آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ کی ناٹنگھم یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف ایشیا اینڈ پیسفک اسٹڈیز میں پاکستان کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ راقم اس ادارے سے ڈاکٹریٹ کے سلسلے میں وابستہ ہے اور پاکستان میں آئندہ انتخابات کے مشاہدے کے عمل کا حصہ بنایا گیا ہے۔ بریڈفورڈ اور لندن میں مقیم کچھ پاکستانی احباب سے راقم کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے جناب محترم مظہربرلاس کے ”عمران ایسا نہیں کرے گا“ کے عنوان سے روزنامہ جنگ میں شائع ہونیوالے کالم میں بیان کیے گئے کچھ حقائق کی بابت سوال اٹھا دئیے۔
معاملہ کچھ یوں ہوا کہ ہمارے ان دوستوں نے اپنے نوجوان بچوں کے سامنے بریڈفورڈ یونیورسٹی کو دنیا کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں میں ایک قرار دیا تو ان بچوں نے اس بات کو یکسر رد کردیا۔ دراصل برطانیہ میں پیدا ہونیوالے دوسری اور تیسری نسل کے نوجوان جو یونیورسٹیوں کے بارے میں آگاہی رکھتے ہیں، بریڈفورڈ یونیورسٹی کو ایک اوسط درجے کی مقامی یونیورسٹی کے طور پر جانتے ہیں اور برطانیہ کی بڑی یونیورسٹیوں میں پڑھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ وہ رینکنگ کے نظام کو بھی سمجھتے ہیں اور دوسرے طلباء اور اساتذہ سے بھی رہنمائی لیتے ہیں۔ جبکہ پاکستان سے آنیوالے پہلی نسل کے تارکین وطن دوست جنگ اردو کو شوق سے پڑھتے ہیں اور اس موضوع پر یہی انکی معلومات کا

ذریعہ ہے۔ ایسی ہی معلومات انھیں پاکستان سے سوشل میڈیا کے ذریعے بھی موصول ہوئیں۔ ایک ہی ادارے کے بارے میں جب دو مختلف آرا میرے سامنے رکھی گئیں تو مجھے احساس ہوا کہ اس معاملے کے حقائق سامنے آنے چاہئیں۔ متعلقہ اداروں سے تحقیق سے معلوم ہوا کہ نئی نسل کی رائے حقائق پر مبنی ہے جبکہ ہمارے اردو اخبار پڑھنے والے دوستوں کی معلومات تصحیح طلب ہیں۔ اس کالم میں محترم کالم نگار نے برطانیہ کی بریڈفورڈ یونیورسٹی کے سابق چانسلر، اور پی ٹی آئی کے سربراہ، عمران خان کی بابت متعدد ایسے دعوے کیے ہیں جو حقیقت سے بعید ہیں اور سنجیدہ تحقیق کے متقاضی ہیں۔ انہوں نے قوم کو نوید سنائی کہ عمران خان تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں ترقی کے ضامن ہیں کیونکہ ان کی عظمت بطور چانسلر بریڈفورڈ یونیورسٹی ثابت ہوچکی ہے۔ بظاہر یہ ایک خوش آئند بات ہے مگر اس کے لئے جس دلیل کا سہارا لیا گیا وہ حقائق پر مبنی نہیں ہے۔
بلاشُبہ یہ حقیقت ہمارے لئے قابلِ فخر ہے کہ عمران خان 2005ء سے 2014ء تک برطانیہ کی بریڈفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر رہے۔ مگر اس یونیورسٹی یا عمران خان سے غیر حقیقی باتیں منسوب کرنا اس ادارے اور عمران خان دونوں کی ساکھ پر سوالیہ نشان چھوڑتا ہے۔ محترم کالم نگار نے بریڈفورڈ یونیورسٹی کو دنیا کی پہلی پچاس یونیورسٹیوں میں سے ایک قرار دیا اور عمران خان کو بطور اسکالر پیش کیا۔ انہوں نے یہ قصہ بھی رقم کیا کہ کیسے عمران خان نے یونیورسٹی کابینہ کی طرف سے تنخواہ کی پیشکش ٹھکرا دی اور نمل کالج کے لئے شراکت کی شرط رکھی جو قبول کر لی گئی۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ بریڈفورڈ یونیورسٹی اپنے چانسلرز کو خدمات کے عوض تنخواہ یا معاوضہ ادا نہیں کرتی۔ مزید یہ کہ برطانیہ میں یونیورسٹی چانسلر ایک رسمی عہدہ ہوتا ہے جو عموما ایسی شخصیات کو سونپا جاتا ہے جو کسی بھی انڈسٹری میں اپنا لوہا منوا چکے ہوں۔ اس کی حیثیت قائد کی ہوتی ہے جو یونیورسٹی کیلئے نئی راہیں متعین کرتا ہے اور اپنے وسیع تر تجربے سے یونیورسٹی کے پیچیدہ امور پر صائب مشورے دیتا ہے۔
