آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جنگلی پودے میں اینٹی بایوٹک اجزا دریافت

حال ہی میں سوئٹزر لینڈ کے ماہرین نے ایک عام اور جنگلی پودے میں طاقتور اینٹی بایو ٹکس دریافت کی ہے ۔اس وقت بیماریوں کے خلاف اینٹی بایو ٹکس ادویات کی بہت زیادہ کمی ہورہی ہے ،کیوں کہ جرا ثیم اور وائرس کی بدلتی ہوئی کیفیت کی وجہ سے یہ ادویات کو بے اثر کررہی ہے ۔اس لیے ماہرین کئی پودوں ،مٹی اور کھاد یہاں تک کہ سمندر کی گہرائیوں میں بھی اینٹی بایو ٹکس کو دریافت کرنے میں سر گرداں ہیں ۔

اس جنگلی پودے سے اینٹی بایوٹکس کو سوئٹزرلینڈ میں قائم ای ٹی ایچ زیورخ یونیورسٹی کے شعبہ خرد حیاتیات کے ماہرین کے مطابق یہ جنگلی پودا ’’تھیل کریس ‘‘ کئی اینٹی بایو ٹکس کا خزانہ ہو سکتا ہے ۔سائنس دانوں نے اس کے پتوں میں ایسے مرکبات (کمپائونڈز ) در یافت کیے ہیں ۔جن سے بآسانی اینٹی بایو ٹکس تیا ر کی جاسکتی ہیں ۔آج کئی بایو ٹکس مٹی میں موجود بیکٹیریاسے حاصل کی جارہی ہیں ،تا ہم ایک تحقیق کے مطابق جنگلی پودوں میں اینٹی بایوٹکس کا خزانہ پایا جاتا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تھیل کریس جہاں اُگتی ہے وہاں غذائی اجزا کم ہوتے ہیں اور پتے دبائو میں رہتے ہیں ۔اس پر موجود بیکٹیریا کئی طر ح کے اجزاخارج کرتے رہتے ہیں ۔یہ اجزا اینٹی بایوٹکس بنانے میں اہم کر دار ادا کرتے ہیں ۔

تحقیق کار پر وفیسر وور ہولٹ کے مطابق صرف گھاس کے پتوں سے 200 اقسام کے بیکٹیریا ملے ہیں ۔تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ مختلف اقسام کے بیکٹیریا کے درمیان 725 سالماتی (مالیکیولر ) ری ایکشن ہورہے ہیں ۔بعض ری ایکشن میں تو ایک قسم کے بیکٹیریا دوسری اقسام کے بیکٹیریا کی نشو ونما کو روکتے ہوئے پائے گئے ۔ماہرین کے مطابق اس قسم کے اور اجزا تلاش کرنے میں تھوڑا وقت درکار ہو گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں