آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ذوالحجہ 1439ھ 19؍اگست 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد(نمائندہ جنگ) عدالت عظمیٰ نے ایگزیکٹ کے چینل کی توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران نجی ٹیلی ویژن چینلوں کی ریٹنگ دینے والی کمپنی، میڈیا لاجک کے ریٹنگ جاری کرنے پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے اس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او )سلمان دانش کو عدالتی حکم پر عدم عملدرآمد پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کر تے ہوئے آئندہ سماعت پر ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا ہے جبکہ پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن ( پی بی اے) کی قانونی حیثیت کا جائزہ لینے کیلئے پیمرا سے جواب طلب کرلیا ہے ،چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا ء بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے جمعرات کے روز نجی ٹیلی ویژن چینل کو ریٹنگ نہ دینے سے متعلق اس کے منیجر ایڈمنسٹریشن ،عثمان شاہد کی چیئرمین پیمرا کے خلاف دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی تو ، فاضل چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود ابھی تک نجی چینل کو ریٹنگ کیوں نہیں دی گئی ہے؟ تو درخواست گزار کے وکیل انور منصور نے بتایا

کہ میڈیا لاجک والوں نے صرف ایک پاس ورڈ دیاہے ،میڈیا لاجک کے وکیل نے بتایا کہ ریٹنگ کا عمل شروع کر دیا ہے،جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت نے میڈیا لاجک کے سربراہ کو طلب کیا تھا، چیف جسٹس نے کہا کہ وہ کیوں نہیں آئے؟جس پرمیڈیا لاجک کے وکیل نے بتایا کہ میڈیا لاجک کے سی ای اوسلمان دانش کینیڈا گئے ہوئے ہیں ،ان کی اہلیہ کی سرجری ہے،وہ 29 اگست کو واپس آئینگے،جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت کیساتھ فراڈ نہ کریں،چیف جسٹس نے کہا کہ کم از کم سپریم کورٹ کے حکم پر تو عمل ہونا چاہیے ، سلمان دانش کو توہین عدالت پر شوکاز جاری کررہے ہیں، عدالتی حکم کے بعد سلمان دانش بیرون ملک گئے ہیں ،جسٹس اعجازالا حسن نے کہا کہ ہم نے کہا تھا کہ عدالتی حکم پر عمل نہ ہوا تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں گے، کیامیڈیا لاجک اورپی بی اے کے گٹھ جوڑ نے مناپلی قائم کررکھی ہے، عدالت کے استفسار پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئر رضوی نے بتایا کہ پی بی اے نے ریٹنگ جاری کرنے کا میکنزم بنایا ہوا ہے،جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ میڈیا لاجک کو کس نے ریٹنگ جاری کرنے کا اختیار دیا ہے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ یہ ایک پرائیویٹ کمپنی ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ، تاہم کمپنی نے اپنے طور پرہی ریٹنگ جاری کرنے کا میکنزم بنایا ہوا ہے ،جسٹس اعجازلا حسن نے کہا کہ میڈیا لاجک کہتا ہے کہ جو چینل پی بی اے کا ممبر ہوگا صرف اسے ہی ریٹنگ ملے گی ، جس پرجسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ پی بی اے اور میڈیا لاجک نے ریٹنگ کے لئے مناپلی بنا رکھی ہے جو آرٹیکل 19 کے خلاف ورزی ہے، کیا کوئی ایڈورٹائیزر پی بی اے اور میڈیا لاجک کا پابند ہے،فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ جو چینل پی بی اے کا ممبر نہیں بنناچاہتا کیا اس کو جینے کا حق نہیں ؟دوسرے کا کاروبار روکنے کا کسی کو اختیار نہیں،بعد ازاں فاضل عدالت نے پیمرا کو میڈیا لاجک کو ڈی لسٹ کر نے کا حکم جاری کرتے ہوئے سی ای او سلمان دانش کو عدالتی حکم عدولی پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا اور پی بی اے کی قانونی حیثیت کا جائزہ لینے کیلئے پیمرا سے جواب طلب کرلیا ، پیمرا کو نجی چینل کی ریٹنگ جاری کرنے کے بھی احکامات جاری کرتے ہوئے دیگر کمپنیوں کو بھی ایک ہفتے میں ریٹنگ کا اختیار جاری کرنے کا حکم جاری کیااور کیبل آپریٹرز کی درخواست پر پیمرا اور دیگر فریقین کوبھی نو ٹس جاری کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں