آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بارسلونا میں ’ کشمیر کی آواز سنو ‘ سیمینارمقامی و ہسپانوی کمیونٹی کی شرکت

وائس آف کشمیر ایسوسی ایشن اسپین کے زیر اہتمام صوبہ کاتالونیا کے دارالحکومت بارسلونا کے میوزیم ماریتم ہال میں ’ کشمیر کی آواز سنو ‘ سیمینار منعقد ہوا جس میں کشمیری، پاکستانی اور مقامی ہسپانوی کمیونٹی نے بھر پور شرکت کی ۔

سیمینار کا اہتمام ایسوسی ایشن کے صدر نامدار اقبال خان ایڈووکیٹ نے کیا تھا ۔ سیمینار میں آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود خصوصی طور پر شریک ہوئے جبکہ صدارت کے فرائض قونصل جنرل بارسلونا عمران علی نے ادا کئے ۔

سیمینار کے اسٹیج سیکرٹری طاہر رفیع تھے ۔ سیمینار کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام سے ہوا جس کی سعادت قاری عبدالرحمٰن نے حاصل کی ۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نامدار اقبال خان ، زاہد ہاشمی ، ڈاکٹر عرفان مجید راجہ ، راجہ سونی ، ساجد گوندل ، قونصل جنرل بارسلونا اور بیرسٹر سلطان محمود سمیت دوسرے مقررین نے کہا کہ دنیا کی بڑی طاقتوں اور اقوام متحدہ کو دوہرا معیار ختم کرتے ہوئے کشمیر میں ہونے والے بھارتی آرمی کے مظالم کے خلاف آواز بلند کرنا ہو گی ۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں برہان وانی کی شہادت کے بعد آزادی کی آگ بھڑک اُٹھی ہے اور وہ دن دور نہیں جب کشمیری بھائی آزادی کا سورج دیکھیں گے ، انہوں نے کہا کہ بھارتی افواج نے مقبوضہ وادی میں نہتے کشمیریوں پر جو بربریت اور ظلم کیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں لیکن اس کے باوجود مغربی ممالک آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک میں مقیم پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ یورپی ممبرز پارلیمنٹ اور مقامی کمیونٹی تک مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں تاکہ یہ لوگ اپنے اپنے پلیٹ فارم سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے آواز بلند کر سکیں ۔

اس موقع پر روزنامہ جنگ اور جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر سلطان محمود کا کہنا تھا کہ میں نے کاتالونیا پارلیمنٹ کا دورہ کیا اور وہاں ممبرز پارلیمنٹ سے مسئلہ کشمیر پر بات کی ہے اور اسی طرح میں اب اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ جاؤں گا تاکہ وہاں یورپی ممبرز پارلیمنٹ اور وفاقی کابینہ کے ممبرز سے اس حوالے سے بات کر وں کیونکہ اسپین پاکستان کا دوست بھی ہے اور یہ ملک مسئلہ کشمیر کو سمجھتا بھی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ نے از خود بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بہت سی قراردادیں پاس کی ہیں ، انہوں نے کہا کہ بڑی طاقتوں کو چاہئے کہ وہ انڈیا پر زور دیں تاکہ وہ اپنی آرمی مقبوضہ کشمیر سے باہر نکالے اور کشمیریوں کو اپنی مرضی سے جینے کا حق دے ۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ بریگزٹ کے بعد ان یورپی ممالک سے علیحدہ ہو جائے گا اس لئے ہمیں اب برطانیہ سمیت ان یورپی ممالک کے ممبرز پارلیمنٹ سے زیادہ سے زیادہ ملنا ہوگا تاکہ سب مل کر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کر سکیں ۔

بیرسٹر سلطان محمود کا کہنا تھا کہ مودی سرکار کے حکم پر بھارتی آرمی نے جو ظلم و بربریت مقبوضہ کشمیر میں کی ہے اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ، انہوں نے کہا کہ کشمیری ماؤں بہنوں کی عصمت دری معمول بن چکا ہے ، نوجوانوں کو شہید کرنا یا انہیں بے گناہ جیل میں ڈال دینا کہاں کا انصاف ہے ؟

انہوں نے کہا کہ دنیا کی بڑی طاقتون اور امن کے ٹھیکیداروں کو کشمیر یوں کی آزادی کے حوالے سے کچھ کرنا ہوگا کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو بر صغیر کے خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا جو ساری دنیا کے لئے کسی خطرے سے کم نہیں ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں