آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

احمد آفتاب

میں نے کئی اداروں میں کمیونی کیشن کے شعبے کی قیادت کی ہے۔ عام طور پر کمیونی کیشن ڈیپارٹمنٹ کو ادارے کے بارے میں اطلاعات و معلومات کی ترسیل یا نشرواشاعت سے متعلق ہی سمجھا جاتا ہے یعنی اخبارات اور ٹی وی چینلز کو پریس ریلیز بھیجنا، ویب سائٹ یا سوشل میڈیا پیجز اپ ڈیٹ کرنا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن کبھی کبھی اس شعبے کی غیر معمولی نوعیت، اداروں کے اندر پیچیدہ معاملات کی نشان دہی اور ان کو حل کرنے میں اس وقت معاون ہوتی ہے، جب دیگر تمام نظام ناکام ہوجاتے ہیں۔

میں اس حوالے سے، اپنا ایک ناقابل فراموش تجربہ شئیر کرنا چاہوں گا۔ اس کو اب بیان کرنا یوں ضروری ہے کہ نجی دفتروں بالخصوص این جی اوز میں خواتین کارکنان کے خلاف جنسی ہراسانی (سیکسوئل ہراسمنٹ) کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں اورانہیں اپنے سپروائزروں یا باسز کی طرف سے خفتہ و اعلانیہ ہراسمنٹ ہراسانی کا سامنا ہے۔ 

ہم سب جانتے ہیں کہ اسلام آباد کے نجی و سرکاری دفاتر میں خواتین کو ہراساں کرنے کا مسئلہ کتنا پرانا، منظم اور گمبھیر ہے۔ یہ عفریت ہر سطح پر اپنے پنجے نکالے بیٹھا ہے یعنی اس میں سی سوٹ میں بیٹھے، ادارے کے سربراہ سے لے کر دروازے پر موجود ڈنڈا بردار چوکیدار تک سب ملوث ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود دفتر میں کام کرنے والا ہر مرد اس ہراسانی کے وجود سے انکاری ہوتا ہے اور ہر عورت اس آسیب کی ہمہ وقت موجودگی کی گواہی دیتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وقت آگیا ہے کہ ادارے اس ضمن میں اپنی ذمے داری پوری کریں اور ایسے کمیونی کیشن سسٹم بنائیں جن سے خواتین کو ہراسانی کے واقعات رپورٹ کرنے میں آسانی ہو، انہیں محفوظ دفتری ماحول میسر آسکے اور وہ کسی قسم کے جبر، خوف اور استحصال کے بغیر ترقی کے مساوی مواقع حاصل کرسکیں۔

آج میں آپ سے جس واقعے کا ذکر کررہا ہوں، اس میں ایک ادارے کے چیف ایگزیکٹو پر اس کی سیکریٹری نے ہراسانی کا الزام لگایا تھا، جس کو چیف ایگزیکٹو، یعنی اس سیکریٹری کے (اور میرے بھی) باس نے جھوٹ قرار دے کر رد کردیا تھا۔ نتیجتاً ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی گئی تھی جس میں میرا نام بھی شامل تھا۔ گویا اب مجھے اپنے ہی باس کے رویے کی تفتیش کرنی تھی۔ اسی تفتیشی عمل کے دوران، میں نے ایک چھوٹی سی بات کا مشاہدہ کیا جس نے مجھے نتائج تک پہنچنے میں مدد دی۔ میں آپ سے وہی بات شئیر کررہا ہوں۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ اپنے منصب، اختیار اور تیزی و طراری کی بنا پر اکثر باس ہراسانی کرنے کے باوجود اس الزام سے بچ نکلتے ہیں اور ان کے خلاف اپنے ہی دفتر میں ضابطے کی کارروائی کا آغاز یا اسے مکمل کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بیشتر مقامات پر ہراسانی کے واقعات کی تفتیش کے لیے ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ ذمے دار ہوتا ہے، تاہم میرا مشاہدہ ہے کہ یہی وہ شعبہ ہے جس کی وجہ سے خواتین کو ہراسانی کے واقعات کی رپوٹنگ میں سب سے زیادہ رکاوٹ پیش آتی ہے۔ ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ کا سربراہ عام طور پر وہی مقرر ہوتا ہے جو باس کا سب سے زیادہ نمک خوار ہو۔ ہر ادارے کا چیف ایگزیکٹو، چئیرمین، چیف آف پارٹی یا جو بھی نام رکھ لیں، اپنے سب سے وفادار، نمک حلال اور ہر حد سے گزرجانے کے آرزومند شخص کو ہی ہیومن ریسورس کا سربراہ بناتا ہے تاکہ ہر جائز و ناجائز کی بندوق اس کے کاندھوں پر رکھ کر چلائی جاسکے، جو ہیومن ریسورس مینجر مہذب، باوقار اور اصول پسند ہوتے ہیں، ان کا عرصہ ملازمت تھوڑا ہی ہوتا ہے۔ اس کے برعکس چاپلوس، خوشامد پسند اور باس کی ہاں میں ہاں ملانے والے ہیومن ریسورس مینجر کی پرواز، ترقی کے آسمان پر اونچی رہتی ہے۔

ایسے ہی موم کے گڈے، ریڑھ کی ہڈی سے محروم ہیومن ریسورس مینجرز کی وجہ سے اداروں میں خواتین کو بدترین جنسی ہراسانی کا سامنا کرنے کے باوجود انصاف نہیں ملتا، چونکہ خواتین کے پاس ہراسانی کے ٹھوس ثبوت نہیں ہوتے اور وہ کافی عرصہ برداشت کرنے بعد، ناکافی شواہد یا گواہوں کے ساتھ اس معاملے کو سامنے لاتی ہیں، اس لیے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مظلوم ہونے کے باوجود، ان کو ہی ظالم قرار دیا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں انہیں یا تو برطرف کردیا جاتا ہے یا ان سے جبری استعفیٰ لے کر نکال دیا جاتا ہے۔ اس تمام کارروائی کی نگرانی، ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ اپنی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دیتا ہے۔

بہرحال قصہ مختصر، اب ایک دن صورت حال یہ تھی کہ میں دفتر میں، ایک ایسی تفتیشی میٹنگ میں موجود تھا، جس میں میز کے ایک جانب میرا باس یعنی چیف ایگزیکٹو نہایت اعتماد اور کروفر سے بیٹھا تھا اور دوسری طرف مجھ سمیت دو لوگ (یعنی مجموعی طور پر تین لوگ)، اپنے سامنے خاتون کی طرف سے ہراسانی کی باقاعدہ شکایت کے پرنٹ آوٹس، جینڈر پالیسی ڈاکیومنٹ، آرگنائزیشنل کوڈ آف کنڈکٹ اور ایسے ہی دیگر فضول پالیسی کاغذات کا پلندہ لیے دبکے ہوئے تھے۔ ہمیں اپنے باس سے انٹرویو کرنا تھا اور اس شکایت کے بارے میں ان کا موقف جاننا تھا۔ (آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کتنی احمقانہ صورت حال تھی۔ جس شخص نے میرے اپائنٹمنٹ لیٹر پر منظوری کے دستخط کیے تھے۔ ہر سال میرا انکریمنٹ اس کے ایما پر منظور ہوتا تھا۔ اب مجھ سے کہا گیا تھا کہ میں اس سے جرح کروں اور اس کے خیالات کے نوٹس لوں تاکہ وہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سامنے پیش کیے جاسکیں۔ اتنا بتانا ضروری ہے کہ میرے تعلقات اپنے باس سے کچھ زیادہ اچھے نہیں تھے اور ذاتی طور پر میں خود خواتین کے ساتھ اس کی بدتمیزیوں کا شاہد تھا اور اِسی لیے باس کو ناپسند کرتا تھا۔ یہ ناپسندیدگی دوطرفہ تھی۔ مجھے علم تھا کہ اس ادارے میں میری ملازمت کے دن تھوڑے ہی ہیں اور اس میٹنگ کے بعد ایسا ہی ہوا)۔

ہمارے پاس صرف ایک گھنٹے کا وقت تھا۔ میٹنگ شروع ہوئی۔ ہیومن ریسورس مینجر نے میٹنگ کے اغراض و مقاصد پڑھ کر سنائے اور کہا کہ سب سے پہلے چیف ایگزیکٹو خود اس الزام کے بارے میں اپنا موقف بتادیں۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ یہ میچ فکسڈ ہے۔ ہیومن ریسورس مینجر نے چیف ایگزیکٹو کو اوپننگ کا موقع دے کر، میچ اس کو تھمادیا ہے۔ یہ تاثر درست ثابت ہوا۔

چیف نے بڑے اعتماد سے ہم سب کو دیکھا۔ اپنا پہلو بدلا اور پھر بہت روانی کے ساتھ سارے الزامات کی تردید کردی۔ اس کے برعکس، چیف نے کہا کہ وہ سیکریٹری خود بد کردار ہے۔ وہ اس کو رجھانے (فلرٹ) کی کوشش کرتی ہے۔ اس کی کارکردگی زیرو ہے اور وہ دفتر میں معاشقے چلاتی ہے جس کی رپورٹ ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ بنارہا ہے۔ میرے لیے یہ اطلاع نئی تھی اور مجھے تب پتا چلا کہ دفتر میں سیکریٹری کے مبینہ معاشقوں کی خفیہ طور پر ایسی کوئی رپورٹ بھی بنائی جارہی ہے جس کا بہرحال میں اب تک حصہ نہیں تھا۔

ذاتی زندگی میں ہم چاہے کتنے ہی لچک دار ہوں اور مفاہمت پسندی کے ساتھ معاملات چلاتے ہوں، کبھی کبھی کچھ مقامات ایسے آجاتے ہیں، جہاں کمپرومائز مشکل ہوجاتا ہے۔ یہ ایسا ہی ایک لمحہ تھا۔ میں جانتا تھا کہ وہ لڑکی ٹھیک کہہ رہی ہے۔ میرا باس اس کو واقعی ہراساں کرتا تھا لیکن اب وہ اپنے ہرکاروں اور دفتری نظام کے سہارے اس لڑکی کو ہی باقاعدہ بدکردار اور نااہل قرار دینے کی تیاریاں کررہا تھا جس کے نتیجے میں اس کا پورا کیرئیر برباد ہوسکتا تھا۔ ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ آنے کے بعد، وہ لڑکی مستند بدکرداراور نااہل ثابت ہونی تھی جو ایک ناانصافی ہوتی، کیونکہ اس رپورٹ کے بعد تو لڑکی کو کسی ادارے میں نوکری نہیں ملنی تھی، پس اس لمحے میں نے فیصلہ کیا کہ میں اس ناانصافی کا حصہ نہیں بن سکتا اور مکمل غیر جانب داری کے ساتھ اس تفتیش میں اپنا کردار ادا کروں گا، چاہے اس کے نتائج کچھ بھی ہوں۔ اور آپ سمجھ سکتے ہیں کہ بعدازاں وہ نتائج اچھے نہیں ہوئے۔

پس میں نے شکایت کی کاپی اٹھائی اور اپنی جرح کا آغاز کردیا۔ کمرے میں موجود کسی فرد کو بھی میرے اس ردعمل کی توقع نہیں تھی۔ میں نے باس سے ایک کے بعد ایک سخت سوال شروع کیے تو کمرے کی فضا اچانک بدل گئی۔ باس نے مجھے گھور کر دیکھا اور پھر ہیومن ریسورس مینجر سے نظریں ملائیں۔ مینجر نے مجھے کہنی ماری تاکہ میں خاموش ہوجاؤں اور اونچی آواز میں میرا سوال کاٹ کر ایک غیر متعلق سی بات شروع کردی۔ تب یہ بالکل واضح تھا کہ یہ ایک جعلی میٹنگ تھی اور اس میں مجھ سے بس اتنی ہی توقع تھی کہ میں میٹنگ کے آفیشل منٹس پر اپنے سائن کردوں اور جو ورژن باس کی طرف سے لکھوایا جائے اسے من و عن تسلیم کرکے اپنی رضامندی ظاہر کردوں، گویا یہ کہہ دوں کہ وہ لڑکی ہی قصوروار تھی اور اس کے کردار میں ہی سقم تھا، چنانچہ اسے کے خلاف جو بھی کارروائی کی جائے، دفتر اس میں حق بجانب ہوگا،یہ سب مجھ سے نہیں ہوسکتا تھا۔

میں نے اپنی کرسی پیچھے کھسکالی ،تاکہ ہیومن ریسورس مینجر کی کہنی کے اگلے وار سے بچ سکوں اور دوبارہ، اس سے اونچی آواز میں اپنا سوال دہرایا۔ اب میٹنگ باقاعدہ میدانِ جنگ میں تبدیل ہوچکی تھی۔ ہیومن ریسورس مینجر کو یہ معلوم تھا کہ میرے بے شمار صحافی دوست ہیں اس لیے میری مس ہینڈلنگ ادارے کے لیے تباہ کن ہونی تھی، ساتھ ہی ساتھ اسے یہ بھی ڈر تھا کہ یہ معاملہ ہاتھ سے نکل رہا ہے اور باس سوالوں کا جواب دینے کے بجائے دھونس، بدتمیزی اور دباؤ سے کام لے رہا ہے، جسے میں اپنے نوٹس میں لکھتا جارہا تھا اور اب میٹنگ کے ہر فرد کو یہ سمجھ آگیا تھا کہ میں کیا لکھ رہا ہوں۔ اگرچہ یہ نوکری کے حوالے سے قطعاً خودکشی کا فیصلہ تھا لیکن میرے ضمیر کا تقاضا یہ تھا کہ میں اس وقت خاموش نہ رہوں اور کسی ایسے فیصلے کا حصہ نہ بنوں جس پر بعدازاں تاعمر مجھے ندامت محسوس ہونی تھی۔

میرے تابڑ توڑ سوالوں سے باس کے چہرے پر پہلے گھبراہٹ کے تاثرات نمودار ہوئے،پھر اس کی پیشانی پر پسینے کی بوندیں بہنے لگیں اور چند ہی منٹ میں اس کا سارا اعتماد رخصت ہوتا ہوا محسوس ہوا۔ وہ میرے سوالوں کا براہ راست جواب دینے کے بجائے مجھے نظرانداز کرنے لگا اور اس نے اپنا رخ مجھ سے موڑ کر، باقی دو افراد کی طرف کرلیا۔ میں اس دوران تمام باتوں کو اپنے سامنے رکھے کاغذ پر لکھتا رہا،پھر چند منٹ بعد، میرے باس نے ایک عجیب حرکت کی۔

اس نے اپنی جیب سے قلم نکالا اور میز پرسامنے رکھ دیا۔ ایسے جیسے اس نے میرے اور اپنے درمیان ایک لکیر کھینچ دی ہو۔ میں باڈی لینگویج کا طالب علم ہوں، اسی لمحے سمجھ گیا کہ خلیج جو پہلے سے موجود تھی، اب کُھل کر سامنے آگئی ہے اور دراڑ گہری ہونے کا آغاز ہوگیا ہے۔

اب واپسی کا راستا نہ اس کے پاس تھا اور نہ میرے پاس۔ میں نے اپنے سوالات کا سلسلہ جاری رکھا۔ میرا باس اب باقاعدہ دفاعی پوزیشن پر چلاگیا تھا۔ اس نے پہلے پین کی سیدھ میں ہی اپنی چائے کی پیالی رکھی۔ پھر ایش ٹرے رکھی۔ اس کے ساتھ کاغذات کا پلندہ ڈھیر کردیا۔ میں دل ہی دل میں مسکرادیا۔

وہ لاشعوری طور پر میرے اور اپنے درمیان ایک دیوار اٹھارہا تھا اور خود کو اس دیوار کے پیچھے چھپارہا تھا، کچھ ہی دیر میں اس کے سامنے بسکٹ کی پلیٹ بھی آگئی اور چند لمحوں میں باس کا بریف کیس میز پر دیوار کا حصہ تھا۔ دیوار کی تعمیر اتنی غیر محسوس تھی کہ کسی اور کو یہ اندازہ نہیں ہوا کہ میز پر کیا چل رہا ہے،مگر ہم کمیونی کیشن والوں سے بھلا کہاں چیزیں چھپتی ہیں۔ سو میں نے تاڑ لیا کہ باس خوف زدہ ہوگیا ہے اور اب فرار کے راستے ڈھونڈ رہا ہے۔ یہ نان وربل بیہیویراس بات کی علامت تھا کہ باس اس دیوار کے پیچھے سکون ڈھونڈ رہا ہے۔ میں جان چکا تھا کہ اب میرے سوالوں کے جواب جھوٹ پر مبنی ہوں گے اور باس کسی طور بھی سچ نہیں بولے گا، کیونکہ وہ میرے بارے میں بدگمان ہوچکا تھا۔

ایک انتہائی تلخ انجام پر یہ میٹنگ برخواست ہوئی۔ ایک گھنٹا مکمل ہونے پر باس نے کہا کہ اسے دوسری میٹنگ میں جانا ہے چنانچہ وہ جارحانہ انداز میں کرسی سے اٹھا۔ تمام کاغذات بریف کیس میں ڈالے اور تیزی سے کمرے سے چلاگیا۔ ہیومن ریسورس مینجر نے مجھے باقاعدہ دھکا دے کر کہا کہ آپ میرے کمرے میں آئیں اور ہماری تیسری ساتھی خاتون جو مینجر فنانس تھیں، وہ گھبرا کر کمرے سے چلی گئیں۔

میٹنگ کے بعد کیا ہوا، وہ ایک لمبی کہانی ہے۔ اس معاملے کا کیا نتیجا نکلا،یہ بھی میں آپ کے گمان پر چھوڑتا ہوں۔ البتہ اتنا بتا دیتا ہوں کہ اس کے بعد میں وہاں ہرگز نہیں تھا۔

نکتہ یہ ہے کہ بسا اوقات کسی بدنیت، بدکردار اور جھوٹے شخص کی باڈی لینگویج، اس کے بارے میں بہت سے سگنلز دے رہی ہوتی ہے اور ہمیں ان سگنلز کو سمجھنا ضروری ہے۔ ذہن میں اٹھی ہوئی غیر مرئی اور نادیدہ دیواریں، جب مجسم ہوکر سامنے آجائیں تو ان کو پہچان لینا چاہئیے، کیونکہ ان کے پیچھے اکثر کوئی عفریت چھپنے کی کوشش کررہا ہوتا ہے۔

باڈی لینگویج کو پڑھنا بہت ضروری ہے۔

کیونکہ انسان زبان سے چاہے کتنے ہی جھوٹ بول لے.

اس کا جسم ہمیشہ سچ بولتا ہے!

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں