آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ کی نایاب نسل کا چالیس من وزنی بھینسا کراچی میں قربانی کیلئے پیش کردیا گیا ۔ ڈیری فارمر ایسوسی ایشن نے نایاب نسل کے جانور کی فروخت کی مخالفت کرتے ہوئے محکمہ لائیو اسٹاک سندھ نے نایاب نسل کی فروغ کے لئے اس معاملے میں مداخلت کرنے اور اس کی فروخت روکنے کی اپیل کی ہے۔


سیاہ رنگت، مضبوط اور خوبصورت جسامت کا مالک یہ بھینسا کراچی میں لانڈھی کی بھینس کالونی کے ڈیری فارمر حاجی نصراللہ کی ملکیت ہے۔ تین سال 11 ماہ میں غیرمعمولی وزن اور قد کاٹھ پانے والے اس نخریلے جانور کی قیمت 20 لاکھ روپے طلب کی جا رہی ہے۔

مالک کا کہنا ہے کہ قیمت بیس لاکھ روپے ہو بھی کیوں ناں؟ وہ روزانہ پانچ کلوگرام دودھ، ڈیڑھ کلو مکھن یا دیسی گھی، کھل، چوکر، دالیں اور چھلکے کے علاوہ ایک من سبز چارہ کھانے والے اس جانور کے ناز نخرے کچھ اس سے بھی الگ ہیں۔

نصراللہ کا کہنا ہے کہ بھینسا ناز نخروں سے پلا ہے۔ تنہائی پسند اس جانور کی دیکھ بھال کیلئے ہر وقت کوئی نہ کوئی اس پاس رہتا ہے۔ اسی طرح اسے سنبھالنے کے لئے بھی بیک وقت دو افراد چاہئیں۔

مالک کا کہنا ہے کہ مویشی منڈی کے آلودہ ماحول میں وائرس سے بچانے کیلئے بھینسے کی مختلف قسم کی ویکسین بھی کرائی گئی ہے۔

نایاب نسل کے بھینسے کو قربانی کیلئے پیش کرنے پر ڈیری فارمر ایسوسی ایشن کے صدر شاکر عمر نے دورہ کرنے، جانور کا معائنہ کیا اور محکمہ لائیو اسٹاک سے رابطہ کرکے اس کی فروخت روکنے کا کہا ہے۔

شاکر عمر کے مطابق ایسا قیمتی جانور لاکھوں میں ایک ہوتا ہے اس کے ذریعے محکمہ لائیو اسٹاک کو اس نایاب کو آگے بڑھانا چاہئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں