آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار19؍ربیع الاوّل 1441ھ 17؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سید ریاض حسین زیدی

جب جذبے کی آنچ، احساس کے حلقے، سوچ کی لکیر اور تخّیل کی پرواز کو فنی عظمت سے ہم کناری نصیب ہوتی ہے تو ادبِ عالیہ کی تخلیق سے انسانی شعور میں بالیدگی جنم لیتی ہے، فکری تسلسل کو جلا نصیب ہوتی ہے اور دل کی دھڑکن میں حسن و رعنائی کے عناصر، جاگزیں ہوجاتے ہیں۔ ادب ذہن کی پاکیزگی اور جذبے کی نفاست سے ظہور پذیر ہوتا ہے۔ جب سوچ کے وسیع سمندر میں جوار بھاٹا پیدا ہوتا ہے، جب جذبے کی آنچ شعلے کا روپ دھارتی ہے اور جب فکری کی رفعتیں، آسمان کی وسعتوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہیں تو ادب کا لافانی حسن منصۂ شہود پر ابھرتا ہے۔ ادب کی معراج سے دلوں کی کشادگی اور ذہنوں کو وسعت کی لازوال دولت نصیب ہوتی ہے۔

اچھا ادیب، احساسِ شکست سے ناآشنا ہوتا ہے، وہ زندگی کے بے ڈھب، بد وضع اور غلط رویوں سے سمجھوتا نہیں کرتا، وہ خیر کا داعی اور ہنروری کا مداح ہوتا ہے۔ وہ بہتری کی تخلیق اور برائیوں کی تکذیب پر کاربند رہتا ہے۔ انصاف کا پرچم بلند رکھنا، اس کا نصب العین ہوتا ہے۔ حق اور سچائی کی دائمی رفاقت، اس کا توشۂ آخرت ہے۔ غلط کاری سے ذہنی ہم آہنگی ایک اعلیٰ ادیب اور حساس تخلیق کار کے کبھی شایانِ شان نہیں رہی۔ جب کبھی حقائق کا منہ چڑایا جاتا ہے، ناحق کو ’’طرۂ فضلیت‘‘ پہنایا جاتا ہے اور ناانصافی اور تشکیک کو ’’روحِ عصر‘‘ قرار دیا جاتا ہے، جب لایعنیات کو سر آنکھوں پر بٹھانے کا چلن عام ہوتا ہے، سچا ادیب اس رواج کی خبر لیتا ہے اور اسے ہر اعتبار سے بے وقعت قرار دینے کی عملی تدابیر اختیار کرتا ہے، یعنی خود بے معنی اور تشکیک آمیز ادب تخلیق نہیں کرتا۔ 

اس کے اندر کا انسان جاگتا رہتا ہے اور اس کا قلم، ضمیر کی پاکیزگیوں کو آشکار کرنے اور غلط کاریوں کو سرنگوں کرنے کے لیے جہد مسلسل کرتا ہے۔ ہر دور نے اعلیٰ ادیبوں کو جنم دیا ہے۔ وجہ ظاہر ہے کہ ضمیر کی کسک اور فکر کی خلش، کبھی موت سے ہم آغوش نہیں ہوتے، جو لوگ ضمیر کی چبھن اور فکر کی آب داری سے مجروح ہوجائیں، وہ اور تو سب کچھ ہوسکتے ہیں، ادیب اور فن کار نہیں ہوسکتے، جن لوگوں کا ادب سے والہانہ لگاؤ ہوتا ہے، وہ راست باز ہوتے ہیں، ان کے افکار میں کوئی جھول نہیں ہوتا، وہ طمع اور حرض کی چمک سے اپنی آنکھوں کو خیرہ نہیں ہونے دیتے۔ ملکی سالمیت پر ان کا ایمان کسی شک و شبے سے بالا ہوتا ہے۔ مملکت کی نظریاتی اساس، ان کا محور فکر و نظر رہتی ہے۔ وہ مصلحت کے نخچیر نہیں بنتے۔ زمانہ سازی ان کا ذہنی سرمایہ اور قلبی سکون غارت نہیں کرتی۔ وہ کردار کی پختگی کے جاوداں نقوش، جریدۂ عالم پر ثبت کرتے ہیں۔ فکر آمیز متانت اور خیال افروز جذبے کی ضوفشانی اُن کا مقصد ہوتا ہے۔ کسی بیرونی شکست و ریخت سے ہم نوائی، ان کو راس نہیں آتی، کیوں کہ وہ سلامت روی کو متاع فکر و نظر بناتے ہیں اور شرافت سے ناتا جوڑتے ہیں۔ توازن، اعتدال، میانہ روی اور وضع داری کے اوصافِ حمیدہ اُن کے ذہنی و قلبی خدوخال کو نکھارتے ہیں۔ قلم کا دھنی، کسی منفی اکھاڑ پچھاڑ میں حصہ دار نہیں بنتا۔ گروہ بندی میں اپنے آپ کو نہیں جکڑتا، منافرت کی گفتگو میں اپنی زبان کو آلودہ نہیں ہونے دیتا۔ وہ توڑ پھوڑ پر نفرین بھیجتا ہے، وہ اول و آخر دیانت، احساس اور شرافت فکر و نظر کا پاس دار ہوتا ہے اور ان سے دست برداری کا خیال کرنا بھی اپنی توہین گردانتا ہے، جن لوگوں نے قلم کی آبرو کو تاخت و تاراج کیا ہے اور زمانے کی غلط کاریوں سے سمجھوتہ کرنے میں عافیت سمجھی ہے، وہ قلم کاروں کے قافلۂ سخت جان کے کبھی ارکان نہیں رہے۔ وہ اصل میں غلط کاریوں کی اونچی دکان کے بیوپاری ہیں، جن کا تقدیسِ قلم سے دُور کا بھی واسطہ نہیں۔

ہمیں ایسے ادب کی ضرورت ہے، جو لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کو باضمیر بنائے۔ حقائق کی پرکھ اور سچائی کی پہچان کا سلیقہ عطا کرے، نیکی کا خوگر بنائے اور فساد و نظر کی بجائے، طمانیت قلب و جگر کے جوہر سے مالا مال کرے۔ ظاہر ہے کہ ایسا ادب، سچائی سے تعلقِ خاطر جوڑنے اور اس کو اوڑھنا بچھونا بنانے سے ہی معرض وجود میں آسکتا ہے۔ ہم جس آفاقی اور بین الاقوامی ادب کے بلند بانگ نعرے سنتے رہتے ہیں اور جن عالمی انسانی تحریروں کی آوازیں ہمارے کان میں پڑتی رہتی ہیں، ان کا وجود سچائی سے مکمل اور غیر مشروط ہم آہنگی کا مرہونِ منت ہے۔ ہمیں ادب کو مفروضوں اور نام نہاد بیرونی چمک دمک سے محفوظ رکھنا ہے۔ نظم ہو یا نثر، ہر ذریعۂ ابلاغ یہ طرۂ امتیاز اپنے سر پر سجائے رکھے کہ اس سے اقدارِ خیر کی ترویج ہو، اعلیٰ ترین اخلاقی رویوں کی پرورش و پرداخت ہو، لیکن ایسا ادب محض تبلیغ کا خشک اور بے روح گورکھ دھندہ بھی نہ بن جائے۔ ضرورت ہے کہ ہماری قلم کاری کسی مثبت نصب العین کی غماز ہو۔ محض لفظوں کے طومار باندھنا اور مدعا سے برأتِ کلی اختیار کرنا، ادب کی قلم رو سے کوسوں دُور بسنے کے مترادف ہے، لہٰذا ایسا ادب تخلیق ہونا چاہیے، جو ہمیں سچائی، اخلاص اور دروں بینی کا خوگر بنائے۔

قرطاسِ ادب سے مزید