیٹھ کر کھاتے پیتے رہیں۔ چاند رات کو پولیس کی اعلیٰ خدمات کے اعتراف میں دکان داروں کی جانب سے انہیں تحائف پیش کئے جاتے ہیں، جسے متعدد افسران و اہل کار وصول کرنے سے انکار کردیتے ہیں، یوں پولیس اور عوام کے درمیان اتحاد و محبت کی فضا اگلے سال تک قائم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کیوں کہ پولیس جیب کتروں، لٹیروں کے خلاف تو کارروائی کرسکتی ہے، لیکن زائد منافع لینے والے دکان داروں کی خریداروں کے ہاتھ چیرہ دستیوں کے خلاف کسی بھی کارروائی سے گریز کرتی ہے، جس کا سراسر فائدہ منافع خوروں کو ہوتا ہے۔ 

بوتیکس، گارمنٹس کی دکانوں میں ہر خریدار کی استطاعت کے مطابق سلے سلائے جوڑے، شلوار قمیص، پتلون، شرٹس، کوٹ، واسکٹ موجود ہوتی ہیں، نوجوانوں کی کثیر تعداد ان ہی دکانوں سے خریداری مکمل کرتی ہے، اس امر کے باوجود درزیوں کی دکانوں پر سارا سال ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے والے کاری گر سلائی کڑھائی میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ دکان دار اپنی اجرت بڑھانے کے لیے رمضان المبارک کے پہلے ہی عشرے میں اپنی دکانوں پر ’’ہائوس فل‘‘ کا بورڈ لگادیتے ہیں، بعدازاں کچھ ناز نخروں کے بعد کئی گنا زائد اجرت پر یہ کہہ کر ناپ لینے لگتے ہیں، یہ صرف آپ کے لیےہے۔ درزیوں کا تمام تر سلائی کڑھائی کا کام چاند رات سے 2دن پہلے مکمل ہوجاتا ہے۔ 

اس رات کو گاہک اپنے سلے ہوئے جوڑے لینے آتے ہیں یا کاری گر اپنے اور اپنے اہل خانہ کے کپڑے تیار کرتے ہیں، جسے دیکھ کر عام تاثر یہ ہی ذہن میں ابھرتا ہے کہ کاری گروں کو اپنے گاہکوں سے بڑی محبت ہے، جو صبح فجر تک کپڑے تیار کرتے ہیں، تاکہ وہ عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں، لیکن کسی ناگزیر وجوہ کی بنا پر لباس کی تراش خراش یا ناپ میں نمایاں فرق آجائے تو درزی ایسے گاہکوں کو ہر ممکن مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں، گاہک کے رضامند نہ ہونے پر اسے عید کے بعد آنے کا مشورہ دے کر رخصت کردیتے ہیں، گاہک کی بھی عید کی مجبوری ہوتی ہے کہ نئے لباس کے بغیر عید کا مزا کہیں کرکرا نہ ہوجائے، اس لیے خاموشی سے نکل جانے کو عافیت سمجھتے ہیں۔

مقامی گداگروں کی تعداد میں بھی رمضان المبارک کا چاند نظر آتے ہی بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہے، جو نہ صرف مساجد کے باہر، کاروباری و تجارتی مراکز، گلیوں، محلوں، اہم گزرگاہوں کو اپنا مستقل مسکن بنالیتے ہیں، بلکہ بھیک مانگنے کے نت نئے انداز بھی اپنالیتے ہیں کہ جو ان کی ایک بار صدا سن لے یا حالت زار دیکھ لے تو ان کے کاسہ گداگری میں چند سکے ڈالے بغیر نہیں رہ سکتا، بیرون شہر سے آنے والے گداگروں کی پشت پناہی اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ ان میں غریب، نادار اور مستحق افراد اپنے حق سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ان پیشہ ور گداگروں کی سرگرمیاں نماز عید کے بعد تک جاری رہتی ہیں۔ ان گداگروں کا کہنا ہے کہ’’ لوگ انہیں پورے رمضان میں اتنی بھیک، زکوٰۃ، خیرات، صدقات نہیں دیتے، جتنا عید اورشوال کا چاند نظر آنے کےبعد دیتے ہیں۔ عید چاند رات کی کمائی ہزاروں میں نہیں لاکھوں میں ہوتی ہے، یوں بھی ہمارے کون سے اخراجات ہیں، کھانے پینے کو بھی اچھا مل جاتا ہے، کپڑے سب ہی لوگ دے دیتے ہیں، اس کمائی پر نہ کوئی ٹیکس اور نہ زکوٰۃ کی کٹوتی کا خدشہ ہوتا ہے، لیکن یہ آمدنی امن و امان کی فضا ہو تو ممکن ہوتی ہے، کئی سال پہلے عید سے قبل کرفیو، ہنگاموں کی وجہ سے بھیک ملنا تو دُور کی بات تھی، ہمیں سر چھپانے کی جگہ نہیں تھی۔‘‘

عید کی چاند رات یوں تو روزہ داروں سمیت مسلمانوں کے لیے خوشیوں کا سبب ہوتا ہے، لوگ اپنوں میں عید منانے کی آرزو لیے ہزاروں سیکڑوں کلو میٹر کا سفر طر کرتے ہیں۔ ان کی یہ آرزو ہلال عید دکھائی دینے کے اعلان کے بعد تشویش میں تبدیل ہوجاتی ہے، کیوں کہ ٹرانسپورٹرز عوام کی اس نفسیاتی کیفیت سے بھرپور فوائد حاصل کرنے میں اپنی روایتی مہارت دکھاتے ہیں۔ چاند رات کو آمدورفت کے کرایوں میں ہوش ربا اضافہ ہوجاتا ہے اور مسافر ٹرانسپورٹروں کو منہ مانگے کرائے ادا کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ ’’کوئی دور گھر کے دروازے پر انتظار کررہا ہے، جس نے اپنے آنگن میں محرابیں سجائی ہوں گی، کچھ ہار پروئے ہوں گے یا پھر انتظار کرتے کرتے دروازہ کھلا چھوڑ دیا ہوگا،کیوں کہ یہ چاند رات انسان کو خیالات کی چمکتی ایسی وادیوں میں لے جاتا ہے کہ جہاں سب کے چہرے مسرت و شادمانیوں سے دمکتے دکھائی دیتے، جہاں اپنائیت کی خوشبوئوں کے دریا بہتے محسوس ہوتے ہیں، جہاں محبتوں کے ہر طرف پھول کھلتے ہیں۔ یادوں کی تتلیاں سوچ کے پربت پر اُمڈ آتی ہیں اور اپنے رنگوں سے آکاش پر لکھتی ہیں کہ ’’چاند رات مبارک‘‘

چاند رات اور سوشل میڈیا

چاند نظر آنے کا اعلان ہوتے ہی سوشل میڈیا پر دل چسپ، انوکھی، انہونی، دل خراش پوسٹ لگائی جاتی ہیں کہ لوگ رات بھر صبح تیاری کرنے کے بجائے اپنے موبائل کے اسکرین میں الجھے رہتے ہیں، جب صبح ہوتی ہے تو وہ اس قابل نہیں رہتے کہ وہ کسی کو مبارک دے سکیں۔

سیاسی افطار پارٹیاں

روزہ داروں کو افطار کرانا اور افطاری کا اہتمام کرنا باعث ثواب ہے، اس مقصد کے لیےرمضان کی چاند رات ہی کو جابجا سڑکوں، محلوں، مکانوں، ہالز اور بنگلوں میں مختصر ترین یا وسیع افطاری کا انتظام کیا جاتا ہے، لیکن مادیت کے دور میں افطارتقریبات اب کہیں سیاسی، کہیں اپنی نیک نامی کی دھاک قائم کرنے تو کہیں اپنے سرمائے دار ہونے کے احساس کو اجاگر کرنے کے لیے منعقد ہوتی ہیں، افطار پارٹیاں شوال کا چاند نظر آتے ہی ختم ہوجاتی ہیں، لیکن دوسری جانب خدمت خلق اور اللہ کی خوشنودی کے لیے افطاری کا اہتمام کرنے والے بندگان خدا کف افسوس ملتے ہیں کہ یہ ثواب کا سلسلہ موقوف ہوگیا، خلقت اس فیض سے محروم ہوگئی۔

مڈویک میگزین سے مزید