آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آئندہ چوبیس گھنٹے میں قومی اسمبلی کے تاریخ ساز اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بطور وزیراعظم منتخب ہوکر ملکی قیادت سنبھالنے والے ہیں،آج دنیا بھر کی نظریں پاکستان کی طرف ہیں کیونکہ عالمی شہرت یافتہ عمران خان گزشتہ ایک عرصے سے ایک ایسانیا پاکستان بنانے کے عزم کا اعادہ کررہے ہیں جہاں بانی پاکستان قائداعظم کے وژن کے مطابق مستحکم معیشت، قانون کی بالادستی اور کرپشن کا خاتمہ یقینی بنایا جاسکے ۔بلاشبہ یہ ایک خوش آئند امر ہے کہ سولہ برس قبل ایک سیٹ جیتنے والی پی ٹی آئی نے حالیہ انتخابات میںملک بھر سے اپنے آپ کو قومی جماعت کے طور پر منوایا ہے۔امریکہ، برطانیہ، بھارت سمیت عالمی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو زیادہ ترممالک میں دوجماعتی نظامِ سیاست رائج ہے،انگریزوں کے تابع ہندوستان کی سیاست میں بھی دو جماعتیں آل انڈیا مسلم لیگ اور انڈین نیشنل کانگریس سرگرم عمل تھیں، عرصہ دراز سے پاکستان کی سیاست بھی دوجماعتوں کے گرد ہی گھومتی رہی ہے، ایسی صورتحال میں عمران خان کا بائیس سال پرامن جمہوری جدوجہد کے بعد تحریک انصاف کو تیسری بڑی قوت منواتے ہوئے برسراقتدار آنا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ یہ ایک اتفاق ہی ہے کہ ملک میں حکومت سازی کا مرحلہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب پاکستانی قوم جشن آزادی روایتی جوش و جذبے سے منا رہی ہے، عمران خان کی کراچی تا خیبر عوامی پذیرائی نے تحریکِ پاکستان کی یاد تازہ کردی ہے جب انگریز سامراج سے آزادی کا خواب آنکھوں میں سجائے لوگوں نے قائداعظم کی قیادت پر بھرپور اظہارِ اعتماد کیاتھا۔ اسی طرح کے اعتماد کا اظہار موجودہ انتخابات کے موقع پر بھی ہوا جب لوگوں نے نیا پاکستان کے نعرے پر پی ٹی آئی کو ووٹ دیئے، بالخصوص کراچی میں امن کے متلاشی شہریوں نے دیگرامیدواروں کی نسبت عمران خان کے بلے کوزیادہ قابلِ اعتماد سمجھا، ملکی تاریخ میں دوسری دفعہ حکومت سازی کا منفرد اعزاز بھی تحریک انصاف کی صوبائی حکومت خیبرپختونخوا کو حاصل ہوا ہے ۔عوام کے ووٹوں کی طاقت سے پی ٹی آئی حکومت سازی کی پوزیشن میں آچکی ہے لیکن میری نظر میں حکومت بنانے سے زیادہ مشکل مرحلہ عوام کی نظروں میں حکومت کا اعتماد بحال رکھنا ہے۔ مجھے عمران خان سے جتنی مرتبہ تبادلہ خیال کرنے کا موقع ملا ہے ، اس سے میں نے اندازہ لگایا ہے کہ وہ پاکستان کو کرپشن فری، منی لانڈرنگ سے پاک اور گڈ گورننس کا شاہکاربنانے کیلئے پُرعزم ہیں، خان صاحب اپنے قومی اہداف کا تعین رواں برس اپریل میں لاہور میں منعقدہ جلسے میں پیش کردہ گیارہ نکاتی ایجنڈے کی صورت میں کرچکے ہیں، میں نے انہیں قومی اہداف کے حصول کی خاطر ابتدائی سو روز کیلئے پائیدارلائحہ عمل مرتب کرنے کیلئے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، میرا موقف ہے کہ کامیاب حکومت سازی کا دارومدار درست ٹیم کے انتخاب پر ہوتا ہے، درست ٹیم ممبر کی اہلیت کا معیار ایمانداری اور وفاداری کے ساتھ قابلیت اور اہلیت بھی ہونا چاہئے۔قائداعظم کے تمام ساتھی اور تحریک پاکستان کے اکابرین خلوص اور ایمانداری میں اپنی مثال آپ تھے لیکن آزادی کے بعد جب ملک چلانے کیلئے کابینہ بنانے کا وقت آیا تو قائداعظم نے میرٹ کو ترجیح دی اور ایسے ساتھیوں کو منتخب کیا جو اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرسکیں، اب یہ ہماری بدقسمتی تھی کہ تقدیر نے قائداعظم کو آزادی کے فقط ایک سال بعد جدا کردیا اورجوگندرناتھ منڈل جیسے مخلص قائداعظم کے ساتھی جنہیں خود بانی پاکستان نے اپنی کابینہ میں بطور وزیر قانون شامل کرکے اہم قومی ذمہ داریاں سونپیں، انہیں ملک چھوڑنا پڑا۔ دورِ جدید میں کوئی ملک عالمی برادری سے کٹ کر تنہا نہیں رہ سکتا، اس کی ایک مثال شمالی کوریا ہے جس نے طویل عرصے بعد عالمی برادری سے سفارتی تعلقات استوار کرنے کی پالیسی اپنا لی ہے، میری نظر میں پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی خالصتاََ قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے بنانا ہوگی،ہمیں سمجھنا چاہئے کہ عالمی سفارتکاری کے میدان میں نہ تو کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ کوئی مستقل دشمن، ہر ملک کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کو ترجیح دے۔ اسی طرح کسی بھی شعبے میں کامیابی کےحصول کا ایک آزمودہ فارمولہ ہے کہ متعلقہ شعبہ میں کامیاب افراد کی حکمت عملیوں اور تجربات سے استفادہ کیا جائے، آج اگر تحریکِ انصاف ملک کو مضبوط اقتصادی قوت میں ڈھالنے میں سنجیدہ ہے تو ہمیں عالمی برادری کے مستحکم معیشت کے حامل ممالک کو اپنا رول ماڈل بنانا ہوگا،اس سلسلے میں میری تجویز ہے کہ ہماری اقتصادی و تجارتی پالیسیاں ہمسایہ دوست ملک چین کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کی جائیں،چین ہمارے بعد آزاد ہوا اور ہم سے زیادہ مسائل کا شکار رہا لیکن آج تیزی سے ابھرتی ہوئی سپرطاقت ہے اور مختلف عالمی ممالک چین سے تجارت کیلئے چینی کرنسی کو ترجیح دے رہے ہیں، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تناظر میں دونوں دوست ممالک کو مقامی کرنسی میں تجارت کے حجم میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنا چاہئے،پی ٹی آئی حکومت کیلئے ایک اور سنگین چیلنج پاکستانی روپے کا اعتماد بحال کراتے ہوئے آئی ایم ایف سے چھٹکارہ پانا ہے۔ اگر جنوبی کوریا پاکستانی ماہر معیشت ڈاکٹر محبوب الحق کے اقتصادی پلان کوعملی جامہ پہنا کر مضبوط اقتصادی قوت بن سکتا ہے تو آخر ہم میں کس چیز کی کمی ہے؟ میرے خیال میں پاکستانی قوم صلاحیتوں میں کسی سے کم نہیں لیکن ماضی کی حکومتوں کی غلط پالیسیوں نے عوام کا اعتماد بری طرح مجروح کیا ہے، ایک اور بنیادی مسئلہ استحصال کا ہے جو ہمارے محنتی اور پیداواری طبقے کا کیا جاتا ہے،انگریز کی گماشتہ سامراجی قوتوں نے ایک عام آدمی کے ذہن میں راسخ کردیا ہے کہ حالات کسی صورت بدلنے والے نہیں ہیں اور اس دیس پر استحصالی قوتوں کاراج ہی قائم رہے گا، پی ٹی آئی کی حالیہ تاریخی فتح نے بڑے بڑے سیاسی برج الٹا کر عوام کی حکمرانی کو یقینی بنایا ہے تو اب مختلف مافیاکی شکل میں لوگوں کی محنت اور خون پسینے کی کمائی لوٹنے والے استحصالی نظام کا خاتمہ بھی کیا جانا چاہئے۔پی آئی اے جیسے دیگر قومی اداروں کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ماضی کی نااہل سیاسی بھرتیاں ہیں، عوام پی ٹی آئی حکومت سے توقع کرتے ہیں کہ تمام قومی اداروں سے نااہل سیاسی کارکنوں کو فوری باہر کیا جائے گا۔ پاکستانی سیاست کا المیہ ہے کہ ہارنے والی جماعت دھاندلی کا شوروغل کرکے حکومتِ وقت کے راستے میں روڑے اٹکاتی ہے لیکن عمران خان کی جانب سے حلقے کھلوانے میں تعاون کی پیشکش نے اپوزیشن کو وقتی طور پر پسپا کردیا ہے، مختلف تجزیہ نگار اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، جمیعت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوںپر مشتمل موجودہ اپوزیشن پارلیمانی تاریخ کی سب سے مضبوط ترین اپوزیشن ہے جو ملک گیر احتجاجی سیاست کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر تحریک انصاف ابتدائی سو دنوں میں درست فیصلوں کی بدولت عوام کے اعتماد پر پورا اترنے میں کامیاب ہوگئی تو حکومت کو اپوزیشن سے مستقبل میں بھی کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔ میںیہ بھی سمجھتا ہوں کہ اگر عوام نے پی ٹی آئی کو ملک کے طول و عرض سے ووٹوں سے نوازا ہے تو اب عمران خان کو بھی اپنے آپ کو کامیاب حکمران ثابت کرنے کیلئے مختلف قابلِ تقلید اقدامات اٹھانے ہونگے ، اس حوالے سے میراخان صاحب کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ قائداعظم کے وژن کے عین مطابق ہر تفریق سے بالاتر ہوکر تمام طبقات کی میرٹ کے عین مطابق اعلیٰ سطح پر حکومتی نمائندگی یقینی بنائیں۔خدا ہم سب کو پاکستان کی ترقی و سربلندی کی خاطراپنا مثبت کردار ادا کرنے کی توفیق عطافرمائے۔


(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں