آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگر سب کچھ طے شدہ پروگرام کے تحت ہوتا ہے تو اس کالم کی اشاعت تک سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی بیٹی مریم نواز کے ہمراہ پاکستان پہنچ چکے ہونگے اورانہیں پابند سلاسل کیا جا چکا ہو گا۔انکے مخالفین کا دعویٰ تھا کہ وہ وطن واپس نہیں آئیں گے۔ نہایت وثوق سے کہا جاتا رہا کہ وہ لندن میں سیاسی پناہ حاصل کر چکے ہیں۔ مگر اس نوع کے تمام دعوے غلط ثابت ہوئے۔ جیسے ہی نیب کورٹ نے نواز شریف کو گیارہ سال اور مریم نواز کو آٹھ سال قید با مشقت کی سزا سنائی، انہوں نے واپسی کا اعلان کر ڈالا۔ پاکستان کی ستر سالہ سیاسی تاریخ میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں کہ کوئی سیاسی رہنما سزا بھگتنے کیلئے وطن واپس آیا ہو۔ سزا بھگتنا تو دور کی بات، ہمارے ہاں تو عدالت میں حاضری تک سے راہ فرار اختیار کی جاتی ہے۔ سنگین غداری کے مقدمے میں مطلوب(اور مفرور) پرویز مشرف کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہ دبئی میں پر تعیش زندگی بسر کر رہے ہیں، تاہم کسی عدالتی بلاوے کو اہمیت دینے پر آمادہ نہیں۔ ایک حالیہ انٹرویو میں نواز شریف نے انکشاف کیاکہ انہیں وطن واپسی سے روکنے کیلئے کئی پیغامات موصول ہوئے۔وعدہ کیا گیا کہ ایسی صورت میں انکی اپیل کے معاملات "طے" کر لئے جائینگے۔ ایسی کاوشیں پانامہ لیکس مقدمے کے ہنگام میں بھی ہوئیں کہ اگر وہ پاکستان واپس نہ آنے کی یقین

دہانی کروا دیں تو تمام مقدمات ختم ہو سکتے ہیں۔ نواز شریف نے وہ آفر مسترد کر دی تھی ۔اور اب بھی کسی پیام کو خاطر میں نہیں لائے۔
پارٹی قائد کی جرات مندانہ واپسی، کارکنان کیلئے یقیناََ باعث تقویت ہو گی۔یہ امر بھی مسلم لیگ (ن) کے وابستگان کیلئے باعث تسکین ہے کہ دو سال کی کڑی تحقیقات کے بعد بھی انکے قائد پر ایک پائی کی کرپشن اور عہدے کا غلط استعمال ثابت نہیں ہو سکا۔ یہاں تک کہ نیب جج محمد بشیرنے بھی فیصلے میں لکھاکہ "استغاثہ کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں کر سکی"۔سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوہدری اور ایس ۔ایم۔ ظفر جیسے مسلم لیگ(ن) کے نقاد بھی اسے ایک کمزور فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔ یقیناََمسلم لیگ (ن) انتخابی مہم میں، اس نکتے کا پرچار کرے گی۔ واپسی کے اعلان کے بعد سے نواز شریف کے مخالفین حوا س باختہ دکھائی دیتے ہیں۔ خاص طور پرتحریک انصاف کے ہر جلسے کا محور نواز شریف کی واپسی اور ممکنہ استقبال ہے۔ عمران خان نے نواز شریف کے استقبال کیلئے آمادہ سیاسی کارکنان کو "گدھے "قرار دے ڈالا ہے۔عوام کیلئے ایسے الفاظ کا استعمال نہایت افسوسناک ہے۔کم از کم دو برسوں سے ایسے دعوے، تجزیے اور تبصرے ہوتے رہے ہیں کہ نواز شریف عوامی مقبولیت کھو چکے ہیں۔سمجھ سے بالا ہے کہ اگر ایسا ہی ہے تو پھر ایک "غیر مقبول" شخص ہماری قومی سیاست اور صحافت کا مرکز و محور کیوں بن چکا ہے؟ اخبارات اور ٹی وی چینلز دیکھ کر تو یوں نظر آتا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کے علاوہ ملک میں کوئی دوسرا موضوع ہی نہیں ہے۔ یہ کیسا "نا اہل" شخص ہے کہ جسکا سیاسی وزن کم ہونے میں ہی نہیں آ رہا؟
اچھی بات یہ ہے کہ انتخابات اپنے وقت پرمنعقد ہونگے۔ تاہم یہ بات پیش نظر رہے کہ پاکستان میں انتخابات کی تاریخ کچھ زیادہ اچھی نہیں رہی۔ ہماری اکثر مشکلات انتخابات ہی سے شروع ہوئیں۔ کونسا پاکستانی بھلا سکتا ہے کہ 1970 کے پہلے عام انتخابات کے نتائج نے ہمیں بہت بڑے بحران سے دوچار کر دیا۔ یہ بحران پاکستان کو دو لخت کر گیا۔ بعد کے انتخابات بھی کچھ زیادہ ہموار نہیں رہے۔ انتخابات کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ عوام پورے انتخابی عمل پر یقین کریں، وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ تمام سیاسی جماعتوں کیساتھ یکساں سلوک ہو رہا ہے۔ وہ تسلی کر لیں کہ تمام سیاسی رہنما آزادی کیساتھ اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ انہیں یہ بھی اعتماد ہو کہ نہ صرف الیکشن کمیشن بلکہ نگران حکومت اور انتخابی عمل سے تعلق رکھنے والے تمام ادارے بھی کامل طور پر غیر جانبدار ہیں۔ وہ الیکشن کے دن بھی انتخابات کے آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ عمل کو دیکھیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ انتخابی نتائج لوگوں کی توقعات، رائے عامہ کے جائزوں اور عام تاثر کے مطابق ہوں۔ اگر یہ سب کچھ نہ ہو تو انتخابی نتائج مشکوک اور متنازع ہو جاتے ہیںاور جب خلق خدا کو انتخابی نتائج پر یقین نہ رہے تو سیاسی انتشار ملک کا مقدر بن جاتا ہے۔
اس کالم میں ایک سے زائد بار کہا جا چکا ہے کہ انتخابات 2018 کی ساکھ متاثر ہوئی تو یہ پاکستان کیساتھ بہت بڑی زیادتی ہو گی اور پہلے سے مختلف مسائل میں گھرا ہوا پاکستان کئی نئے مسائل میں گھر جائے گا۔ صورتحال اس وقت یہ ہے کہ گزشتہ پانچ سال حکومت کرنے اور تمام انتخابی جائزوں میں دوسری جماعتوں پر برتری رکھنے والی جماعت، مسلم لیگ (ن) کھلے عام پری پول رگنگ یعنی قبل از وقت دھاندلی کے الزامات لگا رہی ہے۔ اسکی دلیل یہ ہے کہ پارٹی قائد کو پہلے وزیر اعظم ہائوس سے نکالا گیا۔ پھر عمر بھر کیلئے نا اہل کر دیا گیا اور اب اسے گیارہ سال کی قید با مشقت سنا دی گئی ہے اور انکی بیٹی مریم جو پہلی بار انتخاب لڑنے جا رہی تھی، اسے بھی آٹھ سال قید با مشقت سنا دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ قید مکمل ہونے کے بعد وہ دس سال تک الیکشن نہیں لڑ سکیں گی۔ گویا وہ آنے والے اٹھارہ برس تک انتخابات سے باہر کر دی گئی ہیں۔ اگر احتساب عدالت کا فیصلہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ٹیسٹ پر بھی پورا اترتا ہے تو اسکا نتیجہ یہ ہو گا کہ میاں صاحب کیساتھ ساتھ مریم بھی سیاست سے باہر ہو جائیں گی۔ مسلم لیگ (ن) اس سارے عمل کو نا انصافی اور زیادتی کا نام دیتی ہے اور پاکستانیوں کی اچھی خاصی تعداد اس پر یقین بھی کرتی ہے۔
میاں نواز شریف اور مریم نواز کی پاکستان آمد سے قبل کارکنوں کی پکڑ دھکڑ، راستوں کی بندش اور خوف و ہراس کی فضا نے ایک بار پھر نہایت منفی پیغام دیا ہے۔ آج کل تو ساری سیاسی جماعتیں انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ آزادانہ جلسے کر رہی ہیں۔ ریلیاں نکال رہی ہیں۔ ان پر کسی طرح کی کوئی پابندی نہیں۔ ان حالات میں اگر مسلم لیگ کے حامی، نواز شریف اور مریم کے استقبال کیلئے ائیر پورٹ آجاتے ہیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ عوام کو بخوبی یاد ہے کہ اس ملک میں آزادی اظہار رائے اور شہری آزادیوں کے نام پر 126 دن کا دھرنا دیا گیا تھا۔ آزادی کے نام پر پارلیمنٹ، سرکاری ٹی وی اور ایوان وزیر اعظم پریلغار کی گئی۔ کفن لہرائے گئے تھے اور سڑکیں کھودی گئی تھیں۔ چینی صدر کا طے شدہ دورہ پاکستان ملتوی ہوا تھا اور 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں میں تاخیر ہوئی تھی۔ 2014 کی اس سرگرمی کا مطمح نظر منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹنا تھا ۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) کسی کا تختہ الٹنے یا احتجاج کے لئے نہیں اپنے قائد کے استقبال کے لئے ائیر پورٹ جانا چاہتی ہے۔ کارکنوں کو روکنے کی غرض سے ہونے والے اقدامات کی وجہ سے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے نگران حکومت کی غیر جانبدار ی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اس سارے منظر نامے سے مسلم لیگ (ن) کے اس بیانیےکو تقویت مل رہی ہے کہ اسکے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔
دوسری بڑی جماعت، پیپلز پارٹی نے بھی اب کھلے الفاظ میں دھاندلی کی شکایات شروع کر دی ہیں۔ پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ اسکے ارکان کو بھی جبراََ توڑ کر کسی اور گروپ میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح کی باتیں ایم۔ ایم۔ اے کے رہنمائوں، مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق کی طرف سے بھی آئی ہیں۔اے۔ این۔ پی کے ایک امیدوار ہارون بلور جوشہید کر دئیے گئے اور انہیں بھی انتخابات کی غیر جانبداری کے حوالے سے تحفظات تھے۔ یہ اچھے اشارے نہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں