آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چیف جسٹس ،جسٹس ثاقب نثار نے چک شہزاد فارم ہائوسز کیس میں ریمارکس دئیے کہ اعتزاز صاحب، میری مجبوری ہے کہ آپ کی شکل دیکھ کر ریلیف نہیں دے سکتا ۔

سپریم کورٹ میں چک شہزاد ایگری فارم ہائوس کیس کی سماعت کےدوران چیف جسٹس اور اعتزاز احسن میں دلچسپ مکالمہ ہوا۔

سپریم کورٹ نے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے حکم دیا کہ فارم ہائوسز پر ساڑھے 12ہزار اسکوائر فٹ سے زائد کی تعمیرات گرادی جائیں۔

چیف جسٹس نے سماعت کےد وران ریمارکس دئیے کہ ایگرو فارمز میں غیر قانونی تعمیرات کو ریگولرائز کرنے کے لئے جرمانہ کیا جائے گا اور یہ رقم ڈیم فنڈ میں ڈالی جائے گی۔

چیف جسٹس نے فارم ہائوسز مالکان کے وکیل اعتزاز احسن کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ نمازیں بخشوانے آئیں اور روزے گلے نہ پڑوالیں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ آپ کے دربار میں کچھ بھی ممکن ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ دربار نہیں عدالت ہے۔

چیف جسٹس اعتزاز احسن سے کہا کہ آپ فارم ہائوسز والوں کے لئے ریلیف مانگ رہے ہیں،کچی آبادی والوں کا کیا قصورہے؟

فارم ہائوسز مالکان کے وکیل نے کہاکہ میرے لئےکچی بستی والے اور فارم ہائوسز والے برابر ہیں۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں کچی بستی والوں کو فارم ہائوسز اور فارم ہاوس والوں کو کچی بستی بھیج دیتے ہیں، کبھی معاشرے کے محروم طبقوں کےلئے بھی بات کیجیے، میں چہرے دیکھ کر ریلیف نہیں دیتا،یہی میرے منصف ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں یہ بھی کہا کہ سی ڈی اے نے رعاتیں دے کر امیروں کو نوازا،فارم ہائوسز پھل اور سبزیاں اگانے کے لئے دئیے گئے تھےجہاں محلات تعمیر کردئیے گئے،ان لگژری فارم ہائوسز میں کون سے کسان رہتے ہیں ان کے نام بتادیں تو شور مچ جائے۔

اس پر اعتزازاحسن نے دلیل دی کہ اسلام آباد میں کافی مقدار میں پھل اور سبزیاں ان ہی فارمز ہائوسز سے آتے ہیں،جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ہم ان تمام فارمز کو ماسٹر پلان کے خلاف قرار دیں تو آپ کہاں کھڑے ہوں گے؟

کارروائی کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ آج ہی ہمیں بتائیں کہ ڈیم کی تعمیر میں فی مربع فٹ کیا ریٹ دیں گے؟ورنہ ہم تمام تعمیرات گرانے کا حکم دے گے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد حکم دیا کہ سی ڈی اے ساڑھے 9ہزار اسکوائرفٹ سے زیادہ تعمیرات کرنے والے فارم ہائوسز مالکان سے 7ہزار روپے فی اسکوائر فٹ جرمانہ وصول کریں اور ساڑھے 12ہزار اسکوائر فٹ سے زیادہ رقبے پر تعمیرات کو گرادیا جائے۔

عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ چیئرمین سی ڈی اے ایک ماہ کے اندر تمام فارم ہائوسز کا معائنہ کرکے بیان حلفی پیش کریں ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں