آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’بلیو ویل ‘گیم کی دہشت کے بعد ’مو مو‘ کے نام سے ایک نیا چیلنج گیم سامنے آیا ہے جس کی وجہ سے آنے والے دنوں میں نوجوانوں اور بچوں کی اموات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ’مومو‘ نام کے چیلنج گیم کی وجہ سے ہی ارجنٹائن کی 12 سالہ بچی کی موت واقع ہوئی ہے ۔

اصل میں ’مومو‘ مختلف سوشل میڈیا جیسے واٹس ایپ، فیس بک اور یوٹیوب پر ایک اکاؤنٹ ہے۔ یہ اکاؤنٹ خواتین کی ڈراؤنی تصاویر پر مشتمل آرٹ ورک کا استعمال کرتا ہے۔

بلیو وہیل گیم کی طرح مومو چیلنج میں بھی شریک افراد کو مخصوص احکام پر عمل کرنے کا کہا جاتا ہے، ان احکامات میں اجنبی فون نمبروں پر لوگوں سے رابطہ کرنے اور اسی طرح کے دیگر کام کرنے کا کہا جاتا ہے۔

اگر کوئی احکامات پر عمل نہ کرے تو اسے زیادہ پرتشدد تصاویر دکھا کر خوفزدہ کیا جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مومو جاپان، کولمبیا اور میکسیکو کے تین فون نمبروں سے مربوط ہے۔

ان نمبروں پر رابطہ کرنے پر فون کرنے والے کی خاصی بے عزتی کی جاتی ہے، انہیں ایسے اشارے دئیے جاتے ہیں، جیسے دوسری طرف موجود شخص آپ کو ذاتی طور پر جانتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بچے نفسیاتی طور پر جلد ’مومو ‘کے قابو میں آ جاتے ہیں۔

واضھ رہے کہ انٹرنیٹ پر صارفین ’موموم چیلنج ‘ہیش ٹیگ کے ساتھ ایک دوسرے کو اس چیلنج کے بارے میں آگاہ کر رہے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں