آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ترکی کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات جس کے نتیجے میں ترکی کا پارلیمانی نظام صدارتی نظام میں تبدیل ہو گیا ہے، اس نئے نظام کو ترک عوام میں متعا رف کروانے والے صدر ایردوان نے گزشتہ سولہ سال سے مسلسل کامیابیوںکا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ رجب طیب ایردوان نہ صرف ترکی بلکہ دنیا کے واحد جمہوری رہنما ہیں جو مسلسل عوام کے ووٹوں کے نتیجے میں کامیاب ہوتے چلے آرہے ہیں حالانکہ صرف مغربی میڈیا ہی نے نہیں بلکہ پاکستان کے بھی چند ایک میڈیا گروپ نے ان کی شکست کی پہلے ہی پیشین گوئی کر رکھی تھی۔ سوشل میڈیا پر پاکستان ہی سے ہمارے ایک عزیز دوست جو اپنے آپ کو ترکی کے امور کے اسپیشلسٹ اور دانشور کہلوانا پسند کرتے ہیں نے صدر ایردوان کے خلاف باقاعدہ مہم شروع کررکھی تھی اور ایردوان کے قریبی حریف محرم انجے کی فتح کو یقینی قرار دیتے ہوئے ان کے استنبول ، انقرہ اور ازمیر میں ہونے والی ریلیوں میں کئی ملین انسانوں کے شریک ہونے کا ذکر کرتے ہوئے مجھ جیسے انسان جو کہ تین دہا ئیوں سے ترکی میں آباد ہیں کو حیرت میں مبتلا کرکے رکھ دیاکیونکہ ترکی کے کسی بھی الیکٹرانک یا پرنٹ میڈیا نے اتنی بڑی تعداد میں انسانوں کے موجود ہونے کا کوئی ذکر نہ کیا تھا ۔ مجھے گزشتہ سال پاکستانی میڈیا سے تعلق رکھنے والی شخصیات جن میں حفیظ اللہ نیازی بھی شامل

ہیں نے اپنے دورہ انقرہ کے موقع پر آگاہ کیا تھا کہ اسی محترم ہستی نے ترکی میں 15جولائی 2016ء کی ناکام بغاوت کو کامیاب قرار دیتے ہوئے بغاوت کے نتیجے میں صدر ایردوان کے مارے جانے اور حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بارے میں پاکستانی میڈیا پر خبروں اور تبصروں کو جگہ دی ۔ علاوہ ازیں پاکستان ہی سے مجھے کئی ایک دانشور اور صحافی اس عظیم شخصیت کے ترکی کی ری پبلکن پیپلز پارٹی سے خصوصی لگا ئو رکھنے اور اسی لگائو کے نتیجے میں صدر ایردوان کی دشمنی میں بہت آگے تک نکل جانے اور واپسی ممکن نہ ہونے سے آگاہ کرچکے ہیں۔ پاکستانی دانشوروں اور صحافیوں کے مطابق یہ عظیم شخصیت اپنے کالموں یا تبصروں میں ترکی اور صدر ایردوان کے بارے میں راقم کے تحریر کردہ کالموں سے بالکل مختلف تصویر پیش کرتے ہیں لیکن جب پاکستانی خود ترکی جا کر اور صدر ایردوان سے ملتے ہیں تو ان کو حقائق میں واضح فرق نظرآتا ہے۔ یہ عظیم ہستی دراصل میرےقریبی دوست بھی رہے ہیں اور ماضی میں شادی سے پہلے ہمیشہ ترکی میں میرے گھر میں قیام کرتے تھے ۔تمام انسانوں کو ایک حدود کے اندر رہتے ہوئے کسی بھی شخص کوپسند نا پسند کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے لیکن یہ حق حاصل نہیں کہ وہ حقائق کو جانتے بوجھتے بھی توڑ موڑ کر پیش کرے اور دشمنی میں اتنا آگے نکل جائے کہ واپسی کی راہ ممکن نہ ہو کیوں کہ حقائق ایک نہ ایک دن ضرور ابھر کر سامنے آجاتے ہیں ۔راقم یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ ایک دو دفعہ تو آپ غلط تصویر پیش کرسکتے ہیں لیکن ہر بار ہر گز نہیں ، کیونکہ ایسا کرنے سے انسان کا اعتبار اٹھ جاتا ہے۔ مجھے اس وقت شدید دھچکا لگا کہ جب اس شخص نے راقم کے اتاترک دشمن ہونے اور اپنی تحریر وں میں اتاترک کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے ( ترکی میں اتاترک کے خلاف بیان دینے یا نازیبا الفاظ استعمال کرنے کی صورت میں قانون کے تحت سزا دی جاسکتی ہے اور متعلق شخص کو ڈی پورٹ بھی کیا جاسکتا ہے) کا الزام لگاتے ہوئے مجھے مقدمے میں پھنسانے کی کوشش کی تھی لیکن روزنامہ جنگ کے آرکائیو نے مجھے اس صورتِ حال سے نکالا اور میں نے اپنے تمام کالم ترجمے کے ساتھ عدالت میں پیش کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس صورتِ حال سےبچایا ۔ یہاں اس واقعہ کو پیش کرنے کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ حقائق ایک روز لازمی طور پر سامنے آتے ہیں اس لیے میری اس عظیم ہستی سے درخواست ہے کہ وہ بے شک اپنے آپ کو ترکی کے ایکسپرٹ کے طور پر پیش کریں لیکن پاکستان اور ترکی کے تعلقات کا ضرور خیال رکھیں۔
آج میں صرف ایردوان کی انتخابات میں کامیابی پر ہی روشنی ڈالنا چاہتا تھا لیکن قارئین نے سوشل میڈیا پر ایردوان حکومت سے متعلق تبصرے کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے حقائق پیش کرنے کی درخواست کی تھی ۔ جیسا کہ پہلے عرض کرچکا ہوں کہ صدر ایردوان د نیا کے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے واحد عوامی منتخب شدہ ( واحد جماعتی نظام کے تحت نہیں ) لیڈر ہیں ۔ راقم نے اپنے گزشتہ ہفتے کے کالم میں صدر ایردوان کے اکیاون یا با ون فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے پہلے ہی رائونڈ میں منتخب ہونے اور تین سو کے لگ بھگ پارلیمنٹ کی نشستیں حاصل کرنے سےآگاہ کیا تھا اور ایسا ہی ہوا اور ایردوان پہلے ہی راؤنڈ میں باون فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے صدر منتخب ہوگئے ہیں جبکہ ان کی جماعت کو پارلیمنٹ کی چھ سو میں سے 295 نشستیں حاصل ہوئی ہیں جبکہ ان کے اتحاد ہی میں شامل’’اتحادِ جمہور‘‘ میں نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی (MHP) نے 49 نشستیں حاصل کرتے ہوئے قانون سازی کے لئے اکثریت حاصل کرلی ہے۔ یہاں پر یہ بھی عرض کرتا چلوں نئے نظام کے تحت صدر ایردوان قومی اسمبلی سے باہر ہی حکومت تشکیل دے سکتے ہیں قومی اسمبلی سے کسی بھی رکن کو لینے کی صورت میں اس شخص کو قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہونا پڑے گا اور صدر ایردوان قومی اسمبلی میں محدود تعداد میں اراکین پارلیمنٹ ہونے کی وجہ سے کسی بھی رکن کو اپنی کابینہ میں شامل نہیں کریں گے۔ ترکی میں گزشتہ اتوار کو منعقد ہونے والے صدارتی اور قومی اسمبلی کے عام انتخابات کی سب سے اہم بات ترکی بھر میں ان انتخابات کا بڑے پر سکون طریقے سے منعقد ہونا ہے اور 87فیصد رائے دہندگان کی جانب سے اپنا اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا جانا ہے جوکہ یورپ اور امریکہ کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے اور ایک ریکارڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان انتخابات کی ایک اور اہم بات ری پبلکن پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار محرم اِنجے کا اپنی پارٹی کے چیئرمین کے لیے درد سر بن جانا ہے اور حالات یہی بتا رہے ہیں کہ پارٹی چیئرمین کمال کلیچدار اولو اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے۔ ’’ گڈ پارٹی‘‘ جو کہ نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کا حصہ تھی انتخابات کے بعد ایک بار پھر نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی اور اتحادِ جمہور کا حصہ بن کر قومی اسمبلی میں صدر ایردوان کا ہاتھ مضبوط کر دے گی۔ صدر ایردوان کو قومی اسمبلی میں اپنی پسند کے قوانین پاس کروانے میں مشکلات کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور یوں صدر ایردوان کلی طور پر اختیارات کے مالک بن جائیں گے۔ ان انتخابات میں ’’گڈ پارٹی‘‘ ا ور ’’پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی‘‘ دس فیصد کا Thresholdعبور نہ کر تیں تو پھر ان دونوں جماعتوں کی جیتی ہوئی نشستیں خود بخود دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت یعنی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ کو منتقل ہو جاتیں ۔ ان انتخابات میں ’’اتحادِ ملت‘‘ میں شامل ’’سعادت پارٹی‘‘ کو صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں منہ کی کھانا پڑی ہے اس کے ووٹروں نے پارٹی کے چیئرمین ’’تے میَل قارا مولا‘‘ کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے صدر ایردوان اور ان کی پارٹی کو ووٹ دیا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں