• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تراویح میں تلاوت کردہ قرآن کریم کی پارہ بہ پارہ تفہیم

فہم القرآن:مفتی عبدالمجید ندیم
عم …پارہ۳۰
سورۃ النبا
سورہ نبا مکی سورت ہے ۔اس میں 40آیات اور دو رکوع ہیں۔اس سورت کا اہم موضوع ’قیامت اور اس کے احوال‘ ہے۔سورت کا آغاز ا س با ت سے ہوتا ہے کہ لوگ ایک بڑی خبر (قیامت) کے بارے میں اختلا ف میں مبتلا ہیں اور طرح طرح کی چہ میگوئیاں کر رہے ہیں کہ معلو م نہیں کہ وہ قیا مت آئے گی یا نہیں ۔انہیں معلو م ہونا چا ہیے کہ وہ قیا مت ضرور برپا ہو گی ۔وہ اللہ جس نے زمین کو بچھونا ، پہاڑوں کو میخیں،انسانوں کے جوڑے اور کائنا ت کی ہر چیز کو پیدا فرمایا ہے اس با ت پر پوری طرح قادر ہے کہ انسانوں کو دوبا رہ زندہ کرے اوران کے اعما ل کا حساب لے ۔جہنم ،اللہ کے نا فرما نوں کی تاک میں ہے ۔وہی حد سے گزرنے والوں کا ٹھکا نہ ہے جس میں وہ بر سہا برس تک رہیں گے ۔وہاں بھڑکتی ہو ئی آگ اور کھولتے ہوئے پا نی سے ان کی ضیا فت کی جا ئے گی ۔اس کے برعکس اللہ سے ڈرنے والے کامیا بی و کامرانی سے ہم کنا ر ہوں گے ۔ان کے لیے اللہ کی نعمتوں بھری جنت تیا ر کر دی گئی ہے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔قیا مت کا دن ایسا ہو لنا ک ہو گا کہ جبریلِ امین سمیت سارے فرشتے اللہ کے سامنے قطار اندر قطا ر کھڑے ہو ں گے اور کسی کو بو لنے کی جرات نہیں ہو گی اور عذاب کو دیکھتے ہی کفار تمنا کریں گے کہ کاش انہیں موت آجائے اور وہ مر کر مٹی ہو جا ئیں۔
سورۃ النا زعات
سورہ نازعات مکی سورت ہے ۔اس میں 46آیات اور دو رکوع ہیں ۔اس سورت مین قیامت کے وقوع اور انکا ر کر نے والوں کا انجام بیا ن کیا گیا ہے ۔سورت کے آغاز میں مختلف فرائض سرانجا م دینے والے فرشتوں کی قسم اٹھا کر زندگی بعد الممات کو ثابت کیا گیا ہے کہ جو فرشتے آج انسان کی جان نکا لتے ہیں کیا کل اللہ کے حکم سے اس جا ن کو دوبا رہ انسانی جسم میں نہیں ڈال سکتے ؟ یقینا ایک دن ایسا ممکن ہو جا ئے گا۔وہ دن ایسا سخت ہو گا کہ ان کے دل خوف سے لرز جا ئیں گے اور ان کی نگا ہیں پھٹی پڑتی ہو ں گی ۔اس سے پہلے فرعون نے قیا مت کو جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے ایسی سزا دی کہ وہ اگلوں پچھلوں کیلئے عبرت کا ساما ن بن گیا ۔اس کے بعد انسان کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ خود غور کرے کہ اللہ تعالی نے آسما ن کو بلند ی عطا فرما ئی ہے ۔زمین کو بچھا دیا ہے اور دن و رات کا نظام چلا کر انسانی زندگی کے فا ئدے کے ہزاروں اسبا ب پیدا فرما دیے ہیں لیکن ایک دن ایسا بھی آنے والا ہے جب ایک دھما کے سے یہ سب کچھ توڑ کر رکھ دیا جائے گااب جس شخص نے دنیا کی زندگی کو ترجیح دے کر اللہ تعالیٰ کی حدود توڑ ی ہو ں گی اس کاٹھکا نہ جہنم ہے اور جو اللہ کے حضور جھک گیا ہو گا اور اس نے اپنے نفس کی ساری خواہشات کو اللہ کے تابع فرماں کیاہو گا اسے اللہ تعالیٰ کی جنت میں داخلہ ملے گا۔
سورہ عبس
سورہ عبس مکی سورت ہے ۔اس میں 42آیات اور ایک رکوع ہے ۔یہاں سے قرآنِ مجید کے آخر تک ہر سورت ایک ہی رکوع پر مشتمل ہے ۔نبی اکرم ﷺ کی ہمیشہ سے تمنا تھی کہ مکے کی کو ئی با اثر شخصیت اسلا م لا ئے تو اس سے اسلا م کو ظاہری استحکا م مل جا ئے گا لیکن کفارِ مکہ کا سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ جہاں غریب صحابہ موجود ہوں گے وہاں ہم نہیں آسکتے ۔چنا نچہ ایک دفعہ حضور ﷺ قریش کے کچھ سرداروں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک نا بینا صحابی عبداللہ ؓ بن ام مکتوم تشریف لا ئے جن کے سوال پر آپ ؐ نے کو ئی توجہ نہ دی تو اللہ تعالیٰ نے اس پر آقا ؑ کی گرفت فرما ئی اور صاف الفاظ میں پیغام دیا کہ اللہ تعالی ٰ کو ان مساکین کا دل توڑنا ہر گز منظور نہیں ہے جو اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے عظیم الشان قربانیاں دے رہے ہیں۔چنا نچہ اس کے بعد حضور ﷺ حضرت عبدا للہ بن ام مکتوم کی پہلے سے بھی بڑھ کر عزت فرمایا کرتے تھے اور انہیں اپنی غیر موجودگی میں مدینے کا گورنر اور مسجد ِ نبوی کا اما م مقرر فرما تے تھے ۔اس کے بعد انسان کو یاد دلا یا گیا ہے کہ اپنی پیدائش سے لے کر ارد گرد کی نعمتوں پر غور کرو تو تمہیں اللہ تعالیٰ کی طاقت کا اندازہ ہو جا ئے گا ۔وہی ہے جو انسان کو پیدا کرتا ،اس کی تقدیر بناتا ،زندگی کے مختلف راستوں پر چلاتا اور پھر قبر میں پہنچا دیتا ہے ۔ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ وہی اللہ اسے دوبارہ زندہ کر ے گا ۔اُس دن انسان اپنے بھا ئی ،ماں ،با پ ،بیوی اور اولا د سے بھا گ رہا ہو گا ۔اس دن ہر ایک کو اپنی ہی جا ن کی فکر لاحق ہو گی ۔اس دن اہلِ ایمان کے چہرے روشن،تابنا ک اور خو ش و خرم ہوں گے اور اہلِ کفر کے چہروں پر خاک اڑ رہی ہو گی جو ان کی بدبختی کو ظاہر کر رہی ہو گی۔
سورۃ التکویر
سورہ تکویر مکی ہے جس میں 29آیا ت ہیں۔اس سورت کے موضوع آخرت اور رسالت ہیں۔پہلی چھ آیات میں قیامت کے پہلے مرحلے کا تذکرہ ہے جب کائنا ت کی ہر چیز تباہ و بربا د کر دی جا ئے گی یہاں تک کہ سورج بے نور ہو جائے گا اور ستارے بکھر جائینگے اس کے بعد سات آیتوں میں دوسرے مر حلے کا تذکرہ ہے جب سارے انسانوںکو اکٹھا گیا جا ئے گا ،اعما ل نا مے کھولے جا ئیں گے ،جنت اور دوزخ لا حاضر کی جا ئے گی اور حساب کتا ب شروع ہو جا ئے گا ۔تو یہی وہ دن ہو گا جسے ’یو م الحساب ‘ کہتے ہیں ۔ اس کے بعد رسالتِ محمدی کا تذکرہ ہے۔کفارِ مکہ کو صاف الفاظ میں بتایا جا رہا ہے کہ حضرت محمد ﷺ تمہارے سامنے جو کچھ پیش فرما رہے ہیں وہ نہ تو کسی مجنون کی بڑ ہے اورنہ کو ئی شاعری بلکہ یہ اللہ رب العالمین کا وہ پیغام ہے جو انہیں دن کی روشنی میں عطا کیا گیا ہے لہٰذا تم اس با ت کا جا ئزہ لو کہ تم ان کی نا فرما نی کر کے کدھر جا رہے ہو؟ یہ پیغام تو سارے جہان والوںکیلئے ایک نصیحت ہے لہٰذا کامیا بی چاہتے ہوتو اس پیغام کو قبول کر لو اسی میں تمہاری فلاح ہے ۔
سورۃ الانفطار
سورہ انفطار مکی سورت ہے جس میں 19آیات ہیں۔یہ سورت آخرت کے منظر کو انتہا ئی دلنشیں انداز میں پیش کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کا فرما ن ہے ’’جو شخص قیا مت کو آنکھوں دیکھی حقیقت کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے اسے چا ہیے کہ سورہ انفطار،تکویراور انشقاق کی تلات کرے‘‘ (ترمذی) ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یاد کرو جب آسما ن پھٹ جا ئیگا ستارے بکھر جا ئیں گے ،سمندر پھاڑ دیے جا ئیں گے اور قبریں کھول دی جائیں گی تو ہر شخص کو اسکا اگلا پچھلا کیا دھرا معلو م ہو جا ئے گا ۔پھر انسان کو مخاطب کر کے خوابِ غفلت سے جگایا جا رہا ہے کہ تجھے ربِ کریم کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں مبتلا کیا ہے ؟ وہی تو ہے جس نے تجھے اپنی تخلیق کے شاہکار کے طور پر پیدا فرمایا ہے ۔اے انسان یاد رکھ اگر تو آخرت کا انکا ر کررہا ہے تو تجھے معلو م ہونا چاہیے کہ دو معزز لکھنے والے تیرا نوشتہ زندگی لکھ رہے ہیں جسے بہت جلد اللہ کی عدالت میں پیش کیا جا ئے گا جس کے نتیجے میں نیکوکار جنت اور بد کار جہنم میں جا ئیں گے لہٰذا یہ تمہارا اپنا فیصلہ ہے کہ جنت کا انتخاب کرتے ہو یا جہنم کا !
سورۃ المطففین
سورہ مطففین مکی سورت ہے جس میں36آیات ہیں اس سورت میں آخرت اور اس پر ایما ن نہ لانے کے نتیجے میں پیدا ہو نے والی خرابیوں کا تذکرہ ہے ۔پہلی چھ آیتوں میں ان خرا بیوں کا تذکرہ ہے جن میں ہر زما نے میں آخرت کے منکرین مبتلا رہے ہیں ۔ان خرابیوں میں کم ماپنا اور کم تو لنا سرِ فہرست ہے ۔جب آخرت کے برپا ہونے کا یقین ہو جاتا ہے تو انسان اتنا ذمہ دار ہوجاتا ہے کہ وہ کبھی بھی کسی کو دھوکہ نہیں دیتا ۔اس کائنا ت میں دو طرح کے نا مہ اعمال تیار ہو رہے ہیں۔ایک طرح کے اعما ل نا مے وہ ہیں جو جرائم پیشہ لوگوں کے رجسٹرڈ میں درج ہیں اور ایک طرح کے اعمال نا مے وہ ہیں جو بلند پایہ لوگوں کے رجسٹرڈ میں درج ہیں ۔دونوں گروہوں کا انجا م بھی ان کے اعما ل کے مطا بق ہو گا ۔ نیکوکار اللہ تعالیٰ کی جنت میں عیشِ دوام کے مزے لوٹیں گے جہاں انہیں وہ سب کچھ ملے گا جس کی وہ تمنا کریں گے اور بدکار جہنم کا ایندھن بنیں گے جہاںانہیں ہر طرح کی سزا دی جائے گی ۔آخر میں مسلما نوں کو تسلی دی گئی ہے کہ گھبرانے کی کو ئی ضرورت نہیں استہزاء اور مذاق کرنے والے بہت جلد اپنے انجا م کو پہنچ جا ئیں گے۔
سورۃ الانشقاق
سورہ انشقاق مکی سورت ہے جس میں 25آیات ہیں۔ اس کا موضوع قیامت اور آخرت ہے ۔ابتدائی پانچ آیات میں قیامت کے وقوع کے دلا ئل کے ساتھ ساتھ اس کے برحق ہو نے کو بھی ثابت کیا گیا ہے ۔جب آسما ن پھٹ جائے گا اور زمین ہموار ہو جا ئے گی تو زمین کو حکم ہو گا کہ اپنے اندر کی ہر چیز کو با ہر اگل دے ۔یہ اللہ تعالیٰ کی قوت کا اظہار بھی ہے اوراس کی عظمت کی دلیل بھی کہ وہ سارے راز ہا ئے بستہ کو چشمِ زدن میں سامنے لے آئے گا ۔اس لیے اے انسا ن یا د رکھ کہ تو اپنے رب کی طرف کشاں کشاں جارہا ہے اور ایک دن تیری اپنے رب سے ملاقات ہو کر رہے گی ۔اس دن جس شخص کو اس کا نا مہ اعما ل دائیں ہا تھ میں دیاجا ئے گا اس کا حساب آسان ہوگا اور جس شخص کا نا مہ اعمال پیچھے سے دیا جا ئے گا وہ مو ت کی تمنا کرے گا ۔انسان کا رویہ بھی بڑا عجیب ہے کہ وہ کئی منزلیں طے کرنے کے باوجود ایما ن کی وادی میں قدم نہیں رکھتا اور قرآن کے پیغام سے منہ پھیر کر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدے سے محروم رہتا ہے جس کا لا زمی نتیجہ عذابِ الیم کی شکل میں سامنے آتاہے۔
سورۃ البروج
سورہ بروج مکی سورت ہے جس میں 22آیات ہیں۔ اس سورت میں کفار کو ان کے ظلم کے انجا م سے خبردارکیا گیا ہے اور اہل ِایما ن کو استقامت کی تلقین کی گئی ہے ۔سورت کے آغاز میں اصحاب الاخدود کی مثال دی گئی ہے جنہیں وقت کے ظالم بادشاہ ذونواس نے دینِ الٰہی قبول کرنے کی پاداش میں آگ کی خندقوں میں زندہ جلا دیا تھا۔پورا ملک ان بیس ہزار صاحبِ ایمان مردوں ،عورتوں اور بچوں کے جلنے کا تما شہ دیکھ رہا تھا لیکن ان کے ایما ن کی مضبوطی کا یہ عالم تھا کہ ان کے پا ئے استقامت میں رائی کے دانے کے برابر بھی جنبش نہ آئی ۔وہ آگ کی خندقوں میں کو دگئے لیکن اپنے ایما ن پر کو ئی سمجھوتہ نہیں کیا لہٰذا اے اہلِ ایمان تم بھی اپنے ایما ن پر ڈٹے رہو اور یاد رکھو کہ ابدی کامیابی انہی کو ملے گی جو ایما ن لا نے کے بعد نیک عمل کریں ۔رہے وہ لو گ جو انکا ر ہی پر اڑے ہو ئے ہیں اور اہلِ ایما ن کو ستا رہے ہیں انہیں معلوم ہو جا ئے گا کہ ان کے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے ۔وہ اس سے پہلے بھی فرعون اور ثمود کے لشکروں کو عبرتنا ک سزا دے چکا ہے ۔جہاں تک قرآنِ مجید کا تعلق ہے وہ تو اتنی عظمت والی کتاب ہے جو لوحِ محفوظ میں لکھی ہوئی موجودہے۔
سورۃ الطارق
سورہ طارق مکی سورت ہے جس میں17آیات ہیں۔یہ سورت انسان کے مرنے کے بعد اللہ کے حضور حاضری کو ثابت کرتی اور بتاتی ہے کہ قرآن کی دعوت کو کو ئی بھی زک نہیں پہنچا سکتا ۔انسان کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنی پیدائش ہی پر غور کر لے کہ اسے پا نی کے ایک اچھلتے قطرے سے پیدا کیا گیاہے ۔جس خدانے ایک بے جان قطرے میں زندگی کے آثار پیدا فر ما دیے وہ انسان کو دوبارہ بھی بنا کر لا حاضر کرے گا ۔وہ دن بڑا ہی ہولناک ہوگا جب رازوں کی جا نچ پڑتا ل کی جا ئے گی اور کسی کے پاس نہ تو اپنی کو ئی طا قت ہو گی اور نہ ہی کو ئی دوسرا اس کی مدد کر سکے گا ۔لہذا اس با ت کو بھی کان کھول کر سن لو کہ تمہیں آسمانوں اور زمین کے رب کی قسم اٹھا کر بتایا جا رہا ہے کہ قرآن ایک جچی تلی بات ہے کوئی ہنسی اور مذاق نہیں ہے ۔ تم اپنی جگہ اسے ناکا م کرنے کی کوشش کرتے رہواور اللہ تعالیٰ اپنی جگہ اس کی کا میابی کا منصوبہ بناتا رہے گاتو نتیجہ با لکل صاف ہوگا کہ تمہار امقدر ناکا می کے سوا کچھ نہ ہو گا۔
سورۃ الاعلیٰ
سورہ اعلیٰ مکی سورت ہے جس میں 19آیات ہیں۔اس سورت میں توحید ،آخرت اور نبی اکرم ﷺ کو ہدایات جیسے عظیم موضوع بیا ن فرما ئے گئے ہیں۔سورت کے آغاز میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی تسبیح توحید پر دلا لت کرتی ہے کہ سچا مسلمان صرف اللہ تعالیٰ ہی کی حمد کے ترانے پڑھتا ہے ۔نبی اکرم ﷺ کو ہدایت دی گئی ہے کہ آپ ہر گز پریشان نہ ہوں کہ قرآنِ مجید آپ کے سینے میں کیسے محفوظ ہو گا ۔ہم یقینا اسے آپ کیلئے آسان کر دیں گے اورآپ اسے بھول نہ پا ئیں گے۔آپ کا کا م لو گوں کو مسلسل یاد دہا نی کراتے رہنا ہے اس لیے کہ بھول چوک انسان کی فطری کمزوری ہے ۔قیامت کے دن فلا ح اور کامیا بی انہیں ہی ملے گی جوتزکیہ نفس کی کو شش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کیلئے نما ز کا اہتمام کرتے ہیںانسانوں کی اکثریت آخرت کے مقابلے میں دنیا ہی کو ترجیح دیتی ہے حالا نکہ آخرت ہی بہتر اور با قی رہنے والی ہے ۔یہی تعلیما ت پہلی آسما نی کتابوں میں بھی موجود تھیں۔
سورۃ الغاشیہ
سورہ غا شیہ مکی سورت ہے جس میں26آیات ہیں۔اس سورت کا موضوع توحید اور آخرت ہے۔آغازِ کلا م میں سوال کے انداز میں غفلت شعاروں کو بیدار کیا گیا ہے کہ کیا انہیں چھا جانے والی آفت کی بھی کچھ خبر ہے جب چہروں پر خوف کے آثار با لکل نما یا ں ہو جا ئیں گے اور توحید و آخرت کا انکا ر کرنے والے بھڑکتی ہو ئی آگ میں پھینک دیے جا ئیں گے جہاں ان کو انتہا ئی خو فنا ک کھا نے دیے جا ئیں گے۔اس منظر کے برعکس بہت سے لوگ ہشاش بشاش ہوں گے جو اپنی کما ئی کے نتائج پر بہت خوش ہوں گے ۔انہیں اللہ تعالیٰ کی جنت میں نعمتوں سے مالا ما ل کیا جا ئے گا ۔اب تم ہی بتا ؤ کہ کون سا انجا م بہتر ہے ؟اگر تم اونٹ کی ساخت، آسما نوں ، پہاڑوںاور زمین کی بناوٹ پر غور کرو تو بس یہی ذرا سا تفکر بھی تمہیں راہِ راست دکھا دے گا ۔
سورۃ الفجر
سورہ فجر مکی سورت ہے جس میں 30آیات ہیں ۔یہ سورت آخرت کی جزا و سزا کو ثابت کرتی ہے ۔آغازِ کلا م میں فجر ،دس راتوں ،جفت اور طا ق ،گذری ہو ئی رات کی قسم اٹھا کر بتایا گیا ہے کہ جو خداان تمام چیزوں کو برپا کرتا ہے کیا اس کے لیے قیا مت لانا نا ممکن ہے ؟ ہر گز ایسا نہیں ہے اس لیے کہ تاریخ کی شہا دت بھی یہی بتا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے زما نے کی طا قتور قوموں کو چشمِ زدن میں تبا ہ و بربا د کر دیا ۔چاہے وہ عاد ہو یا ثمود یا فرعون سب کا انجا م ایک ہی جیسا ہو ا ہے ۔انسا ن کا رویہ ہر زما نے میں بڑاعجیب رہا ہے کہ وہ ما لدار ہو تو تکبر اورغریب ہو تو شکوہ کرتا ہے ۔حالا نکہ وہی انسان جب اللہ تعالیٰ اسے ما ل و دولت دیتا ہے تو یتیم کی عزت نہیں کرتا اور غریب کو کھانا کھلا نے کی ترغیب نہیں دیتا بلکہ وہ اپنے ما ل کو عیش پرستی کی نذر کر دیتا ہے لیکن ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ اسے اپنے کیے کا حساب دیناہو گا ۔اس دن اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے والے عزت و اکرام کے ساتھ اللہ کی جنت میں داخل کردیے جا ئیں گے جہاںانہیں اللہ کے نیک بندوںکا ساتھ نصیب ہو جا ئے گا ۔
سورۃ البلد
سورہ بلد مکی سورت ہے جس میں20آیات ہیں۔اس سورت میں دنیا کی حقیقت اورانسا ن کے اس کے ساتھ صحیح تعلق کو بیا ن کیا گیا ہے ۔سورت کے شروع میں مکہ ، انسان کی پیدائش اور حضور ﷺ کو پیش آنے والے مصائب کی قسم اٹھا کر یہ فرمایا جا رہا ہے کہ انسان کی زندگی کا مقصد یہ نہیں ہے کہ وہ مال و دولت کما کر اسے شیطا نی راستوں میں لٹاتا رہے بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ دنیا کی زندگی سے فائدہ اٹھاتے ہو ئے اللہ تعالیٰ کی رضا کے کا م کرے کیوں کہ ایک عظیم ہستی ہر وقت اس کے اعما ل و افعال کی نگرانی کر رہی ہے ۔اور وہی ذات ہے جس نے اسے آنکھیں ،زبا ن اور ہونٹ دیے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے نیکی اور بدی کے راستوں کو سمجھنے کی صلا حیت عطا فرما ئی ہے ۔اب نیکی کا راستہ تو کسی دشوار گزار گھاٹی کو عبور کرنے کی طرح مشکل ہے لیکن کا میا بی کا راستہ بہرحا ل یہی ہے ۔اس راستے کی ہر عبادت بے ریا ہو نی چا ہیے چا ہے وہ غلاموں کوآزاد کرنا ہو یا یتیم اور مسکین کو کھانا کھلا نا ۔جو لو گ اس راستے پر چلتے رہیں گے وہی دائیں ہا تھ والے ہیں رہے اس راستے پر چلنے کی بجا ئے کسی دوسرے راستے کا انتخاب کرنے والے تو انہیں ان کا نامہ اعما ل با ئیں ہا تھ میں دیا جا ئے گا جو ناکا می کی علا مت ہو گا ۔
سورۃ الشمس
سورہ شمس مکی سورت ہے جس میں21آیات ہیں۔یہ سورت نیکی اور بدی کے فرق کو نمایا ں کرتی ہے ۔جس طرح سورج اور چاند ،رات اور دن اور آسما ن اور زمین میں فرق ہے اسی طرح نیکی اور بدی میں بھی فرق ہے ۔اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر نیکی اور بدی کے جو رجحان رکھے ہیں یہ بھی اس کا فضل و کرم ہے ۔اب انسان کی کا میا بی کے لیے ضروری ہے کہ وہ نیکی کے رجحانا ت کی حوصلہ افزئی کرے اگر اُس نے اس کے برعکس کیا تو قوم ِثمود کی طرح اس کی تبا ہی یقینی ہے۔
سورۃ الیل
سورہ لیل مکی سورت ہے جس میں 21آیات ہیں۔یہ سورت انسانی زندگی کے مختلف رویوں کے بارے میں بتا کر ان کے انجا م سے آگاہ کرتی ہے ۔ایک رویہ یہ ہے کہ انسان اپنا ما ل اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے ،اللہ سے ڈرتا ہے اور سچائی کی تصدیق کرتا ہے اور دوسرا رویہ یہ ہے کہ بخل کرتا ہے ،خدا کی پرواہ نہیں کرتا اور سچائی کو جھٹلاتا ہے ۔اب تم خود ہی بتا ؤ کہ کیا یہ بات قرینِ انصاف ہے کہ دونوں کا انجا م ایک جیسا ہو ؟ ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا لہٰذا یہ معاملہ با لکل انصاف پر مبنی ہے کہ دنیا پرست کو اس کا مال اللہ کی جناب میں کو ئی فائدہ نہیں دیتا ۔وہ بھڑکتی ہو ئی آگ میں پھینک دیا جا ئے گا جہاں وہ اپنی بدبختی کو پالے گا اس کے برعکس اللہ کی راہ میں اپنے مال کو خرچ کرنے والا جہنم کی سزا سے بچا لیا جا ئے گا اور اسے اللہ کی جنت عطا کی جا ئے گی۔
سورۃ الضحیٰ
سورہ ضحیٰ مکی سورت ہے جس میں 11آیتیں ہیں۔اس سورت میں وحی کے رک جا نے سے پیش آنے والی کیفیت کو ذکر کرنے کے بعد حضور ﷺکو تسلی دی گئی ہے ۔سب سے پہلے روز ِ روشن اور پر سکون رات کی قسم کھا کر آپؐ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کے رب نے آپ کو ہر گزنہیں چھوڑا ۔بعد میں آنے والے حالات پہلے حالات سے بہت بہتر ہوں گے اور آپ کا رب آپ کو اتنا مالامال کرے گاکہ آپ خوش ہو جائیں گے ۔اُس خدا نے یتیمی میں آپ کی کفالت اور وحی کے ذریعے درست راستے کی راہنما ئی فرما ئی ہے لہٰذا یتیم اور سائل کے حقوق کا خیا ل رکھیے اور اپنے رب کی نعمت کا اظہار کیجیے۔
سورۃ الانشراح
سورہ انشراح مکی سورت ہے جس میں 8آیات ہیں۔یہ سورت بھی نبی اکر ﷺ کو تسلی دے رہی ہے ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی تین نعمتوں کا تذکرہ ہے جو رسولِ اکرم ﷺ کو عطا ہو ئیںاللہ تعالیٰ نے آپ کا سینہ کھول دیا ،آپ سے ناروا بوجھ اتار دیے اور آپ کے ذکر کو چہار سو پھیلا دیا ۔یہ حقیت بھی بہت خوبصورت ہے کہ دو خو شیوں کے درمیان ایک غم ہے جو بذاتِ خود ایک تسلی کی کیفیت ہے ۔لہٰذا اللہ کے کرم کا شکر یہ ہے کہ اُسی کی طرف رجوع کیا جا ئے اور اسی کی راہ میں محنت کی جا ئے۔
سورۃ التین
سورہ تین مکی سورت ہے جس میں8آیات ہیں۔یہ سورت جزا و سزا کو دلا ئل کے ساتھ ثابت کرتی ہے ۔آغاز میں انبیا ء کے ظہور کے مقاما ت کی قسم اٹھا کر فرمایا گیا ہے کہ ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا ہے لیکن یہ اشرف المخلوقات اسی وقت تک ہے جب ہمارے حکم کی اطاعت کرتا ہے۔ وہ جب بھی بندگی کا قلا دہ اتار پھینکتا ہے تووہ بدترین مخلو ق بن جاتا ہے ۔ایما ن اور عملِ صالح ہی نہ ختم ہو نے والے اجر کی ضما نت ہیں اور یاد رہے کہ سب حاکموں سے بڑا حاکم بہر حال اللہ ہی ہے۔
سورۃ العلق
