آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہیپاٹائٹس کی علامت اور علاج

دنیا میں اس وقت ہیپاٹائٹس کےتقریباً پینتیس کروڑ کے لگ بھگ مریض ہیں۔ جن میں ڈیڑھ کروڑ پاکستانی بھی شامل ہیں، یہ تعداد پاکستان کی آبادی کا سات فیصد بنتا ہے۔ یہ موذی مرض تقریباً ہر ماہ ہزاروں کی تعداد میں پاکستانیوں کی جان لے لیتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہیپاٹائٹس کے مرض کی کل پانچ اقسام ہیں، جو ہیپاٹائٹس اے، بی، سی، ڈی اور ای کہلاتی ہیں۔ سب سے عام اور خطر ناک اقسام ہیپاٹائٹس بی اور سی ہیں۔ پاکستان میں اس مرض سے متاثرہ ڈیڑھ کروڑ یا پندرہ ملین میں سے ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مریضوں کی تعداد چودہ ملین ہے۔مجموعی طور پر ایک وائرس کی وجہ سے لگنے والا اور اکثر دائمی شکل اختیار کر جانے والا یہ مرض دراصل جگر کی ایک بیماری ہے۔سالانہ بنیادوں پر پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے وائرس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد طبی ماہرین کے اندازوں کے مطابق سوا سے ڈیڑھ لاکھ کے درمیان ہے۔

ہیپاٹائٹس اے

طبی ماہرین کے مطابق، ہیپاٹائٹس اے زیادہ خطرناک بیماری نہیں ہے اور یرقان کی اِس قسم میں مبتلا مریض بہت سے کیسز میں اکثر بغیر علاج معالجے کے صحت یاب ہوجاتے ہیں۔ تاہم، اِس کا مطلب بیماری کی علامات کو ہرگز نظرانداز کرنا نہیں، طبی مشورہ ضروری ہے۔

ہیپاٹائٹس بی

بھوک کا نہ لگنا، اسہال، تھکاوٹ کا احساس، جِلد اور آنکھوں میں پیلاہٹ ، پٹھوں، جوڑوں اور معدے میں درد کا ہونا اس کی علامات میں شامل ہے۔طبی ماہرین کے مطابق، اگر ہیپاٹائٹس بی کے مرض کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو اِس سے نا صرف جگر کا کینسر ہو سکتا ہے، بلکہ یہ ہلاکت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق ہر سال صرف امریکا میں 3000سے 5000لوگ ہیپاٹائٹس بی کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ یہ بیماری خون یا پھر متاثرہ انسان کے باڈی فلوئڈ کے ذریعے پھیلتی ہے۔

احتیاطی تدابیر کے علاوہ اِس بیماری سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام بچوں کو پیدائش کے فوری بعد ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے جائیں اور18ماہ کے اندر ٹیکوں کے کورس کو مکمل کرلیا جائے۔اِس کے علاوہ وہ بچے جو 18سال سے کم عمر کے ہوں اور اُنھیں بچپن میں ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ کے ٹیکے نہ لگے ہوں اُنھیں بھی یہ ویکسین دی جاسکتی ہیں۔ٹیکوں کے بعد بخار یا جِلد کا سرخ ہونا خطرے کی بات نہیں ہے۔ لیکن، ویکسی نیشن کے بعد اگر سانس لینے میں دشواری ہو، دل کی دھڑکن بہت تیز یا پھر بہت کم ہو اور بہت زیادہ کمزوری کا احساس ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق پیپاٹائٹس بی کی ویکسین کا استعمال محفوظ ہے۔

ہیپاٹائٹس سی

دائمی یا کرانِک ہیپاٹائٹس سے مراد جگر کی ایسی سوزش ہے جو چھ ماہ سے زیادہ عرصہ تک قائم رہے- اس کے لاحق ہونے کی وجہ، وائرس سے نجات حاصل کرنےسے جسم کی ناکامی، کسی خطرناک دوا کا استعمال ترک کرنے میں مریض کی ناکامی، خودبخود پیدا ہونے والی اینٹی باڈیز یا دوسرے ایسے عوامل جو سوجن کا باعث بن سکیں، ہوتی ہے- ہیپاٹائٹس سی کے پچھتر سے اسی فیصد مریضوں میں یہ دائمی صورت اختیار کر سکتا ہے- دائمی ہیپاٹائٹس کی علامات یا تو بالکل ظاہر نہیں ہوتیں یا پھر اتنی کم اور سست رو ہوتی ہیں کہ انہیں آسانی سے نظرانداز کیا جاسکتا ہے، جب تک کہ جگر کا نقصان ناقابلِ تلافی حد تک نہ پہنچ جائے۔ انتہائی سست روی کے ساتھ اثر کرنے والا یہ انفیکشن 20سال سے زائد عرصے تک موجود رہے تو جگر کو شدید نقصان پہنچاتا ہے - یہی وجہ ہے کہ بہت سے افراد کو علم نہیں ہوتا کہ ان کو دائمی ہیپاٹائٹس سی ہے اور اس کا اس وقت علم ہوتا ہے جب کسی بھی وجہ سے خون کا ٹیسٹ کروایا جائے اور جگر کے غیر معمولی نتائج سامنے آئیں- زیادہ تر صورتوں میں طبی معائنہ مکمل طور پر معمول کے مطابق ہوتا ہے لیکن کچھ میں جگر قدرے بڑا اور نرم ہوسکتا ہے- کرانک ہیپاٹائٹس کی ایک علامت یہ ہے کہ جگر کے ٹیسٹوں میں مختلف وقفوں میں (عام طور پر ہفتوں کے دوران) نتائج کے درمیان بہت زیادہ اتار چڑھاؤ کا رحجان پایا جاتا ہے، یعنی کبھی تو نتائج بالکل معمول کے مطابق ہوتے ہیں اور کبھی غیرمعمولی۔

ہیپاٹائٹس سی کی تشخیص کے لیے کیے جانے والے ٹیسٹ:

مریض کے جسم میں ہیپاٹائٹس سی کی موجودگی کو چیک کرنے کے لئے ڈاکٹر مریض کے خون کا ٹیسٹ کرے گا اور یہ خون کا ٹیسٹ ہی مریض کے جسم میں موجود ہیپاٹائٹس سی کے ہونے ،نہ ہونے یا اس کے ابتدائی اور انتہائی مرحلے کی نشاندہی کرے گا۔ڈ اکٹر مریض کے جگر کی بایوپسی بھی کر سکتا ہے۔ یہ ایک سادہ سا ٹیسٹ ہے ، جس میں ڈاکٹر آپ کے جگر کے ایک ننھے سے حصے کو نمونے کے طور پر سوئی کی مدد سے نکالتا ہے اور یہ تجزیہ کرتا ہے کہ اس پر ہیپاٹائٹس سی کے کس قدر اثرات ہیں اور اس نے آپ کے جگر کو کتنا نقصان پہنچایا ہے۔

ہیپاٹائٹس سی کا علاج:

ہیپاٹائٹس سی کا علاج انٹرفیرون نامی انجکشن کی مدد سے کیا جاتا ہے، اس کے ساتھ ریباوائرن کیپسول کو بھی ملا لیا جاتا ہے۔اگر آپ کو ایک لمبے عرصے سے ہیپاٹائٹس سی ہے تو آپ کو سرجری کی بھی ضرورت پڑسکتی ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ ہیپاٹائٹس سی آپ کے جگر کی کارکردگی کو روک دیتا ہے،جس سے زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔اگر ایسا ہوجائے توآپ کو نئے جگر کی ضرورت ہو گی۔اسے جگر کی پیوند کاری کہا جاتا ہے،جس میں پرانے اور ناکارہ جگر کو نکال کر کسی عطیہ دینے والے سے نیا اور صحت مند جگر لے کر لگا دیا جاتا ہے۔

ہیپاٹائٹس سی کے پھیلاؤ کو کس طرح کم کیا جائے:

ہیپاٹائٹس سی کے پھیلاؤ کو کم کرنے،خود کو اور دوسروں کواس بیماری سے بچا نے کے لئے کچھ احتیاطی اقدامات پر عمل کرنا ضروری ہے،جیسے کہ:

1- دوسروں کی استعمال شدہ سرنج استعمال نہ کریں۔

2- دوسروں کے خون کو ہاتھ لگانے سے قبل دستانے پہن لیں۔

3- اگر آپ نے اپنے جسم پر نقش و نگار یا کوئی نام وغیرہ گدوانا ہو تو براہِ کرم متعلقہ اوزاروں کی صفائی کا اطمینان کر لیں۔

4- ڈینٹسٹ اور حجام کے استعمال شدہ اوزار استعمال نہ کریں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں