آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

شہد کی اہمیت سے کون انکاری ہوسکتا ہے- زمانہ قدیم سے ہی یہ انسانی تہذیب کا ایک اہم حصہ رہا ہے- مصر کے اہراموں سے ماہر آثاریات کو تین ہزار سال پرانے شہد سے بھرے مرتبان ملے جو بالکل صحیح حالت میں اور کھانے کے لائق تھے- قدیم مصریوں کیلئے شہد کی اہمیت مسلم تھی اور وہ اسے مٹھاس کے علاوہ چیزوں کو محفوظ رکھنے اور اپنے دیوتاؤں کیلئے نذرانے کے طور پربھی استعمال کرتے تھے- چند سال پیشتر برطانوی دانش گاہ برسٹل یونیورسٹی کے محققین نے دعویٰ کیا کہ انسان کم از کم نو ہزار سال سے شہد کا استعمال کرتا آیا ہے- انہوں نے ماقبل تاریخ کے برتنوں کا مطالعہ کرکے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پتھر کے زمانے کے کاشتکار بھی شہد سے آشنا تھے-

پاکستان میں شہد کے استعمال کی تاریخ ملک سے بھی زیادہ پرانی ہے- یہاں کے سیاست دان اسکے فائدوں کے اس قدر گرویدہ ہیں کہ وہ موقع محل کی تمیز کئے بغیر ہر جگہ اسکا استعمال کرتے آئے ہیں جس سے ملک دشمن عناصر کو عوامی سطح پر بلا وجہ انکی شہرت خراب کرنے کے ریڈی میڈ مواقع مل جاتے ہیں- چوبیس گھنٹے چلتے رہنے والے میڈیائی اور سوشل میڈیائی طوفان سے قبل لیڈران کی کثرت شہد کے استعمال کی بابت لوگوں کو علم تو تھا مگر اس پر شاذ ہی خبریں بنتی تھیں یا تبصرے ہوتے تھے، اسکینڈل بننا تو دور کی بات ہے- مثلاً ماضی کے ایک بڑے لیڈر نے فخر کے ساتھ ایک عوامی مجمع میں واشگاف کیا کہ وہ ’’شہد کھاتے ہیں مگر لوگوں کا خون نہیں پیتے۔‘‘ اس پر حاضرین نے انہیں نہ صرف دل کھو ل کر تالیوں کی صورت بے پناہ داد دی بلکہ انکے دانشور نما ہم پیالوں نے جنہیں صرف لانڈھی سے لاڑکانہ تک کی جیوگرافی کا علم تھا مستی کے عالم میں انہیں ’’فخر ایشیا‘‘ کا لقب بھی مرحمت کیا- حد تو یہ ہے کہ آجکل کے زمانے میں جب کیبل ٹیلی وژن کے ذریعے جگہ جگہ نیشنل جیوگرافک اور اسی قبیل کےچینلز دستیاب ہیں لوگ ابھی تک انہیں مسٹر ایشیا سمجھتے ہیں- اسی زمانے میں مذہب کے لبادے میں سیاست کرنے والے ایک لکھاری بھی تھے جنہیں شہد سے خصوصی شغف کی وجہ سے مولانا شہدی کے نام سے جانا جاتا تھا- قربان جایئے اس زمانے کی وضع داری اور شرافت پر کہ کسی کی مجال کہ کسی نے انہیں کبھی ٹوکا ہو یا انکی لائن کاٹنے کی جسارت کی ہو-

مگر اب حالات بدل گئے ہیں کہ جینا ہی محال ہوگیا ہے- اللہ شہد کے دشمنوں کو ہدایت دے انکی اس قدر بہتات ہوگئی ہے کہ اب مشاہدین (بمعنی شہد استعمال کرنے والے) کیلئے بہت تنگی کردی گئی ہے- دو دن پہلے خبر آئی کہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے ہوتے ہوئے بھی شہد استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے حالانکہ انکے لیڈر شرجیل میمن صاحب نے اسکو زیتون کے تیل کے ساتھ ملاکر نئی دوائی دریافت کرلی ہے جواسپتالوں میں داخل ہرطرح کے مریضوں کیلئے اکسیر ہے- خبروں کےمطابق وزیر بلدیات سعید غنی نے کلفٹن کے دورے کے دوران ایک پمپنگ اسٹیشن پر بلا مقصد چھاپہ مارا اور شہد کی بوتل برآمد کی- یہ صرف ملک کا حال نہیں اب تو پاکستانی 'مشاہدین کیلئے ولایتی سرزمین پر بھی سخت قسم کے پہرے لگ گئے ہیں- ابھی تین یا چار دن پہلے لندن میں پاکستان کے سفیر صاحبزادہ احمد خان غالبا ًشہد کے استعمال کے فوراً بعد ایک عوامی تقریب میں چلے گئے جہاں انھوں نے اسٹیج پر چند بےضرر سی باتیں کیا کہہ دیں کہ طوفان کھڑا ہوگیا اور لوگوں نے طرح طرح کی تاویلیںدینی شروع کردیں- کچھ مبصرین نے دعویٰ کیا کہ انکی زبان لڑکھڑائی اور تلفظ خراب ہوگیا جس سے وہاں پر موجود لوگ محظوظ ہوگئے- وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے سفیر کی ہلکی پھلکی گفتگو کا بظاہر سخت نوٹس لیکر انہیں پاکستان بلالیا ہے- ایک اخبار نے تو اپنی پرہیز گاری کے زعم میں یہ دعویٰ بھی کردیا کہ ’’ہائی کمشنر تقریب میں لڑکھڑاتے رہے‘‘ جیسے شہد کے استعمال سے امڈنے والی مستی کوئی اچھنبے کی بات ہو- ساحر لدھیانوی نے ایسے ہی لوگوں کیلئے کہا ہے:

بے پئے ہی شہد سے نفرت ہے

یہ جہالت نہیں تو پھر کیا ہے

یار دوست کہتے ہیں کہ پرانے زمانے کے پاکستان کی فارن منسٹری میں شہد کے بغیر گزارہ تصور کائنات کی نفی کے برابر سمجھا جاتا تھا- اگرچہ اسکا ہلکا پھلکا تجربہ اس گناہگار کو بھی ہوا ہے مگر کہا جاتا ہے کہ اس ضمن میں مسٹر ایشیاکا دور سنہری سمجھا جاتا ہے- اس زمانے میں شہد کے بغیر کار سرکار تو حرام سمجھا جاتا تھا- نئے پاکستان کا نعرہ بھی فخر ایشیاکی ہی صنعت تھی- مگر اس زمانے کے نئے پاکستان اور آج کے نئے پاکستان کا بنیادی فرق شہد پرسرکاری رویوں سے بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ آج برطانیہ میں مقیم سفیر محترم کو پلک جھپکتے ہی حاضر دفتر کردیا گیا حالانکہ پچھلے وقتوں میں ایسی چھوٹی چھوٹی لغزشوں پر ہمارے دین دنیا کی بھلائی پر مامور پرہیز گار حضرات بھی اپنی غیرت کو کنٹرول میں رکھ کر اس پر تبصرہ کرنے سے کتراتے تھے- مجروح سلطانپوری مرحوم نے کیا غضب کی بات کہی ہے:

فریب ساقیٔ محفل نہ پوچھئے مجروح

شہد تو ایک ہے بدلے ہوئے ہیں پیمانے

پرہیز گاروں کی بات ہوئی تو یاد آیا کہ ماضی قریب میں انکے شہد کے استعمال کے بارے میں بھی طرح طرح کی باتیں سننے کو ملی ہیں- دو ایک سال پہلے ایک صاحب پرہیزگار غلطی سے شہد کھاکر فوراً ٹیلی وژن پر حاضر ہوکر تبصرہ کرنے کیالگ گئے کہ انکے دشمنوں کو ایک گراں بار ہتھیار مل گیا- شہد کی لعاب داری کی وجہ سے جناب کی زبان آسانی سے پھرنے سے قاصر تھی جس کی وجہ سے ان پر بے شمار قسم کی تہمتیں لگائی گئیں حتیٰ کہ اسلام دشمن میڈیا نے انکی اس حرکت اور اس سے پیدا ہونے والے عوامی ارتعاش پر خوب چسکے لئے- اس سے قبل بھی میڈیا میں چھپے غیر ملکی ایجنٹوں نے چند سال پہلے وفاقی دار الحکومت میں واقع ڈپلومیٹک انکلیو میں انکے اغوا کے واقعے کو انکے شہد کے کثرت اور بے موقع استعمال سے جوڑنے کی مذموم کوشش کی تھی- ایسے حالات میں اسے حضرت کی کرامت ہی کہا جاسکتا ہے کہ دیسی اور بین الاقوامی دشمنوں کی لگاتار سازشوں کے باوجود انکی شہرت اور خوشحالی چار جانب پھیل رہی ہے جو بلا تعطل جاری ہے-

ضمیمہ:اللہ تعالیٰ سب سے پہلے پاکستان کے موجد اور سابق آمر پرویز مشرف کو صحت دے تاکہ وہ واپس آکر ملک اور قوم کی ویسی ہی خدمت کرسکیں جیسے پہلے کی ہے- ان کے سنہری زمانے میں امن اور خوشالی کا وہ دور دورہ تھا کہ آپ شہد میں مست ہوکر عوامی محفلوں میںگانے بھی گاتے رہے ہیں جو کافی مقبول رہے اور جس کی وجہ سے ملک میں شہد کا استعمال بھی بڑھ گیا-

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

ادارتی صفحہ سے مزید