آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماں کی محبت و ممتا عالم میں ایک مثال ہے،ماں کی محبت وہ گہرا سمندر ہے،جس کی گہرائی کو آج تک کوئی نہ ناپ سکانہ ناپ سکے گا۔ماں کی محبت وہ ہمالیہ پہاڑ ہے کہ جس کی بلند یوں کو کوئی آج تک نہ چھو سکانہ چھو سکے گا۔ماں کی محبت وہ سدا بہار پھول ہے، جس پر کبھی خزاں نہیں آتی۔ماں تو اولاد پر قربان ہوجایا کرتی ہیں،اور یہ صرف انسانوں میں نہیں بلکہ پرندوں میں بھی دیکھ لیجئے،چڑیا ایک ننھی سی جان ہے،گرمی کے موسم میں اُڑکر جاتی ہے،اور پسینہ پسینہ ہوجاتی ہے مگر چونچ میں پانی لاکر اپنے بچوں کو پلاتی ہے،اس کے اپنے چونچ میں پانی ہے اور وہ پیاسی بھی ہے مگر خود نہیں پیتی کہ اس کے بچے پیاسے ہیں۔

ماں کی لازوال محبت پر جتنا کچھ لکھا اور کہا جائے، اتنا ہی کم ہے۔ دورِ جدید میں، بدلتے وقت کےساتھ ماں کا کردار بھی بدلتا جارہا ہے۔ آج کے زمانے میں ماں، صرف ایک ماں نہیں رہی۔ بلکہ ایک بہترین ماں ہونے کے ساتھ ساتھ وہ کیریئروومن بھی بن گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ماں کی ذمہ داریاں اب دُگنی ہوچکی ہیں۔ گھر سے باہر، ان کی ایک پوری دنیا ہے، جہاں انھیں اپنے کردار اور ذمہ داریاں بخوبی ادا کرنا ہوتی ہیں۔ ساتھ ہی گھرپر بھی ’ماں‘ کی اَن گنت ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ اور پھر ایسا ہوتا ہے کہ اکثر اوقات، ان دُہری ذمہ داریوں کی ادائیگی ذہنی دباؤ کی وجہ بن جاتی ہے۔ آج ہم ایسی ہی ماؤں کے لیے کچھ مفید مشورے پیش کررہے ہیں، جن پر عمل پیرا ہوکر وہ اپنے روز مرہ کو آرام دہ، قابلِ عمل اور آسان بناسکتی ہیں۔

پیشگی منصوبہ بندی کریں

ناشتہ تیار کرنا، بچوں کے اسکول بیگ پیک کرنا، انھیں اسکول روانہ کرنا یا چھوڑ کر آنا،خود اپنی تیاری کرنا؛ جب محدود وقت میں آپ کو یکے بعد دیگرے بہت سارے کام کرنے ہوں تو یقیناً یہ آپ کی توانائی اور صبر کا امتحان ہوتا ہے۔ صبح، صبح کے ذہنی اور جسمانی تناؤ سے بچنے کے لیے کچھ کام ایک رات پہلے کرلیا کریں۔ اس کے علاوہ، ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ اپنے بچوں کے مقابلے میں ایک گھنٹہ پہلے اُٹھ جایا کریں، تاکہ آپ کے دن کا آغاز اچھا ہو۔ 

سب سے پہلے، کھڑکی کے ساتھ بیٹھ کر کھلی فضاء میں مزیدار چائے یا کافی کی چسکیاں لیں۔اس کے بعد جب آپ کے بچے اسکول جانے کے لیے اٹھیں گے تو آپ ان کے سارے معاملات اپنے ہاتھوں میں لینے کے لیے پوری طرح تیار ہوں گی۔ اگر محل وقوع اجازت دے تو گھاس اور ہریالی میں چہل قدمی بھی کرلیا کریں۔ صبح صبح، ہریالی میں سانس لینے سے ایک سکون کا احساس ہوتا ہے، جس کے خوشگوار اثرات آپ کی شخصیت پر پورے دن رہتے ہیں۔

صبر،صبر،صبر

عین جس وقت آپ یہ سوچ رہی تھیں کہ ہر چیز آپ کے کنٹرول میں ہے، عین اسی وقت آپ کے بچے کوئی چیز توڑ دیتے ہیں یا کوئی نقصان کر ڈالتے ہیں۔ ایسے موقع پر آپ صبر کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ ایک قدم پیچھے ہٹیں اور گہری سانس لیں۔ اکثر اوقات، چیزوں کو مختلف زاویے سے دیکھنے کا فائدہ ہوتا ہے۔ کیا آپ کے بچے کے ہاتھ سے گھڑی اس لیے گِر کر ٹوٹی کہ وہ یہ جاننے کی جستجو میں تھا کہ گھڑی کس طرح کام کرتی ہے؟ کیا اس کے ہاتھ سے گلاس اس لیے گِرا کیونکہ وہ اسے اپنے قد سے اونچے شیلف پر رکھنے کی کوشش کررہا تھا۔ اگر ایسا ہے تو، غصہ ہونے کے بجائے اپنے بچے کی حوصلہ افزائی کریں۔ 

سامنے ہونے والے واقعے پر فوری ردِ عمل دینے کے بجائے ، ایک لمحے کے لیے رُکیں، پسِ پردہ واقعات پر غور کریںاور اپنے بچے کے رویے کے اصل حقائق جاننے کی کوشش کریں۔ آپ دیکھیں گی کہ آپ کا بچہ اتنا بھی غلط نہیں، جتنا آپ سمجھتی ہیں۔ بچوں کی نفسیات پر مارکیٹ میں اور انٹرنیٹ پر بڑی کارگر کتابیں دستیاب ہیں، آپ کو ان کتابوں کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے کہ بچوں کا ذہن کس طرح کام کرتا ہے اور آپ کے اس متحرک ذہن کو کس طرح تعمیری انداز میں ترویج دے سکتی ہیں۔ مقصد کہنے کا یہ ہے کہ آپ کو اپنے بچوں کی ہر حال میں حوصلہ افزائی کرنی ہے۔

گھر کے کام بانٹیں

ایک بات آپ کو ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ آپ ہر وقت ہر کام نہیں کرسکتیں۔ اگر آپ ہر کام خود کرنے کی کوشش کریں گی تو اس سے آپ کی پریشانی بڑھے گی۔ اس کے بجائے، کچھ کام آؤٹ سورس کردیں۔ مثلاً ، لانڈری کو آپ باآسانی آؤٹ سورس کرسکتی ہیں۔ آپ کے کپڑے دھوبی سے دُھل کر اور استری ہوکر آجائیں گے اور وہ وقت آپ گھر کے دیگر زیادہ ضروری کاموں میں صرف کرسکتی ہیں، ضروری کاموں سے مراد ایسے کام ہیں جنھیں شاید آپ آؤٹ سورس نہیں کرسکتیں یا شاید جنھیں آؤٹ سورس کرنا پسند نہ کریں۔ اس کے علاوہ، اس وقت کو آپ اپنے بچوں اور شوہر کے ساتھ بہتر طور پر گزار کرسکتی ہیں۔ 

ساتھ ہی، ایک عادت یہ اپنائیں کہ گھر کے کچھ چھوٹے چھوٹے کام اپنے بچوں کوبھی تفویض کریں۔ مثلاً، وہ اپنے اسکول بیگ خود پیک کرسکتے ہیں اور کھانے کے بعد برتن سِنک میں ڈَمپ کرسکتے ہیں۔یہ اور اس طرح کے دیگر چھوٹے چھوٹے کام بانٹ کر آپ اپنے لیے فرصت کے کچھ لمحات حاصل کرسکتی ہیں۔گھر کے چھوٹے چھوٹے کام بچوں کو تفویض کرنے کا مقصد، اپنی جان چھڑانا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ جب آپ گھر کے یہ کام بچوں کو تفویض کریں گی تو ان میں بھی ایک احساس ذمہ داری پیدا ہوگا، انھیں پتہ چلے گا کہ کھانا کھانے کے بعد برتن خود بخود ہی صاف ہوکر شیلف میں نہیں آجاتے وغیرہ وغیرہ۔ ایسے کاموں سے بچوں کی شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔

کچھ وقت فراغت کا

اگر آپ نے سوچا تھا کہ مرفی کا قانون غیرعملی ہے توآپ نے غلط سوچا تھا، کیونکہ اب آپ کی زندگی میں یہ قانون عمل پذیر ہونے لگا ہے۔ آپ چیزوں کو جتنا زیادہ سُلجھانے کی کوشش کریں گی، وہ مزید اُلجھتی چلی جائیں گی۔ ایسے اوقات میں یاد رکھیں، کم ہی زیادہ ہوتا ہے۔ اپنے دن کے شیڈول میں ان چیزوں کو مت شامل کریں، جو آپ نہیں کرسکتیں۔ مہینے میں چند دن ایسے ضرور رکھیں، جب آپ نا تو کھانا بنائیں گی اورناہی گھر کا کوئی کام کریں گی۔ دراصل، انسان راتوں رات بہت کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے، اور اس کے لیے وہ ہر وقت محنت کرنے کے لیے بھی تیار رہتا ہے، تاہم یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے، اس لیے اپنے سب اہداف ایک وقت کے لیے نہ اُٹھا رکھیں، پہلے ایک ہدف حاصل کریں، اس کے بعد اگلے کی تیاری کریں۔ 

مزید آسانی کے لیے آپ یہ بھی کرسکتی ہیں کہ ایک ہدف کے بھیایک، دو، تین اہم سنگ میل مقرر کریں، اور ایک ایک سنگ میل کو عبور کرتی چلی جائیں۔ اس طرح آپ دباؤ محسوس نہیں کرینگی اور آپ کو بہت اچھا لگے گا۔ اس کے علاوہ، کچھ چیزیں اپنے بچوں کو خود بھی کرنے دیا کریں، پھر چاہے اس کا مطلب گھر میں گند پھیلانا ہو۔ بچے اسی طرح ہی سیکھتے ہیں۔

زیادہ سوچنا چھوڑیں

یقین کریں، آپ جتنا بھی کرلیں، گھر کے کام کبھی ختم نہیں ہونگے، اس لیے اگر آپ کو کہیں جانا ہو اور گھر کےکام ابھی باقی ہوں تو اس پر پریشان نہ ہوں۔ رہ جانے والے کام آپ واپسی پر آکر کرسکتی ہیں۔ جب کبھی آپ ذہنی دباؤ محسوس کریں، یوگا اور میوزک سے مستفید ہوسکتی ہیں۔ یوگا کرنے اور میوزک سننے سے دل و دماغ اچھا محسوس کرتے ہیں، جس سے ذہنی دباؤ کی شدت میں کمی آجاتی ہے۔ اپنی فیملی اور بچوں کے ساتھ کسی پرفضاء مقام کی سیر پر نکل جائیں، جیسے اگر آپ کے علاقے میں کوئی پارک ہے تو بچوں کے ساتھ وہاں چہل قدمی کے لیے نکل جائیں۔ اپنی ایسی دوستوں سے ملیں، جن کے بچے نہ ہوں، تاکہ ان کے ساتھ آپ کی جو گفتگو ہو، اس میں بچوں کا ذکر کم سے کم آئے۔ ان کاموں سے آپ سچ مچ بہت اچھا محسوس کریں گی۔ تاہم یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ہر انسان چاہے وہ عورت ہو یا مرد، اسے جتنا سکون اور اطمینان اپنے گھر میں میسر آتا ہے،وہ کسی اور جگہ ممکن ہی نہیں۔ 

گھر سے باہر مختصر اور بامقصد سرگرمیوں میں ضرورت شریک ہوں، دنیا سے باخبر ہوں، اپنی شخصیت میں نکھار پیدا کریں، اپنے بچوں اورخاندان کے لیے نئی نئی چیزیں سیکھیں اور گھر آکر ان پر عمل کریں۔ اپنے دماغ میں ہر وقت مثبت سوچ کو پروان چڑھائیں اور یہ مثبت سوچ خصوصاً اپنے بچوں کو ضرورت منتقل کریں، آپ کے بچوں کی مثبت شخصیت اور ان کی کامیابی آپ کو وہ دنیاوی اور روحانی اطمینان بخشے گی کہ آپ خود کو ہر وقت بڑی سے بڑی مشکل کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار پائیں گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں