• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کمیونیکیشن اِسکلز کامیابی کی کنجی

ہم زندگی میں جو علم حاصل کرتے اور ہنر سیکھتے ہیں، ان میں سب سے اہم علم اور ہنر مؤثر انداز میں اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا ہے۔ بنیادی طور پر پیغام کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کو کمیونی کیشن یا ابلاغ کہا جاتا ہے۔پیغام پہنچانے کے لیے آواز، تحریر(پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا)، تصاویر (لوگو، نقشہ، چارٹ وغیرہ) یا پھر اشاروں (باڈی لینگویج، بات چیت کا انداز اور ٹون) کااستعمال کیا جاتا ہے۔ ایک شخص کی ’کمیونی کیشن اسکلز‘ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ کس قدر مؤثر انداز میں اپنا پیغام پہنچاتا ہے اور اس کے پیغام کو، کس قدر اس کی اصل روح کے مطابق وصول کیا جاتا ہے۔

نوے کے عشرے اور دو ہزار کے عشرے کے اوائل کو ’آئی ٹی ‘ یعنی انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور کہا جاتا تھا، تاہم جب اس غبارے سے ہوا نکلی تو دنیا ’آئی سی ٹی‘ یعنی انفارمیشن کمیونی کیشن ٹیکنالوجی میں ڈھل گئی۔ اس طرح دنیا، قدیم پتھروں کے دور یعنی ’اسٹون ایج‘ سے ارتقاء پاتی، جدید آئی سی ٹی کے دور میں داخل ہوگئی ہے۔ اسٹون ایج میں وہ افراد نہایت ہی قابل اور کامیاب سمجھے جاتے تھے، جو پتھر کا بہترین استعمال کرسکتے تھے، اسے بہترین اشکال میں ڈھالنے اور اس کے ذریعے زندگی کو آسان بنانے کا فن جانتے تھے۔ اسی طرح، آج کے دور میں وہی شخص کامیاب اور قابل سمجھا جاتا ہے، جو اس دور میں انفارمیشن اور کمیونی کیشن کو بہترین انداز میں استعمال کرسکتا ہو۔ خوش قسمتی سے یہ ہنر سیکھنا کوئی ناممکن بات نہیں۔ یہ دُرست ہے کہ کچھ لوگ قدرتی طور پر اچھے ’کمیونیکیٹر‘ ہوتے ہیں، البتہ یہ ہنر سیکھا بھی جاسکتا ہے اور تھوڑی سی مشق سے آپ اس میں تاک ہوسکتے ہیں۔

دراصل، ہر انسان میں کچھ خوبیاںہوتی ہیں، جن کی بنیاد پر وہ پہچانا جاتا ہے اور وہی خوبیاں اس کے لیے کامیابی کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ انسان جس جگہ اپنی توجہ مرکوز کر دے، اُس کی تمام توانائیوں کا رُخ بھی وہیں مُڑ جاتا ہے، اس کے علاوہ مقصد، منصوبہ بندی اور اسی طرح کی بے شمار ایسی خصوصیات اور فلسفے ہیں، جو کامیاب انسانوں میں پائے جاتے ہیں۔ کامیابی ایک سائنس ہے اور جب آپ اس کا مطالعہ کرتے ہیں تو آپ کو ان سب نظریات اور فلسفوں سے گزرنا پڑتا ہے، یہ سیکھ کر ہی آپ اپنی زندگی بدلتے اور کامیابی حاصل کرتے ہیں۔

انسانی زندگی میں کمیونیکیشن کا استعمال اس کے پیدا ہونے کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے۔ اس بات کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ ایک بچہ پیدا ہونے کے ساتھ ہی رونے لگتا ہے۔ اس بچے کا رونا درحقیقت، کمیونی کیشن یا ابلاغ ہے۔ ہم اس دنیا میں آتے ساتھ ہی جو پہلا کام کرتے ہیں، وہ اپنی باہر کی دنیا سے ابلاغ کرنا ہوتا ہے اور اسی ایک عمل سے ہمیں تمام عمر واسطہ رہتا ہے، یہی ایک چیز ایک کامیاب انسان کو عام انسان سے ممتاز کرتی ہے۔ کامیاب لوگ بہترین ’کمیونیکیٹر‘ ہوتے ہیں، انہیں اپنی بات کہنے کا فن آتا ہے، یہ دوسرے کو اپنی بات سمجھانے میں ماہر ہوتے ہیں، اور یہ لوگوں کو قائل کرنے اور مُتاثر کرنے پر بھی ملکہ رکھتے ہیں۔

کوئی انسان چاہے کتنا بھی قابل ہو اور اُس میں کامیاب لوگوں کی کتنی بھی خصوصیات ہوں، وہ تب تک سرفراز نہیں ہوسکتا، جب تک اُسے ابلاغ کا فن نہ آتا ہو۔ آپ نے کئی لوگ ایسے دیکھےہوں گے، جن کی قابلیت پر لوگ شک کرتے ہیں مگر وہ معاشی اور معاشرتی طور پر دوسروں کے مقابلے میں کافی آگے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ دوسرے کو مُتاثر کرنا، قائل کرنا اور مطمئن کرنا بخوبی جانتے ہیں۔ ہر وہ انسان جو آج کی دنیا میں کامیاب ہے، اُس کے پاس مؤثر ابلاغ کا ہنر ہے۔آپ بہترین انداز میں ’کمیونیکیٹ‘ کرنا سیکھ لیجیے، آپ کی زندگی میں بے شمار مثبت تبدیلیاں درآئیں گی۔

ایسے میں ایک سوال یہ اُبھرتا ہے کہ وہ لوگ جو بول نہیں سکتے، کیا وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے؟ اس کا سادہ سا جواب تو یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے، ایسے لوگ بھی زندگی میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ درحقیقت، صرف بولنا ہی ابلاغ نہیں ہوتا، بلکہ اس کے کئی دیگر ذرائع بھی ہیں جیساکہ لکھنا، تخلیقی کام اورباڈی لینگویج، ان سب کے ذریعے بھی ابلاغ کیا جاتا ہے۔ آجکل خیالات اور سوچ کے ابلاغ کا دور ہے اور جو ان سب پر مہارت حاصل کرلے، وہ زندگی کے ہر میدان میں آگے بڑھ سکتا ہے۔

ابلاغ بنیادی طور پر اپنے وجود کا مؤثر اور مکمل احساس دِلانے کا نام ہے۔ ضروری نہیں ایک ’بیسٹ سیلر‘ کتاب، ’بیسٹ رِٹن‘ (بہترین لکھی ہوئی) کتاب بھی ہو، مگر وہ ایک چیز جو کسی عام سے لکھاری کو بیسٹ سیلر بناتی ہے، وہ یہی ابلاغ کی مہارت ہے، جو لوگوں کو اس کی کتاب خریدنے پر مجبور کردیتی ہے۔

اس بحث کا لُب لَباب یہی ہے کہ، آج کے دور میں کسی بھی میدان میں اعلیٰ سطح پر کامیابی پانے کے لیےتین چیزیں درکار ہیں:انفارمیشن، کمیونی کیشن اور ٹیکنالوجی۔

آج کے دور میںمعلومات، اثاثے کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ کئی بڑی کمپنیاں محض اپنے پاس موجود خاص معلومات کی بناء پر ہی چل رہی ہیں اور ٹیکنالوجی نے تو ابلاغ یا کمیونی کیشن کو مزید ضروری بنا دیا ہے اور موجودہ دور میں جو بھی بہتر طریقے سے ’کمیونیکیٹ‘ کرسکتا ہے، کامیابی اس کا مقدر ہے۔ یہ فن آپ کو ممکنات اور مواقع کے ایک نئے جہان سے روشناس کراتا ہے۔

تازہ ترین