سورہ علق مکی سورت ہے ۔اس میں 19آیات ہیں۔ اس سورت کے دوحصے ہیں ۔پہلا حصہ پہلی پانچ آیات پر مشتمل ہے ۔یہ آیات پہلی وحی ہیں ۔جب کہ سورت کا بقیہ حصہ بعد میں نازل ہو ا۔پہلا حصہ انسان کو وحی الٰہی کے ذریعے پڑھنے کی تلقین کرتے ہو ئے اسے تخلیق کی اصل یاد دلا تا ہے ۔دوسرا حصہ ابو جہل کے بارے میںہے جس نے حضور ﷺ کو خانہ کعبہ میں نما ز پڑھنے پردھمکیا ں دی تھیں اور آپ پر حملے کا ارادہ کیا تھا ۔اس کا کہنا تھا کہ میرا جتھا بہت ہی مضبو ط ہے ۔اسے صاف الفاظ میں جہنم کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے کہ تجھ جیسے متکبرین کو عنقریب جہنم واصل کیا جا ئے گا ۔
سورۃ القدر
سورہ قدر مکی سورت ہے جس میں 5آیات ہیں ۔یہ سورت شبِ قدر کی عظمت کو بیان کرتی ہے کہ اس رات کی عبادت ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے ۔اور اس کی افضلیت کی وجہ نزولِ قرآن ہے ۔اس رات کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔
سورۃ البینہ
سورہ بینہ مدنی سورت ہے جس کی 8آیات ہیں۔یہ سورت نبوت ورسالت کی اہمیت اور لوگوں کی گمراہی کی وجہ بیان کرتی ہے ۔انسانوں سے کہا گیا ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کی جانب سے ایک واضح کتاب لے کر آگئے ہیں لہٰذا گمراہی سے بچنے کا واحد طریقہ ان کی اتبا ع ہے۔ہر زما نے میں انبیا ء کی تعلیما ت یہی رہی ہیں کہ اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کی جا ئے ۔اہلِ کتاب میں سے بھی جنہوں نے اختلاف کیا اس کی بنیا د جہا لت نہیں مفاد پرستی تھی لہٰذا انکا ر کرنے والے اللہ کی بد ترین مخلوق ہیں رہے وہ لو گ جو ایما ن کے بعد نیک اعما ل کریں تو وہی اللہ کی بہترین مخلوق ہیں۔اللہ ان سے راضی ہے اوروہ اللہ سے راضی ہیں ۔اللہ نے ان کیلئے جنت تیارکر رکھی ہے ۔
سورۃ الزلزال
سورہ زلزال مدنی سورت ہے جس میں 8آیات ہیں۔یہ سورت قیا مت کے اس منظر کو بیا ن کر رہی ہے جب زمین ہلا ما ری جا ئے گی اور وہ اللہ کے حکم سے اپنے سارے راز اگل دے گی ۔ ہر انسان اپنی نیکی اور بدی کو اپنی نگا ہوں کے سامنے دیکھ لے گا۔
سورۃ العادیات
سورہ عادیات مکی سورت ہے جس میں 11آیات ہیں۔ اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ انسان جب اخلا قی پستی میں پڑتا ہے تو اس کی تباہ کاریاں کتنی سنگین ہو تی ہیں ۔اس ضمن میں جزیرہ نما ئے عرب میں پا ئی جا نے والی بد امنی کا حوالہ دے کربتایا گیا ہے کہ جب انسان اللہ کے قانون کے بغیر زندگی گذارتا ہے تو وہ قدم قدم پر نا شکری کا رویہ اختیار کرتا ہے حالا نکہ وہ خود اس پر گواہ ہے ۔بہت جلد اسے پتے چل جا ئے گا جب اسے قبر سے اٹھایا جا ئے گا اور سینوں میں چھپے ہو ئے راز بھی ظاہر ہو جا ئیں گے ۔
سورۃ التکاثر
سورہ تکا ثر مکی سورت ہے جس میں 8آیات ہیں ۔یہ سورت مال و دولت کی کثرت میں مبتلا ہو کر مقابلہ کرنے والوں کو ان کے انجا مِ بد سے ڈرا رہی ہے کہ بہت جلد وہ اپنا انجا م اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
سورۃ العصر
سورہ عصر مکی سورت ہے جس میں 3آیات ہیں ۔یہ سورت ایما ن ،عملِ صالح ،حق کی تلقین اور صبر کی وصیت کو کا میا بی کی بنیا دی شرائط قرار دیتے ہو ئے صاف الفا ظ میں بتا رہی ہے کہ ان صفات سے محروم لو گ شدید نقصان میں مبتلا ہیں۔
سورۃ الھمزہ
سورہ ھمزہ مکی سورت ہے جس میں 9آیات ہیں ۔یہ سورت ما ل و دولت کے گھمنڈ میں مبتلا دوسروں کے عیب نکا لنے والے کے لیے سخت تنبیہ ہے کہ اسے ایسی آگ میں پھینکا جا ئے گا جس کی تمازت اجسام کو جلا کر دلوں تک پہنچے گی ۔
سورۃ الفیل
سورہ فیل مکی سورت ہے جس میں 5آیات ہیں۔یہ سورت ابرہہ کے اس لشکر کی تبا ہی کا منظر پیش کرتی ہے جو خانہ کعبہ کو مسما ر کرنے آیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کا ملہ سے اسے اور اس کے لشکر کو تبا ہ و بربا د فرما دیا ۔
سورۃ القریش
سورہ قریش مکی سورت ہے جس میں5آیات ہیں۔یہ سورت قریش ِ مکہ کو اللہ تعالیٰ کے اس فضل کے بارے میں بتا رہی ہے کہ بد امنی کے اس زما نے میں بھی خانہ کعبے کے متولی ہو نے کی وجہ سے تمہارے قافلے محفوظ ہیں لہٰذا ایک اللہ کی عبادت کرو۔
سورۃ الما عون
سورہ ما عون مکی سورت ہے جس میں7آیات ہیں۔اس سورت میں عقیدہ آخرت کے نہ ماننے سے کردار کی جو خامیا ں پیدا ہوتی ہیں ان کے بارے میں بتایا گیا ہے ۔آخرت کا منکرہمیشہ معاشرے کے کمزوروں کے ساتھ بدسلوکی کرتا اور اپنے اعمال کی نما ئش کرتا ہے۔
سورۃ الکوثر
سورہ کوثر مکی سورت ہے جس میں 3آیات ہیں۔یہ سورت بتا رہی ہے کہ حضور ﷺ کو حوضِ کوثر عطا کیا گیا ہے لہٰذا اللہ کی اس نعمت کے شکر کے طور پر نبی اکرم ﷺ کو نماز ادا کرنی چاہیے اور قربا نی بھی ۔یقینا آپ کا دشمن ہی بے نا م و نشاں رہے گا اور آپ ؐ کا نا م ہر جگہ زندہ و تابندہ رہے گا۔
سورۃ الکا فرون
سورہ کافرون مکی سورت ہے جس میں 6آیات ہیں ۔یہ سورت کفار کو صاف الفاظ میں خبردار کر رہی ہے کہ اسلا م کے بنیا دی اصولوں پر کو ئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا لہٰذا تمہارے لیے تمہارا طریقہ ہے اور ہمارے لیے ہمارا طریقہ ہے۔
سورۃ النصر
سورہ نصر مدنی ہے جس میں 3آیات ہیں۔یہ سورت اسلا م کے غلبے کو بیان کرنے کے بعد اسے اللہ ہی کا فضل قرار دیتی ہے کہ لوگ دین میں فوج در فوج داخل ہورہے ہیں ۔اللہ کے اس احسان کا تقاضایہ ہے کہ اس کی تسبیح و مناجات کی جائے اور اس سے گنا ہوں کی معافی مانگی جائے۔
سورۃ اللھب
سورہ لہب اسلا م کے دشمنوں اور آقا ؐ کے گستاخوں کے لیے ایک عظیم تنبیہ ہے کہ وہ جا ن لیں کہ دنیا میں ان کے لیے تباہی اور آخرت میں بھڑکتی ہو ئی آگ ہے ۔اور ان دشمنان ِ اللہ و رسول کا نما ئندہ ابو لہب ہے جس کے پیروکار ہمیشہ لعنتوں کے مستحق بنے رہیں گے۔
سورۃ الاخلاص
سورہ اخلاص مکی سورت ہے جس میں4آیات ہیں،سورہ اخلا ص اللہ تعالیٰ کا بہترین تعارف اورعقیدہ توحید کی جامع تشریح ہے ۔یہ سورت اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور بے نیازی کی وضاحت کے بعد بتا تی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نہ کو ئی با پ ہے نہ کو ئی بیٹا اورکوئی بھی اس کی ہمسری نہیں کر سکتا۔
سورۃ الفلق
سورہ فلق مکی سورت ہے جس میں5آیات ہیں ۔یہ سورت بتا تی ہے کہ انسان کو تمام فتنوں اور خطرات سے بچنے کیلئے اللہ ہی کی پناہ میں آنا چاہیے۔یہ فتنے اندھیرے کے ہوں یا پھونک مارنے والیوں کے یا حاسدین کے ان سے جا ئے پنا ہ اللہ ہی کی ذاتِ اقدس ہے۔
سورۃالنا س
سورہ نا س مکی سورت ہے جس میں6آیات ہیںیہ سورت بھی انسان کو اس اللہ کی پنا ہ میں دیتی ہے جو انسانوں کا رب،بادشاہ اور معبودِ حقیقی ہے۔آدمی اس کی پنا ہ میں آ جائے تو چھپ چھپ کر وسوسے ڈالنے والے شیاطینِ جن و انس ناکام ونا مراد ہو جا تے ہیں۔
تازہ ترین