عالمی رینکنگ کے اداروں کے مطابق، گزشتہ پندرہ برسوں میں بریڈفورڈ یونیورسٹی کی رینکنگ 400 اور500 کے درمیان رہی ہے نہ کہ پہلی پچاس میں۔ ٹائمز ہائر ایجوکیشن نے 2018 کی ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ میں اسے 600 اور 800 کے درمیان رکھا ہے۔ برطانیہ میں 2005ء میں اسکی رینکنگ 37 ویں تھی، 2008ء میں 49 ویں اور 2014ء میں یہ یونیورسٹی 82 ویں درجے پر تھی۔ کیا اس کا نتیجہ یہ نکالا جائے کہ عمران خان کے زیر قیادت بریڈفورڈ یونیورسٹی کی رینکنگ رو بہ زوال رہی؟ در حقیقت ایسا کہنا غیرمعقول ہو گا کیونکہ یونیورسٹی کے معیار اور کامیابی کا ذمہ دار وائس چانسلر ہوتا ہے جو اس کے امور کا نگران ہوتا ہے۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ عمران خان نے چانسلر کے عہدے سے استعفیٰ طلباء کے احتجاج کے بعد دیا۔ احتجاج کی وجہ یہ تھی کہ 2010ء سے 2014ء تک عمران خان بطور چانسلر اپنی اہم ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے میں ناکام رہے۔ انہوں نے اس دوران یونیورسٹی کے کسی کانووکیشن میں شرکت نہ کی اور نہ ہی یونیورسٹی کے لئے قائدانہ کردار کے تقاضے پورے کرسکے۔ جس کے خلاف طلبایونین نے اپنے جریدے ”دی بریڈفورڈ اسٹوڈنٹ“ میں مضامین چھاپے اور ان سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا۔ یہ معاملہ برطانیہ کے قومی اخبارات میں بھی رپورٹ ہوا۔ عمران خان نے اس بات کو تسلیم بھی کیا اور وضاحت کی کہ پاکستان میں انکی رفاہی کاموں کے لئے چندہ مہم کی ذمہ داریاں اور سیاسی مصروفیات انکی غیر حاضری کی وجہ تھیں۔ بہرحال انہوں نے اس عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ بریڈفورڈ یونیورسٹی کی موجودہ چانسلر ایک بڑے کاروباری ادارے کی سی ای او ہیں اور 2018ء میں اس یونیورسٹی کی برطانیہ میں رینکنگ 61 ویں درجے پر ہے۔
جہاں تک نمل یا کسی اور ادارے کا کسی برطانوی یونیورسٹی کے ڈگری پروگرام کو پاکستان میں رائج کروانے کا تعلق ہے، ایچ ای سی کے مطابق، اس وقت ملک میں کم از کم ستائیس منظور شدہ ادارے بشمول نمل، غیر ملکی اداروں کی شراکت سے ایسے ڈگری پروگرام کروا رہے ہیں۔ متعدد دیگر برطانوی تعلیمی اداروں کی طرح، بریڈ فورڈ یونیورسٹی بھی باہمی مفاد کی بنیاد پرکئی ممالک کے اداروں کے ساتھ شراکت داری سے تعلیمی پروگرام چلا رہی ہے۔ واضح رہے کہ یہاں عمران خان یا کالم نگار کی رائے پر تنقید کرنا مقصد نہیں، بلکہ قبل از اشاعت حقائق کی چھان بین کے لئے تحقیق کی اہمیت اور ضرورت کو اجاگر کرنا مقصود ہے۔ مزید یہ کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد پاکستان سے متعلق خبروں اور تجزیوں کیلئے اردو اخبارات پر انحصار کرتی ہے مگر سوشل میڈیا بھی استعمال کرتی ہے۔ باخبر رائے سازی کیلئے ہمیں انہیں بے لگام سوشل میڈیا کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا چاہئے۔
امریکہ اور برطانیہ میں جعلی خبریں اور ووٹر کی نفسیات کو مدنظر رکھ کر مخصوص مقاصد کے تحت لکھی گئی تحریریں میڈیا کے ذریعے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لئے استعمال ہو چکی ہیں۔ یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس قسم کی اسٹرٹیجک کمیونیکیشن بالواسطہ طور پر امریکہ کے صدارتی انتخابات اور برطانیہ کے بریگزٹ ریفرنڈم کے رائے دہندگان اور نتائج پر اثرانداز ہوئی۔ ان ممالک میں ووٹرز کے ذاتی ڈیٹا کے سیاسی مہمات میں استعمال کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ ادھر پاکستان میں انتخابات کا موسم اپنے شدید اثرات کے ساتھ وارد ہو چکا ہے۔ اس کے منظر نامے پر فصلی تحریروں کی بھرمار ہے جن کا مرکز تو سوشل میڈیا ہے، مگر پرنٹ میڈیا بھی کسی حد تک اس کی زد میں آیا ہے۔
پاکستان میں عملی سیاست کے موضوعات میں تحقیق سے روگردانی اور فصلی تحریروں کی سوشل میڈیا کے ذریعے یلغار ہمیں حقیقی سیاسی ایشوز سے دور کر رہی ہے اور عام آدمی کو نان ایشوز میں الجھا رہی ہے۔ اسکے تدارک کیلئے ہمیں تحقیق اور سند کی روایت کو مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ آئندہ کل جب ہمارا تاریخ کا ریکارڈ پڑھا جائے تو ہم فخر کر سکیں کہ مشکل حالات میں بھی پاکستانی اہل قلم نے تحقیق کے ساتھ حق گوئی کا دامن تھامے رکھا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں