آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ اکیس سال پرانی خبر ہے۔ کچھ لوگ اسے خبر نہیں محض ایک الزام قرار دیتے ہیں لیکن آپ کو یہ سُن کر حیرانی ہو گی کہ وطن عزیز میں کچھ بے چین لوگ آج بھی اس اکیس سال پرانی خبر کو سچا ثابت کرنے کیلئے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ اگر یہ خبر سچی ثابت ہو گئی تو آئین کی دفعہ 62اور 63عمران کو نااہل کرا دے گی۔ جی ہاں! ملک کے ایک معروف وکیل کو لاس اینجلس کی ایک عدالت کے فیصلے کی مصدقہ نقل کی تلاش ہے۔ 13؍ اگست 1997ء کو جسٹس انتھونی جونز نے اپنے اس فیصلے میں کہا تھا کہ عمران خان ایک پانچ سالہ بچی ٹیرین کے والد ہیں۔ یہ فیصلہ سیتا وائٹ کی درخواست پر سماعت کے بعد سنایا گیا تھا۔ سیتا وائٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ اُس کی بیٹی ٹیرین کے والد عمران خان ہیں لیکن وہ اپنی بیٹی کے ساتھ خونی رشتے کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ عمران خان اس مقدمے میں جسٹس انتھونی جونز کے سامنے پیش نہیں ہوئے تھے لہٰذا یہ ایک یکطرفہ فیصلہ تھا۔ برطانوی صنعتکار لارڈ گورڈن وائٹ کی بیٹی سیتا وائٹ 2004ء میں یہ دنیا چھوڑ گئی۔ سیتا وائٹ کی بیٹی ٹیرین کی دیکھ بھال اب جمائما خان کرتی ہیں۔ سیتا کے والد اور جمائما کے والد ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ ٹیرین سمجھ دار اور بالغ ہو چکی ہے لیکن اپنے مبینہ والد کے بارے میں انہوں نے میڈیا میں کبھی کوئی بات نہیں کی

لیکن عمران خان کے سیاسی مخالفین پچھلے اکیس سال سے ٹیرین کو عمران خان کی بیٹی ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن ابھی تک انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ کچھ دن قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 2018ء کے انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا تو ایک معروف وکیل صاحب کو جسٹس انتھونی جونز کے عدالتی فیصلے کی تصدیق شدہ نقل کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔ انہیں معلوم ہوا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت کی کابینہ کے ایک رکن کے پاس یہ تصدیق شدہ نقل موجود ہے۔ انہوں نے کابینہ کے اس سابق رکن سے رابطہ قائم کیا تو پتہ چلا کہ اُن کے پاس بھی ایک فوٹو اسٹیٹ کاپی ہے۔ اب انہوں نے امریکہ میں ایک دوست سے رابطہ کیا ہے تاکہ عمران خان کے خلاف فیصلے کی تصدیق شدہ نقل حاصل کر سکیں۔ وکیل صاحب بھول گئے کہ جون 2007ء میں جنرل پرویز مشرف کی کابینہ کے ایک وزیر بابر غوری نے جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں عمران خان پر ٹیرین کے والد ہونے کا الزام لگایا تھا اور اُن کے پاس بھی لاس اینجلس کی عدالت کے فیصلے کی مصدقہ نقل کے علاوہ ٹیرین کی کچھ تصاویر بھی موجود تھیں جو وہ ناظرین کو دکھاتے رہے۔ 2014ء میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے صاحبزادے ارسلان افتخار نے بھی الیکشن کمیشن میں عمران خان کے خلاف ایک ریفرنس دائر کیا تھا جس میں جسٹس انتھونی جونز کے عدالتی فیصلے کی بنیاد پر عمران خان کے کاغذات نامزدگی کو چیلنج کیا گیا اور کہا گیا کہ انہوں نے آئین کی دفعہ 62اور 63کی خلاف ورزی کی ہے لہٰذا انہیں نااہل قرار دیا جائے۔ ارسلان افتخار نے ایک درخواست اسپیکر قومی اسمبلی کو بھی بھجوائی تھی لیکن اُن کی یہ کوششیں عمران خان کو نااہل قرار نہ دلوا سکیں کیونکہ عمران خان کو ٹیرین کا والد ثابت کرنے کیلئے عدالت میں کچھ طبی شہادتیں پیش کرنا ضروری ہے۔ لاس اینجلس کی عدالت کے فیصلے کو پچھلے اکیس سال میں ایک ٹھوس شہادت کا درجہ اس لئے نہ ملا کہ اس عدالت میں عمران خان کے بلڈ ٹیسٹ کی کوئی رپورٹ پیش ہوئی نہ ہی عمران خان یا اُن کے وکیل کا موقف سنا گیا لیکن اس کے باوجود عمران خان کے سیاسی مخالفین کو جسٹس انتھونی جونز کے فیصلے کی مصدقہ نقل کی ایک دفعہ پھر شدید ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آنے والے دنوں میں ہماری سیاست کے میدان میں بہت گندگی اچھالی جائے گی اور اتنا تعفن اٹھے گا کہ خود سیاستدانوں کو اپنے ناک پر رومال رکھنے کی ضرورت پڑے گی۔
یہ مت بھولئے کہ 2014ء میں بھی ارسلان افتخار نے الیکشن کمیشن کے کاغذات نامزدگی کی جن شقوں کے تحت عمران خان کو نااہل قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا مسلم لیگ (ن) نے پارلیمنٹ میں اکثریت کے بل بوتے پر کاغذات نامزدگی میں سے ان شقوں کو نکال دیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کے ارکان کا موقف تھا کہ دفعہ 62اور 63آئین کا حصہ ہے اور جو بھی رکن پارلیمنٹ اس آئین سے وفاداری کا حلف اٹھاتا ہے اُس پر 62اور 63لاگو ہو جاتی ہے اور بعد ازاں ہر رکن پارلیمنٹ کو اپنے اثاثوں اور آمدنی کی تفصیلات باقاعدگی سے الیکشن کمیشن کو فراہم کرنا ہوتی ہیں لہٰذا کاغذات نامزدگی میں 62اور 63کو شامل کرنے کی ضرورت نہیں۔ کاغذات نامزدگی میں تبدیلی کو لاہور ہائی کورٹ میں پچھلے سال چیلنج کر دیا گیا۔ اس کیس کی سماعت کئی ماہ ہوئی لیکن فیصلہ اُس وقت آیا جب پارلیمنٹ کی مدت ختم ہو گئی اور الیکشن شیڈول کا اعلان کر دیا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے کاغذات نامزدگی میں 62اور 63کو دوبارہ شامل کرنے کے فیصلے سے خدشہ پیدا ہوا کہ انتخابات ملتوی ہو جائیں گے لیکن اتوار کے دن چیف جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کر کے انتخابات کے التوا کی افواہوں کو ختم کر دیا۔ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ نے کچھ انتخابی حلقہ بندیوں کو بھی مسترد کیا تھا۔ بلوچستان اسمبلی نے بھی ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ انتخابات کو ایک ماہ کیلئے ملتوی کیا جائے۔ بلوچستان اسمبلی میں یہ قرارداد ایک نئی تشکیل شدہ جماعت بلوچستان عوامی پارٹی نے پیش کی۔ بی اے پی (باپ) کی یہ قرارداد غیرآئینی تھی کیونکہ اس میں وفاقی حکومت سے انتخابات ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور وفاقی حکومت کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس قرارداد نے ’’باپ‘‘ کی سیاسی ساکھ کو بُری طرح مجروح کیا۔ دوسری طرف خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے بھی الیکشن کمیشن کو ایک خط لکھا اور فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد نئی اور پرانی نشستوں پر ایک ساتھ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔ اس خط سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ پرویز خٹک انتخابات کا التوا چاہتے ہیں لیکن تحریک انصاف کے باقی رہنمائوں نے انتخابات کے التوا کی حمایت نہیں کی۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ چند ہفتوں کے التوا سے فرق نہیں پڑتا وہ آئین کو غور سے پڑھیں۔ آئین کی دفعہ 224کے تحت انتخابات میں ایک دن کا التوا بھی نہیں ہو سکتا اور سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کر کے پوری دنیا کو پیغام دیدیا ہے کہ سپریم کورٹ جمہوریت کیخلاف کسی سازش کا حصہ نہیں بنے گی۔ سپریم کورٹ کی طرف سے خواجہ محمد آصف کے حق میں فیصلے اور کاغذات نامزدگی پر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرنے کے بعد مسلم لیگ (ن) والے بتائیں کہ کیا ابھی بھی وہ یہ کہیں گے کہ بابا رحمتا کسی سازش میں ملوث ہے؟
اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ جمہوریت ہمیشہ سے سازشوں کا شکار رہی ہے اور آج بھی کوئی نہ کوئی کہیں نہ کہیں جمہوریت کی ایسی تیسی کرتا رہتا ہے لیکن کیا جمہوریت کے خلاف کوئی سازش سیاستدانوں کی ملی بھگت کے بغیر کامیاب ہو سکتی ہے؟ مسلم لیگ (ن) کو کیا ضرورت تھی کہ کاغذات نامزدگی میں سے 62اور 63نکال دیئے؟ بہرحال سپریم کورٹ نے انتخابات کو ملتوی ہونے سے بچا لیا ہے۔ سپریم کورٹ کا شکریہ۔ جب تک 62اور 63آئین میں موجود ہیں عمران خان سے ٹیرین کے متعلق سوال ہوتے رہیں گے۔ عمران خان کو چاہئے کہ ٹیرین کا معاملہ ایک ہی دفعہ طے کر دیں ورنہ یہ معاملہ اُن کا کبھی پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ سیاستدانوں سے گزارش ہے کہ 25جولائی کو ہونے والے انتخابات کو ذاتی لڑائی اور انتقام نہ بنائیں اسے انتخابات ہی رہنے دیں۔ جو لوگ انتخابات ملتوی کرا کر ایک طویل مدت کی نگران حکومت کے ساتھ شادی کے خواب دیکھ رہے تھے اُنکے خواب ٹوٹ کر بکھر گئے۔ انتخابات 25جولائی کو ہونگے۔ پاکستانی قوم کو بہت مبارک ہو۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں