آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
آسام کے مسلمانوں پر منڈلاتے خطرات

بھارت میں بی جے پی کی حکومت نے ریاست آسام کے 40 لاکھ سے زیادہ باشندوں کی بھارت کی شہریت خطرے میں ڈال دی ہے۔ لیکن فی الوقت یہ کہا جارہا ہے کہ یہ لوگ اگلے دو مہینوں ،یعنی ستمبر تک اپنابھارتی شہری ہونا ثابت کرسکتے ہیں اور اگر وہ اس میں کام یاب ہوگئے تو ان کے نام شہریوں کی فہرست میں  شامل کرلیے جائیں گے۔

اس کہانی کا پس منظر یہ ہےکہ آسام کے دارالحکومت میں ایک نیشنل رجسٹر آف سٹیزنزیا قومی فہرست ہے جس میں بھارتی شہریوں کے نام درج ہیں۔اب اس فہرست پر نظر ثا نی کے دوران بڑی تعداد میں مسلم آبادی کی شہریت پر سوال اٹھایا گیا ہے۔

آسام شمال مشرقی بھارت میں واقع ہے اوربہت بڑ ے دریا، برہم پتر کے ساتھ آباد ہے۔ اس کے شمال میں بھو ٹان اور اروناچل پردیش ہیں اور مشرق میںبھارت کے د یگر صوبے ناگالینڈ اور منی پور، جنوب میں میگھالہ، تری پو ر ہ، میزورام اور بنگلادیش واقع ہیں۔ مغرب میں مغربی بنگال ہے جس میں سلی گری (Siliguri) کی صرف بائیس کلومیٹر چوڑی پٹی ہے جو بھارت کے اس شمال مشرقی حصےکو ملک سے ملاتی ہے۔ اس خطے میں روایتی طور پربرما اور بھارت کے حکم راں صدیوں جنگیں لڑتے رہے ہیں۔ جب برطانیہ نے ہندوستان پر قبضہ کیا تواس خطے میں اینگلوبرما ہوئیں اور پھر 1940 تک یہاں برطانیہ قابض ہوگیا۔ابتدامیں تو آسام بنگال پر یزیڈنسی کا حصہ رہا،مگر1906 میں تقسیمِ بنگال ہوئی تو اسے مشرقی بنگال و آسام صوبے کا نام دیا گیا۔ 1911 میں بنگال کو پھر متحد کیا گیا تو آسام کو چیف کمشنر کے تحت صوبے کا درجہ دیا گیا۔ آزادی سے قبل بیسویں صدی کے نصف اول میں یہاں کانگریس کی نمائندگی گوپی ناتھ بوردو لوئی (Bordoloi) کررہے تھے ،ان کے مخالف، مسلم لیگ کےرہنماسرسعید اللہ تھے جو مولانابھاشانی کے ساتھ مل کر قیامِ پاکستان کی تحریک چلارہے تھے۔

بیسویںصدی کے اوائل میں برطانوی ہندوستان کے 8 صوبے تھے یعنی، برما، بنگال، مدراس، بمبئی، یو پی، سی پی، پنجاب اور آسام۔ شمالی مشرقی ہندوستان کا تقریباً تمام علاقہ آسام میں شامل تھا ،مگر یہ برطانوی ہندوستان کا آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا اوربنگال سب سے بڑاصوبہ تھا۔

 آزادی کے وقت آسام کے ضلع سلہٹ کو پاکستان میں شامل کردیا گیا تھا۔ آزادی کے بعد بھارت میں صوبوں کی حدود میں ردوبدل کا اختیار مکمل طور پر مرکزی حکومت کو دے دیاگیا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ جب بھی کسی صوبے کے لوگوںنے کسی صوبے کو توڑ کر مزید صوبے بنانے کا مطالبہ کیا تومرکزی حکومت نے کچھ تامل کے بعد مزید صوبے بنا د یے ۔ جن صوبوں کو توڑا گیا انہوں نےکبھی پورا ملک توڑنے کی باتیں نہیں کیں۔1963 میں آسام کے ناگا قبائل کے مطا لبےپر آسام کو توڑ کر ناگالینڈ کو الگ صوبہ بنادیا گیا۔ پھر 1972 میں آسام کو مزید توڑ کر میگھالہ کا صوبہ الگ کیا گیا۔ پھر میزورام اور اروناچل پردیش کو بھی صوبوں کا درجہ دے دیا گیا۔ آسام میں کشیدگی کی ایک بڑی وجہ یہ رہی ہے کہ وہاں صوبائی حکومت نےوقتاً فوقتاً آسامی زبان کو سب پر مسلط کرنے کی کوشش کی جس سے دیگر لسانی اور مذہبی گروہ پریشان ہوکر علیحدگی کے دعوے کرنے لگے ۔

سابق مشرقی پاکستان میں1971 میںبنگلادیش کے قیام کی تحریک شروع ہوئی تو بڑی تعداد میں بنگالی مسلمان مشرقی پاکستان سے ہجرت کرکےآسام میں پناہ لینےپر مجبور ہوگئے تھے۔ ان کی تعداد لاکھوں میں تھی ۔انہیں آسام کے مسلمانوںنے پناہ دی اور بھارتی حکومت نے بھی ان کی مدد کی تھی۔ مگر بنگلادیش بننے کے بعد ان مسلمانو ں کی بڑی تعداد،جو بنگالی تھی، آسام ہی میں رہ گئی۔ تاہم بنگلادیش بننے کے بعد بھی بڑی تعداد میں مسلم آبادی آسام منتقل ہوتی رہی۔بنگلادیش سے مسلم آبادی کا وہاں منتقل ہونا اس لیے اہم تھا کہ آسام سے پورے بھارت میں جاکر رہنا اورکام کرنابہت آسان تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ بنگلادیش رقبے کےلحاظ سے بہت چھوٹا تھا اور وہاں ترقی اور ملازمت کے مواقعے بہت کم تھے۔

آسام میں1980 کے عشرےمیں ایک تحریک شروع ہوئی جس کے تحت مطالبہ کیا گیا کہ غیرملکی بنگالیوں کو ،جو زیادہ ترمسلمان تھے،آسام سے نکال باہر کیا جائے۔مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ ان کا تحفظ کیا جائے۔ اس بہانے 1983 میں وہاں بڑا قتل عام ہوا جسے نیلی (Nellie) کا قتل عام کہا جاتاہے جس میں ہزاروں بنگالی مسلمانوں کو آسامی ہند و ئو ں نے قتل کردیا تھا۔ اس وقت آسام کی آبادی تین کر و ڑ نفوس پرمشتمل ہے اوروہاں 2012 میں بھی بڑے فسادات ہوچکے ہیں جوبوڈوقبائل سے تعلق رکھنے والوںاوربنگالیوں کے درمیان ہوئے تھے۔ بوڈو قبائل کو بوڈو بھی کہا جاتا ہے۔ وہ خود کو آسام سے الگ کرکےبوڈو لینڈکے نام سے صوبہ  بنانا چاہتے ہیں۔تاہم وہ اب تک اس کوشش میں ناکام رہے ہیں۔اس ناکامی پر وہ آسام میں مقیم بنگالی مسلمانوں پر حملے کرتے رہے ہیں۔آسام میں اس وقت ساٹھ فی صد ہندو اور پینتیس فی صد مسلمان آباد ہیں۔ باقی پانچ فی صد میں مسیحی اوربودھ مت وغیرہ کے ماننے والے شامل ہیں۔ آسام کی نصف آبادی آسامی زبان بولتی ہےاور تقریباً تیس فی صد آبادی بنگالی بولتی ہے۔ ہندی اور بوڈو زبان بولنے والے بہ مشکل پانچ پانچ فی صد ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے آسام کی حکومت نے صوبے میں رہنے والوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنی شہریت کے کاغذات جمع کرائیں تاکہ ان کی جانچ پڑتال کی جاسکے۔اس پر تین کروڑ تین لاکھ سے زیادہافرادنےمتعلقہ کاغذات جمع کرادیےتھے۔ان میں سے دو کروڑنوےلاکھ افراد کے کا غذات درست قراردیےگئے۔اب چالیس لاکھ افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی بھارتی شہریت کے مزید ثبوت جمع کر ا ئیں۔اس طرح یہ چالیس لاکھ مسلمان اب بے وطنی کے د ہا نےپر کھڑے ہیں، کیوں کہ ان سے کہا جارہاہےکہ وہ بھا ر تی شہری نہیں ہیں۔ انہیں ستمبر تک اپنے بھارتی شہری ہونے کے ثبوت فراہم کرنا ہوں گے۔ گو کہ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ان کی شہریت کا حتمی فیصلہ ہونے تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی، مگر تفصیلی چھان بین ضرور ہوگی جس کا نتیجہ مسلمانوں کے خلاف نکل سکتا ہے۔

بھارتی حکومت کے ان اقدامات کےبعدآسام کے بنگالی نژاد مسلمان بہت بے چینی کا شکا رہیں اور انہیں خطرہ ہے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی برما کے روہنگیا مسلمانوں جیسا سلوک نہ کیا جائے۔ آسام میں اس وقت تقریباایک کروڑ مسلمان آبادہیں۔اگر ان میں سے چالیس لاکھ کی شہریت ختم کردی گئی تو بہت بڑے فسادات ہونے کا خطرہ ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی کی حکومت 2019 میں ہونے والے عام انتخابات سے پہلے مسلم دشمنی کی ایک نئی لہراٹھاناچاہتی ہے تاکہ ہندو ووٹ اسے ہی ملیں۔ بی جے پی کا یہ ہی طریقہ رہا ہے۔اس نے مسلسل مذہبی بنیاد پرستی پھیلاکر ووٹ حاصل کیےہیں، کبھی رام مندر کے نام پراور کبھی گئورکھشا یا گئوماتا کی حفاظت کے نام پر۔

اس وقت بی جے پی گجرات کےپچھلے انتخابات کے بعد خطرے سے دوچار ہے، کیوں کہ ان میں بی جےپی جیت تو گئی، مگر خلافِ توقع اس کی اکثریت کم ہوگئی تھی۔چناں چہ اسے خطرہ ہے کہ بھارت کے عام انتخابات میں بھی غیرمتوقع طور پر وہ ہارسکتی ہے۔

اکثر آسامی مسلمانوںکا کہنا ہے کہ وہ صدیوںسے و ہا ں آباد ہیں اور ان کے درست کاغذات کو بھی غلط قراردیا جا ر ہا ہے۔چوں کہ وہاں کی زیادہ تربنگالی مسلم آبادی ان پڑھ یا معمولی پڑھی لکھی ہےاس لیے وہ اپنا مقدما موثر طور پر پیش نہیں کرسکتی، نہ ہی اس کے پاس اتنےوسائل ہیں کہ وہ وکیل کرسکے۔دوسری جانب سرکاری وکیل ان کی مدد نہیںکر تے ۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ آنےوالےدن بھارتی اور خاص طو رپرآسامی مسلمانوں کے لیے خاصے سخت ثابت ہو ں گے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں