آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جمعرات کے روز جنوبی وزیرستان کے دورے میں قبائلی عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوجی آپریشن کے ذریعے جنگیں ختم نہیں ہوتیں، بحالی اور ترقی ضروری ہے ہم سب مل کر دہشت گردی کو دوبارہ پنپنے نہیں دیں گے، دہشت گردی اور ترقیاتی کام ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف نے اس موقع پر فاٹا انضمام پر قبائلی عمائدین کی کوششوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ پاکستان کا بلاشبہ سب سے بڑا امتحان تھا کہ اس جنگ میں دشمن سرحدوں پر نہیں اپنی صفوں میں موجود تھے اور ملک بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔یہ الگ بات کہ انہیں ہر قسم کی مالی، تربیتی اور انٹیلی جنس اعانت بیرونی قوتوںکی طرف سے حاصل تھی۔ خاص طور پر افغانستان کی زمین اس مقصد کیلئے استعمال ہورہی تھی۔ دہشت گرد اس قدر منظم اور منہ زور ہوگئے تھے کہ پاکستان کے بیشترعلاقے خاص طور پر جنوبی و شمالی وزیرستان اور فاٹا دہشت گردوں کی آماجگاہ بن کر حکومتی عملداری سے باہر ہو چکے تھے۔ ان کی کارروائیوں نے ایک عرصہ پاکستان کو لہو میں ڈبوئے رکھا تھا۔ ان عناصر نے خاص طور پر پاکستان کی اہم قومی اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ حتیٰ کہ ان وحشیوں نے بچوں تک کو نہ چھوڑا۔ آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد میں ان کی قوت

بکھر کر رہ گئی لیکن یہ اب بھی موجود ہیں، اس کی ایک وجہ یہ بھی رہی کہ دہشت گردی کیخلاف ہماری مسلح افواج نے تو اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے اپنا حق ادا کیا لیکن سیاسی محاذ پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوئی یعنی ان علاقوں کے افراد کو قومی دھارےمیں لانے اور بحالی و ترقی کے کام نہ ہوسکے۔ آرمی چیف کا بیان صد فیصد درست ہے کہ آپریشن کے ذریعے جنگیں ختم نہیں ہوتیں کہ کہیں نہ کہیں نفرت و انتقام کا جذبہ باقی رہ جاتا ہے اور اس جذبے کا خاتمہ آپریشن زدہ علاقوں کی بحالی اور ترقی سے ہی ممکن ہے۔ حکومت کو فوج کے شانہ بشانہ آپریشن زدہ علاقوں میں استحکام، بحالی اور ترقی کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا تاکہ جو جنگ ہم نے بے شمار قربانیوں سے جیتی ہے اس کے ثمرات بھی ملیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں