آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل6؍ صفر المظفّر 1440ھ16؍اکتوبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

علامہ اقبال نے دعا کی تھی ’’جوانوں کو پیروں کا استاد کر ‘‘۔عمران خان نے کہا ’’میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے لیے ایک نیا نوجوان لارہا ہوں، یہ نوجوان کلین ہوگا، اس پرکسی قسم کا کوئی سوالیہ نشان نہیں‘‘اور پنجاب اسمبلی کے سارے نوجوان ایم پی ایز اکڑ اکڑ کے چلنے لگے (اللہ تعالیٰ ان کی کچھ کر جانے کی اکڑ ہمیشہ قائم رکھے )

جوانی کا ہے ایماں بجلیوں پر مسکرا دینا

جوانی کا ہے مذہب آگ پانی میں لگا دینا

اس اعلان کے بعد تو تمام نوجوان ایم پی ایز نے اپنی اپنی کوششیں تیز تر کر دی ہیں کہ دو چار ہاتھ لب بام رہ گیا ہے۔اس وقت فضا میں جہاں پنجاب کی حکمرانی کا ہما اڑ رہا ہے وہاں کئی نام گونج رہے ہیں ۔ابھی میں راجہ یاسر ہمایوں کا نام سُن رہا ہوں۔اب حسنین بہادر دریشک کا نام ہوائوں کے دوش پر ہے ۔تھوڑی دیر پہلے فواد چوہدری اور مراد راس کے نام بھی بہت نمایاں تھے ۔چکوال کے یاسر ہمایوں شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں ۔ایچی سن کالج سے لے کر فلوریڈا کی یونیورسٹی تک کئی علمی فتوحات کی اسناد اسکے پاس ہیں۔ چکوال میں کیمبرج یونیورسٹی سے منسلک مائر کالج اسکے کار ہائے نمایاں میں سے ایک ہے۔عمران خان نے اسے بلایا اور کہا کہ میں تمہیں کوئی بڑا عہدہ دینا چاہتا ہوں تو نوجوان نے فورا کہا ’’آپ مجھے پنجاب کا وزیر تعلیم بنا دیں ۔میری زندگی کا مقصد تعلیم کا فروغ ہی ہے ‘‘۔واقعہ صرف اتنا ہے۔باقی سب کہانی ہے یا عمران خان کے ذہن کوپڑھنے کی کوشش ِ ناتمام ۔ حسنین بہادر دریشک کا تعلق راجن پور سے ہے۔یہ نوجوان بنیادی طور پر انجینئر ہے۔اور پرویز الٰہی کے دور میں پنجاب کا وزیر خزانہ ہوا کرتا تھا۔ مراد راس گجرات سے تعلق رکھتاہے۔اس نے برنس ایڈمنسٹریشن میں کیلی فورنیا کی ایک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔پچھلی اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی کا ایم پی اے تھا۔فواد چوہدری بھی انہی کے ہم عمر ہیں ۔پی ٹی آئی کے زیادہ تر لوگوں کا یہی خیال ہے کہ اگر کسی نوجوان کو بنانا ہی ہے تو فواد چوہدری ہی سب سے بہتر ہے۔اسی سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ انتہائی سخت اپوزیشن کا مقابلہ کرتے ہوئے پنجاب میں اچھی حکمرانی کی مثال قائم کرے۔اور اگر کسی نوجوان کو بنانا ضروری نہیں تو پھر سبطین خان سے زیادہ اِس عہدے کا کوئی اہل نہیں۔ اگر وزیر اعلیٰ سرائیکی علاقے سے لیا گیا تو پہلے سو دنوں میں صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کے ساتھ ہی پنجاب کے لئے نئے وزیر اعلیٰ کی تلاش کا کام شروع ہوجائے گا۔یعنی اس حکومت میں پنجاب کے ایک نہیں دو وزیر اعلیٰ ہوں گے۔

خیبر پختونخوا میں عمران خان نے محمود خان کو وزیر اعلیٰ نامزد کیا ہے ۔یہ نام بھی غیر متوقع طور پر سامنے آیاہے۔میرے خیال میں محمود خان کو وزیر اعلیٰ بنانے میں دوباتوں کابہت اہم کردار ہے۔ایک تو یہ کہ اس نے پوری سوات ویلی سے کسی اور کو جیتنے ہی نہیں دیا۔دوسرا اُس کی بے داغ شخصیت پر پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے تمام گروپ متفق تھے ۔ایسے موسم میں اتفاق کے پھول کم ہی کھلتے ہیں ۔

داخلہ کی وزارت کےلیے شیخ رشید ، پرویز خٹک ، غلام سرور خان ۔ چوہدری سرورکے درمیان کشمکش جاری ہے ۔کسی زمانے میںغلام سرور خان اوورسیز کے منسٹر ہوا کرتے تھے ۔اُس زمانے میں اس منسٹری نے بے تحاشا کام کیا تھا۔انہیں اوورسیز کی وزارت ملنی چاہئے ۔ماضی میں شیخ رشید نے ریلوے کی منسٹری میں کئی کارہائے نمایاں سرانجام دئیے ۔ان کےلئے ریلوے کی منسٹری مناسب رہے گی۔وزیر ریلوے کےلئے علیم خان کا نام بھی لیا جارہا ہے ۔چوہدری سرور ایک کامیاب بزنس مین ہیں اگر انہیں وزیرِتجارت بنایا جائے ۔تو وہ بہت کامیاب رہیں گے۔

پرویز خٹک ہی وہ واحد شخصیت ہیں جو وزیر داخلہ بنائے جا سکتے ہیں۔وزیر خارجہ کےلئے تین نام آرہے ہیں خسرو بختیار ، فخرامام،عندلیب عباس ۔ان میں خسرو بختیار ہی بہتر ہیں ۔فخر امام ہو سکتے ہیں مگر وہ خاصے بزرگ ہوگئے ہیں وہ اسی طرح کے منسٹر ہوں گے جیسے نواز حکومت میںسر تاج عزیز تھے ۔فنانس منسٹر کےلئے اسد عمرکے ساتھ عمر ایوب کا نام لیا جارہا ہے مگر اسد عمر اس میدان میں زیادہ اہلیت رکھتے ہیں ۔وزیر اطلاعات کےلئے فواد چوہدری سے بہتر کوئی نہیں ۔اگرچہ ان کا نام وزیر اعلیٰ پنجاب کےلئے بھی لیا جارہا ہے ۔وزیر دفاع یقیناً شیریں مزاری ہونگی ۔بابر اعوان اگر گورنر پنجاب نہ بنا دئیے گئے تو ان سے بہتر وزیر قانون اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ان کے بعدقانون کی وزارت کےلئے بیرسٹر حماد اظہر مناسب ہیں ۔گورنر پنجاب کےلئے اسحاق خاکوانی اور عمر چیمہ بھی کوشش میں ہیں ،خیبر پختون خوا کے گورنر کےلئے ناصر درانی کا نام لیا جارہا ہے ،گورنر سندھ کےلئے ابھی تک عمران اسماعیل کا نام فائنل ہے ۔ان سے پہلے اس عہدے کےلئے نعیم الحق اور اسد عمر کے بھائی منیر کمال کی لابنگ ہوتی رہی ۔ وزیر اعلیٰ پختون خوا کےلئے عاطف خان کا نام بھی تقریباً طےہو چکا ہے ۔مذہبی امور کی وزارت کےلئے پی ٹی آئی کے پاس نور الحق قادری سے بہتر شخصیت موجود نہیں ۔اسپیکر قومی اسمبلی کا عہدہ بہت زیادہ عزت و تکریم والا عہدہ ہے اورشاہ محمود قریشی کے شایان ِ شان ہے ۔ڈپٹی اسپیکر کےلئےرزتاج گل کا نام آرہا ہے ۔خیال ہے کہ ایک ہی صوبے سے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے ہونے کی روایت پہلے موجود نہیں اس لئے ممکن ہے کہ شہریار آفریدی کو یہ ذمہ داری سونپ دی جائے۔

وزارتیں کافی باقی ہیں ابھی ۔ اور شخصیات کے نام بھی۔ دو وزارتیں تو قاف لیگ کے حصے میں آنی ہیں۔ ایک وزارت ایم کیو ایم کو بھی دی جانی ہے۔اطلاع کے مطابق ایم کیو ایم پورٹ اینڈ شپنگ اور محنت و افرادی قوت کی وزارت کی خواہش مند ہے۔ پورٹ اینڈ شپنگ کی وزارت سے توہر دور میں ایم کیو ایم کو خاصی دلچسپی رہی ہے۔وزارتوں کی دوڑ میں جو لوگ شریک ہیں ان میں علیم خان ،شفقت محمود ،میاں محمد سومرو، یار محمد رند ، عارف علوی ،اعظم سواتی ،اسد قیصر،مراد سعید، عارف علوی، علی زیدی ،فیصل واوڈا ،فہمیدہ مرزا اور علی امین گنڈا پور شامل ہیں ۔ اگر کوئی اور شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ وزیر بننے کا اہل ہے تو رابطہ کرے ہم اس فہرست میں اُس کا نام بھی شامل کر لیں گے ۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں