آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ14؍ صفر المظفّر1440ھ 24؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغان طالبان اور افغانستان کی حکومت نے افغانستان کے جنوب مشرقی شہر غزنی کو اپنے کنٹرول میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق افغان حکام کا کہنا ہے کہ غزنی میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن کیا ہے۔

غزنی پر طالبان کے مسلسل حملوں کے بعد امریکی فوج نے شہر میں طالبان کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد فضائی حملے کیے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ طالبان نے گزشتہ روز شہر پر حملہ کرکے رہائشی علاقوں میں گھروں پر قبضہ کرلیا تھا، طالبان ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور بھی تباہ کر دیا تھا۔

افغان حکام کا کہنا ہے غزنی کے مختلف حصوں میں صورت حال کنٹرول میں ہے،شہر کے مغربی حصے میں وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں جبکہ وسطی حصے میں معمولات زندگی بحال ہیں،ٹیلی کام سروسز منقطع کردی گئی ہیں۔

غزنی میں گزشتہ روز شروع ہونے والی جھڑپوں میں 16افراد ہلاک اور 30زخمی ہوئے۔

دوسری جانب طالبان نے شہر میں کئی چیک پوسٹوں اور سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرنے اور درجنوں سیکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا

اور ایک ہیلی کاپٹر کو بھی مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

افغان فورسز کا کہنا ہے کہ فورسز کی جوابی کارروائی میں درجنوں طالبان جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

علاقہ مکینوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے طالبان جنگجوؤں کو سڑکوں پر آزادانہ گشت کرتے دیکھا ہے، بلکہ طالبان نے مساجد سے اعلان کر کے شہریوں کو گھروں تک ہی محدود رہنے کے لیے بھی کہا ہے۔

افغان فورسز اور طالبان دونوں جانب سے حملوں کے بعد علاقہ مکین گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ،طالبان جنگجوئوں کو علاقے سے نکالنے کے لیے سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ کی،غزنی پر طالبان کے حملے کے بعد شہر میں افغان اسپیشل فورسز بھی تعینات کردی گئی ہے۔

واضح رہے کہ کابل سے تقریبا دو گھنٹے کی مسافت پر واقع صوبہ غزنی پر کئی ماہ سے طالبان کے قبضے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی فورسز کی جانب سے فضائی حملے کیے گئے جن میں طالبان کو بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں