آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

٭سِیاحت یا سَیّاحت؟

ایک غلط تلفظ ،جو اب بہت عام ہوچلا ہے وہ ’’سیّاحت ‘‘ہے ۔عربی کے لفظ ’’سِیاحت ‘‘ میں تشدید بالکل نہیں ہے ۔ نہ اس میں سین کے اوپر زبر ہے۔ اس میں سین کے نیچے زیر ہے، اس لیے اسے ’’سَیّاحت ‘‘ بولنا قطعاًغلط ہے۔ یہ ’’سِیاست ‘‘ کے وزن پر ہے، جو بہت سِیاست کرے اسے عربی کے قاعدے سے ’’سَیّاس‘‘ کہیں گے اور جو بہت سِیاحت کرے، اسے ’’سَیّاح ‘‘(تشدید کے ساتھ)کہتے ہیں، یعنی سَیّاح میں تو تشدید ہے، لیکن سِیاحت میں بالکل نہیں ہے۔ اسی طرح سیاح کے سین پر زبر ہے ۔ سیّاح میں تشدید کی وجہ سے سیاحت میں بھی تشدید لگادی جاتی ہے، مگر لفظوںکے ساتھ یہ تشدد ٹھیک نہیں ہے۔

٭دست کاری یا دس تکاری؟

تلفظ کی بات چلی ہے تو یاد آیا کہ اردو میں لفظوں کوملا کر لکھنے کا جو رجحان ہے، اس سے بسا اوقات تلفظ میں بڑی گڑ بڑ پیدا ہوجاتی ہے اور اسی لیے رشید حسن خان اور بعض دیگر علماے زبان لفظوں کو توڑ کر لکھنے کے قائل ہیں ۔ مثلاً مجنوں گورکھ پوری کو جب ملا کر مجنوں گورکھپوری لکھا جاتا ہے تو بچے گور کو الگ اورکھپوری کو الگ پڑھتے ہیں۔ اسی طرح دست کاری کو جب ملا کر دستکاری لکھا جاتا ہے تو بچے اسے دس تکاری پڑھتے ہیں ۔

بچے تو خیر بچے ہیں، لیکن اب ٹی وی پر خبریں پڑھنے والے بھی اسے ’’دس تکاری ‘‘ہی بولتے ہیں ۔کل کوکوئی پوچھ لے گا کہ بھئی دس ہی کیوں ؟ بیس تکاری کیوں نہیں؟ کیونکہ انھیں علم ہی نہیں کہ دست، فارسی میں ہاتھ کو کہتے ہیں اور دست کاری کے معنی ہیں ہاتھ کاکام ۔

٭دست گیر یا د س تگیر؟

اسی طرح کراچی میں ایک علاقہ ہے دست گیر کالونی، جس کا نام اب مختصر ہوکر صرف دست گیر ہوگیا ہے، لیکن شاید ہی کوئی اسے ’’دست گیر‘‘ بولتا ہو،کیونکہ اسے عام طور پر ملا کر یعنی دستگیر لکھا جاتا ہے اور اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی اسے ’’دس تگیر‘‘ پڑھتے ہیں۔یہاں بھی فارسی کا دست، یعنی ہاتھ ہے او ر’’گیر ‘‘ فارسی کے گرفتن یعنی پکڑنا سے ہے، گیر کا مطلب ہے پکڑنے والا۔ گویا دست گیر کے معنی ہیں ہاتھ پکڑنے والا۔ مرادی یا مجازی معنی ہیں مددگار، حامی و ناصر۔ اللہ تعالی کو بھی کہتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ آپ کی دست گیری کرے اور آپ لفظوں کے تلفظ کی درست’’ادائی‘‘ کیا کریں ۔

٭غیظ یا غیض؟

غیظ عربی کا لفظ ہے اور قرآن شریف میں بھی آیا ہے اور اسی املے کے ساتھ آیا ہے۔اس کے معنی ہیں غصہ، قہر۔ اسے’’ظ‘‘ کی بجاے ’’ض‘‘ سے یعنی غیض لکھنا بالکل غلط ہے۔ درست املا ہے : غیظ۔اسی طرح ترکیب کا درست املا ہے ’’غیظ و غضب‘‘، ناکہ غیض و غضب۔ (جاری ہے)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں