آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی حدود کے دفاع کی ذمہ دار مسلح افواج کو ملک کا سب سے منظم اور ترقی یافتہ ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ تین بڑے حصوں پر مشتمل ہے:

- بَری فوج، جسے عرف عام میں پاک فوج (آرمی) کہا جاتا ہے

- پاک فضائیہ

- پاک بحریہ

بَری فوج: پاک فوج (آرمی)، پاکستان کی مسلح افواج کی سب سے بڑی شاخ ہے۔ پاک فوج کی بنیادی ذمہ داری، ملک کی ارضی سرحدوں کا دفاع ہے۔ پاک فوج کا قیام 1947ء میں پاکستان کی آزادی کے بعد عمل میں آیا۔ یہ ایک رضاکارپیشہ ور جنگجوقوت ہے، اگرچہ آئینِ پاکستان میں جبری فوجی بھرتی کی گنجائش موجود ہے، لیکن اسے کبھی استعمال نہیں کیا گیا کیونکہ نوجوان خود اپنے شوق اور جذبۂ ایمانی سے ملک کے دفاع کے لیے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 243کے تحت، پاکستان کے صدر، تینوں مسلح افواج کے سویلین کمانڈر اِن چیف یا سپاہ سالار اعظم ہیں۔ اس وقت بَری فوج کی قیادت، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کر رہے ہیں۔

1947ء سے لے کر اب تک پاکستانی فوج اپنے حریف بھارت سے 4 جنگوں اور متعدد سرحدی جھڑپوں میں ارضِ وطن پاکستان کا دفاع کر چکی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ امریکی ویب سائیٹ بزنس انسائیڈر کے مطابق پاکستان آرمی کو دنیا کی 13 ویں مضبوط ترین فوج قرار دیا گیا ہے۔

قیامِ پاکستان کے بعد سے پاک فوج مسلسل اندرونی اور بیرونی محاذوں پہ مصروف عمل ہے۔ملک کا دفاع کرنے والے پاک فوج کے جوانوں کے جذبہ حب الوطنی کی وجہ سے ہمیشہ دشمن کو شکست کا سامنا رہا اور ایمان کے جذبے سے سرفراز ان جوانوں نے ملک کے خاطر اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔سرحدوں پر تعینات پاک فوج کے جوان دشمن پر نہ صرف کڑی نظر رکھتے ہیں بلکہ دشمن کی جانب سے ہونے والی ہر قسم کی جارحیت کا بروقت منہ توڑ جواب دیتےہوئے اُسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیتے ہیں۔

ہزاروں فٹ کی بلندی پر واقع سیاچن کی پہاڑی جہاں درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے رہتا ہے،وہاں سارا سال پاک فوج کے مستعدد جوان 24گھنٹے ڈیوٹی دیتے ہیں تاکہ ہم چین و سکون کی نیند سو سکیں۔

دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان آرمی کی جانب سے دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے لیے کامیاب آپریشن کیا گیا۔ اس کے علاوہ ملک میں ہونے والی بارشوں کے باعث سیلاب کی صورتحال میں پاکستان آرمی کے جوان پہنچتے ہیں اور وہاں پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرتے ہیں۔

سو جاؤ عزیزو کہ فصیلوں پہ ہر اک سمت

ہم لوگ ابھی زندہ و بیدار کھڑے ہیں

پاک فضائیہ: پاک فضائیہ (پاکستان ایئر فورس) پاکستان کی فضائی حدود کی محافظ ہے۔ یہ زمینی افواج کو بھی مدد فراہم کرتی ہے۔ پاک فضائیہ کے ہوائی بیڑے میں ایف-7، میراج-3، میراج-5، ایف-16 اور کیو-5 جیسے طیارے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس میں کئی جے ایف-17تھنڈر طیارے بھی تیار کیے جارہے ہیں، جو پاک فضائیہ کے ہوائی بیڑے میں شامل ہوچکے ہیں۔ پاک فضائیہ کے پائلٹوں کا شمار دنیا کے بہترین پائلٹس میں ہوتا ہے۔ پاکستان ایئرفورس کا ہیڈ کوارٹر چکلالہ ( راولپنڈی) میں ہے۔ پاک فضائیہ کا سب سے بڑا عہدہ چیف آف ایئر اسٹاف ہے۔ اس وقت پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان ہیں، جو ایئرچیف مارشل سہیل امان کی ریٹائرمنٹ کے بعد 19مارچ 2018ء کو اس منصب پر فائزہوئے۔

پاک بحریہ: پاک بحریہ (پاک نیوی) پاکستان کی بحری حدود، سمندری اور ساحلی مفادات کی محافظ ہے۔ یہ پاکستان کی دفاعی افواج کا حصہ ہے۔ پاک بحریہ پاکستان کی1,046کلومیٹر (650 میل) طویل ساحلی پٹی کے ساتھ ساتھ بحیرہ عرب اور اہم شہری بندرگاہوں اور فوجی اڈوں کے دفاع کی ذمہ دار ہے۔ پاک بحریہ 1947ء میں پاکستان کی آزادی کے بعد وجود میں آئی، جبکہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی 7اکتوبر 2017ء سے پاک بحریہ کے سربراہ یعنی چیف آف نیول اسٹاف (CNS)ہیں۔ ایڈمرل ظفر محمود نشانِ امتیاز(ملٹری) بھی حاصل کرچکے ہیں۔ چیف آف نیول اسٹاف 4اسٹار ایڈمرل ہوتا ہے، جس کا تقرر، وزیراعظم پاکستان، صدر پاکستان سے مشاورت کے بعد کرتے ہیں۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کی یاد میں 8ستمبر کو بحری دن منایا جاتا ہے۔ پاک بحریہ جدت و توسیع کے مراحل سے گزر رہی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی اس کا اہم کردار رہا ہے۔ 2001ء سے پاک بحریہ نے اپنی آپریشنل گنجائش کو بڑھایا ہے اور عالمی دہشت گردی، منشیات، اسمگلنگ اور قزاقی کے خطرے کا مقابلہ کرنے کی قومی اور بین الاقوامی ذمہ داری میں تيزی لائی۔2017ء کے اعدادوشمار کے مطابق، پاک بحریہ 23ہزار 800پرعزم جوانوں پر مشتمل عسکری قوت ہے، جن میں 3ہزار 200میرین اور 2ہزار میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے جوان میں شامل ہیں۔ پاکستان کوسٹ گارڈز بھی پاک بحریہ کا حصہ ہیں۔

فیصلہ وقت کرے گا مگر اے دشت وفا

ہم تو رگ رگ سے لہو اپنا نچوڑ چکے ہیں

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں