آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عجیب شخص ہے جس کو نہ دیکھا نہ سنا نہ ملا لیکن جتنا بھی پڑھتا ہوں جتنا بھی مزید جان پاتا ہوں بس شدید محبت کا احساس بڑھتا جاتا ہے ۔آنسو پھر نہیں تھمتے بس رب کائنات کے حضور اس ان دیکھے شخص کے لیے چاہت سے ساون بھادوں بنی اکھیوں اور ایک انوکھے سے ماورائی احساس سے لبریز دعائیں نکلتی جاتی ہیں۔

مشہور امریکی مورخ اسٹینلے والپرٹ ہمارے عظیم قائد کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتا ہے: ’ بہت کم لوگ تاریخ کا دھارا بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان میں سے بھی چند ہی دنیا کے نقشے میں تبدیلی لا پاتے ہیں اور مشکل سے کوئی ایسا فرد ہوتا ہے جو اپنی قوم کے لیے ایک علیحدہ ملک بناسکے۔

محمد علی جناح میں یہ تینوں خصوصیات تھیں اور انھوں نے یہ تینوں کام کر دکھائے۔مختار مسعود لکھتے ہیں کہ میں نے قائد اعظم کو پہلی مرتبہ 1938 میں علی گڑھ کے چھوٹے سے ریلوے اسٹیشن پر دیکھا کہ پہلے درجے کے ڈبے سے جو شخص نکلا وہ کسی تکلف اور توقف کےبغیر سیدھا لوگوں کے دلوں میں اتر گیا ۔روشن بیضوی چہرہ، چمک دار آنکھیں اور گونج دار آواز، کم گو اور کم آمیز، خاموشی میں باوقار اور گفتگو میں بارعب ، کوئی شخص بھی ان کی مقناطیسیت سے بچ نہ سکا اور ہر شخص ان کی برتری کا قائل ہو گیا۔

استادگی میں اتنے سیدھے کہ اپنی بلندقامت سے بلند تر اور اپنی پختہ عمر سے کمتر لگتے تھے۔جناح کی شخصیت میں ایک مقناطیسیت تھی ۔معروف تاریخ دان ڈاکٹر سکندر حیات خان نے اپنی کتاب میں جناح کی کرشماتی شخصیت کا بے حد تفصیل سے ذکر کیا ہے اور اس پر میکس ویبر کی کریزمیٹک تھیوری کو بھی اپلائی کیا ہے۔

جناح کی شخصیت میں جن عناصر کا تنوع ملتا ہے ان میں عزم، عمل، دیانت ،خطابت اور خودداری نمایاں ہیں۔ان کا وہ عزم تھا جس کو دانائے راز حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے یقین محکم کہا ہے ان کے عمل کا نام عمل پیہم تھا ۔ان کی دیانت کو مشرب نابے اور ان کی خطابت کو سخن دلنواز نے کہا ہے کہ ان کی خودداری نظریہ خودی کا اعلی نمونہ تھی ۔

ان کے توشہ میں وہ تینوں خوبیاں تھیں جن کو اقبال نے جہاد زندگانی کے لیے ضروری قرار دیا ہے اور وہ میر کارواں کا رخت سفر کہلاتی ہیں۔ ان کے سرد اور نحیف جسم میں ہر دم گرم اور جان بے تاب کا لاوا ابلتا رہتا تھا۔ یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے کہ اس عظیم شخص کو غیروں نے سمجھا مگر مان نہیں دیا اور اپنوں نے مانا لیکن سمجھ کر نہیں دیا۔

آج کے نام نہاد دانشور جو یہ چاہتے ہیں کہ ہم جناح کو بھول جائیں، ہم کیسے بھول جائیں ۔اس شخص کو جس کی قربانیوں کا نتیجہ ہمارا وجود ہے، سبز ہلالی پرچم قیامت تک لہراتا رہے گا اور جناح کا نام گرامی ہمیشہ زندہ اور جاوداں رہے گا۔

’خاک قبر از من و تو زندہ تر‘۔۔۔(اس کی قبر کی مٹی بھی مجھ اور تجھ سے زیادہ زندہ ہے)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں